It was narrated from ‘Asim bin Kulaib that his father said:
“We were with a man from among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) who was called Mujashi’, from Banu Sulaim, and sheep became scarce. He ordered a caller to call out that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: ‘A Jadha’a suffices for whatever a two-year-old sheep suffices.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں ثوری نے عاصم بن کلیب سے اپنے والد کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے، بکریوں کی قلت ہو گئی، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ( قربانی کے لیے ) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not slaughter anything but a Musinnah,* unless there is none available, in which case you can slaughter a Jadha’a among sheep.”
ہم سے ہارون بن حیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں زہیر نے ابو الزبیر سے خبر دی, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف مسنہ ( دانتا جانور ) ذبح کرو، البتہ جب وہ تم پر دشوار ہو تو بھیڑ کا جذعہ ( ایک سالہ بچہ ) ذبح کرو ۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade sacrificing the Muqabalah, the Mudabarah, the Sharqa’, the Kharqa’ and the Jad’a’.”*
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے شریح بن نعمان کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to examine the eyes and ears.”*
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کلہیل نے، وہ حجیہ بن عدی کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی کے جانور ) کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیں ( آیا وہ سلامت ہیں یا نہیں ) ۔
Sulaiman bin ‘Abdur-Rahman said:
“I heard ‘Ubaid bin Fairuz say: ‘I said to Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہما : “Tell us of the sacrificial animals that the Messenger of Allah (ﷺ) disliked or forbade.” He said: “Allah’s Messenger (ﷺ) said like this with his hand. And my hand is shorter than his hand:* ‘There are four that will not be accepted as sacrifices: The one-eyed animal that is obviously blind in one eye; the sick animal that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones.’” He said:** “And I dislike that the animal should have some fault in its ears.” He said: “What you dislike, forget about it and do not make it forbidden to anyone.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر، عبدالرحمٰن، ابوداؤد، ابن ابی عدی اور ابو الولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: میں نے سلیمان بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا
میں نے عبید بن فیروز کو کہتے سنا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، یا منع کیا ہے؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا: چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔ عبید نے کہا: میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو ۔
It was narrated from Qatadah that he said that:
He heard Juray bin Kulaib رضی اللہ عنہ narrate that he heard ‘Ali رضی اللہ عنہ narrate that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade sacrificing animals with broken horns and ears.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا کہ
انہوں نے جوری بن کلیب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“We bought a ram for sacrifice, then a wolf tore some flesh from its rump and ears. We asked the Prophet (ﷺ) and he told us to offer it as a sacrifice.”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور محمد بن عبد الملک ابوبکر نے بیان کیا: ہم سے عبدالرزاق نے، الثوری کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کر دیا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس سلسلے میں ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں۔
It was narrated that ‘Ata’ bin Yasar said:
“I asked Abu Ayyub Al- Ansari رضی اللہ عنہ : ‘How were sacrifices offered among you at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said: ‘At the time of the Prophet (ﷺ), a man would sacrifice a sheep on behalf of himself and the members of his household, and they would eat some of it and give some to others. Then people started to compete and it because as you see (nowadays).’”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ضحاک بن عثمان نے بیان کیا، وہ عمرہ بن عبد اللہ بن صیاد سے, عطا بن یسار کہتے ہیں کہ
میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔
It was narrated that Abu Sarihah said:
“My family started to put pressure on me after I came to know the Sunnah. People used to sacrifice one or two sheep, but now our neighbors call us stingy.”
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن مہدی اور محمد بن یوسف نے خبر دی اور ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا جسے عبد الرزاق نے سفیان ثوری کی سند سے بیان کیا اور شعبی کی سند سے, ابوسریحہ کہتے ہیں کہ
سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب ( اگر ہم ایسا کرتے ہیں ) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۔
it was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “When the ten days (of Dhul-Hijjah) begin, and one of you wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his hair or skin.
ہم سے ہارون بن عبداللہ الحمال نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے، عبدالرحمٰن بن حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے سعید بن مسیب کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے ۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever among you sees the new crescent of Dhul-Hijjah and wants to offer a sacrifice, let him not take anything from his hair or nails.”
ہم سے حاتم بن بکر الضبی ابو عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن سعید بن یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو قتیبہ اور یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے، اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کے قریب نہ پھٹکے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
A man slaughtered on the Day of Sacrifice, (meaning) before the ‘Eid prayer, and the Prophet (ﷺ) ordered him to do it again.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے اور محمد بن سیرین کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ۔
It was narrated from Aswad bin Qais that:
He heard Jundub Al-Bajali say: “I was present on Adha day with the Messenger of Allah (ﷺ), and some people slaughtered before the prayer. The Prophet (ﷺ) said: ‘Whoever among you has slaughtered before the prayer, let him repeat his sacrifice, and whoever has not, let him offer his sacrifice in the Name of Allah.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے اسود بن قیس کی سند سے بیان کیا
جندب بجلی رضی اللہ عنہ کی سند سے جس نے اسے یہ کہتے سنا:میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ قربانی کرے، اور جس نے نہ ذبح کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔
It was narrated from ‘Uwaimir bin Ashqar رضی اللہ عنہ that:
He slaughtered before the prayer, and he mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said: “Repeat your sacrifice.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید کی سند سے، وہ عباد بن تمیم کی سند سے, عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ کہتے کہ
انہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قربانی دوبارہ کرو ۔
It was narrated that Abu Zaid Al-Ansari رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by one of the houses of the Ansar and noticed the smell of a cooking pot. He said: ‘Who is this who has slaughtered?’ A man from among us came out and said: ‘It is me, O Messenger of Allah, I slaughtered before the prayer so that I could feed my family and neighbors.’ He commanded him to repeat it. He said: ‘No, by the One besides Whom there is none worthy of worship, I do not have anything but a one-year-old sheep or a lamb.’ He (ﷺ) said: ‘Sacrifice it, but a one-year-old sheep will not do for anyone after you.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، وہ خالد ہذا کی سند سے، ابو قلابہ نے ابو زید کی سند سے۔ ابوبکر نے کہا اور عبد الاعلٰی کے علاوہ اور لوگوں نے عمرو بن بزدان کی سند سے کہا, ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) slaughter his sacrifice with his own hand, placing his foot on its side.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، میں نے قتادہ کو سنا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا آپ اپنا پاؤں اس کے پٹھے پر رکھے ہوئے تھے .
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sa’d, the Mu’adhdhin of the Messenger of Allah (ﷺ), told us: “My father told me, from my grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered his sacrifice at the side of an alley, on the road of Banu Zuraiq, with his own hand, using a blade.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن تھے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زریق کے راستے میں گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ایک چھری سے ذبح کی۔
‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to distribute the entire sacrificial camel – its meat, skin and covers – among the poor
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے حسن بن مسلمہ نے خبر دی، کہا کہ ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) ordered that a piece from every camel that had been slaughtered be brought and placed in a pot, then they ate from its meat and drank some of the broth.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، جعفر بن محمد سے اپنے والد سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا، اور اس کا شوربہ پیا۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) only forbade storing the meat of the sacrifices because the people were facing hardship. Then later he permitted that.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سفیان کی سند سے، عبدالرحمٰن بن ابیس نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔