Narrated Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The religion will continue to be established till there are twelve caliphs over you, and the whole community will agree on each of them. I then heard from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم some remarks which I could not understand. I asked my father: What is he saying: He said: all of them will belong to Quraysh.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل کی سند سے، یعنی ابن ابی خالد نے اپنے والد سے, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے ۔
Narrated Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: This religion will continue to be strong till the time of twelve caliphs. The people then uttered: Allah is more great and uproared. He then silently a word which I could not understand. So I said to my father: What did he say, father ? He said: All of them will belong to Quraish.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے داؤد نے بیان کیا، عامر رضی اللہ عنہ سے, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سب قریش میں سے ہوں گے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version adds:
When he came back to his home. the Quraish came to him and said: Then what will happen ? He said: Then turmoil will prevail.
ہم سے ابن نفیل نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے زیاد بن خیثمہ نے بیان کیا، ہم سے اسود بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے ,اس میں اتنا اضافہ ہے
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر قتل ہو گا ۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If only one day of this world remained. Allah would lengthen that day (according to the version of Zaidah), till He raised up in it a man who belongs to me or to my family whose father's name is the same as my father's, who will fill the earth with equity and justice as it has been filled with oppression and tyranny (according to the version of Fitr). Sufyan's version says: The world will not pass away before the Arabs are ruled by a man of my family whose name will be the same as mine. Abu Dawud said: The version of Umar and Abu Bakr is the same as that of Sufyan.
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ ان سے عمر بن عبید نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے، یعنی ہم سے ابن عیاش نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے سفیان کی سند سے بیان کیا اور ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا,زایدہ نے ہمیں اطلاع دی۔ ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، فطر کی سند سے مراد ایک ہی ہے، عاصم کی سند سے، زر کی سند سےعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔ سفیان کی روایت میں ہے: دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If only one day of this time (world) remained, Allah would raise up a man from my family who would fill this earth with justice as it has been filled with oppression.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Mahdi will be of my family, of the descendants of Fatimah. Abdullah bin Jafar said: I heard Abul Malih praising Ali bin Nufayl and describing his good qualities.
ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا، ہم سے ابو الملیح الحسن بن عمر نے بیان کیا، ان سے زیاد بن بیان نے، علی بن نفیل سے سعید بن مسیب کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں: میں نے ابو ملیح کو علی بن نفیل کی تعریف کرتے اور ان کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے سنا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Mahdi will be of my stock, and will have a broad forehead a prominent nose. He will fill the earth will equity and justice as it was filled with oppression and tyranny, and he will rule for seven years.
ہم سے سہل بن تمام بن بزیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران القطان نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ کی سند سے، وہ ابو نضرہ رضی اللہ عنہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی میری اولاد میں سے کشادہ پیشانی، اونچی ناک والے ہوں گے، وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے، ان کی حکومت سات سال تک رہے گی ۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Disagreement will occur at the death of a caliph and a man of the people of Madina will come flying forth to Makkah. Some of the people of Makkah will come to him, bring him out against his will and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. An expeditionary force will then be sent against him from Syria but will be swallowed up in the desert between Makkah and Madina. When the people see that, the eminent saints of Syria and the best people of Iraq will come to him and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. Then there will arise a man of Quraysh whose maternal uncles belong to Kalb and send against them an expeditionary force which will be overcome by them, and that is the expedition of Kalb. Disappointed will be the one who does not receive the booty of Kalb. He will divide the property, and will govern the people by the Sunnah of their Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and establish Islam on Earth. He will remain seven years, then die, and the Muslims will pray over him. Abu Dawud said: Some transmitted from Hisham nine years and some seven years .
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے، قتادہ کی سند سے، صالح ابو الخلیل سے، اپنے ایک صحابی کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے، اسے یہ پسند نہ ہو گا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہو گا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے اور بعض نے سات کی۔
This Hadith was narrated from Hammam, from Qatadah and he said:
"Nine years . Abu Dawud said: The other narrators mentioned nine years from Hisham except Muadh.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد نے بیان کیا، ہمام کی سند سے, اس سند سے قتادہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے
اس میں نو سال ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاذ کے علاوہ نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Salamah رضی اللہ عنہا from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. The tradition of Muadh is more perfect.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، ہم سے ابو العوام نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، وہ ابو الخلیل کی سند سے، وہ عبداللہ بن حارث کی سند سے, اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتی ہیں، معاذ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Umm salamah رضی اللہ عنہا reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying about the swallowing up an army by the earth. I asked: How will a man who comes against his will (be swallowed up by the earth), Messenger of Allah ? He replied: All will be swallowed up, but each will be raised according to his intention on the Day of Resurrection.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے عبد العزیز بن رفیع کی سند سے، انہوں نے عبید اللہ بن کبتیہ کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ۔
Abu Ishaq told:
Ali رضی اللہ عنہ looked at his son al-Hasan رضی اللہ عنہ and said: This son of mine is a sayyid (chief) as named by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and from his loins will come forth a man who will be called by the name of your Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and resemble him in conduct but not in appearance. He then mentioned the story about his filling the earth with justice. Narrated Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ : The Prophet (ﷺ) said: A man called al-Harith ibn Harrath will come forth from Ma Wara an-Nahr. His army will be led by a man called Mansur who will establish or consolidate things for Muhammad's family as Quraysh consolidated them for the Messenger of Allah (ﷺ). Every believer must help him, or he said: respond to his sermons.
ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ہارون بن مغیرہ کی سند سے بتایا گیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمرو بن ابی قیس نے، شعیب بن خالد کی سند سے بیان کیا, ابواسحاق کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، اور کہا: یہ میرا بیٹا سردار ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہو گا، اور سیرت میں ان کے مشابہ ہو گا البتہ صورت میں مشابہ نہ ہو گا پھر انہوں نے «سيملأ الأرض عدلاً» کا واقعہ ذکر کیا۔ ہارون نے کہا: ہم سے عمرو بن ابی قیس نے بیان کیا، مطرف بن طریف نے، ابو الحسن سے، ہلال بن عمرو سے، انہوں نے کہا:علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص جسے حارث بن حارث کہتے ہیں ما ورع النہر سے نکلے گا۔ اس کی فوج کی قیادت منصور نامی ایک شخص کرے گا جو محمد کے خاندان کے لیے چیزوں کو قائم یا مضبوط کرے گا جیسا کہ قریش نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مضبوط کیا تھا۔ ہر مومن کو اس کی مدد کرنی چاہیے، یا فرمایا: اس کے خطبات کا جواب دیں۔