Chapter on The Virtues of the Qur`an
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 46
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) said to a man among his Companions: Have you married O so-and-so? He said: No by Allah O Messenger of Allah! And I do not have anything to marry with. He said: Do you not know: Qul Huwa Allahu Ahad? He said: Of course. He said: It is a third of the Qur'an. He said: Do you not know Idha Ja Nasrullahi Wal-Fath? He said: Of course. He said: It is a fourth of the Qur'an. He said: Do you not know Qul Ya Ayyuhal-Kafirun? He said: Of course. He said: It is a fourth of the Qur'an. He said: Do you not know Idha Zulzilat Al-Ard? He said: Of course. He said: It is a fourth of the Qur'an. He said: Marry, marry.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ”سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا: ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”تم شادی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Abu Ayyub: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Would one of you like to recite a third of the Qur'an during a night? Whoever recited: Allaahu Al-Wahid As-Samad then he has recited a third of the Qur'an.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے؟ ( آپ نے فرمایا ) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا ( یعنی سورۃ الاخلاص پڑھی ) اس نے تہائی قرآن پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ۳- اس باب میں ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: I went out with the Messenger of Allah and heard a man reciting Qul Huwa Allahu Ahad [Allahus-Samad] so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is obligatory.' I said: 'What is obligatory?' He said: 'Paradise.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو الله أحد الله الصمد» پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“۔ میں نے کہا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا: ”جنت ( واجب ہو گئی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Anas bin Malik: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever recited Qul Huwa Allahu Ahad two hundred times everyday, fifty years worth of his sins will be removed - unless he owed a debt.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ «قل هو الله أحد» پڑھے گا تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال تک کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے“۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Qul Huwa Allahu Ahad is equal to a third of the Qur'an.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Gather and I shall recite to you one third of the Qur'an. He said: So whoever was to gather did so, then the Messenger of Allah (ﷺ) came out and recited Qul Huwa Allahu Ahad. Then he went back in. Some of them said to each other: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I shall recite to you one third of the Qur'an I thought that this was news from the Heavens. Allah's Prophet (ﷺ) came out and said: Indeed I said that I would recite to you one third of the Qur'an, and it is indeed equal to one third of the Qur'an.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اکٹھے ہو جاؤ کیونکہ میں تم سب کو تہائی قرآن پڑھ کر سنانے والا ہوں“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی اور ( حجرہ شریفہ میں ) واپس چلے گئے۔ تو بعض صحابہ نے چہ میگوئیاں کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر ( کوئی اطلاع ) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا: ”میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورۃ «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Anas bin Malik: There was a man from the Ansar who led them (in Salat) at Masjid Quba. Every time he was to recite a Surah for them during Salat, he would begin by reciting Qul Huwa Allahu Ahad until he finished, then he would recite another Surah with it. He did that in each Rak'ah. His companions talked to him and said: 'You recite this Surah. You should either recite it or leave it and recite another Surah.' He said: I shall not leave it, if you would like me to lead you with it then I shall do so, and if you do not like it then I shall leave you. And they considered him the best among them, and they did not like the idea of someone else leading them. So when the Prophet (ﷺ) came to them they informed him about what had happened and he (ﷺ) said: O so-and-so! What prevents you from doing what your companions told you to do, why do recite this Surah in every Rak'ah He said: O Messenger of Allah! Indeed I love it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: Your love for it shall have you admitted into Paradise.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
مسجد قباء میں ایک انصاری شخص ان کی امامت کرتا تھا، اور اس کی عادت یہ تھی کہ جب بھی وہ ارادہ کرتا کہ کوئی سورت نماز میں پڑھے تو اسے پڑھتا لیکن اس سورت سے پہلے «قل هو الله أحد» پوری پڑھتا، پھر اس کے ساتھ دوسری سورت پڑھتا، اور وہ یہ عمل ہر رکعت میں کرتا تھا۔ تو اس کے ساتھیوں ( نمازیوں ) نے اس سے ( اس موضوع پر ) بات کی، انہوں نے کہا: آپ یہ سورت پڑھتے ہیں پھر آپ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ دوسری سورت ( بھی ) پڑھتے ہیں، تو آپ یا تو صرف اسے پڑھیں، یا اسے چھوڑ دیں اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، تو انہوں نے کہا: میں اسے چھوڑنے والا نہیں، اگر آپ لوگ پسند کریں کہ میں اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امامت کروں تو امامت کروں گا اور اگر آپ لوگ اس کے ساتھ امامت کرنا پسند نہیں کرتے تو میں آپ لوگوں ( کی امامت ) کو چھوڑ دوں گا۔ اور لوگوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اپنوں میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور ناپسند کرتے تھے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا ان کی امامت کرے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! تمہارے ساتھی جو بات کہہ رہے ہیں، اس پر عمل کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے اور تمہیں کیا چیز مجبور کر رہی ہے کہ ہر رکعت میں تم اس سورت کو پڑھو؟“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اسے پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے ہے جسے وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated 'Uqbah bin 'Amir Al-Juhani: that the Prophet (ﷺ) said: Some Ayat have been revealed to me the likes of which have not been seen: Qul A'udhu Birabbin-Nas until the end of the Surah and Qul A'udhu Birabbil-Falaq until the end of the Surah.
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل کی ہیں جیسی ( کبھی ) نہیں دیکھی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: «قل أعوذ برب الناس» آخر سورۃ تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورۃ تک“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Uqbah bin 'Amir: The Messenger of Allah (ﷺ) ordered me to recite Al-Mu'awwidhatain at the end of every Salat.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھا کروں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated 'Aishah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The one who recites the Qur'an and he is proficient with it, then he is with the noble and blessed Angels (As-Safaratil-Kiramil-Bararah), and the one who recites it - Hisham said: And it is hard for him - Shu'bah said: And it is difficult for him, - then he gets two rewards.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنے میں مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ پاکباز فرشتوں کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور بڑی مشکل سے پڑھ پاتا ہے، پڑھنا اسے بہت شاق گزرتا ہے تو اسے دہرا اجر ملے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Ali bub Abi Talib: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever recites the Qur'an and memorizes it, making lawful what it makes lawful, and unlawful what it makes unlawful, Allah will admit him to Paradise due to it, and grant him intercession for ten of his family members who were to be consigned to the Fire.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کر لیا، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس ( قرآن ) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۳- حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Narrated Al-Harith Al-A'war: I passed by the Masjid when the people were absorbed in story-telling. So I entered upon 'Ali and said: 'O Commander of the believers! Do you not see the people are becoming engrossed in story-telling?' He said: 'They have been consumed with it?' I said: Yes.' He said: 'As for me, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Indeed there comes a Fitnah So I said: What is the way out from it O Messenger of Allah? He said: Allah's book. In it is news for what happened before you, and information about what comes after you, and judgement for what happens between you. It is the Criterion (between right and wrong) without jest. Whoever among the oppressive abandons it, Allah crushes him, and whoever seeks guidance from other than it, then Allah leaves him to stray. It is the firm rope of Allah, it is the wise remembrance, it is the straight path, and it is the one that the desires can not distort, nor can the tongues twist it, nor can the scholars ever have enough of it, and it shall not become dull from reciting it much, and the amazement of it does not diminish. It is the one that when the Jinns hear it, they did not hesitate to say about it: 'Verily, we have heard a wonderful Recitation (this Qur'an)! 'It guides to the Right Path, and we have believed therein.' Whoever speaks according to it then he has said the truth, and whoever acts according to it he is rewarded, and whoever judges by it he has judged justly, and whoever invites to it then he guides to the straight path. Take this O A'war!'.
حارث اعور کہتے ہیں کہ
مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ ( قرآن ) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو ( خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں ) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا ( اور بے مزہ ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی ( و قیمتی ) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب ( انوکھا ) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند مجہول ہے، ۳- حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
Narrated Abu 'Abdur-Rahman: from 'Uthman bin 'Affan that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of you is he who learns the Qur'an and teaches it. Abu 'Abdur-Rahman said: So that is why I sit at this seat of mine. And he taught the Qur'an during the time of 'Uthman until Al-Hajjaj bin Yusuf came.
عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“، ابوعبدالرحمٰن سلمی ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اپنی اس نشست گاہ ( مسند ) پر بٹھا رکھا ہے، عثمان کے زمانہ میں قرآن کی تعلیم دینی شروع کی ( اور دیتے رہے ) یہاں تک حجاج بن یوسف کے زمانہ میں یہ سلسلہ چلتا رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Uthman [bin 'Affan]: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of you - or the most virtuous of you - is he who learns the Qur'an and teaches it.
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں، ۴- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے۔
Narrated 'Ali bin Abi Talib: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of you is he who learns the Qur'an and teaches it.
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi: I heard 'Abdullah bin Mas'ud saying: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: [Whoever recites a letter] from Allah's Book, then he receives the reward from it, and the reward of ten the like of it. I do not say that Alif Lam Mim is a letter, but Alif is a letter, Lam is a letter and Mim is a letter.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے، ۲- اس حدیث کو ابوالاحوص نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور بعض نے اسے ابن مسعود سے موقوفاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Zaid bin Artah: narrated from Abu Umamah, that he Prophet (ﷺ) said: Allah does not listen to anything more virtuous from the worshiper than the two Rak'ah of Salat he performs. And the righteousness spreads over the head of a worshiper as long as he remains in his Salat. And the worshipers shall not draw nearer to Allah, Mighty and Sublime is He, with similar to what came from Him.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے ( کسی چیز سے ) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے“، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں ( ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
Narrated Jubair bin Nufair: that the Prophet (ﷺ) said: You shall not return to Allah with what is more virtuous than what came from Him. Meaning the Qur'an.
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پا سکتے“۔
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed, the one who does not have the Qur'an inside him (his heart), is like the ruined house.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Prophet (ﷺ) said: It shall be said - meaning to the one who memorized the Qur'an - 'Recite, and rise up, recite (melodiously) as you would recite in the world. For indeed your rank shall be at the last Ayah you recited.'
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) صاحب قرآن سے کہا جائے گا: ( قرآن ) پڑھتا جا اور ( بلندی کی طرف ) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔