Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wanted to write to some persian rulers. He was told that they would not read a letter without a seal in the form of a silver ring on which he engraved Muhammad the Messenger of Allah.
ہم سے عبد الرحیم بن مطرف الراوسی نے عیسیٰ کی سند سے، سعید کی سند سے، قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators. This version as transmitted by 'Isa bin Yunus adds:
It remained in his hand until he died, in the hand of Abu Bakr رضی اللہ عنہ until he died, in the hand of Umar until he died, and in the hand of Uthman رضی اللہ عنہ . When he was near a well, it fell down in it. He ordered to take it out, but it could not be found.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، سعید کی سند سے اور قتادہ کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ
پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The signet-ring of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was of silver with an Abyssinian stone.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ابن ابن یزید نے ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The signet-ring of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was all of silver as was also its stone.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید الطویل نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took a signet-ring of gold, and put the stone next the palm of his hand. He engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah . The people then took signet-rings of gold. When he saw that they had taken them (like his ring) he threw it away and said: I shall never wear it. He then fashioned a silver ring and engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah . Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ wore it after him, then Umar رضی اللہ عنہ wore it after Abu Bakr رضی اللہ عنہ, and the Uthman رضی اللہ عنہ wore it after Umar رضی اللہ عنہ till it fell down in a well called Aris. Abu Dawud said: The people did not disagree on Uthman till the signet-rin fell down from his hand.
ہم سے نصیر بن الفرج نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی ( جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے ) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar رضی اللہ عنہما through a different chain of narrators from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version adds:
He engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. and said: No one must engrave anything in the manner of this signet-ring of mine. He then transmitted the rest of the tradition.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب بن موسیٰ نے نافع کی سند سے, اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar رضی اللہ عنہما through different chain of narrators from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version adds:
They searched for it but could not find it. Uthman رضی اللہ عنہ then fashioned a signet-ring and engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah . He used to wear it or stamp with it.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن زیاد نے نافع کی سند سے , اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ
لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا: اسے پہنا کرتے تھے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
He saw a silver signet-ring on the hand of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم only for a day. The people then fashioned and wore (rings). The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then threw it away and the people also threw (them. ) Abu Dawud said: Ziyad bin Saad, Shuaib and Ibn Musafir transmitted it from al-Zuhri. Ali said in their versions: of silver .
ہم سے محمد بن سلیمان لوین نے ابراہیم بن سعد کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم disliked ten things: Yellow colouring, meaning khaluq, dyeing grey hair, trailing the lower garment, wearing a gold signet-ring, a woman decking herself before people who are not within the prohibited degrees, throwing dice, using spells except with the Muawwidhatan, wearing amulets, withdrawing the penis before the semen is discharged, in the case of a woman who is wife or not a wife, and having intercourse with a woman who is suckling a child; but he did not declare them to be prohibited. Abu Dawud said: Only the transmitters of Basrah have transmitted this tradition.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے رکین بن ربیع کو قاسم بن حسن کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن ہرملہ کی سند سے، بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم.
Narrated Buraydah bin al-Hasib رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he was wearing a signet-ring of yellow copper. He said to him: How is it that I notice the odour of idols in you? So he threw it away, and came wearing an iron signet ring. He (the Prophet) said: What is it that I see you wearing the adornment of the inhabitants of Hell? So he threw it away. He asked: Messenger of Allah, what material I must use? He said: Make it of silver, but do not weigh it as much as a mithqal, The narrator Muhammad did not say: Abdullah bin Muslim, and al-Hasan did not say: al-Sulami al-Marwazi.
ہم سے حسن بن علی اور محمد بن عبد العزیز بن ابی رزمہ المعنا نے بیان کیا کہ انہیں زید بن حباب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن مسلم السلمی المروازی ابو طیبہ نے عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کی سند سے، وہ اپنے والد سے
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو ۔اور محمد نے عبداللہ بن مسلم کو نہیں کہا اور الحسن السلمی المروازی نے نہیں کہا۔
Iyas bin al-Harith bin al-Muaiqib quoting his grandfather said and his grandfather from his mother's side was Abu Dhubab:
The signet-ring of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was of iron polished with silver. Sometimes it remained in my possession. Al-Mu'ayqib was in charge of the signet-ring of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے ابن المثنیٰ، زیاد بن یحییٰ اور حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن حماد ابو عتاب نے بیان کیا، ان سے ابو مکین نوح بن ربیعہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ایاس بن حارث بن معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے نانا ابو ذھب ہیں، اپنے دادا کی روایت سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔
Narrated Ali:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Say: O Allah, guide me, and set me right. Remember by guidance (hidayah) the showing of the straight path, and remember by setting right (sadad) the setting right of an arrow. Then pointing to the middle finger and the one next to it, he said: He forbade me to wear a signet-ring on this finger of mine or on this (Asim was doubtful). He forbade me to wear qassiyyah (qasi garments) and mitharah. Abu Burdah رضی اللہ عنہ said: We asked Ali رضی اللہ عنہ : What is qasiyyah ? He said: These are garments imported to us from Syria or Egypt. They are stripped and marked like citrons. And mitharah was a thing made by women for their husbands.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، ہم سے عاصم بن کلیب نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں ( عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے ) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج ( چکوترہ ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا ( بستر ) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to wear the signet-ring on his right hand.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن بلال نے خبر دی، انہیں شریک بن ابی نمیر نے، وہ ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے اپنے والد سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to wear the signet-ring on his left hand, and put its stone next the palm of his hand. Abu Dawud said: Ibn Ishaq and Usamah bin Zaid transmitted from Nafi: On his right hand .
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to wear his signet-ring on his left hand.
ہم سے ہناد نے عبدہ کی سند سے اور عبید اللہ کی سند سے بیان کیا, نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔
Muhammad bin Ishaq said:
I saw as-Salt ibn Abdullah bin Nawfal ibn Abdul Muttalib wearing the signet-ring on his right small finger. I asked: What is this? He replied: I saw Ibn Abbas رضی اللہ عنہما wearing his ring in this manner. He put its stone towards the upper part of his palm. Ibn Abbas رضی اللہ عنہما also mentioned that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to wear his signet-ring in his manner.
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یونس بن بکیر نے بیان کیا، محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ
میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی پشت کی طرف کئے دیکھا، اور کہا: یہ مت سمجھنا کہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی ایسا کرتے تھے، بلکہ وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی انگوٹھی ایسے ہی پہنا کرتے تھے۔
Ibn az-Zubayr told:
A woman client of theirs took az-Zubayr's daughter to Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ wearing bells on her legs. Umar رضی اللہ عنہ cut them off and said that he had heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: There is a devil along with each bell.
ہم سے علی بن سہل اور ابراہیم بن الحسن نے بیان کیا: ہم سے حجاج نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن حفص نے خبر دی, عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
Bunanah رضی اللہ عنہ, female client of Abdur-Rahman bin Hayyan al-Ansari told:
When she was with Aishah a girl wearing little tinkling bells was brought in to her. She ordered that they were not to bring her in where she was unless they cut off her little bells. She said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: The angels do not enter a house in which there is a bell.
ہم سے محمد بن عبد الرحیم نے بیان کیا، ہم سے راح نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن حسان الانصاری کی لونڈی بنانہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ
وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھونگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو ۔
Abdur Rahman bin Tarafah said:
His grandfather Arfajah bin Asad who had his nose cut off at the battle of al-Kilab got a silver nose, but it developed a stench, so the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ordered him to get a gold nose.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور محمد بن عبداللہ الخزاعی المعنی نے بیان کیا، ہم سے ابو الاشہب نے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ
میرے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۔
The tradition mentioned above (No. 4220) has also been transmitted by Arfajah ibn Asad through a different chain to the same effect. Yazid said:
I asked Abul Ashhab: Did Abdur Rahman bin Tarafah meet his grandfather Arfajah? He replied: Yes.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے اور ان سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو الاشہب نے عبدالرحمٰن بن طرافہ کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، یزید کہتے ہیں
میں نے ابواشہب سے پوچھا: عبدالرحمٰن بن طرفہ نے اپنے دادا عرفجہ کا زمانہ پایا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں ( پایا ہے ) ۔