Chapter on Medicine
كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Chapter 29
Aishah narrated from Wahb's daughter - and she is Judamah - who said: I heard the Messenger of Allah (S.A.W) saying: 'I wanted to prohibit Al-Ghilah, but the Persians and Romans did it, and they did not kill their children.'
جدامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے، ۴- مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔
Aishah narrated from Judamah bint Wahb Al-Asadiyyah that she heard the Messenger of Allah (S.A.W) saying: I intended to prohibit Al-Ghilah until I remembered that the Persians and Romans do that, without any harm to their children.
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے“۔ مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں: ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Qatadah narrated from Abu 'Abdullah that Zaid bin Arqam said: The Prophet (S.A.W) would acclaim oil and Wars for (the treatment of) pleurisy. Qatadah said: And it is put in the mouth on the side which he is suffering.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں۔
Maimun Abu' Abdullah said: I heard Zaid bin Arqam say: 'The Messenger of Allah (S.A.W) ordered us to use Qust Al-Bahri and oil to treat Pleurisy.'
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری ( عود ہندی ) اور زیتون کے تیل سے کریں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں، ۳- میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے۔
Uthman bin Abi Al-'As narrated: The Messenger of Allah (S.A.W) came to me while I had a pain that almost ruined me. So,the Messenger of Allah (S.A.W) said: 'Rub it with your right hand seven times and say A`udhu bi `Izzatillah Wa Qudratihi wa Sultanihi min sharri ma ajid. ( I seek refuge in Allah's might, power, an authority, from the evil of what I suffer.) He said: So I did it, and Allah removed what I had, and I never ceased telling my family and others to do it.
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة الله وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے“۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کر دی، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Asma' bint 'Umais narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) asked her what they used as a laxative. She said: Shubrum He said: It is hot and too strong. She said: Then I used Senna as a laxative. So the Prophet (S.A.W): If there was anything that would have a cure for death in it, then it would have been Senna.
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟“ میں نے کہا: «شبرم» ۱؎، آپ نے فرمایا: ”وہ گرم اور بہانے والا ہے“۔ اسماء کہتی ہیں: پھر میں نے «سنا» ۲؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس سے ( یعنی «سنا» سے ) مراد دست آور دواء ہے۔
Abu Sa'eed said: A man came to the Prophet (S.A.W) and said: 'My brother is suffering from loose bowels.' He said: 'Let him drink Honey.' So he drank it. Then he came and said: O Messenger of Allah (S.A.W)! He has drunk honey, but it has only made him more worse.' So the Messenger of Allah (S.A.W) said: ' Let him drink honey.' He said: So he drank it. Then he came and said: 'O Messenger of Allah (S.A.W)! I gave him some more to drink, but it has only made him more worse.' He said: The Messenger of Allah (S.A.W) said: 'Allah has told the truth,and your brother's stomach has lied. Give him honey to drink'. So he gave him some more honey to drink and he was cured.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرے بھائی کو دست آ رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn 'Abbas narrated that the Prophet (S.A.W) said: There is no Muslim worshiper who visits one who is ill - other than at the time of death - and he says seven times: As'alullah Al-'Azeem Rabbal 'Arshil 'Azeem an yashfik ('I ask Allah the Magnificent, Lord of the Magnificent Throne to cure you') except when he will be cured.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك» ”میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے“ تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف منہال بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
Thawban narrated that the Prophet (S.A.W) said: When one of you suffers from fever - and indeed fever is a piece of the Fire - let him extinguish it with water. Let him stand in a flowing river facing the direction of it and say: Allahummasahfi 'abdaka wa saddik Rasulak ('In the name off Allah. O Allah! Cure your slave and testify to Your Messenger.)' Doing so after Salat As-Subh(Fajr) and before the rising of the sun. Let him submerse himself in it three times, for three days. If he is not cured in three, then five. If he is not cured in five, then seven. If he is not cured in seven, then nine. For indeed it will not remain after nine, with the permission of Allah.
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول کی اس بات کو سچا بنا“ وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Abu Hazim said: While I was listening, Sahl bin Sa'd was asked: 'What were the wounds of the Messenger of Allah (S.A.W) treated with?' He said: 'None is alive who is more knowledgeable of it than I. 'Ali would come with water in his shield, and Fatimah would use it to wash his blood off,and a mat was burnt for him and his wounds were filled with it(its ashes).
ابوحازم کہتے ہیں کہ
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا؟ انہوں نے کہا: اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، علی رضی الله عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے، جب کہ فاطمہ رضی الله عنہا آپ کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) said: The parable of the ill when he is cured and becomes healthy is that of hail that falls from the heavens in its purity and its color.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مریض صحت یاب اور تندرست ہو جائے تو شفافیت اور رنگ میں اس کی مثال اس اولے کی طرح ہے جو آسمان سے گرتا ہے“۔
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) said: When one of you visits the ill, then reassure him regarding his lifespan. Indeed that will not repel anything, but it will comfort his soul.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet(S.A.W) visited a man who was ill, so he said: Cheer up, for indeed Allah said: 'It is My Fire which I impose upon My sinning slave as his portion of the Fire. (Hasan) Al-Hasan said: They would hope that the fever that occurred at night would atone for any deficiency caused by sins.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے“ ۱؎۔
حسن بصری کہتے ہیں کہ
ایک رات صحابہ یہ امید ظاہر کر رہے تھے کہ بخار چھوٹے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔