Muhammad bin al-Munkadir told:
He saw Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما swearing by Allah that Ibn as-Saeed was the Dajjal (Antichrist). I expressed my surprise by saying: You swear by Allah! He said: I heard Umar swearing to that in the presence of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not make any objection to it.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سعد بن ابراہیم سے, محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے کہا: آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ تو بولے: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے سنا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
We saw the last of Ibn Sayyad at the battle of the Harrah.
ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے شیبان نے بیان کیا، العمش کی سند سے، سلیم کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابن صیاد ہم کو یوم حرہ کو غائب ملا۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Last Hour will not come before there come forth thirty Dajjals (fraudulents), everyone presuming himself that he is an Messenger of Allah.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی ابن محمد نے، انہوں نے العلاء کی سند سے، اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Last Hour will not come before there come forth thirty liar Dajjals (fraudulents) lying on Allah and His Messenger.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی ہم سے ابن عمرو نے، انہوں نے ابوسلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا ۔
A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim (al-Nakha’l) through a different chain if narrators.
I (Ibrahim) said to Ubaidat al-Salmant: Do you think that his one of them, that is al-Mukhtar (al-Thaqaff)? He said: He is from the leaders.
ہم سے عبداللہ بن جراح نے جریر سے اور مغیرہ کی سند سے بیان کیا, ابراہیم کہتے ہیں, عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی
تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اسے یعنی مختار ( ابن ابی عبید ثقفی ) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے: وہ تو ان کا سردار ہے۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The first defect that permeated Banu Isra'il was that a man (of them) met another man and said: O so-and-so, fear Allah, and abandon what you are doing, for it is not lawful for you. He then met him the next day and that did not prevent him from eating with him, drinking with him and sitting with him. When they did so. Allah mingled their hearts with each other. He then recited the verse: curses were pronounced on those among the children of Isra'il who rejected Faith, by the tongue of David and of Jesus the son of Mary . . . up to wrongdoers . He then said: By no means, I swear by Allah, you must enjoin what is good and prohibit what is evil, prevent the wrongdoer, bend him into conformity with what is right, and restrict him to what is right.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے یونس بن راشد نے بیان کیا، ان سے علی بن بدیمہ نے، وہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں ( غلط کاریاں ) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کے قول «فاسقون» بنی اسرائیل کے کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی ( سورۃ المائدہ: ۷۸ ) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔
A similar tradition (to the No. 4322) has also been transmitted by Ibn Masud through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:
Or Allah will mingle your hearts together and curse you as He cursed them. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Muharibi, from al-'Ala bin al-Musayyab, from Abdullah bin Amr bin Murrah, from Salim al-Aftas, from Abu Ubaidah, from Abdullah; and it is been transmitted by Khalid al-Tahhan, from al-'Ala, from Amr bin Murrah from Abu Ubaidah.
ہم سے خلف بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے ابو شہاب الحنات نے بیان کیا، ان سے علاء بن المسیب نے، عمرو بن مرہ سے، سلیم کی سند سے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے,اس میں یہ اضافہ ہے
اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے ملا دے گا، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے ۔ ابوداؤد نے کہا: اس روایت کو محاربی نے علاء بن المسیب سے، عبداللہ بن عمرو بن مرہ سے، سالم الافطاس سے، ابو عبیدہ سے، عبداللہ سے۔ اور اسے خالد الطحان نے، العلا سے، عمرو بن مرہ نے ابو عبیدہ سے نقل کیا ہے۔
Narrated Abu Bakr رضی اللہ عنہ :
You people recite this verse You who believe, care for yourselves; he who goes astray cannot harm you when you are rightly-guided, and put it in its improper place. Khalid's version has: We heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: When the people see a wrongdoer and do not prevent him, Allah will soon punish them all. Amr bin Hushaym's version has: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If acts of disobedience are done among any people and do not change them though the are able to do so, Allah will soon punish them all. Adu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abu Usamah and a group transmitters similar to the version narrated by Khalid. The version of Shubah has: If acts of obedience are done among any people who are more numerous than those who do them. . . .
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، ہمیں ہشام المعنی نے اسماعیل کی سند سے خبر دی , قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا
لوگو! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ( سورۃ المائدہ: ۱۰۵ ) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے ۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔
Narrated Jarir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any man is among a people in whose midst he does acts of disobedience, and, though they are able to make him change (his acts), they do not change, Allah will smite them with punishment before they die.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، میں ابن جریر سے روایت کرتا ہوں, جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If any one you sees something objectionable, he should change it with his hand if he can change it with his hand. (The narrator Hammad broke the rest of the tradition which was completed by Ibn al-Ala. ) But if he cannot (do so), he should do it with his tongue, and if he cannot (do so with) his tongue he should do it in his heart, that being the weakest form of faith.
ہم سے محمد بن العلاء اور ہناد بن السری نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے، اسمٰعیل بن رجا سے، اپنے والد سے، ابو سعید کی سند سے، اور قیس بن شیعہ کی سند سے، انہوں نے کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔
Abu Umayyah ash-Sha'bani said:
I asked Abu Thalabah al-Khushani رضی اللہ عنہ : What is your opinion about the verse Care for yourselves . He said: I swear by Allah, I asked the one who was well informed about it; I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about it. He said: No, enjoin one another to do what is good and forbid one another to do what is evil. But when you see niggardliness being obeyed, passion being followed, worldly interests being preferred, everyone being charmed with his opinion, then care for yourself, and leave alone what people in general are doing; for ahead of you are days which will require endurance, in which showing endurance will be like grasping live coals. The one who acts rightly during that period will have the reward of fifty men who act as he does. Another version has: He said (The hearers asked: ) Messenger of Allah, the reward of fifty of them? He replied: The reward of fifty of you.
ہم سے ابو الربیع سلیمان بن داؤد العاتکی نے بیان کیا، ان سے ابن مبارک نے بیان کیا، ان سے عتبہ بن ابی حکیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عمرو بن جریہ لقمی نے بیان کیا, ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ
میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوثعلبہ! آپ آیت کریمہ «عليكم أنفسكم» کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا ۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Messenger of Allah? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality. Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through different chain.
ہم سے الکنبی نے بیان کیا کہ ان سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے اور عمارہ بن عمرو کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟ یا آپ نے یوں فرمایا: عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا ( یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے ) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما:
When we were around the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, he mentioned the period of commotion (fitnah) saying: When you see the people that their covenants have been impaired, (the fulfilling of) the guarantees becomes rare, and they become thus (interwining his fingers). I then got up and said: What should I do at that time, may Allah make me ransom for you? He replied: Keep to your house, control your tongue, accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs, and leave alone the affairs of the generality.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے الفضل بن دقین نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے بیان کیا، ان سے ہلال بن خباب ابو الاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عکرمہ نے بیان کیا، عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best fighting (jihad) in the path of Allah is (to speak) a word of justice to an oppressive ruler.
ہم سے محمد بن عبادہ الوسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید یعنی ابن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو اسرائیل نے خبر دی، ہم سے محمد بن جوہدہ نے عطیہ العوفی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے ۔
Narrated Al-Urs bin Amirat al-Kindi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When sin is done in the earth, he who sees it and disapproves of it will be taken like one who was not present, but he who is not present and approves of it will be like him who sees.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ بن زیاد الموصیلی نے بیان کیا، عدی بن عدی کی سند سے, عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا ( یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا ) ۔
A similar tradition has also been transmitted by ‘Adiyy bin Adiyy رضی اللہ عنہ from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم though a different chain of narrators. This version has:
He who sees it and disapproves of it will be like him who was not present.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو شہاب نے بیان کیا، مغیرہ بن زیاد سے, عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کیا۔ فرمایا
جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں ۔
Abu Bakhtari said:
"One who heard the prophet صلی اللہ علیہ وسلم saying it, told me" -and Sulaiman (one of the narrator) said: "One of the Companions of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم told me" - "that the prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The people will not perish until their sins and faults become abundant, and there remains no excuse for them.
ہم سے سلیمان بن حرب اور حفص بن عمر نے بیان کیا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، اور عمرو بن مرہ کی سند سے یہ ان کا قول ہے, ابوالبختری کہتے ہیں کہ
مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا وہ خود اپنا عذر زائل نہ کر لیں ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led us in the night prayer one night towards the end of his life. When he uttered the salutation, he got up and said: Have you seen this night of yours ? No one of those who are on the surface of the earth will survive at the ends of one hundred years. Ibn Umar رضی اللہ عنہما said: The people fell into fallacy by this statement of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about the traditions they used to narrate concerning one hundred years. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: No one of those who are present today on the surface of the earth will survive, meaning when that century comes to and end.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے سلیم بن عبداللہ اور ابوبکر بن سلیمان نے خبر دی،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی ( زندہ ) باقی نہیں رہے گا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی، اور دوسری نسل آ جائے گی۔
Narrated Abu Thalabat al-Khushani رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah will not fail to detain this community for less than half a day.
ہم سے موسیٰ بن سہل نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن جبیر نے اپنے والد سے, ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس امت کو قیامت کے دن کے آدھے دن سے کم باقی نہیں رکھے گا ۔
Narrated Saad bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Saad رضی اللہ عنہ was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے ابو المغیرہ نے بیان کیا، مجھ سے صفوان نے بیان کیا، شریح بن عبید رضی اللہ عنہ سے, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔