The Book on Business
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 15
Narrated Abu Umamah: During the year of the Farewell Pilgrimage, I heard the Prophet (ﷺ) saying during the Khutbah: The borrowed is to be returned, and the guarantor is responsible, and the debt is to be repaid. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Samurah, Safwan bin Umayyah, and Anas. [He said:] The Hadith of Abu Umamah is a Hasan Gharib Hadith. It has also been reported through other routes besides this, from Abu Umamah, from the Prophet (ﷺ).
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا: ”عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی، ضامن کو تاوان دینا ہو گا اور قرض واجب الاداء ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی طریق سے مروی ہے، ۳- اس باب میں سمرہ، صفوان بن امیہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Qatadah: From Al-Hasan, from Samurah, that the Prophet (ﷺ) said: Upon the hand is what it took, until it is returned. Qatadah said: Then Al-Hasan forgot, so he said: 'It is something you entrusted, he is not liable for it.' Meaning the borrowed property. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Some of the people pf knowledge, among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others, followed this Hadith. They said that the possessor of the borrowed thing is liable. This is the view of Ash-Shafi'i and Ahmad. Some of the people of knowledge among the Companions and others said that the possessor of the borrowed this is not liable unless there is dispute. This is the view of Sufyan Ath-Thawri and the people of Al-Kufah, and it is the view of Ishaq.
سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے“ ۱؎، قتادہ کہتے ہیں: پھر حسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے ”جس نے عاریت لی ہے“ وہ تیرا امین ہے، اس پر تاوان نہیں ہے، یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں یہ لوگ کہتے ہیں: عاریۃً لینے والا ضامن ہوتا ہے۔ اور یہی شافعی اور احمد کا بھی قول ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ عاریت لینے والے پر تاوان نہیں ہے، الا یہ کہ وہ سامان والے کی مخالفت کرے۔ ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Narrated Muhammad bin Ibrahim : From Sa'eed bin Al-Musayyab, from Ma'mar bin 'Abdullah bin Nadlah who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Hoarding is nothing but sin.' So I (Muhammad) said to Sa'eed: O Abu Muhammad! You hoard? He said: And Ma'mar would hoard. It is also been reported that Sa'eed bin Musayyab would hoard oil, (camel) fodder, and the like. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Umar, 'Ali, Abu Umamah, and Ibn 'Umar. The Hadith of Ma'mar is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge, they dislike hoarding food, and some of them make a concession for hoarding things other than food. Ibn Al-Mubarak said: There is no harm in hoarding cotton, goat pelts and like.
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”گنہگار ہی احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرتا ہے“ ۱؎۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن المسیب سے کہا: ابو محمد! آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ تیل، گیہوں اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، ۳- اس باب میں عمر، علی، ابوامامہ، اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے کھانے کی ذخیرہ اندوزی ناجائز کہا ہے، ۵- بعض اہل علم نے کھانے کے علاوہ دیگر اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دی ہے، ۶- ابن مبارک کہتے ہیں: روئی، دباغت دی ہوئی بکری کی کھال، اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: Do not go out to meet the market (caravan), do not leave animals un-milked (to deceive the buyer), nor out-spend one another. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn Mas'ud and Abu Hurairah. The Hadith if Ibn 'Abbas is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge, they dislike selling the Muhaffalah, and it is the Musarrah that has not been milked by its owner in days or more than that, so the milk accumulates in its udder to impress the purchaser. This is a type of deceit and misrepresentation.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( بازار میں آنے والے قافلہ تجارت کا بازار سے پہلے ) استقبال نہ کرو، جانور کے تھن میں دودھ نہ روکو ( تاکہ خریدار دھوکہ کھا جائے ) اور ( جھوٹا خریدار بن کر ) ایک دوسرے کا سامان نہ فروخت کراؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ ایسے جانور کی بیع کو جس کا دودھ تھن میں روک لیا گیا ہو جائز نہیں سمجھتے، ۴- محفلۃ ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کا دودھ تھن میں چھوڑے رکھا گیا ہو، اس کا مالک کچھ دن سے اسے نہ دوہتا ہوتا کہ اس کی تھن میں دودھ جمع ہو جائے اور خریدار اس سے دھوکہ کھا جائے۔ یہ فریب اور دھوکہ ہی کی ایک شکل ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his wealth, he will meet Allah while He is angry with him. Al-Ash'ath bin Qais said: It is about me, by Allah! There was a dispute about some land between myself and a man from the Jews who denied my ownership of it, so I took him to the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Do you have any proof ?' I said: 'No'. So he said to Jew: 'Take an oath.' I said: 'O Messenger of Allah! If he takes an oath then my property will be gone!' So Allah, Most High revealed: Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths.. until the end of the Ayah. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Wa'il bin Hujr, Abu Musa, Abu Umamah bin Tha'labah Al-Ansari, and 'Imran bin Husain. The Hadith of Ibn Mas'ud is a Hasan Sahih Hadith.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے میرے سلسلے میں یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصے کا انکار کیا تو میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پاس لے گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”اور جو لوگ اللہ کے قرار اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑا سا مول حاصل کرتے ہیں...“ ( آل عمران: ۷۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، ابوموسیٰ، ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ibn Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: When the two parties (in a deal) disagree then the seller's statement is taken as valid, and the purchaser retains the option. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Mursal. 'Awn bin 'Abdullah did not see Ibn Mas'ud. This Hadith has also been reported from Al-Qasim bin 'Abdur-Rahman, from Ibn Mas'ud from the Prophet (ﷺ). But it also Mursal. [Abu 'Eisa said:] Ishaq bin Mansur said: I said to Ahmad: what if when the two parties disagree and there is no proof (what is done)?' He said: 'The saying of the owner of the merchandise is taken as valid or they both refuse.' And Ishaq said as he did, and that in every case where his saying is taken, he must swear.' [Abu 'Eisa said:] Similar to this has been reported from some of the people of knowledge among the Tabi'in, Shuraih is among those.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے تو بات بائع کی مانی جائے گی، اور مشتری کو اختیار ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے، عون بن عبداللہ نے ابن مسعود کو نہیں پایا، ۲- اور قاسم بن عبدالرحمٰن سے بھی یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے ابن مسعود سے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہ روایت بھی مرسل ہے، ۳- اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے اور کوئی گواہ نہ ہو تو کس کی بات تسلیم کی جائے گی؟ انہوں نے کہا: بات وہی معتبر ہو گی جو سامان کا مالک کہے گا، یا پھر دونوں اپنی اپنی چیز واپس لے لیں یعنی بائع سامان واپس لے لے اور مشتری قیمت۔ اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی کہا ہے جو احمد نے کہا ہے، ۴- اور بات جس کی بھی مانی جائے اس کے ذمہ قسم کھانا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: تابعین میں سے بعض اہل علم سے اسی طرح مروی ہے، انہیں میں شریح بھی ہیں۔
Narrated Abu Al-Minhal: From Iyas bin 'Abd al-Muzani who said: The Prophet (ﷺ) prohibited selling water. [He said:] There are narrations on this topic from Jabir, Buhaisah from her father, Abu Hurairah, 'Aishah, Anas and 'Abdullah bin 'Amr. [Abu 'Eisa said:] The Hadith is Iyas is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to most of the people of knowledge, they dislike selling water. This is the view of Ibn Al-Mubarak, Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Some of the people of knowledge permitted selling water, Al-Hasan al-Basri is one of them.
ایاس بن عبد مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایاس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، بہیسہ، بہیسہ کے باپ، ابوہریرہ، عائشہ، انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے پانی بیچنے کو ناجائز کہا ہے، یہی ابن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے، جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) said: Do not withhold surplus water so that it is prevented from the pasture. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Abu Al-Munhal's name is 'Abdur-Rahman bin Mut'im, he is from Al-Kufah, and he is oen that Habib bin Abi Thabit reports from. Abu Al-Munhal Sayyar bin Salamah is from Al-Basrah, he is the companion of Abu Barzah Al-Aslami.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرورت سے زائد پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے سبب گھاس سے روک دیا جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: The Prophet (ﷺ) prohibited studding the stallion. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah, Anas, and Abu Sa'eed. [Abu 'Eisa said:] The Hadith is Ibn 'Umar is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge. There are those who made concession for accepting an honorarium for that.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کام پر بخشش قبول کرنے کی اجازت دی ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔
Narrated Anas bin Malik: A man from (the tribe of) Kilab asked the Messenger of Allah (ﷺ) about studding a stallion and he prohibited it. So he said: 'O Messenger of Allah! We stud the stallions so that we get honorarium (from the owners of the female horse)!' So he permitted it for honorarium. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except as a narration of Ibrahim bin Humaid, from Hisham bin 'Urwah.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے منع کر دیا، پھر اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پر نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں بخشش دی جاتی ہے ( تو اس کا حکم کیا ہے؟ ) آپ نے اسے بخشش لینے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن حمید ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے۔
Narrated Rafi' b. Khadij: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: The earnings of the cupper is filth, the earnings of the fornicator (from harlotry) is filth, and the price of a dog is filth. [He said:] There are narrations on this topic from 'Umar, 'Ali, Ibn Mas'ud, Abu Masu'd, Jabir, Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, Ibn 'Umar, and 'Abdullah bin Ja'far. [Abu 'Eisa said:] The Hadith is Rafi' is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to most of the people of knowledge, they disliked the price of a dog. This the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Some of the people of knowledge permitted the price of the hunting dog.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث ( گھٹیا ) ہے ۱؎ زانیہ کی اجرت ناپاک ۲؎ ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، ابومسعود، جابر، ابوہریرہ، ابن عباس، ابن عمر اور عبداللہ ابن جعفر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے کتے کی قیمت کو ناجائز جانا ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم نے شکاری کتے کی قیمت کی اجازت دی ہے۔
Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of a dog, the earnings of the fornicator (from harlotry), and the news of the fortune-teller. This Hadith is Hasan Sahih.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn Muhayyisah of Banu Harithah: From his father, that he sought permission from the Prophet (ﷺ) to take the wages for cupping and he (ﷺ) forbade him from it. He continued asking him and seeking his permission until he said: Use it to give fodder to your water-carrying camels, and to feed your slaves. [He said:] There are narrations on this topic from Rafi' bin Khadij, Abu Juhaifah, Jabir, and As-Sa'ib bin Yazid. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Muhayyisah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge. Ahmad said: If I am asked for something by cupper then I deny him, acting upon this Hadith.
محیصہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کی اجازت طلب کی، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا ۱؎ لیکن وہ باربار آپ سے پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے اونٹ کے چارہ پر خرچ کرو یا اپنے غلام کو کھلا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محیصہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج، جحیفہ، جابر اور سائب بن یزید سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- احمد کہتے ہیں: اگر مجھ سے کوئی پچھنا لگانے والا مزدوری طلب کرے تو میں نہیں دوں گا اور دلیل میں یہی حدیث پیش کروں گا۔
Narrated Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) was cupped. Abu Talhah did the cupping. So he ordered that he be given two Sa' of food, and he spoke to his masters to reduce his taxes. He said: 'The most virtuous of what you treat with is cupping.' Or, he said: 'The best of your treatments is cupping.' [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, Ibn 'Abbas, and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Anas is a Hasan Sahih. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ), and others permitted paying the cupper. This is the view of Ash-Shafi'i.
حمید کہتے ہیں کہ
انس رضی الله عنہ سے پچھنا لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انس رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ کو پچھنا لگانے والے ابوطیبہ تھے، تو آپ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے بات کی، تو انہوں نے ابوطیبہ کے خراج میں کمی کر دی اور آپ نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم دوا کرتے ہو ان میں سب سے افضل پچھنا ہے“ یا فرمایا: ”تمہاری بہتر دواؤں میں سے پچھنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے پچھنا لگانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
Narrated Jabir: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of the dog and the cat. [Abu 'Eisa said:] There is some confusion (Idtirab) in the chain for this Hadith. The price of a cat is not correct. This Hadith has been reported from Al-A'mash, from some of his companions, from Jabir, and they caused some confusion for Al-A'mash in this narration. There are those among the people of knowledge who disliked the price of a cat, and some of them permitted it. This is the view of Ahmad and Ishaq. It has been reported from Ibn Al-Fudail, from Al-A'mash, from Abu Hazim, from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ), through other than this route.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے۔ بلی کی قیمت کے بارے میں یہ صحیح نہیں ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے مروی ہے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور اس نے جابر سے، یہ لوگ اعمش سے اس حدیث کی روایت میں اضطراب کا شکار ہیں، ۳- اور ابن فضل نے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بطریق: «الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت کو ناجائز کہا ہے، ۵- اور بعض لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Narrated Jabir: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating the cat and from its price. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. We do not know of any major (known) narrators who reports from 'Umar bin Zaid (one of the narrators) besides 'Abdur-Razzaq.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم عبدالرزاق کے علاوہ کسی بڑے محدث کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن زید سے روایت کی ہو۔
Narrated Abu Al-Muhazzim: From Abu Hurairah who said: The price of a dog was prohibited, except for the hunting dog. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is not correct from this route. Abu Al-Muhazzim's name is Yazid bin Sufyan, and Shu'bah bin Al-Hajjaj criticized him and graded him weak. Similar to this has been reported from Jabir, from the Prophet (ﷺ), but its chain is also not correct.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
کتے کی قیمت سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) منع فرمایا ہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں ہے، ۲- ابومہزم کا نام یزید بن سفیان ہے، ان کے سلسلہ میں شعبہ بن حجاج نے کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے، ۳- اور جابر سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اور اس کی سند بھی صحیح نہیں ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم: ۲۹۷۱ ) ۔
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah. [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham.
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Ayyub: I narrated heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Whoever seperates a mother from her child, Allah seperates him and his most beloved on the Day of Judgement.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated 'Ali : The Messenger of Allah (ﷺ) gave me two boys who were brothers, so I sold one of them, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O, 'Ali! What happened to your boy?' So I informed him, and he said: 'Return him, return him.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others, disliked separating between the captives when selling them. Some of the people of knowledge permitted separating the children that were born in the land of Islam, but the first view is more correct. It has been related that Ibrahim An-Nakha'i seperated a mother and her child in a sale, so he was asked about that. He said: I sought her permission for that and she approved
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟“، میں نے آپ کو بتایا ( کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے ) تو آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم بیچتے وقت ( رشتہ دار ) قیدیوں کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناجائز کہا ہے، ۳- اور بعض اہل علم نے ان لڑکوں کے درمیان جدائی کو جائز قرار دیا ہے جو سر زمین اسلام میں پیدا ہوئے ہیں۔ پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے، ۴- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیچتے وقت ماں اور اس کے لڑکے کے درمیان تفریق، چنانچہ ان پر یہ اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے اس کی ماں سے اس کی اجازت مانگی تو وہ اس پر راضی ہے۔