Abu Hurairah narrated that: The Prophet said: A woman may not fast a day - other than in the month of Ramadan - while her husband is present, except with his permission.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Aishah narrated: I would not make up what was due upon me from Ramadan except in Sha'ban, until the Messenger of Allah died.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رمضان کے جو روزے مجھ پر رہ جاتے انہیں میں شعبان ہی میں قضاء کر پاتی تھی۔ جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Laila narrated from the one who freed her (Umm Amarah) that: The Prophet said: When those who are not fasting eat in the presence of the fasting person, the angels send Salat upon him.
Urdu
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے بھی یہ حدیث بطریق: «حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته أم عمارة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
Habib bin Zaid said: I heard a freed slave of ours called Laila narrated from [his (Habib's) grandmother] Umm Amarah bint Ka'b Al-Ansar, that the Prophet entered upon her and some food was brought to him. He said: 'Eat.' She said: 'I am fasting.' So the Messenger of Allah said: 'Indeed the angels send Salat upon the fasting person when (others) eat in his presence, until they finish.' And perhaps he said: 'Until they have eaten their fill.'
Urdu
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم بھی کھاؤ“، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں“۔ بعض روایتوں میں ہے ”جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ شریک کی ( اوپر والی ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
(Another chain) from Umm Amarah bint Ka'b Al-Ansari: From the Prophet, that is similar, except that he did not mention Until they finish, or they have eating their fill.
Urdu
اس سند سے بھی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے اس میں «حتى يفرغوا أو يشبعوا» کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ام عمارہ حبیب بن زید انصاری کی دادی ہیں۔
Aishah narrated: We would menstruate during the time of the Messenger of Allah, then when we became pure we were ordered to make up the fasts but we were not ordered to make up the Salat.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہو جاتے تو آپ ہمیں روزے قضاء کرنے کا حکم دیتے اور نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی، نماز کی نہیں کرے گی۔
Asim bin Laqit bin Sabrah narrated: From his father who said: I said. 'O Messenger of Allah! Inform me about Wudu.' So he said: Perform Wudu well, and go between the fingers, and perform Istinshaq extensively except when fasting.
Urdu
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کامل طریقے سے وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم نے روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ۳- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔
Aishah narrated that: The Messenger of Allah said: Whoever stays with a people, then he is not to fast without their permission.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم ثقات میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے روایت کی ہو، ۳- موسیٰ بن داود نے یہ حدیث بطریق: «أبي بكر المدني عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ۴- یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ابوبکر اہل الحدیث کے نزدیک ضعیف ہیں، اور ابوبکر مدنی جو جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، ان کا نام فضل بن مبشر ہے، وہ ان سے زیادہ ثقہ اور ان سے پہلے کے ہیں ۱؎۔
Abu Hurairah and Aishah narrated: The Prophet would perform I'tikaf during the last ten (days) of Ramadan until Allah took him.
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ۱؎ کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابولیلیٰ، ابوسعید، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Aishah narrated: When the Messenger of Allah wanted to perform I'tikaf, he would perform Fajr prayer and then he would enter his place of I'tikaf.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھتے پھر اپنے معتکف ( جائے اعتکاف ) میں داخل ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے بواسطہ عمرۃ مرسلاً بھی مروی ہے ( اس میں عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ) ، ۲- اور اسے مالک اور دیگر کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے عمرۃ سے مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۳- اور اوزاعی، سفیان ثوری اور دیگر لوگوں نے بطریق: «يحيى بن سعيد عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، ۴- بعض اہل علم کے نزدیک عمل اسی حدیث پر ہے، وہ کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو فجر پڑھے، پھر اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں داخل ہو جائے، احمد اور اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو اگلے دن جس میں وہ اعتکاف کرنا چاہتا ہے کی رات کا سورج ڈوب جائے تو وہ اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں بیٹھا ہو، یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے ۱؎۔
Aishah narrated: The Messenger of Allah would Yujawir (stay in I'tikaf) during the last ten (nights) of Ramadan and he said: 'Seek the Night of Al-Qadr during the last ten (nights) of Ramadan.'
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے اور فرماتے: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابی، جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابن عمر، فلتان بن عاصم، انس، ابو سعید خدری، عبداللہ بن انیس، ابوبکرہ، ابن عباس، بلال اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «یُجَاوِرُ» کے معنی «یَعْتَکِفُ» ”اعتکاف کرتے تھے“ کے ہیں، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اکثر روایات یہی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اسے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں تلاش کرو“، اور شب قدر کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں، اور رمضان کی آخری رات کے اقوال مروی ہیں، شافعی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کا مفہوم - «واللہ اعلم» - یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق جواب دیتے تھے۔ آپ سے کہا جاتا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں؟ آپ فرماتے: ہاں فلاں رات میں تلاش کرو، ۵- شافعی کہتے ہیں: میرے نزدیک سب سے قوی روایت اکیسویں رات کی ہے، ۶- ابی بن کعب سے مروی ہے وہ قسم کھا کر کہتے کہ یہ ستائیسویں رات ہے۔ کہتے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علامتیں بتائیں، ہم نے اسے گن کر یاد رکھا۔ ابوقلابہ سے مروی ہے کہ شب قدر آخری عشرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
Zirr said: I said to Ubayy bin Ka'b: 'O Abu Al-Mundhir! How do you know that it is the night of the twenty-seventh?' He said: 'Rather, the Messenger of Allah informed us that it is a night (after which) the sun rises without rays, so we counted and we remembered it. By Allah! Ibn Mas'ud learned that it is in Ramadan and that it is the nigh of the twenty-seventh, but he did not want to inform you lest you would depend on it.
Urdu
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ
میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے پوچھا: ابوالمنذر! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ”یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہو گی، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا، ( زرّ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں ( اسے مسلمانو! ) بتا دیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Uyainah bin Abdur-Rahman narrated: My father narrated to me: 'The Night of Al-Qadr was mentioned in the presence of Abu Bakrah, so he said: I do not search for it due to something that I heard from the Messenger of Allah, except for during the last ten (nights); for indeed I heard him say: 'Search for it when nine remain, or; when seven remain, or; when five remain, or; during the last three nights.' He (Uyainah) said: During the twenty (nights) of Ramadan, Abu Bakrah used to perform Salat just as he performed Salat during the rest of the year. But when the (last) ten began, he would struggle (performing more Salat during the night).
Urdu
عیینہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ ابوبکرہ رضی الله عنہ کے پاس شب قدر کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”جس چیز کی وجہ سے میں اسے صرف آخری عشرے ہی میں تلاش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”تلاش کرو جب ( مہینہ پورا ہونے میں ) نو دن باقی رہ جائیں، یا جب سات دن باقی رہ جائیں، یا جب پانچ دن رہ جائیں، یا جب تین دن رہ جائیں“۔ ابوبکرہ رضی الله عنہ رمضان کے بیس دن نماز پڑھتے تھے جیسے پورے سال پڑھتے تھے لیکن جب آخری عشرہ آتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Aishah narrated: The Messenger of Allah would struggle (to perform Salat more) during the last ten (nights) more than he would struggle in the rest of it.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں عبادت میں اتنی کوشش کرتے تھے جتنی دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Amir bin Mas'ud narrated that: The Prophet said: Fasting during the winter is an easy reward.
Urdu
عامر بن مسعود سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کا مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے۔ عامر بن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔ یہ ابراہیم بن عامر قرشی کے والد ہیں جن سے شعبہ اور ثوری نے روایت کی ہے۔
Salamah bin Al-Akwa said: When the following was revealed: 'And for those upon whom it is difficult, (they may) feed a poor person' - if one of us wanted we would not fast, and pay the ransom, until the Ayah after it was revealed abrogating it.
Urdu
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ۱؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Muhammad bin Ka'b narrated: I went to Anas bin Malik during Ramadan and he was about to travel. His mount was prepared for him, and he put on his traveling clothes, then he called for some food to eat, and I said to him: 'Is it Sunnah?' He said: 'It is Sunnah.' Then he rode.
Urdu
محمد بن کعب کہتے ہیں کہ
میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ کر رہے تھے، ان کی سواری پر کجاوہ کسا جا چکا تھا اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، انہوں نے کھانا منگایا اور کھایا۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ سنت ہے؟ کہا: ہاں سنت ہے۔ پھر وہ سوار ہوئے۔
(Another chain) from Muhammad bin Ka'b who said: I went to Anas bin Malik during Ramadan and he mentioned a similar narration (as no. 799).
Urdu
اس سند سے بھی
محمد بن کعب سے روایت ہے کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن جعفر ہی ابن ابی کثیر مدینی ہیں اور ثقہ ہیں اور یہی اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں اور عبداللہ بن جعفر علی بن عبداللہ مدینی کے والد ابن نجیح ہیں، یحییٰ بن معین ان کی تضعیف کرتے تھے، ۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے افطار کرے لیکن اسے نماز قصر کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ شہر یا گاؤں کی فصیل سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی کا قول ہے۔
Al-Hasan bin Ali narrated that: The Messenger of Allah said: The gift for the fasting person is (fragrant) oil and a censer.
Urdu
حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں، اور ۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔