The Book on Blood Money
كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 17
Narrated Abu Shuraih Al-Ka'bi: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah made Makkah sacred, it was not made sacred by the people. Whoever believes in Allah, and the Last Day, then let them not shed blood in it, nor cut down any of its trees. If one tries to make an excuse by saying: 'It was made lawful for the Messenger of Allah (ﷺ)' then indeed Allah made it lawful for me but He did not make it lawful for the people, and it was only made lawful for me for an hour of a day. Then it is returned to being sacred until the Day of Judgement. Then, to you people of Khuza'ah who killed this man from Hudhail: I am his 'Aqil, so whomever (one of his relatives) is killed after today, then his people have two options; either they have him killed, or they take the blood-money from him.'
ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا ( محترم ) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، ( اب ) اگر کوئی ( خونریزی کے لیے ) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا تھا ( تو اس کا یہ استدلال باطل ہے ) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے؟ اے خزاعہ والو! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، ( سن لو ) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا: یا تو وہ ( اس کے بدلے ) اسے قتل کر دیں، یا اس سے دیت لے لیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث بھی حسن صحیح ہے، ۲- اسے شیبان نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ۳- اور یہ ( حدیث بنام ابوشریح کعبی کی جگہ بنام ) ابوشریح خزاعی بھی روایت کی گئی ہے۔ ( اور یہ دونوں ایک ہی ہیں ) اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی آدمی مارا جائے تو اسے اختیار ہے یا تو وہ اس کے بدلے اسے قتل کر دے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرے“، ۴- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Narrated Abu Hurairah: A man was killed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so the killer was brought to the man's guardian. The killer said: 'O Messenger of Allah! By Allah! I did not mean to kill him.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Then if what he is saying is true, and you kill him, you would enter the Fire.' So he let the man go. He said: His hands were bound behind him with a Nis'ah. He said: So he left, dragging his Nis'ah. [He said:] So he was called Dhan-Nis'ah'.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی قتل کر دیا گیا، تو قاتل مقتول کے ولی ( وارث ) کے سپرد کر دیا گیا، قاتل نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے اسے قصداً قتل نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! اگر وہ ( قاتل ) اپنے قول میں سچا ہے پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے ۱؎“، چنانچہ مقتول کے ولی نے اسے چھوڑ دیا، وہ آدمی رسی سے بندھا ہوا تھا، تو وہ رسی گھسیٹتا ہوا باہر نکلا، اس لیے اس کا نام ذوالنسعہ ( رسی یا تسمے والا ) رکھ دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «نسعہ» : رسی کو کہتے ہیں۔
Narrated Buraidah: from his father who said: Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched a commander of an army he would exhort him personally; that he should have Taqwa of Allah, and regarding those of the Muslims who are with him; that he should be good to them. He would say: 'Fight in the Name of Allah and in Allah's curse. Fight those who disbelieve in Allah and fight, do not be treacherous, nor mutilate, nor kill a child.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو“، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، شداد بن اوس، عمران بن حصین، انس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابوایوب سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم نے مثلہ کو حرام کہا ہے۔
Narrated Shaddad bin Aws: that the Prophet (ﷺ) said: Indeed Allah has decreed Ihsan in everything. So when you kill, then do the killing well, and when you slaughter, then do the slaughtering well. Let one of you sharpen his blade, and let him comfort his animal (before slaughtering).
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل ۱؎ کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہارے ہر آدمی کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) judged that a Ghurrah male slave or female slave be given in the case of a fetus. The one of the judgement was made against said: 'Should we give something for one who did not drink, not eat, nor cry out to shed a tear, the likes of which is useless?' So the Prophet (ﷺ) said: 'This is the speech of a poet. Rather it requires a Ghurrah: a male slave or a female slave.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جنين» ( حمل ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی ( دینے ) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا: کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہو جاتا ہے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ۱؎، «جنين» ( حمل گرا دینے ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حمل بن مالک بن نابغہ اور مغیرہ بن شعبہ سے احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- غرہ کی تفسیر بعض اہل علم نے، غلام، لونڈی یا پانچ سو درہم سے کی ہے، ۵- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: «غرة» سے مراد گھوڑا یا خچر ہے۔
Narrated Al-Mughirah bin Shu'bah: Two women co-wives, (were fighting), and one of them hit the other with a stone or a tent post, causing her to have a miscarriage. The Messenger of Allah (ﷺ) judged that a Ghurrah male or female slave should be given for fetus, and he required it from the Asabah of the woman. (Another Chain) for this Hadith [and it is similar to this].
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
دو عورتیں سوکن تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی میخ ( گھونٹی ) سے مارا، تو اس کا حمل ساقط ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حمل کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور دیت کی ادائیگی اس عورت کے عصبہ کے ذمہ ٹھہرائی ۱؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: زید بن حباب نے سفیان ثوری سے روایت کی، اور سفیان ثوری نے منصور سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Juhaifah said: I said to 'Ali: O Commander of the Believers! Do you have anything written that is not in Allah's Book?' He said: 'By the One Who splits the seed and creates the soul, I have not learned from it except what understanding of the Qur'an Allah gives to a man, and what is in this sheet of paper.' I said: 'What is in the paper?' He said: 'It is the 'Aql, the (ransom for) release of captives, and the judgement that no believer is killed for a disbeliever.'
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا کیا ۱؎: امیر المؤمنین! کیا آپ کے پاس کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی ایسی تحریر ہے جو قرآن میں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! میں سوائے اس فہم و بصیرت کے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کے سلسلہ میں آدمی کو نوازتا ہے اور اس صحیفہ میں موجود چیز کے کچھ نہیں جانتا، میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ کہا: اس میں دیت، قید یوں کے آزاد کرنے کا ذکر اور آپ کا یہ فرمان ہے: ”مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: مومن کافر کے بدلے نہیں قتل کیا جائے گا، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: ذمی کے بدلے بطور قصاص مسلمان کو قتل کیا جائے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Narrated 'Amr bin Shu'aib: from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Muslim is not killed for disbeliever. And with this chain, it has been narrated that the Prophet (ﷺ) said: The blood-money paid for disbeliever is half of the blood-money paid for a believer.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کے بدلے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا“، اور اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کے موافق ہے، ۳- عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں۔
Narrated Samurah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever kills his slave, then we will kill him, and whoever maims his slave, then we will maim him.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بھی اسے قتل کر دیں گے اور جو اپنے غلام کا کان، ناک کاٹے گا ہم بھی اس کا کان، ناک کاٹیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، ابراہیم نخعی اسی کے قائل ہیں، ۳- بعض اہل علم مثلاً حسن بصری اور عطا بن ابی رباح وغیرہ کہتے ہیں: آزاد اور غلام کے درمیان قصاص نہیں ہے، ( نہ قتل کرنے میں، نہ ہی قتل سے کم زخم پہنچانے ) میں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اور جب دوسرے کے غلام کو قتل کرے گا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab: that 'Umar would say: The blood-money upon the tribe, and the wife does not inherit any of her husband's blood-money. Until Ad-Dahhak bin Sufyan Al-Kulabi informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) wrote to me, that Ashaim Ad-Dibabi's wife inherited the blood-money of her husband.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Narrated 'Imran bin Husain: A man bit the hand of another man. The man who was bitten pulled his hand out, causing two of his incisors (teeth) to fall out. They brought their case of the Prophet (ﷺ). So he said: One of you bites his brother like the stallion bites? There is no blood-money for you.' So Allah Most High revealed: Wounds, equal for equal.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ - اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں۔
Narrated Bahz bin Hakim: from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) imprisoned a man for an accusation, then he let him go.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر ( الزام ثابت نہ ہونے پر ) اس کو رہا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے، ۳- اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ۲؎۔
Narrated Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever is killed over his wealth then he is a martyr. [And whoever steals a hand-span of land, he will bear seven earths on the Day of Resurrection.]
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ۱؎ اور جس نے ایک بالشت بھی زمین چرائی قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں حاتم بن سیاہ مروزی نے اضافہ کیا ہے، معمر کہتے ہیں: زہری سے مجھے حدیث پہنچی ہے، لیکن میں نے ان سے نہیں سنا کہ انہوں نے اس حدیث یعنی «من قتل دون ماله فهو شهيد» ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“ میں کچھ اضافہ کیا ہو، اسی طرح شعیب بن ابوحمزہ نے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد الله عن عبدالرحمٰن بن عمرو بن سهل عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز سفیان بن عیینہ نے بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد الله عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں سفیان نے عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever is killed over his wealth, then he is martyr.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، یہ دوسری سندوں سے بھی ان سے مروی ہے ۲- بعض اہل علم نے آدمی کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے دفاع کی اجازت دی ہے، ۳- اس باب میں علی، سعید بن زید، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: آدمی اپنے مال کی حفاظت کے لیے دفاع کرے خواہ اس کا مال دو درہم ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If someone tries to get another's wealth without right, and he fights and is killed, then he is a martyr.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا مال ناحق چھینا جائے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے دفاع کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Narrated Zaid: that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Whoever is killed over his wealth then he is a martyr, and whoever is killed over his religion, then he is a martyr, and whoever is killed over his blood, then he is martyr, and whoever is killed over his family, then he is martyr.
سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابراہیم بن سعد سے کئی راویوں نے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Narrated Sahl bin Abi Hatamah: Yahya (one of the narrators) said: And I think it was from Rafi' bin Khadij - that 'Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhaiysah bin Mas'ud bin Zaid went out and when they reached Khaibar they separated while there. Then Muhayyisah found 'Abdullah bin Sahl murdered [so he buried him]. Then he went to the Messenger of Allah (ﷺ) along with Huwayyisah bin Mas'ud and Abdur-Rahman bin Sahl. The youngest of the people, Abdur-Rahman, went to speak ahead of his companions. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Let the eldest of you speak. So he was silent and two companions spoke. So he conversed with them and they mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) about the murder of 'Abdullah bin Sahl. He said to them: If fifty of you can swear an oath then you will have the right against the murderer. They said: How can we take an oath when we did not witness it? He said: Then fifty of Jews can swear to clear the charge with you? They said: How could we accept the oaths of a disbelieving people? So when he saw that, the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood-money. (Another Chain) from Sahl bin Abi Hathman and Rafi' bin Khadij, and the meaning is similar to this Hadith.
سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی الله عنہما کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہو گئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، کسی نے ان کو قتل کر دیا تھا، آپ نے انہیں دفنا دیا، پھر وہ ( یعنی راوی حدیث ) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے ( اس معاملہ میں آپ سے ) گفتگو کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بڑے کا لحاظ کرو، لہٰذا وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہو گئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے ( کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے ) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہو جاؤ ( یا کہا ) قاتل کے خون کے مستحق ہو جاؤ؟“ ان لوگوں نے عرض کیا: ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: ”تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے“، ان لوگوں نے کہا: ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کر لیں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت ۱؎ خود ادا کر دی۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قسامہ کے سلسلہ میں بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۳- مدینہ کے بعض فقہاء قسامہ ۲؎ کی بنا پر قصاص درست سمجھتے ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں: قسامہ کی بنا پر قصاص واجب نہیں، صرف دیت واجب ہے۔