Suhaib Al-Khair رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “ Any Man who takes out a loan, having resolved not to pay it back, will meet Allah (SWT) as a thief.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن محمد بن صیفی بن صہیب الخیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالحمید بن زیاد بن سیفی بن صہیب نے شعیب بن عمرو کی سند سے بیان کیا, صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever takes people's wealth with the intention of destroying it, Allah (SWT) will destroy him.”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، وہ ثور بن زید الدیلی کی سند سے، انہوں نے ابن مطیع کے آزاد کردہ غلام ابو الغیث کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ , the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Anyone whose soul leaves his body and he is free of three things, will enter Paradise: Arrogance, stealing from the spoils of war, and debt.”
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے، وہ سالم بن ابی الجعد سے، وہ معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے، وہ ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور ( گھمنڈ ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The soul of the believer is attached to his debt until it is paid off.”
ہم سے ابو مروان عثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے، عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever dies owing a Dinar or a Dirham, it will be paid back from his good deeds, because then there will be no Dinar or Dirham.”
ہم سے محمد بن ثعلبہ بن سواع نے بیان کیا، ہم سے میرے چچا محمد بن سواع نے بیان کیا، حسین المعلم کی سند سے، مطر الوراق کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی دینار یا درہم ہو تو ( قیامت میں ) جہاں دینار اور درہم نہیں ہو گا، اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
If a believer died at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and he had debts, the Messenger of Allah (ﷺ) would ask: “Did he leave anything with which to off his debt?” If they said yes, then he would offer the funeral prayer for him, but if they said no, then he would say: “Pray for your companion.” When Allah granted his Prophet (ﷺ) the conquests, he said: “I am nearer to the believers than their own selves. Whoever dies owing a debt, I will pay it off for him, and whoever leaves behind wealth, it will be for his heirs.”
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever leaves behind money, it is for his heirs, and whoever leaves behind a debt for children, I am nearer to the believers.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، جعفر بن محمد سے، اپنے والد سے جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever is easy with (a debtor) who is in difficulty, Allah will be easy with him in this world and in the Hereafter.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، انہوں نے ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔
It was narrated from Buraidah Al-Aslami رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever gives respite to one in difficulty, he will have (the reward of) an act of charity for each day. Whoever gives him respite after payment becomes due, will have (the reward of) an act of charity equal to (the amount of the loan) for each day.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: ہم سے العمش نے نافع ابوداؤد کی سند سے بیان کیا, بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا ۔
It was narrated from Abu Yasar رضی اللہ عنہ, the Companion of the Prophet (ﷺ) that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever would like Allah to shade him with His shade, let him give respite to one in difficulty, or waive repayment of the loan.”
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن اسحاق سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن معاویہ سے، وہ حنظلہ بن قیس سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابی رسول ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے ( عرش کے ) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے ۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “A man died and it was said to him: 'What did you do?' Either he remembered or was reminded and said: 'I used to be easy going in coins and cash collecting debts due, and I used to give respite to (the debtor) who was in difficulty. So, Allah (SWT) forgave him.' ” Abu Masud رضی اللہ عنہ said: “I heard that from the Messenger of Allah (ﷺ).”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ عبدالملک بن عمیر کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے ربیع بن حراش کو بیان کرتے ہوئے سنا،حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک شخص مر گیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar and 'Aishah رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever demands his rights let him do so in a decent manner as much as he can.”
ہم سے محمد بن خلف عسقلانی اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ایوب نے عبید اللہ بن ابی جعفر سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی حق کا مطالبہ کرے تو شریفانہ طور پر کرے، خواہ وہ حق پورا پا سکے یا نہ پا سکے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to the one who was entitled to something: “Take your rights in a decent manner as much as he can.”
ہم سے محمد بن المومل بن الصباح القیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن محبب القرشی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن السائب الطائفی نے بیان کیا، عبداللہ بن یامین کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب حق سے فرمایا: شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best of you - or among the best of you - are those who pay off their debts in the best manner.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے سلمہ بن کلہیل کی روایت سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کو بیان کرتے ہوئے سنا,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔
Isma'il bin Abi Rabi'ah Al-Makhzumi رضی اللہ عنہ narrated from his father, from his grandfather, that :
The Prophet (ﷺ) borrowed thirty or forty thousand from him, when he fought at Hunain. When he came back he paid the loan, then the Prophet (ﷺ) said to him: 'May Allah (SWT) bless your family and your wealth for you. The reward for lending is repayment and words of paradise.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن عبداللہ بن ابی ربیعہ المخزومی رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
“A man came to ask the Prophet of Allah (ﷺ) for some debt or some right, and he spoke harshly to him, and the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to rebuke him. But the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let him be, for the one who is owed something has authority over the debtor, until it is paid off.' ”
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے اپنے والد سے، حنش سے اور عکرمہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اور کچھ ( نامناسب ) الفاظ کہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) to ask him to pay back a debt that he owed him, and he spoke harshly, saying: 'I will make things difficult for you unless you repay me.' His Companions rebuked him and said: 'Woe to you, do you know who you are speaking to?' He said: 'I am only asking for my rights.' The Prophet (ﷺ) said: 'Why do you not support the one who has a right?' Then he sent word to Khawlah bint Qais, saying to her: 'If you have dates, lend them to us until our dates come, then we will pay you back.' She said: 'Yes, may my father be ransomed for you, O Messenger of Allah (ﷺ)!' So she gave him a loan, and he paid back the Bedouin and fed him. He (the Bedouin) said: 'You have paid me in full, may Allah (SWT) pay you in full.' He (the Prophet (ﷺ) ) said: 'Those are the best of people. May that nation not be cleansed (of sin) among whom the weak cannot get their rights without trouble.' ”
ہم سے ابراہیم بن عبداللہ بن محمد بن عثمان ابو شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عبیدہ نے بیان کیا، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے العمش کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے ( یہ سن کر ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ کرام سے ) فرمایا: تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آ جائیں، تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے ، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کر دیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہو گی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے ۔
It was narrated from 'Amr bin Sharid رضی اللہ عنہ that his father said that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے وابر بن ابی دلائلہ الطائفی نے بیان کیا: مجھ سے محمد بن میمون بن مسیقہ نے بیان کیا۔ وکیع نے کہا: اور اس کی بہت تعریف کی, عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، جنہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور اس کو سزا ( عقوبت ) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے ۔ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔
Hirmas bin Habib narrated from his father that his grandfather said:
“I came to the Prophet (ﷺ) with a man who owed me money, and he said to me: 'Keep him.' Then he passed by me at the end of the day and said: 'What did your prisoner do, O brother of Banu Tamim?' ”
ہم سے ہدیہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا: ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہرماس بن حبیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پیچھے لگے رہو ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Ka'b bin Malik رضی اللہ عنہ from his father that:
He demanded payment owed by Ibn Abi Hadrad in the mosque. Their voices became so loud that the Messenger of Allah (ﷺ) heard them when he was in his house. He came out and called Ka'b رضی اللہ عنہ who said: “Here I am, O Messenger of Allah (ﷺ)!” He said: “Waive this much of your loan,” and gestured with his hand to indicate half. He said: “I will do that,” and he said: “Get up and repay it.”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا: ہمیں یونس بن یزید نے زہری کی سند سے، عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے
انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو ۔