Narrated Saad رضی اللہ عنہ :
I suffered from an illness. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to pay a visit to me. He put his hands between my nipples and I felt its coolness at my heart. He said: You are a man suffering from heart sickness. Go to al-Harith ibn Kaladah, brother of Thaqif. He is a man who gives medical treatment. He should take seven ajwah dates of Madina and grind them with their kernels, and then put them into your mouth.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے مجاہد کی سند سے, سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں ۔
Saad bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ reported:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: He who has a morning meal of seven ‘Ajwah dates will not suffer from any harm that day through poison or magic.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو ۔
Umm Qasis, daughter of Mihsan رضی اللہ عنہا said:
I brought my son to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while I had compressed his uvula for its swelling. He said: Why do you afflict your children by squeezing for a swelling in the Uvula ? Apply this Indian aloes wood, for it contain seven types of remedies, among them being a remedy for pleurisy. It is applied through the nose for a swelling of the uvula poured into the side of the mouth for pleurisy. Abu Dawud said: By aloes wood he meant costus.
ہم سے مسدد اور حمید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے, ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب ( نمونیہ ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» بنا کر پلایا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Wear your white garments, for they are among your best garments, and shroud your dead in them. Among the best types of collyrium you use is antimony (ithmid): it clears the vision and makes the hair sprout.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے سعید بن جبیر سے بیان کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور ( پلک کے ) بالوں کو اگاتا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The evil is genuine.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا، ہمام بن منبہ کی سند سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر بد حق ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The man casting evil would be commanded to perform ablution, and then the man affected was washed with it.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، انہوں نے اسود سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔
Narrated Asma, daughter of Yazid bin as-Sakan رضی اللہ عنہا :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not kill your children secretly, for the milk, with which a child is suckled while his mother is pregnant, overtakes the horseman and throws him from his horse.
ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن مہاجر نے اپنے والد سے بیان کیا, اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔
Judamat al-Asadiyyah رضی اللہ عنہا said:
She heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم Say: I intended to prohibit suckling during pregnancy (ghailah), but I considered the Greeks and the Persians and saw that they practiced it, without any injury being caused to their children thereby. Malik said: Ghailah means that a man has intercourse with a women while she is suckling a child.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی, جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے قصد کر لیا تھا کہ«غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Masud: Zaynab, the wife of Abdullah ibn Masud, told that Abdullah said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saying: spells, charms and love-potions are polytheism. I asked: Why do you say this? I swear by Allah, when my eye was discharging I used to go to so-and-so, the Jew, who applied a spell to me. When he applied the spell to me, it calmed down. Abdullah رضی اللہ عنہ said: That was just the work of the Devil who was picking it with his hand, and when he uttered the spell on it, he desisted. All you need to do is to say as the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to say: Remove the harm, O Lord of men, and heal. Thou art the Healer. There is no remedy but Thine which leaves no disease behind.
ہم سے محمد بن العلا نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے العمش نے بیان کیا، وہ عمرو بن مرہ سے، ان سے یحییٰ بن الجزار نے، وہ زینب کے بھتیجے سے، عبداللہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جھاڑ پھونک ( منتر ) گنڈا ( تعویذ ) اور تولہ شرک ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو میرا درد بند ہو جاتا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے ۔
Narrated Imran bin Husayn رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No spell is to be used except for the evil eye or a scorpion sting.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے مالک بن مغول سے، حصین رضی اللہ عنہ سے، شعبی کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں ۔
Narrated Thabit bin Qays bin Shammas رضی اللہ عنہ, from his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon Thabit ibn Qays. The version of Ahmad (ibn Salih) has: When he was ill He (the Prophet) said: Remove the harm, O Lord of men, from Thabit ibn Qays ibn Shammas. He then took some dust of Bathan, and put it in a bowel, and then mixed it with water and blew in it, and poured it on him. Abu Dawud said: Ibn al-Sarh said: Yusuf bin Muhammad is correct (and not Muhammad bin Yusuf)
ہم سے احمد بن صالح اور ابن سرح نے بیان کیا۔ احمد نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا۔ ابن سرح نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی ہے۔ ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے عمرو بن یحییٰ سے اور یوسف بن محمد کی سند سے بیان کیا۔ ابن صالح نے کہا,محمد بن یوسف بن ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ، اپنے والد کی سند سے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب الناس . عن ثابت بن قيس» لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔
Awf bin Malik said:
In the pre-Islamic period we used to apply spells and we asked: Messenger of Allah! how do you look upon it ? He replied: Submit your spells to me. There is no harm in spells so long as they involve no polytheism.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں معاویہ نے، عبدالرحمٰن بن جبیر کے واسطہ سے، اپنے والد سے ,عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔
Narrated Ash-Shifa رضی اللہ عنہا, daughter of Abdullah:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered when I was with Hafsah رضی اللہ عنہا , and he said to me: Why do you not teach this one the spell for skin eruptions as you taught her writing.
ہم سے ابراہیم بن مہدی المصیصی نے بیان کیا، ہم سے علی بن مشیر نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن عمر بن عبد العزیز نے، صالح بن کیسان کی سند سے، وہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حاثمہ کی سند سے,شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «نملہ» کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے ۔
Narrated Sahl bin Hunayf رضی اللہ عنہ :
I passed by a river. I entered it and took a bath in it. When I came out, I had fever. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was informed about it. He said: Ask Abu Thabit to seek refuge in Allah from that I asked: O my Lord, will the spell be useful? He replied: No, the spell is to be used except for the evil eye or a snake bite or a scorpion sting. Abu Dawud said: Humah means the biting of snakes and sting of the poisonous insects.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے عثمان بن حکیم نے بیان کیا، مجھ سے میری دادی نے بیان کیا، انہوں نے کہا:سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے ( ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں:«حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No spell is to be used except for the evil eye, or sting of poisonous insects, or bleeding. The narrator al-‘Abbas did mention the words “evil eye”. The is the version of Sulaiman bin Dawud.
ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا۔ ہم سے ح اور عباس الانباری نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہم کو شارق نے خبر دی، انہیں عباس بن ذریہ نے شعبی کی سند سے، عباس نے کہا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو ۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔
Narrated Abdul Aziz bin Sahib:
Anas رضی اللہ عنہ said to Thabit: Should I not use the spell of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for you ? He said: Yes. He then said: O Allah, Lord of men, Remover of the harm, heal, Thou art the healer. There is no healer but Thou; given him a remedy which leaves no disease behind.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا, عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ
انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے کہا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» اے اللہ! لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے ۔
Uthman bin Abi al-As رضی اللہ عنہ said:
He came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Uthman said: I had a pain which was about to destroy me. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Wipe it with your right hand seven times and say: “I seek refuge in the dominance of Allah, and His might from the evil of what I find. ” Then I did it. Allah removed (the pain) that I had, and I kept on suggesting it to my family and to others.
ہم سے عبداللہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے مالک سے، انہوں نے یزید بن خصیفہ سے، انہیں عمرو بن عبداللہ بن کعب السلمی نے خبر دی، انہیں نافع بن جبیر نے، انہیں عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد» میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں ۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔
Narrated Abud Darda رضی اللہ عنہ:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If any of you is suffering from anything or his brother is suffering, he should say: Our Lord is Allah Who is in the heaven, holy is Thy name, Thy command reigns supreme in the heaven and the earth, as Thy mercy in the heaven, make Thy mercy in the earth; forgive us our sins, and our errors; Thou art the Lord of good men; send down mercy from Thy mercy, and remedy, and remedy from Thy remedy on this pain so that it is healed up.
ہم سے یزید بن خالد بن محب الرملی نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے زیادہ بن محمد نے، محمد بن کعب القرظِی سے، فضالہ بن عبید کی سند سے, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ہمارے رب! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو ( رب پروردگار ) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما تو وہ صحت یاب ہو جائے گا ۔
Narrated Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sued to teach them the following words in the case of alarm: I seek refuge in Allah's perfect words from His anger, the evil of His servants, the evil suggestions of the devils and their presence. Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما used to teach them to those of his children who had reached puberty, and he wrote them down (on some material) and hung on the child who had not reached puberty.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، محمد بن اسحاق سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( خواب میں ) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے:«أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔
Yazid bin Abi Ubaid said:
I saw a sign of injury in the shin of Salamah رضی اللہ عنہ. I asked: What is this ? He replied: I was afflicted. I was afflicted by it on the day of Khaibar. The people said: Salamah رضی اللہ عنہ has been afflicted. I was then brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He blew on me three times. I did not feel any pain up till now.
ہم سے احمد بن ابی سریج الرازی نے بیان کیا، ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا, یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ
میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے: سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے ( اب بچ نہیں سکیں گے ) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔