It was narrated that: Abu Sayyarah Al-Muta'i رضی اللہ عنہ said:
“I said: 'O Messenger of Allah! I have bees.' He said: 'Give one-tenth.' I said: 'O Messenger of Allah!' Protect it for me.' And he protected it for me.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع اور سعید بن عبد العزیز نے سلیمان بن موسیٰ کی سند سے بیان کیا, ابوسیارہ متقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے، چنانچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کر دی ۔
Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما narrated that:
The Prophet took one-tenth of honey (as Zakat).
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ بن زید نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد سے دسواں حصہ زکوۃ لی۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما narrated that:
The Messenger of Allah enjoined Zakatul-Fitr, one Sa of dates or one Sa of barley. Abdullah رضی اللہ عنہما said: The people made two Mudd (equal to half of a Sa) of wheat as its equivalent.
ہم سے محمد بن روم المصری نے بیان کیا، ہمیں لیث بن سعد نے نافع کی سند سے خبر دی،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور جو سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کے برابر کر لیا ۔
It was narrated that: Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah enjoined Sadaqatul-Fitr, one Sa, of barley or one Sa of dates for every Muslim, free or slave, male or female.”
ہم سے حفص بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ۔
It was narrated that: Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined Zakatul-Fitr as a purification for the fasting person from idle talk and obscenities, and to feed the poor. Whoever pays it before the (Eid) prayer, it is an accepted Zakah, and whoever pays it after the prayer, it is (ordinary) charity.”
ہم سے عبداللہ بن احمد بن بشیر بن ذکوان اور احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو یزید الخولانی نے، سیار بن عبدالرحمٰن صدفی کی سند سے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو فحش اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے، اور مسکینوں کی خوراک کے لیے فرض قرار دیا، لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۔
It was narrated that: Qais bin Sa'ad رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined Sadaqatul-Fitr upon is before (the command of) Zakat was revealed. He neither ordered us (to pay) nor forbade us (from paying it), so we did it.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، سلمہ بن کحیل سے، قاسم بن مخیمیرہ سے، ابو عمار کی سند سے,قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ۔
It was narrated that: Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“We used to pay Zakatul-Fitr when the Messenger of Allah was among us, one Sa of food, one Sa of dates, one Sa of barley, one Sa of sun-baked cottage cheese, one Sa of raisins. We continued to do that until Mu'awiyah رضی اللہ عنہ came to us in Al-Madinah. One of the things he said to the people was: 'I think that two Mudd wheat from Sham is equivalent to one Sa of this (i.e. dates).' So the people followed that. ”Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ said: “I'll continue to pay it as I used to pay it at the time of Messenger of Allah for as long as I live.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے داؤد بن قیس الفارع سے اور عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ہم تو صدقہ فطر میں ایک صاع گیہوں، ایک صاع کھجور، ایک صاع جو، ایک صاع پنیر، اور ایک صاع کشمش نکالتے تھے، ہم ایسے ہی برابر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ آئے، تو انہوں نے جو باتیں لوگوں سے کیں ان میں یہ بھی تھی کہ میں شام کے گیہوں کا دو مد تمہارے غلوں کی ایک صاع کے برابر پاتا ہوں، تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جب تک زندہ رہوں گا اسی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا.
It was narrated from Ammar bin Sa'eed رضی اللہ عنہ , the Mu'adhdhin of the Messenger of Allah from his father:
The Messenger of Allah enjoined Sadaqatul-Fitr, one Sa of dates, one Sa of barley, or one Sa of Sult (a kind of barley without skin on it, resembling wheat).
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار مؤذن نے بیان کیا، ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، عمر بن سعد رضی اللہ عنہ کی سند سے, مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت ( بے چھلکے کا جو ) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا۔
It was narrated: that Ala bin Hadrami رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah sent me to Bahrain or Hajar. I used to go to a garden that was shared by some brothers, one of whom had become Muslim. I would take the Ushr (one-tenth of the harvest) from the Muslim, and Kharaj from the Mushrik.”
ہم سے الحسین بن جنید الدمغانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عتاب بن زیاد المروازی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مغیرہ ازدی کو محمد بن زید کی سند سے اور حیان الاعرج سے روایت کرتے ہوئے سنا, علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بحرین ہجر بھیجا، میں ایک باغ میں جاتا جو کئی بھائیوں میں مشترک ہوتا، اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا، تو میں مسلمان سے عشر ( دسواں ) حصہ لیتا، اور کافر سے خراج ( محصول ) لیتا ۔
Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ narrated:
Attributed to the Prophet: “A Wasq is sixty Sa.”
ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید التنفیسی نے بیان کیا، انہوں نے ادریس العودی کی سند سے، وہ عمرو بن مرہ سے اور ابو البختری کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔
It was narrated that: Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah said: 'A Wasq is sixty Sa.' ”
ہم سے علی بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید اللہ نے بیان کیا، عطا بن ابی رباح اور ابو الزبیر رضی اللہ عنہما سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔
It was narrated that: Zainab رضی اللہ عنہا , the wife of Abdullah said:
“I asked the Messenger of Allah: 'Will it be accepted as charity on my part if I spend on my husband and the orphans in my care?' The Messenger of Allah said: 'She will have two rewards, the reward for charity and the reward for upholding ties of kinship.'”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، انہوں نے شقیق سے، وہ عمرو بن حارث بن المصطلق سے، جو زینب کے بھتیجے،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا اجر، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر ۔
It was narrated that: Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah enjoined charity upon us. Zainab رضی اللہ عنہا, the wife of Abdullah رضی اللہ عنہ said: 'Will it be accepted as charity on my part if I give charity to my husband who is poor, and to the children of a brother of mine who are orphans, spending such and such on them, and in all circumstances?' He said: 'Yes.'”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں ( اور پیسے کماتی تھیں ) ۔
It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, that: his grandfather said:
“The Messenger of Allah said: 'If one of you were to take his rope (or ropes) and go to the mountains, and bring a bundle of firewood on his back to sell, and thus become independent of means, that would be better for him than begging from people who may either give him something or not give him anything.'”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ الاعودی نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں ۔
Abdur-Rahman bin Yazid narrated that: Thawban رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah said: 'Who will commit himself to one thing, I will guarantee him paradise?' I said: 'I will.' He said: 'Do not ask people for anything.' So Thawban رضی اللہ عنہ would drop his whip while he was on his mount, and he would not say to anyone: 'Get that for me' rather he would dismount and grab it.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، ابن ابی ذہب کی سند سے، محمد بن قیس سے، عبدالرحمٰن بن یزید کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو ، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: “Whoever begs from people so as to accumulate more riches, he is asking for alive coal from hell, so let him ask for a lot or a little.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے عمرہ بن قعقاع کی سند سے، انہوں نے ابو زرعہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah said: “Charity is not permissible for a rich person, or for one who is strong and healthy
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، وہ ابو حصین کی سند سے، وہ سلیم بن ابی الجعد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah said: “Whoever begs when he has enough to suffice him, his begging will come on the Day of Resurrection like lacerations on his face. ” It was said: “O Messenger of Allah, what is sufficient for him?” He said: “Fifty Dirham or their value in gold.” Another chain of narrators for the hadith has been discussed by sufyan (one of the narrators).
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے حکیم بن جبیر نے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے اپنے والد سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا ۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے۔
Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah said: “Charity is not permissible for a rich man except in five cases: One who is appointed to collect it, a warrior fighting in the cause of Allah, a rich man who buys it with his own money, a poor man who receives the charity and gives it as a gift to a rich man, and a debtor.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے بیان کیا، انہیں زید بن اسلم نے اور عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، ( تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے ) یا وہ جو مقروض ہو۔
Sa'eed bin Yasar narrated that: he heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say:
“The Messenger of Allah said: 'No one gives charity from good sources - for Allah does not accept anything but that which is good - but the Most Merciful takes it in His right hand, even if it is a date, and it flourishes in the Hand of the Most Merciful until it becomes bigger than a mountain and he tends it as anyone of you would tend to his colt (i.e., young pony) or his young (weaned) camel.'”
ہم سے عیسیٰ بن حماد المصری نے بیان کیا، انہیں لیث بن سعد نے سعید بن ابی سعید مقبری کی سند سے، وہ سعید بن یسار کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص حلال مال سے صدقہ دے، اور اللہ تعالیٰ تو حلال ہی قبول کرتا ہے، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے ۔