Sahl bin Saad رضی اللہ عنہ reported:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: I swear on Allah, it will be better for you that Allah should give guidance to one man through your agency than that you should acquire the red ones among the camels.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے بیان کیا, سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے ( جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں ) بہتر ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: relate traditions from the children of Isra'il; there is no harm.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو نے ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to relate to us traditions from the children of Isra'il till morning came; he would not get up except for obligatory prayer.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، ابوالحسن کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہو جاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone acquires knowledge of things by which Allah's good pleasure is sought, but acquires it only to get some worldly advantage, he will not experience the arf, i.e. the odour, of Paradise.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سریج بن النعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ابو طوالہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری نے سعید بن یسار کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔
Narrated Awf bin Malik al-Ashjai رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Only a ruler, or one put in charge, or one who is presumptuous, gives instructions.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو مشیر نے بیان کیا، مجھ سے عباد بن عباد الخواص نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی عمرو السیبانی نے، وہ عمرو بن عبداللہ السیبانی کی سند سے,عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I was sitting in the company of the poor members of the emigrants. Some of them were sitting together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. All of a sudden the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came along and stood beside us. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood, the reader stopped and greeted him. He asked: What were you doing? We said: Messenger of Allah! We had a reader who was reciting to us and we were listening to the Book of Allah, the Exalted. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Praise be to Allah Who has put among my people those with whom I have been ordered to stay. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then sat among us so as to be like one of us, and when he had made a sign with his hand they sat in a circle with their faces turned towards him. The narrator said: I think that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not recognize any of them except me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Rejoice, you group of poor emigrants, in the announcement that you will have perfect light on the Day of Resurrection. You will enter Paradise half a day before the rich, and that is five hundred years.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے معاذ بن زیاد سے، وہ علاء بن بشیر مزنی کی سند سے، ابو الصدیق الناجی کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہو گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: That I sit in the company of the people who remember Allah the Exalted from morning prayer till the sun rises is clearer to me than that I emancipate four slaves from the children of Isra'il, and that I sit with the people who remember Allah from afternoon prayer till the sun sets is dearer to me than that I emancipate four slaves.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے عبد السلام نے، یعنی ہم سے ابن مطہر ابو ظفر نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن خلف عمی نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمsaid to me: recite Surat al-Nisa’. I asked: Shail I recite to you what was sent down to you ? He replied: I like to here it from someone else. So I recite (it) until I reached this verse “How then shall it be when We bring from every people a witness ?”. Then raised my head and saw tears falling from his eyes.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، عبیدہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے ( سورة النساء: ۴۱ ) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔