Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: There shall be a Fitnah of extermination of the 'Arabs. Its fighters are in the Fire. During it, the tongue is stronger then the sword.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: زیاد بن سیمین کوش کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں معلوم ہے، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے موقوفاً بیان کیا ہے۔
Hudhaifah [bin Al-Yaman] said: The Messenger of Allah {s.a.w} narrated two narrations to us, one of which I have seen {happening} and I am waiting for the other. He narrated that (in the beginning) trust was preserved in the roots of the hearts of men, then the Qur'an was revealed, and they learned it from the Qur'an, and then they learned it from the Sunnah. Then he narrated to us about the disappearance of trust, saying, 'A man will go to sleep whereupon trust will be taken away from his heart, and only its trace will remain, like speckles. He then will sleep, whereupon the remainder of the trust will also be taken away and trace will remain like a blister, like an ember that you roll on your feet, it causes pain and you see it swollen while it contains nothing.' Then he took a pebble and rolled it over his leg. He said: 'So there will come a day when people will deal in business with each other, but there will hardly be any trustworthy persons among them, such that it would be said that in such and such a tribe, there is such and such person, who is honest, and until a man will be admired for his strength, intelligence, and good manners, although indeed he will not have faith equal to a mustard seed in his heart. ' He (Hudhaifah) added: There came upon me a time when I did not mind dealing with anyone of you, for if he was a Muslim, his religion would prevent him from cheating me, and if was a Jew or a Christian, his Muslim ruler would prevent him from cheating me; but today I cannot deal except with so-and-so and so-and-so.
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک کی حقیقت تو میں نے دیکھ لی ۱؎، اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: ”امانت لوگوں کے دلوں کے جڑ میں اتری پھر قرآن کریم اترا اور لوگوں نے قرآن سے اس کی اہمیت قرآن سے جانی اور سنت رسول سے اس کی اہمیت جانی“ ۲؎، پھر آپ نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”آدمی ( رات کو ) سوئے گا اور اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی ( اور جب وہ صبح کو اٹھے گا ) تو اس کا تھوڑا سا اثر ایک نقطہٰ کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا اثر کھال موٹا ہونے کی طرح رہ جائے گا ۳؎، جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری پھیرو تو آبلہ ( پھپھولا ) پڑ جاتا ہے، تم اسے پھولا ہوا پاتے ہو حالانکہ اس میں کچھ نہیں ہوتا“، پھر حذیفہ رضی الله عنہ ایک کنکری لے کر اپنے پاؤں پر پھیرنے لگے اور فرمایا: ”لوگ اس طرح ہو جائیں گے کہ خرید و فروخت کریں گے لیکن ان میں کوئی امانت دار نہ ہو گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا: فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار آدمی ہے، اور کسی آدمی کی تعریف میں یہ کہا جائے گا: کتنا مضبوط شخص ہے! کتنا ہوشیار اور عقلمند ہے! حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہ ہو گا“، حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میرے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ خرید و فروخت میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا، اگر میرا فریق مسلمان ہوتا تو اس کی دینداری میرا حق لوٹا دیتی اور اگر یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا سردار میرا حق لوٹا دیتا، جہاں تک آج کی بات ہے تو میں تم میں سے صرف فلاں اور فلاں سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Waqid Al-Laithi narrated that when the Messenger of Allah (s.a.w) went out to Hunain he passed a tree that the idolaters called Dhat Anwat upon which they hung their weapons. They(the Companions) said: O Messenger of Allah! Make a Dhat Anwat for us as they have a Dhat Anwat.' The Prophet (s.a.w) said: Subhan Allah! This is like what Musa's people said: Make for us a god like their gods. By the One in Whose is my soul! You shall follow the way of those who were before you.
ابوواقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ۱؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوواقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: By the One in Whose Hand is my soul! The Hour will not be established until predators speak to people and until the tip of a man's whip and the straps on his sandal speak to him, and his thigh informs him of what occurred with his family after him.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں، آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ گفتگو کرنے لگے، اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو کرنے لگے اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Ibn 'Umar said: The moon split during the time of the Messenger of Allah(s.a.w), so the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'Bear witness. '
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند ( دو ٹکڑوں میں ) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، انس اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Hudhaifah bin Asid said: The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest. '
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
Safiyyah narrated The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The people will not finish attacking this House until it is attacked by an army which, when they are at Al-Baida', or a Baida' in the land, it will swallow from the first of them to the last of them, and the middle of them shall not be saved.' I said: 'O Messenger of Allah(s.a.w)! What about those among them who are averse to it?' He said: 'Allah will resurrect them upon what was in their souls(intentions). '
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ( اللہ کے ) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے ( یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے ) “۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Aishah narrated The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'In the end of this Ummah there will be a collapse, transformation, and Qadhf. ' She said : I said: 'O Messenger of Allah! Will they be destroyed while they are righteous among them?' He said: 'Yes, when evil is dominant. '
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کے آخری عہد میں یہ واقعات ظاہر ہوں گے زمین کا دھنسنا، صورت تبدیل ہونا اور آسمان سے پتھر برسنا“، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب فسق و فجور عام ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عائشہ کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- راوی عبداللہ بن عمر عمری کے حفظ کے تعلق سے یحییٰ بن سعید نے کلام کیا ہے۔
Abu Dharr said: I entered the Masjid at sunset, and the Prophet(s.a.w) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this(sun) goes?' I said:'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: Rise from whence you came. So it shall rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course. ' He said: That is the recitation of 'Abdulla bim Mas'ud.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وذلك مستقر لها» ”یہ اس کا ٹھکانا ہے“، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی قرأت یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Zainab bint Jahsh said: One day the Messenger of Allah(s.a.w) awoke from sleep with a flushed red face, and said: 'La Ilahaillallah. He repeated it thrice. 'Woe to the Arabs from the evil drawn near. Today a gap has been made in the wall of Ya'juj and Ma'juj like this.' And he formed ten(with his fingers). Zainab said: I said: 'O Messenger of Allah! Shall we be destroyed while they are righteous among us?' He said: 'Yes, when the evil abounds. '
زینب بنت جحش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو کر اٹھے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ آپ نے اسے تین بار دہرایا، پھر فرمایا:“ اس شر ( فتنہ ) سے عرب کے لیے تباہی ہے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے ( ہاتھ کی انگلیوں سے ) دس کی گرہ لگائی“ ۱؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب برائی زیادہ ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( سند میں چار عورتوں کا تذکرہ کر کے ) سفیان بن عیینہ نے یہ حدیث اچھی طرح بیان کی ہے، حمیدی، علی بن مدینی اور دوسرے کئی محدثین نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے اس حدیث کی سند میں زہری سے چار عورتوں کا واسطہ یاد کیا ہے: «عن زينب بنت أبي سلمة، عن حبيبة، عن أم حبيبة، عن زينب بنت جحش»، زینب بنت ابی سلمہ اور حبیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوتیلی لڑکیاں ہیں اور ام حبیبہ اور زینب بنت جحش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں، ۴- معمر اور کئی لوگوں نے یہ حدیث زہری سے اسی طرح روایت کی ہے مگر اس میں ”حبیبہ“ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ابن عیینہ کے بعض شاگردوں نے ابن عیینہ سے یہ حدیث روایت کرتے وقت اس میں ”ام حبیبہ“ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Abdullah [bin Mas'ud] narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: In the end of time there will come a people young in years, foolish in minds, reciting the Qur'an which will not go beyond their throats, uttering sayings from the best of creatures, going through the religion as an arrow goes through the target.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانہ ۱؎ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر ان کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے، ان سے مقام حروراء کی طرف منسوب خوارج اور دوسرے خوارج مراد ہیں، ۳- اس باب میں علی، ابوسعید اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Usaid bin Hudair said: A man from Ansar said, 'O Messenger of Allah! You appointed so-and-so and did not appoint me. So, the Prophet(s.a.w) said, 'After me you will see preferential treatment, so be patient till you meet me at Al-Hawd. '
اسید بن حضیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں کو عامل بنا دیا اور مجھے عامل نہیں بنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد ( غلط ) ترجیح دیکھو گے، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdullah narrated that the Prophet(s.a.w) said: Indeed, after me you will see preferential treatment, and matters that you dislike. They said: Then what do you command us[O Messenger of Allah!] He said: Give them their rights, and ask Allah for yours.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد عنقریب ( غلط ) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم حکام کا حق ادا کرنا ( ان کی اطاعت کرنا ) اور اللہ سے اپنا حق مانگو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Sa'eed Al-Khudri said: One day, the Messenger of Allah(s.a.w) led us in Salat Al-Asr while it was still daytime. Then he stood to give us a Khutbah. He did not leave anything that would happen until the Hour of Judgement except that he informed us about it. Whoever remembered it remembered it, and whoever forgot it forgot it. Among what he said was: 'Indeed the world is green and sweet, and indeed Allah has left you to remain to see how you behave. So beware of the world, and beware of the women.' And among what he said was: 'The awe(status) of people should not prevent a man from saying the truth when he knows it. 'He(one of the narrators) said: Abu Sa'eed wept, then he said: 'By Allah! We have seen things and we feared. ' And among what he said in it, was : 'Indeed, for every treacherous person there shall be a banner erected on The Day Of Resurrection in proportion to his treachery. And there is no treachery greater than the treachery of a leader to the masses' whose banner shall be positioned at his buttocks.' And among what we remember from that day is: 'Behold! Indeed the children of Adam were created in various classes. Among them is he who was born a believer, lives as a believer, and dies a believer. Among them, is he who was born a disbeliever, lives as a disbeliever, and dies a disbeliever. Among them, is he who was born a believer, lives as a believer, and dies a disbeliever. Among them, is he who was born a disbeliever, lives as a disbeliever, and dies a believer. Behold! Among them is the slow to get angry, the quick to calm. Among them is the quick anger and the quick to calm, so this is with that. Behold! Among them is the quick get angry and the slow to calm, and indeed the best of them is the slow to get angry and the quick to calm, and the worst of them is the quick get angry and the slow to calm. Behold! Among them is he who pays back well and collects well. Among them is he who is bad with paying back and good when collecting. Among them is he who pays back well and is bad with collecting, so this is with that. Behold! Among them is he who is bad with paying back and bad with collecting. Indeed the best of them is the one who is good in paying back and good in collecting. And the worst of them is the one who is bad with paying back and bad with collecting. Behold! Anger is an ember in the heart of the son of Adam, as you see it in the redness of his eyes and the bulge of his jugular veins. So whoever senses something from that, then let him cling to the ground. ' He said: So we began turning towards the sun to see if anything of it remained(meaning whether it has set or not). So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'Behold! The world, in relation to what has passed of it, shall not remain except as what remains of this day of yours, in relation to what has passed of it. '
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کچھ پہلے پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اور آپ نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں خبر دی، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے بھول گئے، آپ نے جو باتیں بیان فرمائیں اس میں سے ایک بات یہ بھی تھی: ”دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گا ۱؎، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے اور عورتوں سے بچ کے رہو“ ۲؎، آپ نے یہ بھی فرمایا: ”خبردار! حق جان لینے کے بعد کسی آدمی کو لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک دے“، ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے روتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں اور ( بیان کرنے سے ) ڈر گئے آپ نے یہ بھی بیان فرمایا: ”خبردار! قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے کے لیے اس کے عہد توڑنے کے مطابق ایک جھنڈا ہو گا اور امام عام کے عہد توڑنے سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنا نہیں، اس عہد کے توڑنے والے کا جھنڈا اس کے سرین کے پاس نصب کیا جائے گا“، اس دن کی جو باتیں ہمیں یاد رہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: ”جان لو! انسان مختلف درجہ کے پیدا کیے گئے ہیں کچھ لوگ پیدائشی مومن ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرتے ہیں، کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندہ رہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگوں کو غصہ دیر سے آتا ہے اور جلد ٹھنڈا ہو جاتا ہے، کچھ لوگوں کو غصہ جلد آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، جان لو! کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جلد غصہ آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، جان لو! ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دیر سے غصہ ہوتے ہیں اور جلد ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، اور سب سے برے وہ ہیں جو جلد غصہ ہوتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں، جان لو! کچھ لوگ اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے قرض وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ بدسلوکی سے قرض ادا کرتے ہیں، اور بدسلوکی سے وصول کرتے ہیں، جان لو! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے وصول کرتا ہے، اور سب سے برا وہ ہے جو برے ڈھنگ سے ادا کرتا ہے، اور بدسلوکی سے وصول کرتا ہے، جان لو! غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے کیا تم غصہ ہونے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی رگوں کو پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو؟ لہٰذا جس شخص کو غصہ کا احساس ہو وہ زمین سے چپک جائے“، ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم لوگ سورج کی طرف مڑ کر دیکھنے لگے کہ کیا ابھی ڈوبنے میں کچھ باقی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جان لو! دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کی بہ نسبت اب جو حصہ باقی ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا حصہ آج کا تمہارے گزرے ہوئے دن کی بہ نسبت باقی ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ، ابومریم، ابوزید بن اخطب اور مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قیامت تک ہونے والی چیزوں کو بیان فرمایا۔
Mu'awiyah bin Qurrah narrated from his father that the Messenger of Allah(s.a.w) said: When the inhabitants of Ash-Sham become corrupt, then there is no good in it for you. There will never cease to be a group in my Ummah who will be helped(by Allah), they will not be harmed by those who forsake them until the Hour is established. Muhammad bin Isma'il said: Ali bin Al-Madini said: 'They are the people of Hadith. '
قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: Do not revert to disbelief after me, some of you striking the necks of others. '
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، جریر، ابن عمر، کرز بن علقمہ، واثلہ اور صنابحی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Busr bin Sa'eed said: During the Fitnah(in the time) of 'Uthman bin 'Affan, Sa'd bin Abi Waqqas said: I testify that the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'There will be a Fitnah during which the sitting person is better than the standing(person) is better than the walking, and the walking(person) is better than the running. ' He said: What do you see(I should do) if he entered upon me in my homeand extended hos hand to kill me? He said: 'Be as Adam's son. '
بسر بن سعید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”آدم کے بیٹے ( ہابیل ) کی طرح ہو جانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «رجلا» ( ایک آدمی ) کا اضافہ کیا ہے، ۳- سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، خباب بن ارت، ابوبکرہ، ابن مسعود، ابوواقد، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: Rush to do good deeds. A Fitnah will occur that is like a portion of the dark night, morning will come upon a man as a believer, who will be a disbeliever in the evening, and evening will come upon a believer, who will be a disbeliever in the morning. One of them will sell his religion for goods of the world.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Umm Salamah narrated: One night the Prophet (ﷺ) awoke and said, 'Subhan Allah! How many Fitan (trials and afflictions) have descended tonight. And how many treasures have been disclosed? Who will awaken the women sleeping in these dwellings? O! How many are clothed in this world, yet naked in the Hereafter.'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: ”سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں ( امہات المؤمنین ) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: Before the Hour there shall be Fitan like a portion of the dark night. Morning will come upon a man as a believer, who will be a disbeliever in the evening, and evening will come upon a believer, who will be a disbeliever in the morning, people will sell their religion for goods of the world.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سخت تاریک رات کی طرح فتنے ( ظاہر ) ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام میں کافر ہو جائے گا، شام میں مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے کچھ لوگ اپنا دین بیچ دیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جندب، نعمان بن بشیر اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔