Dialects and Readings of the Qur'an (Kitab Al-Huruf Wa Al-Qira'at)
كتاب الحروف والقراءات
Chapter 32
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying - the narrator Ismail transmitted it from Abu Hurairah, and mentioned the tradition about the coming down of revelation-: So far (is this the case) that when terror is removed from their hearts.
ہم سے احمد بن عبدہ اور اسماعیل بن ابراہیم ابو معمر ہذلی نے سفیان کی سند سے، عمرو کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول«حتى إذا فزع عن قلوبهم» یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے ( سورۃ سبا: ۲۳ ) سے یہی مراد ہے۔
Narrated Umm Salamah, wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم :
The reading of the following verse by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم goes: Nay, but there came to thee (ja'atki) my signs, and thou didst reject them (fakadhdhabti biha) ; thou wast haughty (wastakbarti) and became one of those who reject Faith (wa kunti). Abu Dawud said: This is a mursal tradition, i.e. the link of the Companion has been omitted, for the narrator al-Rabi did not meet Umm Salamah رضی اللہ عنہا .
ہم سے محمد بن رافع النیسابوری نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن سلیمان رازی نے بیان کیا، میں نے ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے ابو جعفر کو ذکر کرتے سنا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے ( سورۃ الزمر: ۵۹ ) ( واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم read: (There is for him) Rest and satisfaction (faruhun wa rayhan).
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہارون بن موسیٰ النحوی نے بیان کیا، وہ بدیل بن میسرہ کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے ( سورۃ الواقعہ: ۸۹ ) ( راء کے پیش کے ساتھ ) پڑھتے ہوئے سنا۔
Abdah bin Yala quoting his father said:
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم read on the pulpit the verse: They will cry: O Malik. Abu Dawud said: That is, without shortening the name (Malik).
ہم سے احمد بن حنبل اور احمد بن عبدہ نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے اور عطاء کی سند سے بیان کیا۔ ابن حنبل نے کہا ,صفوان کی روایت سے میں نے اسے اچھی طرح نہیں سمجھا۔ ابن عبدہ بن یعلٰی نے کہا, اپنے والد کی سند سے، جنہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» اور پکار پکار کہیں گے اے مالک! ( سورۃ الزخرف: ۷۷ ) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made me read the verse It is I who give (all) sustenance, Lord of power, steadfast (for ever).
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے، عبدالرحمٰن بن یزید کی سند سے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھایا ہے۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to read the verse Is there any that will receive admonition (muddakir)? that is with doubling of consonant. Abu Dawud said: With Dammah on the mim, fathah on (dal), and kasrah on the Qaf.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق کی سند سے، انہوں نے اسود سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ( سورۃ الذاریات: ۵۸ ) ( یعنی دال کو مشدد ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ» میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah:
I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reading the verse; does he think that his wealth would make him last for ever?
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن عبدالرحمٰن ذماری نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «يحسب أن ماله أخلده» پڑھتے دیکھا ہے۔
Narrated Abu Qilabah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made a man read the verse: For, that day His chastisement will be such as none (else) can be chastised. And his bonds will be such as none (other) can be bound. Abu Dawud said: According to some (scholars), there is a narrator between the narrator Khalid and Abu Qilabah.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ خالد رضی اللہ عنہ سے, ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے
جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہےروایت کرتے ہیں ( کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے ) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔
Narrated Abu Qilabah:
A man whom the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made the following verse read informed me, or he was informed by a man whom a man made the following verse read through a man whom the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made the following verse read: For, that day His chastisement will be such as none (else) can be inflicted (la yu'adhdhabu) Abu Dawud said: Asim, al-Amash, Talhah bin Musarrif, Abu Jafar Yazid bin al-Qa'qa', Shaibah bin Nassah, Nafi bin Abdur-Rahman, Abdullah bin Kathir al-Dari, Abu Amr bin al-'Ala, Hamzat al-Zayyat, Abdur-Rahman al-Araj, Qatadah, al-Hasan al-Basri, Mujahid, Hamid al=Araj, Abdullah bin Abbas and Abdur-Rahman bin Abi Bakr recited: For, that day His chastisement will be such as none (else) can inflict (la ya'adhdhibu), and His bonds will be such as none (other) can bind (wa la yathiqu), except the verse mentioned in this tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. It has been read yu'adhdhabu with short vowel a in passive voice.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، وہ خالد الحذ اہ سے, ابوقلابہ کہتے ہیں, مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے
جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» ( مجہول کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ولا يوثق» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» ( ذال کے فتحہ کے ساتھ ) ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم related a tradition in which he mentioned the words Jibril and Mikal and he pronounced them Jibra'ila wa Mika'ila. Abu Dawud said: Khalaf said: I did not put the pen aside from writing letters (huruf) for forty years: nothing tired me (or made me incapable of writing), even Jibril and Mika'il did not tire me.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن العلاء نے بیان کیا کہ ان سے محمد بن ابی عبیدہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے العمش کی سند سے، سعد طائی سے، عطیہ العوفی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم mentioned the name of the one who will sound the trumpet (sahib as-sur) and said: On his right will be Jibra'il and on his left will be Mika'il.
ہم سے زید بن اخزم نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، ہم سے ابن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن خزم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: جبرئیل اور میکائیل کی قرأت کا ذکر العمش کے پاس ہوا، تو ہم سے العمش نے بیان کیا، سعد طائی رحمہ اللہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا: اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں ۔
Narrated Ibn al-Musayyab:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, Abu Bakr, Umar and Uthman used to read maliki yawmid-din (master of the Day of Judgment) . The first to read maliki yawmid-din was Marwan. Abu Dawud said: This is sounder that the tradition which transmitted by al-Zuhri from Anas رضی اللہ عنہ , and al-Zuhri from Salim, from his father (Ibn Umar).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا, عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to recite: In the name of Allah, the Cherisher and Sustainer of the worlds; most Gracious, most Merciful; Master of the Day of Judgment, breaking its recitation into verses, one after another. Abu Dawud said: I heard Ahmad (bin Hanbal) say: The early reading is: Maliki yawmi'l-din.
ہم سے سعید بن یحییٰ اموی نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی ملیکہ کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے ( ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
I was sitting behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who was riding a donkey while the sun was setting. He asked: Do you know where this sets ? I replied: Allah and his Messenger know best. He said: It sets in a spring of warm water (Hamiyah).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور عبید اللہ بن عمر بن میسرہ المعنہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، سفیان بن حصین سے، حاکم بن عتیبہ سے، ان سے اپنے والد ابراہیم رضی اللہ عنہ سے,ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية » یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) ۔
Narrated Ibn al-Asqa رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to them in the swelling place of immigrants and a man asked him: Which is the greatest verse of the Quran ? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم replied: Allah, there is no god but He - the Living, the Self-Subsisting Eternal. No slumber can seize Him nor sleep.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے حجاج نے بیان کیا، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن عطاء نے خبر دی، واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ( سورۃ البقرہ: ۲۵۵ ) ہے۔
Narrated Ibn Masud رضی اللہ عنہ said:
He read the verse: Now come, thou (haita laka). Then Shariq said: We read it, hi'tu laka (I am prepared for thee). Ibn Masud رضی اللہ عنہ said: I read it as I have been taught; it is dearer to me.
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو بن ابی الحجاج المنقری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبان نے بیان کیا، ان سے العمش کی سند سے، شقیق کی سند سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے«هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔
Narrated Shariq:
Abdullah (bin Masud رضی اللہ عنہ) was told that the people had read this verse: She said: Now come, thou (hita laka). He said: I read it as I have been taught ; it is dearer to me. It goes wa qalat haita laka (She said: Now come thou).
ہم سے ہناد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے، العمش کی سند سے بیان کیا، ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, the Exalted, said to the children of Israel: . . . but enter the gate with humility, in posture and in words, and you will be forgiven your faults (tughfar lakum) .
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا اور ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہیں ہشام بن سعد نے خبر دی، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ( سورۃ البقرہ: ۵۸ ) ( بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول ) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hisham bin Saad with a different chain of narrators in a similar way.
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا, اس سند سے بھی ہشام بن سعد سے اسی کے مثل مروی ہے.
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The revelation came down to Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he recited to is: A surah which We have sent down and which We have ordained (faradnaha) Abu Dawud said: Meaning, (without doubling the Ra) such that these verses follow.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں «سورة أنزلناها وفرضناها» یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کر دی ہے ( سورۃ النور: ۱ ) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔