Back to Mishkat Al-Masabih

Inheritance and Wills

كتاب الفرائض والوصايا

Chapter 12

Hadith 3041
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ. وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ» . وَفِي رِوَايَة: «من ترك دينا أَو ضيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں مومنوں کا ان کے نفسوں سے بھی زیادہ حقدار ہوں ، جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو اور اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز بھی نہ چھوڑی ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا حامی و مددگار ہوں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جس نے مال چھوڑا تو اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو شخص بوجھ (یعنی قرض یا اولاد) چھوڑ جائے تو وہ ہماری طرف آئیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3042
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذكر»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مقررہ حصے ان کے مستحقین کو دو اور جو باقی بچے وہ (میت کے) قریب ترین مرد (رشتے دار) کا حصہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3043
sahih
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»
Urdu

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان کافر کا ، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3044
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

انس ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 3045
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُم» وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ» فِي بَابٍ قبل «بَاب السّلم»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قوم کا بھانجا انہی میں شمار ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ وَذْکِرَ حَدِیثُ عَائِشَۃَ : ((اِنَّمَا الْوَلَاءُ .....)) فِیْ بَابِ قَبْلَ بَابِ السَّلَمِ وَ سَنَذْکُرُ حَدِیْثَ الْبَرَاءِ : ((الْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْاُمِّ)) فِیْ بَابِ بُلُوْعِ الصَّغِیْرِ وَ حَضَانَتِہِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ عائشہ ؓ سے مروی حدیث : ((اِنَّمَا الْوَلَاءُ .....)) باب السلم سے پہلے باب میں ذکر ہو چکی ہے ، اور براء ؓ سے مروی حدیث :’’ خالہ ، ماں کے مقام پر ہوتی ہے ۔‘‘ ہم باب بلوغ الصغیر و حضانتہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔

Hadith 3046
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو مختلف دین کے حامل افراد باہم وارث نہیں ہو سکتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3047
sahih
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن جَابر
Urdu

امام ترمذی نے اسے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3048
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو سکتا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 3049
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ دونهَا أم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

بُریدہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (میت کی) ماں نہ ہونے کی صورت میں دادی نانی کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3050
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَورث» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (چیخے اور پھر فوت ہو جائے) تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کی وراثت بھی تقسیم ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا و الحدیث ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 3051
sahih
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
Urdu

کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قوم کا آزاد کردہ غلام انہیں میں سے ہے ، قوم کا حلیف انہی میں سے ہے اور قوم کا بھانجا انہی میں سے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 3052
sahih
وَعَن الْمِقْدَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ ويرثه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

مقدام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ہر مومن سے خود اس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں ، جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو ان کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ، اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے ۔ اور جس کا کوئی مولیٰ (حمایتی و مددگار) نہ ہو ۔ اس کا میں مولیٰ ہوں ، اس کے مال کا میں وارث بنوں گا ، اس کے قیدی کو میں چھڑاؤں گا ، جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے ، وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا میں وارث ہوں ، اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کا وارث بھی بنوں گا ، اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں وارث ہے ، وہ اس کی طرف سے دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3053
sahih
وَعَن وائلة بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عورت تین وراثتیں پا سکتی ہے ، اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی ، اپنے پالے ہوئے بچے کی اور اپنے اس بچے کی جس کے متعلق اس نے لعان کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 3054
sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَد ولد زنى لَا يَرث وَلَا يُورث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی آزاد یا غلام عورت سے زنا کیا ، (اور بچہ پیدا ہوا) تو وہ بچہ ، ولد زنا ہے ، وہ (اپنے زانی باپ کا) وارث ہو گا نہ اس کا باپ اس کا وارث ہو گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3055
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ حَمِيمًا وَلَا وَلَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا ، اور اس نے کچھ مال چھوڑا ، اور اس نے کوئی قریبی رشہ دار چھوڑا نہ اولاد ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کی میراث اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 3056
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ فَقَالَ: «الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا أَوْ ذَا رَحِمٍ» فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أعْطوا الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَة»
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خزاعہ قبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس کی میراث نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا کوئی وارث یا کوئی رشتہ دار تلاش کرو ۔‘‘ انہوں نے اس کا کوئی وارث پایا نہ کوئی رشتہ دار ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خزاعہ قبیلے کے کسی عمر رسیدہ شخص کو دے دو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابوداؤد ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ خزاعہ قبیلے کا کوئی بڑا آدمی دیکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3057
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ تقرؤون هَذِهِ الْآيَةَ: (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَو دين) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدّينِ قبل الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ: قَالَ: «الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .» إِلَى آخِره
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو :’’ وصیت پوری کرنے کے بعد جو تم وصیت کرتے ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد ۔‘‘ بے شک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرض کو وصیت سے پہلے ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا ، اور سگے بھائی وارث ہوتے ہیں ، سوتیلے بھائی وارث نہیں ہوتے ، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا سوتیلے بھائی کا وارث نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور دارمی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ سگے بھائی (ایک ہی ماں کی اولاد) وارث ہوں گے اور مختلف ماؤں کی اولاد (یعنی سوتیلے بھائی) وارث نہیں ہوں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 3058
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا وَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ: «يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ» فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ: «أَعْطِ لِابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن ربیع ؓ کی اہلیہ سعد بن ربیع سے اپنی دونوں بیٹیاں لے کر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئی تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں سعد بن ربیع ؓ کی بیٹیاں ہیں ، ان کا والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شریک ہو کر شہید ہو گیا ۔ ان دونوں کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا ، اگر مال ہو گا تو ان کی شادی ہو جائے گی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا ۔‘‘ پس آیتِ میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد ؓ کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان دونوں کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو ، اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3059
sahih
وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: للْبِنْت النّصْف وَللْأُخْت النّصْف وائت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بقول أبي مُوسَى فَقَالَ: لقد ضللت إِذن وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحبر فِيكُم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ہُذیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں ، ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بیٹی ، پوتی اور بہن کے حصے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : بیٹی کے لیے نصف ، بہن کے لیے نصف ، اور تم ابن مسعود ؓ کے پاس جاؤ وہ بھی میرے موافق فتویٰ دیں گے ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ابوموسی ؓ نے یہ فتوی دیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تب تو میں گمراہ ہو گیا ، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں ہوں ، میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا ، بیٹی کے لیے نصف ، پوتی کے لیے چھٹا حصہ اسی طرح دو تہائی مکمل ہوا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے ، ہم ابوموسی ؓ کے پاس آئے تو انہیں ابن مسعود ؓ کے فتویٰ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : جب تک یہ علاّمہ تم میں موجود ہے مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 3060
sahih
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «لَكَ سُدُسٌ آخَرُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میرا پوتا فوت ہو گیا ہے ، اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ دوسرا چھٹا حصہ (زیادہ حق دار نہ ہونے کی وجہ سے) تمہارے لیے رزق ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔