Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
On the day of `Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha a spear used to be planted in front of the Prophet (as a Sutra for the prayer) and then he would pray.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدا لوہاب ثقفی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز کے لیے برچھی آگے آگے اٹھائی جاتی اور وہ عیدگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑ دی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی آڑ میں نماز پڑھتے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) used to proceed to the Musalla and an 'Anaza used to be carried before him and planted in the Musalla in front of him and he would pray facing it (as a Sutra).
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابو عمرواوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ جاتے تو برچھا ( ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے لے جایا جاتا تھا پھر یہ عیدگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑ دیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آڑ میں نماز پڑھتے ۔
Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
"Our Prophet ordered us to come out (on `Id day) with the mature girls and the virgins staying in seclusion." Hafsa رضی اللہ عنہا narrated the above mentioned Hadith and added, "The mature girls or virgins staying in seclusion but the menstruating women had to keep away from the Musalla."
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے محمد نے ، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ، آپ نے فرمایا کہ
ہمیں حکم تھا کہ پردہ والی دوشیزاؤں کو عیدگاہ کے لئے نکالیں اور ایوب سختیانی نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح روایت کی ہے ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ زیادتی ہے کہ دوشیزائیں اور پردہ والیاں ضرور ( عیدگاہ جائیں ) اور حائضہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I (in my boyhood) went out with the Prophet (ﷺ) on the day of `Id ul Fitr or Id-ul-Adha. The Prophet (ﷺ) prayed and then delivered the Khutba and then went towards the women, preached and advised them and ordered them to give alms.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالرحمٰن بن عابس سے بیان کیا ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے فرمایا کہ
میں نے عیدالفطر یا عیدالاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر عورتوں کی طرف آئے اور انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ کے لیے حکم فرمایا ۔
Narrated Al-Bara' رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) went towards Al-Baqi (the graveyard at Medina) on the day of Id-ul-Adha and offered a two-rak`at prayer (of `Id-ul-Adha) and then faced us and said, "On this day of ours, our first act of worship is the offering of prayer and then we will return and slaughter the sacrifice, and whoever does this concords with our Sunna; and whoever slaughtered his sacrifice before that (i.e. before the prayer) then that was a thing which he prepared earlier for his family and it would not be considered as a Nusuk (sacrifice.)" A man stood up and said, "O, Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered (the animal before the prayer) but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said to him, "Slaughter it. But a similar sacrifice will not be sufficient for anybody else after you."
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا ، ان سے زبید نے ، ان سے شعبی نے ، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی ۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر ( نماز اور خطبے سے ) لوٹ کر قربانی کریں ۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا ۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
whether he had joined the Prophet (ﷺ) in the `Id prayer. He said, "Yes. And I could not have joined him had I not been young. (The Prophet (ﷺ) came out) till he reached the mark which was near the house of Kathir bin As-Salt, offered the prayer, delivered the Khutba and then went towards the women. Bilal رضی اللہ عنہ was accompanying him. He preached to them and advised them and ordered them to give alms. I saw the women putting their ornaments with their outstretched hands into Bilal's garment. Then the Prophet (ﷺ) along with Bilal رضی اللہ عنہ returned home.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان ثوری سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ
کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ گئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اور اگر باوجود کم عمری کے میری قدر و منزلت آپ کے یہاں نہ ہوتی تو میں جا نہیں سکتا تھا ۔ آپ اس نشان پر آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے قریب ہے ۔ آپ نے وہاں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا ۔ اس کے بعد عورتوں کی طرف آئے ۔ آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ آپ نے انہیں وعظ اور نصیحت کی اور صدقہ کے لیے کہا ۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے ہاتھوں سے بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالے جا رہی تھیں ۔ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ گھر واپس ہوئے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) stood up to offer the prayer of the `Id ul Fitr. He first offered the prayer and then delivered the Khutba. After finishing it he got down (from the pulpit) and went towards the women and advised them while he was leaning on Bilal's hand. Bilal was spreading out his garment where the women were putting their alms." I asked `Ata' whether it was the Zakat of `Id ul Fitr. He said, "No, it was just alms given at that time. Some lady put her finger ring and the others would do the same." I said, (to `Ata'), "Do you think that it is incumbent upon the Imam to give advice to the women (on `Id day)?" He said, "No doubt, it is incumbent upon the Imams to do so and why should they not do so?"
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو میں نے یہ کہتے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی ۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبر نہیں لے کر جاتے تھے ۔ تو اس اترے سے مراد بلند جگہ سے اترے ) اور عورتوں کی طرف آئے ۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی ۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں ۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں ۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں ۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"I joined the Prophet, Abu Bakr, `Umar and `Uthman رضی اللہ عنہم in the `Id ul Fitr prayers. They used to offer the prayer before the Khutba and then they used to deliver the Khutba afterwards. The prophet (ﷺ) went out and it is as if I were watching him seating the people with his hand. Once the Prophet (ﷺ) O Prophet! When the believing women come to you to take the oath of fealty to you . . . (to the end of the verse) (60.12).' After finishing the recitation he said, "O ladies! Are you fulfilling your covenant?" None except one woman said, "Yes." Hasan did not know who was that woman. The Prophet (ﷺ) said, "Then give alms." Bilal spread his garment and said, "Keep on giving alms. Let my father and mother sacrifice their lives for you (ladies)." So the ladies kept on putting their Fatkhs (big rings) and other kinds of rings in Bilal's garment." `Abdur-Razaq said, " 'Fatkhs' is a big ring which used to be worn in the (Pre-Islamic) period of ignorance.
ابن جریج نے کہا کہ حسن بن مسلم نے مجھے خبر دی ، انہیں طاؤس نے ، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ، انہوں نے فرمایا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھنے گیا ہوں ۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” اے نبی ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں “ الآیہ ۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تم ان باتوں پر قائم ہو ؟ ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں ۔ ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی ، حسن کو معلوم نہیں کہ بولنے والی خاتون کون تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ۔ عبدالرزاق نے کہا «فتخ» بڑے ( چھلے ) کو کہتے ہیں جس کا جاہلیت کے زمانہ میں استعمال تھا ۔
Narrate Hafsa bint Seereen :
said, "On Id we used to forbid our girls to go out for `Id prayer. A lady came and stayed at the palace of Bani Khalaf and I went to her. She said, 'The husband of my sister took part in twelve holy battles along with the Prophet (ﷺ) and my sister was with her husband in six of them. My sister said that they used to nurse the sick and treat the wounded. Once she asked, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! If a woman has no veil, is there any harm if she does not come out (on `Id day)?' The Prophet (ﷺ) said, 'Her companion should let her share her veil with her, and the women should participate in the good deeds and in the religious gatherings of the believers.' " Hafsa رضی اللہ عنہا added, "When Um-`Atiya رضی اللہ عنہا came, I went to her and asked her, 'Did you hear anything about so-and-so?' Um-`Atiya said, 'Yes, let my father be sacrificed for the Prophet (ﷺ). (And whenever she mentioned the name of the Prophet (ﷺ) she always used to say, 'Let my father be' sacrificed for him). He said, 'Virgin mature girls staying often screened (or said, 'Mature girls and virgins staying often screened--Aiyub is not sure as which was right) and menstruating women should come out (on the `Id day). But the menstruating women should keep away from the Musalla. And all the women should participate in the good deeds and in the religious gatherings of the believers'." Hafsa said, "On that I said to Um-`Atiya رضی اللہ عنہا , 'Also those who are menstruating?' " Um-`Atiya replied, "Yes. Do they not present themselves at `Arafat and elsewhere?".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے حفصہ بن سیرین کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
ہم اپنی لڑکیوں کو عیدگاہ جانے سے منع کرتے تھے ۔ پھر ایک خاتون باہر سے آئی اور قصر بنو خلف میں انہوں نے قیام کیا میں ان سے ملنے کے لیے حاضر ہوئی تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کی بہن کے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ لڑائیوں میں شریک رہے اور خود ان کی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چھ لڑائیوں میں شریک ہوئی تھیں ، ان کا بیان تھا کہ ہم مریضوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے تھے ۔ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو اور اس وجہ سے وہ عید کے دن ( عیدگاہ ) نہ جا سکے تو کوئی حرج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی سہیلی اپنی چادر کا ایک حصہ اسے اڑھا دے اور پھر وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر جب ام عطیہ رضی اللہ عنہا یہاں تشریف لائیں تو میں ان کی خدمت میں بھی حاضر ہوئی اور دریافت کیا کہ آپ نے فلاں فلاں بات سنی ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میرے باپ آپ پر فدا ہوں ۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو یہ ضرور کہتیں کہ میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، ہاں تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوان پردہ والی یا جوان اور پردہ والی باہر نکلیں ۔ شبہ ایوب کو تھا ۔ البتہ حائضہ عورتیں عیدگاہ سے علیحدہ ہو کر بیٹھیں انہیں خیر اور مسلمانوں کی دعا میں ضرور شریک ہونا چاہیے ۔ حفصہ نے کہا کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حائضہ عورتیں بھی ؟ انہوں نے فرمایا کیا حائضہ عورتیں عرفات نہیں جاتیں اور کیا وہ فلاں فلاں جگہوں میں شریک نہیں ہوتیں ( پھر اجتماع عید ہی کی شرکت میں کون سی قباحت ہے ) ۔
Narrated Um-`Atiya رضی اللہ عنہا :
We were ordered to go out (for `Id) and also to take along with us the menstruating women, mature girls and virgins staying in seclusion. (Ibn `Aun said, "Or mature virgins staying in seclusion)." The menstruating women could present themselves at the religious gathering and invocation of Muslims but should keep away from their Musalla.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن ابراہیم ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
ہمیں حکم تھا کہ حائضہ عورتوں ، دوشیزاؤں اور پردہ والیوں کو عیدگاہ لے جائیں ابن عون نے کہا کہ یا ( حدیث میں ) پردہ والی دوشیزائیں ہے البتہ حائضہ عورتیں مسلمانوں کی جماعت اور دعاؤں میں شریک ہوں اور ( نماز سے ) الگ رہیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) used to Nahr or slaughter sacrifices at the Musalla (on `Id-ul-Adha).
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے نافع سے بیان کیا ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے ۔
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ :
On the day of Nahr Allah's Messenger (ﷺ) delivered the Khutba after the `Id prayer and said, "Anyone who prayed like us and slaughtered the sacrifice like we did then he acted according to our (Nusuk) tradition of sacrificing, and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, then that was just mutton (i.e. not sacrifice)." Abu Burda bin Naiyar stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, I slaughtered my sacrifice before I offered the (Id) prayer and thought that today was the day of eating and drinking (nonalcoholic drinks) and so I made haste (in slaughtering) and ate and also fed my family and neighbors." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That was just mutton (not a sacrifice)." Then Abu Burda said, "I have a young she-goat and no doubt, it is better than two sheep. Will that be sufficient as a sacrifice for me?" The Prophet (ﷺ) replied, "Yes. But it will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice), after you."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا کہ ان سے عامر شعبی نے ، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے ہماری طرح کی نماز پڑھی اور ہماری طرح کی قربانی کی ، اس کی قربانی درست ہوئی ۔ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ذبیحہ صرف گوشت کھانے کے لیے ہو گا ۔ اس پر ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی کر لی میں نے یہ سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے ۔ اسی لیے میں نے جلدی کی اور خود بھی کھایا اور گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال یہ گوشت ( کھانے کا ) ہوا ( قربانی نہیں ) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا سال بھر کا بچہ ہے وہ دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ بہتر ہے ۔ کیا میری ( طرف سے اس کی ) قربانی درست ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسے بچے کی قربانی کافی نہ ہو گی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) offered the prayer on the day of Nahr and then delivered the Khutba and ordered that whoever had slaughtered his sacrifice before the prayer should repeat it, that is, should slaughter another sacrifice. Then a person from the Ansar stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! because of my neighbors (he described them as being very needy or poor) I slaughtered before the prayer. I have a young she-goat which, in my opinion, is better than two sheep." The Prophet (ﷺ) gave him the permission for slaughtering it as a sacrifice.
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا ، ان سے حماد بن زید نے ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے محمدنے ، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی ۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں ۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
Narrated Jundab:
On the day of Nahr the Prophet (ﷺ) offered the prayer and delivered the Khutba and then slaughtered the sacrifice and said, "Anybody who slaughtered (his sacrifice) before the prayer should slaughter another animal in lieu of it, and the one who has not yet slaughtered should slaughter the sacrifice mentioning Allah's name on it."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اسود بن قیس نے ، ان سے جندب نے ، انہوں نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
On the Day of `Id the Prophet (ﷺ) used to return (after offering the `Id prayer) through a way different from that by which he went. Younus bin Muhammad corroborated him from fulaih and jabir's Hadith is more authentic.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو تمیلہ یحییٰ بن واضح نے خبر دی ، انہیں فلیح بن سلیمان نے ، انہیں سعید بن حارث نے ، انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے ۔ اس روایت کی متابعت یونس بن محمد نے فلیح سے کی ، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا لیکن جابر کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
On the days of Mina, (11th, 12th, and 13th of Dhul-Hijjah) Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to her while two young girls were beating the tambourine and the Prophet (ﷺ) was lying covered with his clothes. Abu Bakr رضی اللہ عنہ scolded them and the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , "Leave them, for these days are the days of `Eid and the days of Mina." `Aisha ضی اللہ عنہا further said, "Once the Prophet (ﷺ) was screening me and I was watching the display of black slaves in the Mosque and (`Umar رضی اللہ عنہ ) scolded them. The Prophet (ﷺ) said, 'Leave them. O Bani Arfida! (carry on), you are safe (protected)'."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں ( منٰی کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بعاث کی لڑائی کی نظمیں گا رہی تھیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر جانے بھی دو یہ عید کے دن ہیں ( اور وہ بھی منٰی میں ) ۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہامیں نے ( ایک دفعہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں حبشہ کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں تیروں سے کھیل رہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانے دو اور ان سے فرمایا اے بنوارفدہ ! تم بے فکر ہو کر کھیل دکھاؤ ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) went out and offered a two rak`at prayer on the Day of `Id ul Fitr and did not offer any other prayer before or after it and at that time Bilal رضی اللہ عنہ was accompanying him.
ہم سے ابو ولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے اور ( عیدگاہ ) میں دو رکعت نمازعید پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس سے پہلے نفل نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔