Abdullah bin Mas'ud narrated: I can not enumerate (how many times) I heard Allah's Messenger (S) reciting - in the two Rak'ah after Al-Maghrib and the two Rak'ah before Salatul-Fajr with: Say: O you disbelievers! and Say: He is Allah the One.
Urdu
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔
Ibn Umar narrated: I prayed two Rak'ah after Al-Maghrib with the Prophet (S) in his house.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے مغرب کے بعد دونوں رکعتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج اور کعب بن عجرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ibn Umar narrated: I memorized ten Rak'ah from Allah's Messenger (S) which he would pray in a night and a day: Two Rak'ah before Az-Zuhr, two after it; two Rak'ah after Al-Maghrib and two Rak'ah after the latter Isha. He said: And Hafsah narrated to me that he (S) would pray two Rak'ah before Al-Fajr.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دو رکعتیں ظہر سے پہلے ۱؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ رضی الله عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that: Allah's Messenger (S) said: Whoever prays six Rak'ah after Al-Maghrib, and he does not speak about anything between them, then they will be counted for him as twelve years of worship.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
Abdullah bin Shaqiq said: I asked Aishah about the Salat of Allah's Messenger (S). She said: 'He would pray four Rak'ah before Az-Zuhr and two Rak'ah after it, and two after Al-Maghrib, and two Rak'ah after Al-Isha, and two before Al-Fajr.
Urdu
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عبداللہ بن شقیق کی حدیث جسے وہ عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔
Ibn Umar narrated that: The Prophet (S) said: Salat in the night is two by two. So when you fear the dawn (is near) then make it odd by one, and make that the last of your Salat odd.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
Abu Hurairah narrated that: Allah's Messenger (S) said: The most virtuous fasting after the month of Ramadan is that of Allah's month of Al-Muharram. And the most virtuous Salat after the obligatory is the night prayer.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے“۔
Sa'eed bin Abi Sa'eed Al-Maqburi narrated that: Sa'eed bin Abi Sa'eed Al-Maqburi narrated that Abu Salamah informed him that he had asked Aishah: How was the Salat of Allah's Messenger (A) [at night] during Ramadan? She said: Allah's Messenger (S) would pray - neither in Ramadan nor in any other month - more than eleven Rak'ah. He would pray four, and do not ask about their excellence or length, then he would pray four, and do not ask about their excellence or length, then he would pray three. Aishah said: I asked: 'O Messenger of Allah! Do you sleep before having performed Witr? He said: 'O Aishah! Indeed my eyes sleep but my heart does not sleep.'
Urdu
ابوسلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ ( دو دو کر کے ) چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو، پھر مزید چار رکعتیں ( دو، دو کر کے ) پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو ۲؎، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: ”عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎۔
Aishah narrated: Allah's Messenger (S) would pray eleven Rak'ah at night, making them off with one. When he finished them he would lay down on his right side.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی۔ تو جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹتے ۱؎۔
Aishah narrated: The Prophet (S) would pray nine Rak'ah in the night.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrator not mentioned: (Another chain with similar narration)
Urdu
سفیان ثوری نے بھی
یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے، ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔
Aishah narrated: When the Prophet (S) did not pray at night because he was prevented from it by sleep or being sleepy then he would pray twelve Rak'ah during the daytime.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا تو دن میں ( اس کے بدلہ میں ) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعد بن ہشام ہی ابن عامر انصاری ہیں اور ہشام بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ زرارہ بن اوفی بصرہ کے قاضی تھے۔ وہ بنی قشیر کی امامت کرتے تھے، انہوں نے ایک دن فجر میں آیت کریمہ «فإذا نقر في الناقور * فذلك يومئذ يوم عسير» ”جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن سخت دن ہو گا“ پڑھی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے اور مر گئے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو انہیں اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔
Abu Hurairah narrated that: Allah's Messenger (S) said: Allah, Blessed and Exalted is He, descends to the earth's heaven every night when the first third of the night has passed. He says: I am the Sovereign. Is there any who calls upon Me so that I may respond to him? Is there any who asks of Me that I may give him? Is there any who seeks forgiveness from Me so that I may forgive him?' He continues in that until the illumination of Al-Fajr.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر رات کو جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ۱؎ آسمان دنیا پر اترتا ہے ۲؎ اور کہتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معاف کر دوں۔ وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہو جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی بن ابی طالب، ابوسعید، رفاعہ جہنی، جبیر بن مطعم، ابن مسعود، ابو درداء اور عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۴- نیز آپ سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب وقت رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اترتا ہے“، اور یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔
Abu Qatadah narrated that : The Prophet (S) said to Abu Bakr: I passed by you while you were reciting and your voice was low. He said: I let He who, I was consulting hear. He said: Raise your voice. Then he said to Umar: I passed by while you were reciting and your voice was loud. So he said: I repel drowsiness and keep Ash-Shaitan away. So he said: Lower your voice.
Urdu
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں ( تہجد کے وقت ) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟“ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ ( یعنی اللہ کو ) آپ نے فرمایا: ”اپنی آواز کچھ بلند کر لیا کرو“، اور عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟“، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ ( یعنی: ابوقتادہ رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے )
Abdullah bin Abi Qais narrated: I asked Aishah how the recitation of the Prophet (S) was at night. [Would he recite silently o audibly?] So she said: 'He would do both of those. Sometimes he was silent with his recitation and sometimes it was audible.' So I said: 'All praise is due to Allah, the One who made the matter broad.'
Urdu
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے؟ کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری، تو میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Zaid bin Thabit narrated that: The Prophet (S) said: The most virtuous prayer of yours is in your homes, except for the obligatory.
Urdu
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو، سوائے فرض کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعد، اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے۔