Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is the duty of a Muslim man who has something which is to be given as bequest not to have it for two nights without having his will written regarding it.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ کی سند سے، مجھ سے نافع نے بیان کیا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not leave dinars, dirhams, camels and goats, nor did he leave will for anything.
ہم سے مسدد اور محمد بن العلاء نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے، ابو وائل کی سند سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۔
Narrated Amir bin Saad: On the authority of his father (Saad bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ ):
When he (Saad) fell ill at Makkah (according to the version of Ibn Abi Kkalaf) - then the agreed version has: which brought him near to death - the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went to visit him. He said: Messenger of Allah, I have a large amount of property, and my daughter is my only heir. May I give two-thirds (of my property) as a sadaqah (charity)? He said: No. He asked: Then a half ? He replied: No. He asked: Then one-third ? He replied: (You may will away) a third and third is a lot. To leave your heirs rich is better than to leave them poor begging from people. You will not spend anything, seeking thereby to please Allah, without being rewarded for it, even the mouthful you give your wife. I said: Messenger of Allah, shall I be left behind form immigration (to Madina)? He said: If you remain behind after me and do good works seeking the pleasure of Allah, your rank will be raised and degree increased. Perhaps you will not remain behind, and some people will benefit from you and others will be harmed by you. He then said: O Allah, complete the immigration of my Companions and do not turn them back. But miserable was Saad bin Khawlah رضی اللہ عنہ. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم lamented on him as he died at Makkah.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ابن ابی خلف نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، عامر بن سعد سے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ )سے، انہوں نے کہا
وہ بیمار ہوئے ( ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ ) اس بیماری میں وہ مرنے کے قریب پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر پوچھا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہائی مال ( دے سکتے ہو ) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا ، لیکن بیچارے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رنج و افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال فرما گئے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: Messenger of Allah, which sadaqah (charity) is the best ? He replied: (The best sadaqah is) that you give something as sadaqah (charity) when you are healthy, greedy, expect survival and fear poverty, and not that you postpone it until your death. and then you say: For so-and-so is such-and-such, and for so-and-so is such-and-such, while it was already for so-and-so.
ہم سے مصدّد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے عمرہ بن قعقاع نے بیان کیا، وہ ابو زرعہ بن عمرو بن جریر رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man giving a dirham as sadaqah (charity) during his life is better than giving one hundred dirhams as sadaqah (charity) at the moment of his death.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، انہیں ابن ابی ذہب نے شرحبیل کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنی زندگی میں ( جب تندرست ہو ) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man or a woman acts in obedience to Allah for sixty years, then when they are about to die they cause injury by their will, so they must go to Hell. Then Abu Hurairah recited: After a legacy which you bequeath or a debt, causing no injury. . . that will be the mighty success. Abu Dawud said: Al-Ashath bin Jabir is the grandfather of Nasr bin Ali.
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الصمد نے خبر دی، ہم سے نصر بن علی الہدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے اشعث بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شہر بن حوشب نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ( کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں ) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار» پڑھی یہاں تک کہ «ذلك الفوز العظيم» پر پہنچے۔ یعنی ( اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ( سورۃ النساء: ۱۱، ۱۲ ) ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Abu Dharr, I see you weak, and I like for you what I like for myself. Do not be a leader of two (persons), and do not be a guardian of an orphan. Abu Dawud said: This has been narrated only by the people of Egypt.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا، ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی سالم الجیشانی نے اپنے والد سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Quranic verse goes: (It is prescribed when death approaches any of you), if he leaves any goods, that he may bequest to parents and next to kin. The bequest was made in this way until the verse of inheritance repealed it.
ہم سے احمد بن محمد المروازی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین بن واقد نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۰ ) ، وصیت اسی طرح تھی ( جیسے اس آیت میں مذکور ہے ) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔
Narrated Abu Umammah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Allah has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no bequest must be made to an heir.
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ نے بیان کیا، ہم سے ابن عیاش نے بیان کیا، وہ شر حبیل بن مسلم کی سند سے,ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When Allah, Most High, revealed the verses: Come not nigh to the orphan's property except to improve it . And Those who unjustly eat up the property of orphans , everyone who had an orphan with him went and separated his food from his (orphan's) food, and his drink from his drink, and began to detain the remaining food which he (the orphan) himself ate or spoiled. This fell heavy on them, and they mentioned this to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. So Allah, Most High, revealed the verse: They ask thee concerning orphans. Say: The best thing to do is what is for their good; if ye mix their affairs with yours, they are your brethren. Then they mixed their food with his food and their drink with his drink.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے، عطاء کی سند سے، سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے ( سورۃ الانعام: ۱۵۲ ) : اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں ( سورۃ النساء: ۱۰ ) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم» اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۰ ) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father, from his grand father:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: I am poor, I have nothing (with me), and I have an orphan. He said: Use the property of your orphan without spending it lavishly, hurrying and taking it as your own property.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا کہ ان سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے بیان کیا، یعنی استاد نے، عمرو بن شعیب کی سند سے، اپنے والد سے
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ، لیکن فضول خرچی نہ کرنا، نہ جلد بازی دکھانا ( اس کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے ) نہ اس کے مال سے کما کر اپنا مال بڑھانا ۱؎ ۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
I memorized (a tradition) from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: There is no orphanhood after puberty, and there is no silence for the whole day till the night.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن محمد المدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن خالد بن سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، وہ اپنے والد سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن یزید بن رقیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بزرگ بن عوف رضی اللہ عنہ سے سنا, اپنے ماموں عبداللہ بن ابی احمد سے، انہوں نے کہا:علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں ( یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا ) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti'.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے، سلیمان بن بلال سے، ثور بن زید سے، ابو الغیث کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
Narrator Umair, from his father
A Companion of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man asked him (the Prophet): Messenger of Allah, what are the grave sins? He replied: They are nine. He then mentioned the tradition to the same effect. This version adds: And disobedience to the Muslim parents, and to violate the sacred House, your qiblah (direction of prayer), in your life and after death.
ہم سے ابراہیم بن یعقوب الجوزانی نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہانی نے بیان کیا، ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبد الحمید بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے عبید بن عمیر کے والد سے کہ اس نے اسے بتایا اور وہ اس کے ساتھی تھے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نو ہیں ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے کا اضافہ ہے۔
Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :
Musab bin Umar رضی اللہ عنہ was killed at the battle of Uhud, and for him only a coarse cloth would be found as shroud. When we covered his head, his feet showed, and when we covered his feet, his head showed. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Cover his head with it (cloth), and put some rushes over his feet.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابو وائل کی سند سے, خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے دن قتل کر دیے گئے، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو ۔
Narrated Buraidah رضی اللہ عنہ :
A woman came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: I donated my slave-girl to my mother, but she died and left the slave-girl. He said: Your reward became due, and she came back to you in inheritance. She said: She died while a month's fasting was due from her. Would it be sufficient or be taken as completed if I fast on her behalf ? He said: Yes. She said: She also did not perform Hajj. Would it be sufficient or be taken completed if I perform (Hajj) on her behalf ? He said: Yes.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن عطاء نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے, بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی ، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو اس کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( کر لو ) ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہ :
Umar رضی اللہ عنہ got some land in Khaibar, and when to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: I have acquired land in Khaibar which I consider to be more valuable than any I have acquired; so what do you command me to do with it ? He replied: If you wish, you may make the property as inalienable possession, and give its produce as sadaqah (charity). So Umar رضی اللہ عنہ gave it as a sadaqah declaring that the property must not be sold, given away, or inherited: (and gave its produce as sadaqah to be devoted) to poor, relatives, the emancipation of slaves, Allah's path, travellers. The narrator Bishr added: and guests. Then the agreed version goes: No sin being committed by the one who administers it if he eats something from it in a reasonable manner, or gives something to a friend, who does not make his own property. The narrator Bishr added: (provided) he is not storing-up goods (for himself) .
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا, اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ابن عون کی سند سے، نافع کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو زمین کی اصل ( ملکیت ) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو ، عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہو گی ( بلکہ ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں مہمان کا اضافہ ہے ، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: جو اس کا والی ہو گا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو ۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد ( ابن سیرین ) کہتے ہیں: مال جوڑنے والا نہ ہو ۔
Narrated Yahya bin Saeed: Abdul-Hamid bin Abdullah bin Abdullah bin Umar bin al-Khattab copied to me a document about the religious endowment (waqf) made by Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ : In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what Allah's servant Umar رضی اللہ عنہ has written about Thamgh. He narrated the tradition like the one transmitted by Nafi. He added: provided he is not storing up goods (for himself) . The surplus fruit will be devoted to the beggar and the deprived. He then went on with the tradition, saying: If the man in charge of Thamgh wishes to buy a slave for his work for its fruits (by selling them), he may do so. Mu'iqib penned it and Abdullah bin al-Arqam witnessed it: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what Allah's servant Umar رضی اللہ عنہ , Commander of Faithful, directed, in case of some incident happens to him (i.e. he dies), that Thamg, Sirmah bin al-Akwa, the servant who is there, the hundred shares in (the land of) Khaibr, the servant who is there and the hundred sahres which Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم had donated to me in the valley (nearly) will remain in the custody of Hafsah during her life, then the men of opinion from her family will be in charge of these (endowments), that these will neither be sold not purchased, spending (its produce) where they think (necessary on the beggar, deprived and relatives). There is no harm to the one in charge (of this endowment) if he eats himself, or feeds, or buys slaves with it.
ہم سے سلیمان بن داؤد المہری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے لیث نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ
عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم» ، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ ( اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا ) کے متعلق لکھا ہے ، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں ، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے ( باغ کے ) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے ، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ «بسم الله الرحمن الرحيم» ، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے ( یعنی مر جاؤں ) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رہیں گی، حفصہ کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہو گا وہ متولی ہو گا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When a man dies, his action discontinues from him except three things, namely, perpetual sadaqah (charity), or the knowledge by which benefit is acquired, or a pious child who prays for him.
ہم سے ربیع بن سلیمان المو ذن نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، سلیمان کی سند سے، یعنی ابن بلال نے، انہوں نے علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے، میرا خیال ہے کہ وہ اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے ( جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے ) : ایک صدقہ جاریہ ، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
A woman said: Messenger of Allah, my mother suddenly died; if it had not happened, she would have given sadaqah (charity) and donated (something). Will it suffice if I give sadaqah on her behalf? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Yes, give sadaqah on her behalf.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ہشام سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور ( اللہ کی راہ میں ) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ انہیں کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو ۔