Chapter on Knowledge
كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 42
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: We sought permission from the Messenger of Allah (ﷺ) for writing but he did not permit us.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے ( ابتداء اسلام میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم ( حدیث ) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی زید بن اسلم کے واسطہ سے آئی ہے، اور اسے ہمام نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah: There was a man among the Ansar who would sit with the Messenger of Allah (ﷺ), and he would listen to the Ahadith of the Prophet (ﷺ) and he was amazed with them but he could not remember them. So he complained about that to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'O Messenger of Allah! I listen to your Ahadith and I am amazed but I can not remember them.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Help yourself with your right hand' and he motioned with his hand as if writing.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک انصاری شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ آپ کی حدیثیں سنتا اور یہ حدیثیں اسے بہت پسند آتی تھیں، لیکن وہ انہیں یاد نہیں رکھ پاتا تھا تو اس نے اپنے یاد نہ رکھ پانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کی حدیثیں سنتا ہوں اور وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ( مگر ) میں انہیں یاد نہیں رکھ پاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے داہنے ہاتھ کا سہارا لو ( اور یہ کہتے ہوئے ) آپ نے ہاتھ سے لکھ لینے کا اشارہ فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی و مستحکم نہیں ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل کو کہتے ہوئے سنا: خلیل بن مرہ منکر الحدیث ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) gave an address. So he mentioned a story in the Hadith, and Abu Shah said: 'Have it written for me O Messenger of Allah! So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Write it for Abu Shah.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور دوران خطبہ آپ نے کوئی قصہ ( کوئی واقعہ ) بیان کیا تو ابو شاہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے لکھوا دیجئیے ( یعنی کسی سے لکھا دیجئیے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ سے ) کہا ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ حدیث میں پورا واقعہ مذکور ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے۔
Narrated Hammam bin Munabbih: that the heard Abu Hurairah say: None of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) narrated more Ahadith from him than me, except 'Abdullah bin 'Amr. For he used to write them down and I did not write
ہمام بن منبہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے والا مجھ سے زیادہ کوئی نہیں ہے اور میرے اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان یہ فرق تھا کہ وہ ( احادیث ) لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور روایت میں «وهب بن منبه، عن أخيه» جو آیا، تو «أخيه» سے مراد ہمام بن منبہ ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Convey from me, even if it be an Ayah, and narrate from the Children of Isra'il, and there is no harm, And whoever lies upon me purposely, then let him take his seat in the Fire.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے لوگوں کو ( احکام الٰہی ) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو، اور بنی اسرائیل سے بیان کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹ کی نسبت کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Anas bin Malik: A man came to the Prophet (ﷺ) to get a mount, but he (ﷺ) did not have anything to mount him on with him. So he was lead to another person to give him a mount. He came to the Prophet (ﷺ) to inform him about that and he said: 'Whoever leads to good, he is like the one who does it.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا، تو آپ کے پاس اسے کوئی سواری نہ ملی جو اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتی۔ آپ نے اسے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیج دیا، اس نے اسے سواری فراہم کر دی۔ پھر اس نے آ کر آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا ( ثواب میں ) بھلائی کرنے والے ہی کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی انس رضی الله عنہ کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ۲- اس باب میں ابومسعود بدری اور بریدہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Mas'ud Al-Badri: that a man came to the Prophet (ﷺ) looking for a mount, he said: 'Mine has been ruined.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Go to so-and-so.' So he went to him and he gave him a mount. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever leads to good, then for him is the same reward as the one who does it - or - who acts upon it.'
ابومسعود بدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا، اور کہا: میں بے سواری کے ہو گیا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم فلاں شخص کے پاس جاؤ“، چنانچہ وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس نے اسے سواری دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھلائی کا راستہ دکھایا تو اسے اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کہ اس کے کرنے والے کو ملتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور ابومسعود بدری کا نام عقبہ بن عمرو ہے۔
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari: that the Prophet (ﷺ) said: Intercede, and you will be rewarded, and Allah will fulfill what He wills upon the tongue of His Prophet.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفاعت ( سفارش ) کرو تاکہ اجر پاؤ، اللہ اپنے نبی کی زبان سے نکلی ہوئی جس بات ( جس سفارش ) کو بھی چاہتا ہے پورا کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: No soul is wrongfully taken except that some of the burden of its blood is upon the son of Adam, because he was the first to institute murder.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے جو بھی خون ہوتا ہے اس خون کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے ( پہلے ) بیٹے پر جاتا ہے، کیونکہ اسی نے سب سے پہلے خون کرنے کی سبیل نکالی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever calls to guidance, then he receives the reward similar to the reward of whoever follows him, without that diminishing anything from their rewards. And whoever calls to misguidance, then he receives of sin similar to the sins of those who followed him, without that diminishing anything from their sins.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر کے برابر ہدایت کی طرف بلانے والے کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی ہو، اور جس نے ضلالت ( و گمراہی ) کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر گمراہی کی طرف بلانے والے کو بھی گناہ ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی وجہ سے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn Jarir bin 'Abdullah: from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever starts a good tradition which is followed, then for him is a reward, and the likes of their rewards of whoever follows him, there being nothing diminished from their rewards. And whoever starts a bad tradition which is followed, then for him is the sin, and the likes of the sins of whoever follows him, there being nothing diminished from their sins.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا ( کوئی اچھی سنت قائم کی ) اور اس اچھے طریقہ کی پیروی کی گئی تو اسے ( ایک تو ) اسے اپنے عمل کا اجر ملے گا اور ( دوسرے ) جو اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر و ثواب میں کسی طرح کی کمی کیے گئے بغیر ان کے اجر و ثواب کے برابر بھی اسے ثواب ملے گا، اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس برے طریقے کی پیروی کی گئی تو ایک تو اس پر اپنے عمل کا بوجھ ( گناہ ) ہو گا اور ( دوسرے ) جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر بھی اسی پر گناہ ہو گا، بغیر اس کے کہ اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی کی گئی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے جریر بن عبداللہ سے آئی ہے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث منذر بن جریر بن عبداللہ سے بھی آئی ہے، جسے وہ اپنے والد جریر بن عبداللہ سے اور جریر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۴- یہ حدیث عبیداللہ بن جریر سے بھی آئی ہے، اور عبیداللہ اپنے والد جریر سے اور جریر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Al-'Irbad bin Sariyah: One day after the morning Salat, the Messenger of Allah (ﷺ) exhorted us to the extent that the eyes wept and the hearts shuddered with fear. A man said: 'Indeed this is a farewell exhortation. [So what] do you order us O Messenger of Allah?' He said: 'I order you to have Taqwa of Allah, and to listen and obey, even in the case of an Ethiopian slave. Indeed, whomever among you lives, he will see much difference. Beware of the newly invented matters, for indeed they are astray. Whoever among you sees that, then he must stick to my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided Khulafa', cling to it with the molars.'
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے ( آخری بار ) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ ( امت کے اندر ) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم ( باقی رہنے والوں ) کو میری وصیت ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمار ہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے“۔ ( اور اس پر عمل پیرا رہے ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثور بن یزید نے بسند «خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
Narrated Narrated Kathir bin 'Abdullah [and he is Ibn 'Amr bin 'Awf Al-Musani]: narrated from his father, from his grandfather that the Prophet (ﷺ) said to Bilal bin Al-Harith: Know. He said: I am ready to know O Messenger of Allah! He (ﷺ) said: That indeed whoever revives a Sunnah from my Sunnah which has died after me, then for him is a reward similar to whoever acts upon it without diminishing anything from their rewards. And whoever introduces an erroneous innovation which Allah is not pleased with, nor His Messenger, then he shall receive sins similar to whoever acts upon it, without that diminishing anything from the sins of the people.'
عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث رضی الله عنہ سے کہا: ”سمجھ لو“ ( جان لو ) انہوں نے کہا: سمجھنے اور جاننے کی چیز کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”سمجھ لو اور جان لو“، انہوں نے عرض کیا: سمجھنے اور جاننے کی چیز کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جس پر لوگوں نے میرے بعد عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس سنت پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، یہ ان کے اجروں میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا، اور جس نے گمراہی کی کوئی نئی بدعت نکالی جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی و خوش نہیں، تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا، اس کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محم بن عیینہ مصیصی شامی ہیں، ۳- اور کثیر بن عبداللہ سے مراد کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی ہیں۔
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O my son! If you are capable of (waking up in) the morning and (ending) the evening, while there is nothing of deception in your heart for anything, then do so.' Then he said to me: 'O my son! That is from my Sunnah. Whoever revives my Sunnah then he has loved me. And whoever loved me, he shall be with me in Paradise.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے: اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام تم اس طرح گزارے کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ ( بغض، حسد، کینہ وغیرہ ) نہ ہو تو ایسا کر لیا کرو“، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے بیٹے! ایسا کرنا میری سنت ( اور میرا طریقہ ) ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ بھی ہے، ۲- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- محمد بن عبداللہ انصاری ثقہ ہیں، اور ان کے باپ بھی ثقہ ہیں، ۴- علی بن زید صدوق ہیں ( ان کا شمار سچوں میں ہے ) بس ان میں اتنی سی کمی و خرابی ہے کہ وہ بسا اوقات بعض روایات کو جسے دوسرے راوی موقوفاً روایت کرتے ہیں اسے یہ مرفوع روایت کر دیتے ہیں، ۵- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا کہ ابوالولید نے کہا: شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن زید نے حدیث بیان کی اور علی بن زید رفاع تھے، ۶- ہم سعید بن مسیب کی انس کے واسطہ سے اس طویل حدیث کے سوا اور کوئی روایت نہیں جانتے، ۷- عباد بن میسرہ منقری نے یہ حدیث علی بن زید کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اس حدیث میں سعید بن مسیب کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۸- میں نے اس حدیث کا محمد بن اسماعیل بخاری سے ذکر کر کے اس کے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے اس کے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا، ۹- انس بن مالک سے سعید بن مسیب کی روایت سے یہ یا اس کے علاوہ کوئی بھی حدیث معروف نہیں ہے۔ انس بن مالک ۹۳ ہجری میں انتقال فرما گئے اور سعید بن مسیب ان کے دو سال بعد ۹۵ ہجری میں اللہ کو پیارے ہوئے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave me with what I left you. When I narrated a Hadith to you, then take it from me. The people before you were only destroyed by their excessive questioning and disagreeing with their Prophets.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھو، پھر جب میں تم سے کوئی چیز بیان کروں تو اسے لے لو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بہت زیادہ سوالات کرنے اور اپنے انبیاء سے کثرت سے اختلافات کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Salih reported a narration from Abu Hurairah: It shall soon be that people are beating the livers of camels (meaning that they are hastening and traveling upon them) seeking knowledge. But they will not find anyone more knowledgeable than a scholar of Al-Madinah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے
”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن ( کہیں بھی ) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عیینہ سے مروی یہ حدیث حسن ہے، ۲- سفیان بن عیینہ سے اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ عالم مدینہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: مالک بن انس ہیں، ۳- اسحاق بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے ابن عیینہ کو کہتے سنا کہ وہ ( یعنی عالم مدینہ ) عمری عبدالعزیز بن عبداللہ زاہد ہیں، ۴- میں نے یحییٰ بن موسیٰ کو کہتے ہوئے سنا عبدالرزاق کہتے تھے کہ وہ ( عالم مدینہ ) مالک بن انس ہیں، ۵- عمری یہ عبدالعزیز بن عبداللہ ہیں، اور یہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں۔
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
Narrated Qais bin Kathir: A man from Al-Madinah came to Abu Ad-Darda when he was in Dimashq. So he said: 'What brings you O my nephew?' He replied: 'A Hadith reached me which you have narrated from the Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'You did not come for some need?' He said: 'No.' He said: 'Did you come for trade?' He said: 'No, I did not come except seeking this Hadith.' So he said: 'Indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Whoever takes a path upon which he seeks knowledge, then Allah makes a path to Paradise easy for him. And indeed the angels lower their wings in approval to the one seeking knowledge. Indeed forgiveness is sought for the knowledgeable one by whomever is in the heavens and whomever is in the earth, even the fish in the waters. And superiority of the scholar over the worshiper is like the superiority of the moon over the rest of the celestial bodies. Indeed the scholars are the heirs of the Prophets, and the Prophets do not leave behind Dinar or Dirham. The only legacy of the scholars is knowledge, so whoever takes from it, then he has indeed taken the most able share.
قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ
ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، ابو الدرداء نے کہا: ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے، ۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Ibn Ashwa: from Yazid bin Salamah Al-Ju'fi, he said: Yazid bin Salamah 'O Messenger of Allah! I heard so many narrations from you that I am afraid the last of them will cause me to forget the first of them. So narrate a statement to me that will encompass them.' So he said: 'Have Taqwa of Allah with what you learn.'
یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بعد کی حدیثیں شروع کی حدیثوں کو بھلا نہ دیں، آپ مجھے کوئی ایسا کلمہ ( کوئی ایسی بات ) بتا دیجئیے جو دونوں ( اول و آخر ) کو ایک ساتھ باقی رکھنے کا ذریعہ بنے۔ آپ نے فرمایا: ”جو کچھ بھی تم جانتے ہو ان کے متعلق اللہ کا خوف و تقویٰ ملحوظ رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ایسی ہے جس کی سند متصل نہیں ہے، یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ ۲- میرے نزدیک ابن اشوع نے یزید بن سلمی ( کے دور ) کو نہیں پایا ہے، ۳- ابن اشوع کا نام سعید بن اشوع ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Two things will not be together in a hypocrite: Good manners, and Fiqh in the religion.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق میں دو خصلتیں ( صفتیں ) جمع نہیں ہو سکتی ہیں: حسن اخلاق اور دین کی سمجھ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم عوف کی اس حدیث کو صرف شیخ خلف بن ایوب عامری کی روایت سے جانتے ہیں، اور ابوکریب محمد بن علاء کے سوا کسی کو ہم نہیں جانتے جس نے خلف بن ایوب عامری سے روایت کی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے شخص ہیں۔