Narrated Yusuf bin Mahak: They entered upon Hafsah bint 'Abdur-Rahman to ask her about the 'Aqiqah. She informed them that 'Aishah had informed her, that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered them that for a boy, two sheep were sufficient, and for a girl one sheep.
Urdu
یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ
لوگ حفصہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ( ان کی پھوپھی ) ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کریں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حفصہ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی بیٹی ہیں، ۳- اس باب میں علی، ام کرز، بریدہ، سمرہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، انس، سلمان بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Ubaidullah bin Abi Rafi': That his father said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) say the Adhan in the ear of Al-Hasan bin 'Ali - when he was born to Fatimah - the Adhan of Salat.
Urdu
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حسن بن علی جب فاطمۃالزہراء رضی الله عنہم سے پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کے کان میں نماز کی اذان کی طرح اذان دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عقیقہ کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے آئی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حسن کی طرف سے ایک بکری ذبح کی، بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے۔
Narrated Salman bin 'Amir Ad-Dabbi : That the Messenger of Allah (ﷺ) said: For a boy, there is an 'Aqiqah. So spill blood for him and remove the harm from him.
Urdu
سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ لازم ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ ( جانور ذبح کرو ) اور اس سے گندگی دور کرو“۔ اس سند سے بھی سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Umm Kurz: That she asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the 'Aqiqah. He said: For the boy is two sheep, and for the girl is one, it will not harm you if they (i.e. the sheep) are male or female.
Urdu
ام کرز رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی، وہ جانور نر یا ہو مادہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of Udhiyah (sacrifice) is a ram, and the best (burial) shroud is the Hullah.
Urdu
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر مینڈھا ہے اور سب سے بہتر کفن «حلة» ( تہبند اور چادر ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عفیر بن معدان حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں۔
Narrated Mikhnaf bin Sulaim: We were standing with the Prophet (ﷺ) at 'Arafat when I heard him say: 'O you people! For every household each year is Udhiyah (sacrifice) and 'Atirah. Do you know what an 'Atirah is ? It is that which you call Ar-Rajabiyyah.'
Urdu
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Muhammad bin 'Ali bin Al-Husain: That Ali bin Abi Talib said: The Messenger of Allah (ﷺ) had the 'Aqiqah for Al-Hasan with one sheep, and said: 'O Fatimah! Shave his head and give the weight of his hair in silver as charity.' He said: So I weighed it, and it was the weight of a Dirham or a bit of a Dirham.
Urdu
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: ”فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو“، فاطمہ رضی الله عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے، اور راوی ابوجعفر الصادق محمد بن علی بن حسین نے علی بن ابی طالب کو نہیں پایا ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah: From his father, that the Prophet (ﷺ) gave a Khutbah, then he descended and called for two rams and slaughtered them.
Urdu
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر ( منبر سے ) اترے پھر آپ نے دو مینڈھے منگائے اور ان کو ذبح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ( یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث ) ۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: I attended the Eid Al-Adha' with the Prophet (ﷺ) at the Musalla. When he finished his Khutbah, he descended from his Minbar and was given a male sheep. The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered it with his hand and said: 'Bismillah, Wa Allahu Akbar, this from me and whoever does not slaughter from my Ummah.'
Urdu
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی کے دن عید گاہ گیا، جب آپ خطبہ ختم کر چکے تو منبر سے نیچے اترے، پھر ایک مینڈھا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، اور ( ذبح کرتے وقت ) یہ کلمات کہے: «بسم الله والله أكبر، هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت آدمی یہ کہے «بسم الله والله أكبر» ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، کہا جاتا ہے، ۳- راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب کا سماع جابر سے ثابت نہیں ہے۔
Narrated Samurah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: The boy is mortgaged by his 'Aqiqah; slaughtering should be done for him on the seventh day, he should be given a name, and his head should be shaved.
Urdu
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے ۱؎، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں“۔
Narrated Umm Salamah: That the Prophet (ﷺ) said: Whoever sees the crescent of Dhul-Hijjah, and wants to slaughter a sacrifice he should not take from his hair nor from his nails.
Urdu
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ ( جب تک قربانی نہ کر لے ) اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( عمرو اور عمر میں کے بارے میں ) صحیح عمرو بن مسلم ہے، ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی لوگوں نے حدیث روایت کی ہے، دوسری سند سے اسی جیسی حدیث سعید بن مسیب سے آئی ہے، سعید بن مسیب ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی قول ہے، سعید بن مسیب بھی اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک بھی اسی حدیث کے موافق ہے، ۴- بعض اہل علم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے، وہ لوگ کہتے ہیں: بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شافعی کا یہی قول ہے، وہ عائشہ رضی الله عنہا کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور مدینہ روانہ کرتے تھے اور محرم جن چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہیں کرتے تھے ۱؎۔