Narrated Ali bin Abu Talib: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever is penalized (for a crime) then his punishment has been hastened for him in the world, for Allah is more just than to double the punishment upon His slave in the Hereafter. And whoever does a punishable act and then Allah covers it for him and forgives him, then Allah is more kind than to recount something which He has already forgiven.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Muslim is the one from (the harm of) whose tongue and hand (other) Muslims are safe, and the believer is the one with whom the people trust their blood and their wealth.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ( کامل ) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن ( کامل ) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے ( بھی ) احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“۔
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari: that the Prophet (ﷺ) was asked: Which of the Muslims is most virtuous? He said: The one from (the harm of) whose tongue and hand (other) Muslims are safe.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں کون سا مسلمان سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے مسلمان محفوظ رہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صحیح غریب حسن ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Islam began as something strange and it will return to being strange as it began. So Tuba is for the strangers.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
Narrated Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf bin Zaid bin Milhah narrated from his father, from his grandfather: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed the religion with creep into the Hijaz just like a snake creeps into its hole, and the religion will cling to the Hijaz just like the female mountain goat cling to the peak of a mountain. Indeed the religion began as something strange and it will return to being strange. So Tuba is for the strangers who correct what the people have corrupted from my Sunnah after me.
عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ایک وقت آئے گا کہ ) دین اسلام حجاز میں سمٹ کر رہ جائے گا جس طرح کہ سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اور یقیناً دین حجاز میں آ کر ایسے ہی محفوظ ہو جائے گا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر محفوظ ہو جاتی ہے ۱؎، دین اجنبی حالت میں آیا اور وہ پھر اجنبی حالت میں جائے گا، خوشخبری اور مبارک بادی ہے ایسے گمنام مصلحین کے لیے جو میرے بعد میری سنت میں لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The sign of a hypocrite is that whenever he speaks he lies, and whenever he makes a promise he does not fulfill it, and if he is entrusted he betrays.
اس سند سے بھی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Prophet (ﷺ) said: There are four things that whoever has them, then he is a hypocrite, and whoever has one attribute from among them, then he has an attribute of hypocrisy,until he leaves it: Whoever lies whenever he speaks, he does not fulfill whenever he promises, he is vulgar whenever he argues, and whenever he makes an agreement he proves treacherous.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ( مکمل ) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Zaid bin Arqam: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whenever a man makes a promise and he intends to fulfill it, but he does not fulfill it, then there is no burden upon him.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ ( کسی عذر و مجبوری سے ) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے، ۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔
Narrated Ibn Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: A Muslim's fighting his brother is disbelief, and verbally abusing him is disobedience.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ibn Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Verbally abusing a Muslim is disobedience and fighting him is disbelief.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر ( حقیقی ) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا، ۴- ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔
Narrated Ad-Dhahak: that the Prophet (ﷺ) said: It is not for a slave (of Allah) to vow about something he does not possess, and cursing a believer is like killing him, and whoever accuses a believer of disbelief, then it is like he has killed him, and whoever kills himself with something, then Allah will punish him with whatever he killed himself with on the Day of Judgement.
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ibn 'Umar: Ibn 'Umar narrated that the Prophet (ﷺ) said: Whoever says to his brother 'disbeliever' then it will have settled upon one of them. Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے ( گویا کہ ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «باء»، «أقر» کے معنی میں ہے، یعنی اقرار کیا۔
Narrated As-Sunabihi: from Ubadah bin As-Samit, he said: I entered upon him while he was dying, so I cried, and he said: There now, why are you crying? For by Allah, if I am a martyr , then I will intercede for you, and if I can I will benefit you,' then he said: 'By Allah! There is no Hadith which I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) which is good for you but I narrate it to you today, while I am near death. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever testifies to La Ilaha Illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah, then Allah has forbidden the fire for him.
صنابحی سے روایت ہے کہ
میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے، میں ( انہیں دیکھ کر ) رو پڑا، انہوں نے کہا: ٹھہرو ٹھہرو، روتے کیوں ہو؟ قسم اللہ کی! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں ( آخرت میں ) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کر دیا ہو، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آ چکی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو گواہی دے کہ کوئی معبود ( برحق ) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون ( قابل اعتماد ) ہیں، ۳- صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں ( ابوعبداللہ کنیت ہے ) ، ۴- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، جابر، ابن عمر، اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «من قال لا إله إلا الله دخل الجنة» ”جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہو گا“ کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے، ۶- بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید ( ہر حال میں ) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ۱؎، ۷- عبداللہ بن مسعود، ابوذر، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، انس بن مالک رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا ہو گا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی“ ۲؎، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين» ”وہ بھی وقت ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے“ ( الحجر: ۲ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah will distinguish a man from my Ummah before all of creation on the Day of Judgement. Ninety-nine scrolls will be laid out for him, each scroll is as far as the eye can see, then He will say: 'Do you deny any of this? Have those who recorded this wronged you?' He will say: 'No, O Lord!' He will say: Do you have an excuse?' He will say: 'No, O Lord!' So He will say: 'Rather you have a good deed with us, so you shall not be wronged today. Then He will bring out a card (Bitaqah); on it will be: I testify to La Ilaha Illallah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. He will say: 'Bring your scales.' He will say: 'O Lord! What good is this card next to these scrolls?' He will say: 'You shall not be wronged.' He said: 'The scrolls will be put on a pan (of the scale), and the card on (the other) pan: the scrolls will be light, and the card will be heavy, nothing is heavier than the Name of Allah.'
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے ( اس کے گناہوں کے ) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا ( کوئی بات نہیں ) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم ( و زیادتی ) نہ ہو گی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ لکھا ہو گا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر ( کانٹے پر ) موجود رہو، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر ( رجسٹر ) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہو گا۔ ( اور سچی بات یہ ہے کہ ) اللہ کے نام کے ساتھ ( یعنی اس کے مقابلہ میں ) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہو سکتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Jews split into seventy-one sects, or seventy-two sects, and the Christians similarly, and my Ummah will split into seventy-three sects.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، اور عوف بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: What befell the children of Isra'il will befall my Ummah, step by step, such that if there was one who had intercourse with his mother in the open, then there would be someone from my Ummah who would do that. Indeed the children of Isra'il split into seventy-two sects, and my Ummah will split into seventy-three sects. All of them are in the Fire Except one sect. He said: And which is it O Messenger of Allah? He said: What I am upon and my Companions.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے، ( یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے ) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہو گا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث جس میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کے حدیث کے مقابلہ میں کچھ زیادہ وضاحت ہے حسن غریب ہے۔ ہم اسے اس طرح صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah, the Blessed and Exalted, created His creation in darkness, then He cast His Light upon them, so whoever is touched by that light he is guided, and whoever is not, he goes astray. It is for this reason that I say that the pens have dried with Allah's knowledge.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا ( یعنی اپنے نور کا پر تو ) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہو گیا اور جس پر نور نہ پڑا ( تجاوز کر گیا ) تو وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Mu'adh bin Jabal: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you know what Allah's right upon His slaves is? I said: Allah and His Messenger know best. He said: His right upon them is that they worship Him alone and do not associate any partners with Him. He said: And do you know what their right over Allah is if they do that? I said: Allah and His Messenger know best. He said: That He will not punish them.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں“۔ ( پھر ) آپ نے کہا: ”کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے مروی ہے۔
Narrated Abu Dharr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Jibril came to me and gave me glad tidings, that whoever dies without associating anything with Allah, then he will enter Paradise. I said: Even if he commits adultery and theft? He said: Yes.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔