Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Injunctions about Ramadan
كتاب شهر رمضان
Chapter 6
Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Recite the Quran in one month. I said: I have (more) energy. He said: Recite it in three days Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: I heard Ahmad bin Hanbal say: The narrator 'Isa bin Shadhan is a sane person.
محمد بن حفص ابو عبدالرحمٰن القطان نے، جو عیسیٰ بن شدان کے ماموں تھے، کہا: ہمیں ابوداؤد نے خبر دی، ہمیں حارث بن سلیم نے خبر دی، وہ طلحہ بن مسرف کی سند سے، خیثمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تین دن میں پڑھا کرو ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔
Ibn al-Had said:
Nafi bin Jubair asked me: In how many days do you recite the Quran ? I said: I have not fixed any part from it for daily round. Nafi said to me: Do not say: I do not fix any part of it for daily round, for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I recited a part of the Quran. The narrator Ibn al-Had said: I think I have transmitted this tradition from al-Mughirah bin Shubah.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، ابن الہدی کی سند سے,ابن الہاد کہتے ہیں کہ
مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ۱؎ ۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔
Narrated Aws Ibn Hudhayfah رضی اللہ عنہ :
We came upon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in a deputation of Thaqif. The signatories of the pact came to al-Mughirah Ibn Shubah as his guests. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made Banu-Malik stay in a tent of his. Musaddad's version says: He was in the deputation of Thaqif which came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He used to visit and have a talk with us every day after the night prayer. The version of Abu Saeed says: He remained standing for such a long time (talking to us) that he put his weight sometimes on one leg and sometimes on the other due to his long stay. He mostly told us how his people, the Quraysh, behaved with him. He would say: We were not equal; we were weak and degraded at Makkah (according to Musaddad's version). When we came over to Madina the fighting began between us; sometimes we overcome them and at other times they overcome us. One night he came late and did not come at the time he used to come. We asked him: You came late tonight? He said: I could not recite the fixed part of the Quran that I used to recite every day. I disliked to come till I had completed it. Aws said: I asked the companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: How do you divide the Quran for daily recitation? They said: Three surahs, five surahs, eleven surahs, thirteen surahs' mufassal surahs. Abu Dawud said: The version of Abu Saeed is complete.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہمیں قرآن بن تمام نے خبر دی, ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو ابو خالد نے خبر دی اور ان کا قول یہ ہے کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن یعلٰی نے عثمان بن عبداللہ بن اوس سے اپنے دادا کی سند سے، عبداللہ بن سعید نے اپنی حدیث میں کہا, اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا، ( مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ ( آپ گفتگو ) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آ گئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر ۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کر دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا ۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب ( حصہ ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب ( حصہ ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید ( عبداللہ بن سعید الاشیخ ) کی روایت کامل ہے۔
Narrator Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who recites the Quran in a period less than three days does not understand it.
ہم سے محمد بن المنہال نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، انہیں سعید نے قتادہ کی سند سے، انہیں ابو الاعلیٰ یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما said:
He asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم; In how many days should one complete the recitation of the Quran? He said: In forty days. He then said: In one month. He again said: In twenty days. He then said: In fifteen days. He then said: In ten days. Finally he said: In seven days.
ہم سے نوح بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ سماک بن الفضل کی سند سے، وہب بن منبہ کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن میں ، پھر فرمایا: ایک ماہ میں ، پھر فرمایا: بیس دن میں ، پھر فرمایا: پندرہ دن میں ، پھر فرمایا: دس دن میں ، پھر فرمایا: سات دن میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔
Narrated Alqamah and al-Aswad said:
A man came to Ibn Masud. He said: I recite the mufassal surahs in one rak'ah. You might recite it quickly as one recites verse (poetry) quickly, or as the dried dates fall down (from the tree). But the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to recite two equal surahs in one rak'ah; he would recite (for instance) surahs an-Najm (53) and ar-Rahman (55) in one rak'ah, surahs Iqtarabat (54) and al-Haqqah (69) in one rak'ah, surahs at-Tur (52) and adh-Dhariyat (51) in one rak'ah, surahs al-Waqi'ah (56) and Nun (68) in one rak'ah, surahs al-Ma'arij (70) and an-Nazi'at (79) in one rak'ah, surahs al-Mutaffifin (83) and Abasa (80) in one rak'ah, surahs al-Muddaththir (74) and al-Muzzammil (73) in one rak'ah, surahs al-Insan (76) and al-Qiyamah (75) in one rak'ah, surahs an-Naba' (78) and al-Mursalat (77) in one rak'ah, and surahs ad-Dukhan (44) and at-Takwir (81) in one rak'ah. Abu Dawud said: This is the arrangement of Ibn Masud himself.
ہم سے عباد بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، وہ بنی اسرائیل سے اور ابواسحاق سے, علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ہم مثل سورتوں کو جیسے نجم اور رحمن ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقة ایک رکعت میں، والطور اور الذاريات ایک رکعت میں، إذا وقعت اور نون ایک رکعت میں، سأل سائل اور النازعات ایک رکعت میں، ويل للمطففين اور عبس ایک رکعت میں، المدثر اور المزمل ایک رکعت میں، هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة ایک رکعت میں، عم يتسائلون اور المرسلات ایک رکعت میں، اور اسی طرح الدخان اور إذا الشمس كورت ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
Abdur-Rahman bin Yazid said:
I asked Abu Masud رضی اللہ عنہ while he was making circumambulation of the Kabah (about the recitation of some verses from the Quran). He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone recited two verses from the last of Surah al-Baqarah at night, they will be sufficient for him.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، منصور کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے, عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone prays at night reciting regularly ten verses, he will not be recorded among the negligent; if anyone prays at night and recites a hundred verses, he will be recorded among those who are obedient to Allah; and if anyone prays at night reciting one thousand verses, he will be recorded among those who receive huge rewards. Abu Dawud said: The name of Ibn Hujairah al-Asghar is Abdullah bin Abdur-Rahman bin Hujairah.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، کہا کہ ان سے ابوسویہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن حجر کو خبر دیتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دس آیتوں ( کی تلاوت ) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں ( کی تلاوت ) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں ( کی تلاوت ) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بے انتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما :
A man came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Teach me to read the Quran, Messenger of Allah. He said: Read three surahs which begin with A. L. R. He said: My age is advanced, my mind has become dull (i. e. memory has grown weak), and my tongue has grown heavy). So he said: Then read three surahs which begin with H. M. He repeated the same words. So he said: Read three surahs which begin with the Glorification of Allah . But he repeated the same excuse. The man then said: Teach me a comprehensive surah, Messenger of Allah. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم taught him Surah (99). When the Earth is shaken with her earthquake . When he finished it, the man said: By Him Who sent you with truth, I shall never add anything to it. Then man then went away. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said twice: The man received salvation.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی اور ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن یزید نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں عیاش بن عباس القطبانی نے خبر دی، انہیں عیسیٰ بن ہلال الصدفی نے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں «الر» ہے ۱؎ ، اس نے کہا: میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہو گئی ہے ( اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر «حم»والی تینوں سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو «مسبحات» میں سے تین سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک جامع سورۃ سکھا دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «إذا زلزلت الأرض» سکھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «أفلح الرويجل» ( بوڑھا کامیاب ہو گیا ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A surah of the Quran containing thirty verses will intercede its reader till he will be forgiven. That is: Blessed is He in Whose Hand is the sovereignty (Surah 67).
ہم سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، وہ عباس الجشمی کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے ۔