Narrated `Abbad bin Tamim from his uncle who said:
"The Prophet (ﷺ) invoked Allah for rain and offered a two rak`at prayer and he put his cloak inside out."
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا ، ان سے عباد بن تمیم نے ، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی تو دو رکعت نماز پڑھی اور چادر پلٹی ۔
Narrated `Abbad bin Tamim from his uncle who said:
"The Prophet (ﷺ) went out to the Musalla to offer the Istisqa' prayer, faced the Qibla and offered a two rak`at prayer and turned his cloak inside out." Narrated Abu Bakr, "The Prophet (ﷺ) put the right side of his cloak on his left side."
ہم سے عبداللہ بن محمدمسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا ، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا اور عباد اپنے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے لیے عیدگاہ کو نکلے اور قبلہ رخ ہو کر دو رکعت نماز پڑھی پھر چادر پلٹی ۔ سفیان ثوری نے کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ مسعودی نے ابوبکر کے حوالے سے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا داہنا کونا بائیں کندھے پر ڈالا ۔
Narrated `Abdullah bin Zaid Al-Ansari:
The Prophet (ﷺ) went out towards the Musalla in order to offer the Istisqa' prayer and when he intended to invoke (Allah) or started invoking, he faced the Qibla and turned his cloak inside out. Imam Abdullah Bukhari said: This Ibn-e-Zaid is Mazini and the first one is Koufi and he is Ibn-e-Yazeed.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عباد بن تمیم نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زیدانصاری نے بتایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کے لیے ) عیدگاہ کی طرف نکلے وہاں نماز پڑھنے کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے یا راوی نے یہ کہا دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ رو ہو کر چادر مبارک پلٹی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن زید مازنی ہیں اور اس سے پہلے باب «الدعا فی الاستسقاء» میں جن کا ذکر گزرا اور وہ عبداللہ بن یزید ہیں کوفہ کے رہنے والے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) on a Friday and said, "O Allah's Messenger ! The livestock, the offspring, and the people have perished." So, Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands invoking Allah (for rain) and the people too raised their hands with Allah's Messenger (ﷺ) invoking Allah (for rain). We had not left the mosque when it started raining. It rained till the next Friday when the same man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger! The travelers are compelled to postpone their journeys (because of excessive rain) and the roads are overflowed."
ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ
ایک بدوی ( گاؤں کا رہنے والا ) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے ، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے ، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے ، دعا کرنے لگے ، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی ۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ( بارش بہت ہونے سے ) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے ۔
The narrator Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) raised his hands (during the invocation) to such an extent that the whiteness of his armpits was visible.
عبد العزیز اویسی نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک نے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نے استسقاء میں دعا کرنے کے لیے ) اس طرح ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) never raised his hands for any invocation except for that of Istisqa' and he used to raise them so much that the whiteness of his armpits became visible.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان اور محمد بن ابراہیم بن عدی بن عروبہ نے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے قتادہ اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ ( زیادہ ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) saw the rain, he used to say, "O Allah! Let it be a strong fruitful rain." Qasim bin Yahya corroborated him from Obaidullah and Auzai Uqail reported it from Nafi'i.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے نافع سے خبر دی ، انہیں قاسم بن محمد نے ، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے «صيبا نافعا» اے اللہ ! نفع بخشنے والی بارش برسا ۔ اس روایت کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے اور اس کی روایت اوزاعی اور عقیل نے نافع سے کی ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the people were afflicted with a (famine) year. While the Prophet was delivering the Khutba (sermon) on the pulpit on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The livestock are dying and the families (offspring) are hungry: please pray to Allah to bless us with rain." Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands towards the sky and at that time there was not a trace of cloud in they sky. Then the clouds started gathering like mountains. Before he got down from the pulpit I saw rainwater trickling down his beard. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day and till the next Friday, when the same Bedouin or some other person stood up (during the Friday Khutba) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The houses have collapsed and the livestock are drowned. Please invoke Allah for us." So Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands and said, "O Allah! Around us and not on us." Whichever side the Prophet (ﷺ) directed his hand, the clouds dispersed from there till a hole (in the clouds) was formed over Medina. The valley of Qanat remained flowing (with water) for a month. The reported says: Whosoever would came, would speak of the utility of that rain.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا ، انہوں نے کہامجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں پر ایک دفعہ قحط پڑا ۔ انہی دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! جانور مر گئے اور بال بچے فاقے پر فاقے کر ہے ہیں ، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ۔ آسمان پر دور دور تک ابر کا پتہ تک نہیں تھا ۔ لیکن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ) پہاڑوں کے برابر بادل گرجتے ہوئے آ گئے ابھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے بہہ رہا ہے ۔ انس نے کہا کہ اس روز بارش دن بھر ہوتی رہی ۔ دوسرے دن تیسرے دن ، بھی اور برابر اسی طرح ہوتی رہی ۔ اس طرح دوسرا جمعہ آ گیا ۔ پھر یہی بدوی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( کثرت باراں سے ) عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے ، ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا اور ہم پر نہ برسا ۔ حضرت انس نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کر دیتے ابر ادھر سے پھٹ جاتا ، اب مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا اور اسی کے بعد وادی قناۃ کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا ۔ حضرت انس نے بیان کیا کہ اس کے بعد مدینہ کے اردگرد سے جو بھی آیا اس نے خوب سیرابی کی خبر لائی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Whenever a strong wind blew, anxiety appeared on the face of the Prophet (fearing that wind might be a sign of Allah's wrath).
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھے حمید طویل نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
جب تیز ہوا چلتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I was granted victory with As-Saba and the nation of 'Ad was destroyed by Ad- Dabur (westerly wind) .
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے ، ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "مجھے باد صبا کے ساتھ فتح نصیب ہوئی اور قوم عاد کو عاد دبر (مغربی ہوا) نے تباہ کر دیا۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The Hour (Last Day) will not be established until (religious) knowledge will be taken away (by the death of religious learned men), earthquakes will be very frequent, time will pass quickly, afflictions will appear, murders will increase and money will overflow amongst you." (See Hadith No. 85 Vol 1).
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے ابوالزناد ( عبداللہ بن ذکوان ) نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزر ے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» سے مراد قتل ہے ۔ قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ وہ ابل پڑے گا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
(The Prophet) said, "O Allah! Bless our Sham and our Yemen." People said, "Our Najd as well." The Prophet again said, "O Allah! Bless our Sham and Yemen." They said again, "Our Najd as well." On that the Prophet (ﷺ) said, "There will appear earthquakes and afflictions, and from there will come out the side of the head of Satan."
مجھ سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حسین بن حسن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے
فرمایا اے اللہ ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازل فرما ۔ اس پر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد کے لیے بھی بر کت کی دعا کیجئے لیکن آپ نے پھر وہی کہا ” اے اللہ ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازک فرما “ پھر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہی سے طلوع ہو گا ۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) led the morning prayer in Al-Hudaibiya and it had rained the previous night. When the Prophet (ﷺ) had finished the prayer he faced the people and said, "Do you know what your Lord has said?" They replied, "Allah and His Apostle know better." (The Prophet (ﷺ) said), "Allah says, 'In this morning some of My worshipers remained as true believers and some became non-believers; he who said that it had rained with the blessing and mercy of Allah is the one who believes in Me and does not believe in star, but he who said it had rained because of such and such (star) is a disbeliever in Me and is a believer in star.' "
ہم سے اسماعیل بن ایوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا ، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی ۔ رات کو بارش ہو چکی تھی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فیصلہ کیا ہے ؟ لوگ بولے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار فرماتا ہے آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی ۔ ایک مومن ہے ایک کافر ۔ جس نے کہا اللہ کے فضل و رحم سے پانی پڑا وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے پانی پڑا اس نے میرا کفر کیا ، تاروں پر ایمان لایا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Keys of the unseen knowledge are five which nobody knows but Allah . . . nobody knows what will happen tomorrow; nobody knows what is in the womb; nobody knows what he will gain tomorrow; nobody knows at what place he will die; and nobody knows when it will rain."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ، کل کیا کرنا ہو گا ، اس کا کسی کو علم نہیں ۔ نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی اور نہ کسی کو یہ معلوم کہ بارش کب ہو گی ۔