It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the debts should be paid off before the execution of the will. You recite: '(The distribution in all cases is) after the payment of legacies he may have bequeathed or debts.' The sons of one mother (from the same father) inherit from one another, but not the sons from different mothers (but the same father).”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابواسحاق سے، انہوں نے حارث کی سند سے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ( کی ادائیگی ) کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ تم اس کو قرآن میں پڑھتے ہو: «من بعد وصية يوصي بها أو دين» یہ حصے اس وصیت ( کی تکمیل ) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو، یا ادائے قرض کے بعد ( سورۃ النساء: ۱۱ ) اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی نہیں۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): “My father died and left behind wealth, but he did not make a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf?” He said: “Yes.”
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، انہوں نے علاء بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ مال چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے وصیت نہیں کی ہے، کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں تو ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “My mother died unexpectedly and she had not made a will. I think that if she could have spoken, she would have given in charity. Will she have a reward if I give in charity on her behalf, and will I have a reward?” He said: “Yes.”
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا، اور وہ وصیت نہیں کر سکیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات چیت کر پاتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انہیں اور مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( ملے گا ) ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father, that his a grandfather said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I do not have anything and I have no wealth, but I have an orphan (under my care) who has wealth.” He said: “Eat from the wealth of your orphan, without being extravagant or use it for trade.” He (narrator) said: “And I think he said: 'Do not preserve your wealth using his instead.'”
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، ہم سے رواہ بن عبادہ نے بیان کیا، ہم سے حسین المعلم نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شعیب نے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ بھی نہیں اور نہ مال ہی ہے، البتہ میری پرورش میں ایک یتیم ہے جس کے پاس مال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے مال میں سے فضول خرچی کئے اور بغیر اپنے لیے پونجی بنائے کھاؤ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا مال بچانے کے لیے اس کا مال اپنے مصرف میں نہ خرچ کرو ۔