Narrated Talib bin Hujair: From Hud bin 'Abdullah bin Sa'd, from his grandfather Mazidah, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of the Conquest and there was gold and silver on his sword. Talib said: So I asked him about the silver and he said: 'The hand-guard of his sword was of silver.' [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic form Anas. This Hadith is Hasan Gharib. Hud's (great) grandfather's name is Mazidah Al-'Asari.
مزیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اور چاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں: میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہود کے دادا کا نام مزیدہ عصری ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Narrated Anas: The hand-guard on the sword of the Messenger of Allah (ﷺ) was made from silver. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. This is how it has been reported from Hamam from Qatadah from Anas. While some of them reported it from Qatadah, from Sa'eed bin Abu Al-Hasan who said: The hand-guard on the sword of Messenger of Allah (ﷺ) was made from silver.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسی طرح اس حدیث کو ہمام، قتادہ سے اور قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں، بعض لوگوں نے قتادہ کے واسطہ سے، سعید بن ابی الحسن سے بھی روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔
Narrated Az-Zubair bin Al-'Awwam: On the Day of Uhud, the Prophet (ﷺ) wore two coats of mail. He tried to get up on a boulder but was not able to, so Talhah squatted under him, lifting the Prophet (ﷺ) upon it such that he could sit on the boulder. So he said: (Paradise) It is obligated from Talhah.' [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Safwan bin Umayyah and As-Sa'ib bin Yazid. This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except through the narration of Muhammad bin Ishaq.
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں تھیں ۱؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، زبیر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”طلحہ نے ( اپنے عمل سے جنت ) واجب کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Anas bin Malik: The Prophet (ﷺ) entered (Makkah) during they year of the Conquest, and upon his head was a helmet (Mighfar). It was said to him: 'Ibn Khatal is clinging to the covering of the Ka'bah.' So he said: 'Kill him.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib. We do knot know of anyone important who reported it other than Malik from Az-Zuhri.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، آپ سے کہا گیا: ابن خطل ۱؎ کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲ - ہم میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک زہری سے مالک کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کی ہے۔
Narrated 'Urwah Al-Bariqi: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Goodness will remain in the forelocks of horses until the Day of Judgement: (They bring about) Rewards and spoils of war. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Abu Sa'eed, Jarir, Abu Hurairah, Asma' bin Yazid, Al-Mughira bin Shu'bah, and Jabir. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. 'Urwah is Ibn Al-Ja'd Al-Bariqi, and they say he is 'Urwah bin Al-Ja'd. Ahmad bin Hanbal said: The Fiqh of this Hadith is that Jihad is with every Imam until the Day of Judgement.
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر ( بھلائی ) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: The blessing of the horse is in its redness. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from this route, from the narration of Shaiban.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ رنگ کے گھوڑوں میں برکت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف شیبان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Abu Qatadah: That the Prophet (ﷺ) said: The best horse is the black one with a spot on the face, and white on the upper lip. Then the one with some white on his lower legs, except for the right. So if it is no black, then the Kumait (red one with black on its ears and its mane) with these markings.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر گھوڑے وہ ہیں جو کالے رنگ کے ہوں، جن کی پیشانی اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو، پھر ان کے بعد وہ گھوڑے ہیں جن کے چاروں پیر اور پیشانی سفید ہو، اگر گھوڑا کالے رنگ کا نہ ہو تو انہیں صفات کا سرخ سیاہی مائل عمدہ گھوڑا ہے“۔
Another chain with similar meaning. [Abu 'Eisa said: ] This Hadith is Hasan Gharib Sahih.
یزید بن ابی حبیب سے اسی سند سے
اسی معنی کی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) disliked Shikal in horses. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Shu'bah reported similarly from 'Abdullah bin Yazid Al-Khath'ami, from Abu Zur'ah (one of the narrators in the chain of this Hadith), from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ). Abu Zur'ah bin 'Amr bin Jarir's name is Harim. Muhammed bin Hammad Ar-Razi narrated to us (he said): Jarir narrated to us from 'Umarah bin Al-Qa'qa' who said: 'Ibrahim An-Nakha'i said to me: When you narrate from me, then narrate from me from Abu Zur'ah, for one time he narrated a Hadith to me, then I asked him about it two years later, and he did not leave a letter out of it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں میں سے «شکال» گھوڑا ناپسند تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے عبداللہ بن یزید خثعمی سے، بسند «أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ابوزرعہ عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) arranged for the Mudammar among horses to race from Al-Hafiya' to Thaniyyah Al-Wada', between which was a distance of six miles. And for whatever horse was not among the Mudammar, they raced from Thaniya Al-Wada' to the Masjid of Banu Zuraiq, between which was a distance of a mile. I was among those who raced, and my horse jumped along with me over a wall. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah, Jabir, Anas, and 'Aishah. This Hadith is Hasan Sahih Gharib as a narration of Ath-Thawri.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چنانچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) said: No stake is acceptable except in archery, racing a camel, and racing a horse.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) was a slave (of Allah), who would order as he has ben ordered to. He did not give an order to us instead of the people regarding anything except for three: He ordered us that we make our Wudu' well (Isbagh), that we not eat from charity, and the we not mate a donkey with a horse. [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from 'Ali. This Hadith is Hasan Sahih. Sufyan Ath-Thawri reported this from Abu Jahdam, who said: From 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Abbas, from Ibn 'Abbas. He said I heard Muhammad saying: The narration of Ath-Thawri is not preserved. Ath-Thawri made a mistake in it. What is correct is what Ismail bin 'Ulaiyyah and 'Abul-Warith bin Sa'eed reported from Abu Jahdam, from 'Abdullah bin 'Ubaidullah bin 'Abbas from Ibn 'Abbas.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس»، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Ad-Darda': That he heard the Prophet (ﷺ) saying: Seek your weak for me. For indeed you sustenance and aid is only by your weak. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی ( دعاؤں کی برکت کی ) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: The angels do no accompany a group among whom there is a dog or a bell. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Umm Habibah, and Umm Salamah. This Hadith is Hasan Sahih.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Al-Bara' : The Prophet (ﷺ) sent two armies, place 'Ali bin Abi Talib as the commanded of one of them, and Khalid bin Al-Walid over the other. He said: 'Where there is fighting, then 'Ali (is in command).' He said: So 'Ali conquered a fortress and took a slave girl. Khalid [bin Al-Walid] wrote a letter and sent me with it to the Prophet (ﷺ), to speak against him for it. So I arrived to the Prophet (ﷺ) to read the letter. The color of his face changed, the he said: 'What do you think about a man who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him?' He said: I said: 'I seek refuge from angering Allah and angering His Messenger, I am only the Messenger.' So he was silent. [Abu 'Eisa said:] There is something about this from Ibn 'Umar. This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from the narration of Al-Ahwas bin Jawwab. And his saying: To speak against him for that. refers to An-Namimah.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر روانہ کیا ۱؎، ایک پر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے پر خالد بن ولید رضی الله عنہ کو امیر مقرر کیا اور فرمایا: ”جب جنگ ہو تو علی امیر ہوں گے ۲؎“، علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں سے ایک لونڈی لے لی، خالد بن ولید رضی الله عنہ نے مجھ کو خط کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو صرف قاصد ہوں، لہٰذا آپ خاموش ہو گئے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف احوص بن جواب کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابن عمر سے بھی حدیث مروی ہے، ۳- «يشي به» کا معنی چغل خوری ہے۔
Ibrahim bin Bash-shar Ar-Ramadi reported it from Sufyan bin 'Uyainah, from Buraid bin 'Abdullah bin Abu Burdah, from Abu Burdah, from Abu Musa, from the Prophet (ﷺ). Muhammad informed me of that, from Ibrahim bin Bash-Shar [Ar-Ramadi]. Muhammad said: More than one has reported it from Sufyan, from Buraid bin Abu Burdah [from Abu Burdah] from the Prophet (ﷺ) in Mursal form. This is more correct. Muhammad said: Ishaq bin Ibrahim reported from Mu'adh bin Hisham, from his father, from Qatadah, from Anas, from the Prophet (ﷺ) who said: 'Indeed Allah will question everyone who is responsible about his charge.' I heard Muhammad saying: This is not preserved. It is only correct from Mu'adh bin Hisham from his father, from Qatadah, from Al-Hasan, from the Prophet (ﷺ), in Mursal form.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Narrated Umm Al-Husain Al-Ahmasiyyah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) delivering Khutbah during the farewell Hajj, and he was wearing a Burd which he had wrapped from under his armpit. She said: I was look at muscle of his upper arm quivering and I heard him saying: O you people! Have Taqwa of Allah. If a mutilated Ethiopian slave is put in command over you, then listen to him and obey him, as long as he upholds the Book of Allah among you.' [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah and 'Irbad bin Sariyah. This Hadith is Hasan Sahih, it has been reported through other routes from Umm Husain.
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، ( گویا میں ) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے“ ( یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( یہ حدیث ) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Hearing and obeying is required from every Muslim man - in what he like and what he dislikes - as long as he is not ordered with disobedience. If he is ordered with disobedience, then no hearing or obeying is required of him. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Imran bin Husain, and Al-Hakam bin 'Amr Al-Ghifari. This Hadith is Hasan Sahih.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Yahya: From Mujahid from Ibn 'Abbas who said: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited instigating fights between beasts.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔
Abu Yahya reported from Mujahid: The Prophet (ﷺ) prohibited instigating fights between beasts. And he did not mention from Ibn 'Abbas in it. It is said that this is more correct that the (previous) narration of Qutbah.
مجاہد سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- کہا جاتا ہے، قطبہ کی ( اگلی ) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے، ۴- اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔