Narrated Hafs bin `Asim:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما went on a journey and said, "I accompanied the Prophet (ﷺ) and he did not offer optional prayers during the journey, and Allah says: 'Verily! In Allah's Messenger (ﷺ) you have a good example to follow.' " (33.21)
ہم سے یحییٰ بن سلیمان کوفی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن یزید نے بیان کیا کہ حفص بن عاصم بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ
میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں ۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہم :
I accompanied Allah's Messenger (ﷺ) and he never offered more than two rak`at during the journey. Abu Bakr, `Umar and `Uthman رضی اللہ عنہم used to do the same.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عیسیٰ بن حفص بن عاصم نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت ( فرض ) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Narrated Ibn Abu Laila:
Only Um Hani رضی اللہ عنہا told us that she had seen the Prophet (ﷺ) offering the Duha (forenoon prayer). She said, "On the day of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) took a bath in my house and offered eight rak`at. I never saw him praying such a light prayer but he performed perfect prostration and bowing.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin Amir that his father had told him that:
He had seen the Prophet (ﷺ) praying Nawafil at night on the back of his Mount on a journey, facing whatever direction it took.
اور لیث بن سعد رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ
انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے ، وہ جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاتی ادھر ہی سہی ۔
Narrated Salim bin `Abdullah Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"Allah's Messenger (ﷺ) used to pray the Nawafil on the back of his Mount (carriage) by signs facing any direction." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to do the same.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے اور انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
Narrated Salim's father:
The Prophet (ﷺ) used to offer the Maghrib and `Isha' prayers together whenever he was in a hurry on a journey.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمرسے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the Zuhr and `Asr prayers together on journeys, and also used to offer the Maghrib and `Isha' prayers together.
اور ابرہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے حسین معلم نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) used to offer these two prayers together on journeys i.e. the Maghrib and the `Isha'. Ali bin Mubarak corroborated him. Harb, Yahya, Hafs, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ report: The prophet (ﷺ) combined (two prayers).
اور ابن طہمان ہی نے بیان کیا کہ ان سے حسین نے ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے حفص بن عبیداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے ۔ یحییٰ حفص سے اور حفص انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
'I saw Allah's Messenger (ﷺ) delaying the Maghrib prayer till he offered it along with the `Isha prayer whenever he was in a hurry during the journey.' " Salim said, "Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما used to do the same whenever he was in a hurry during the journey. After making the call for Iqama, for the Maghrib prayer he used to offer three rak`at and then perform Taslim. After waiting for a short while, he would pronounce the Iqama for the `Isha' prayer and offer two rak`at and perform Taslim. He never prayed any Nawafil in between the two prayers or after the `Isha' prayers till he got up in the middle of the night (for Tahajjud prayer)."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی ۔ آپ نے کہا کہ
میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی سفر طے کرنا ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر کر دیتے ۔ پھر اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اگر سفر سرعت کے ساتھ طے کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے ۔ مغرب کی تکبیر پہلے کہی جاتی اور آپ تین رکعت مغرب کی نماز پڑھ کر سلام پھیر دیتے ۔ پھر معمولی سے توقف کے بعد عشاء کی تکبیر کہی جاتی اور آپ اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے ۔ دونوں نمازوں کے درمیان ایک رکعت بھی سنت وغیرہ نہ پڑھتے اور اسی طرح عشاء کے بعد بھی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ یہاں تک کہ درمیان شب میں آپ اٹھتے ( اور تہجد ادا کرتے ) ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
During a journey, the Prophet (ﷺ) would combine both these prayers i.e the Maghrib and the Isha.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا ہم سے حرب بن سداد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حفص بن عبیداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو سفر میں ایک ساتھ ملا کر پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Whenever the Prophet (ﷺ) started the journey before noon, he used to delay the Zuhr prayer till the time for the `Asr prayer and then he would dismount and pray them together; and whenever the sun declined before he started the journey he used to offer the Zuhr prayer and then ride (for the journey).
ہم سے حسان واسطی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نماز عصر تک نہ پڑھتے پھر ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Whenever the Prophet (ﷺ) started on a journey before noon, he used to delay the Zuhr prayers till the time for the 'Asr prayer and then he would dismount and offer them together; and whenever the sun declined before he started on a journey he used to offer the Zuhr prayers and then ride (for journey).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر عصر کا وقت آنے تک نہ پرھتے ۔ پھر کہیں ( راستے میں ) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) prayed in his house while sitting during his illness and the people prayed behind him standing and he pointed to them to sit down. When he had finished the prayer, he said, "The Imam is to be followed and so when he bows you should bow; and when he lifts his head you should also do the same."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے باپ عروہ نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، بعض لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) fell down from a horse and his right side was either injured or scratched, so we went to inquire about his health. The time for the prayer became due and he offered the prayer while sitting and we prayed while standing. He said, "The Imam is to be followed; so if he says Takbir, you should also say Takbir, and if he bows you should also bow; and when he lifts his head you should also do the same and if he says: Sami`a l-lahu liman hamidah (Allah hears whoever sends his praises to Him) you should say: Rabbana walakal-Hamd (O our Lord! All the praises are for You.") (See Hadith No. 656 Vol. 1).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آ گئے ۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے ۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۔
Narrated `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :
(who had piles) I asked Allah's Messenger (ﷺ) about the praying of a man while sitting. He said, "If he prays while standing it is better and he who prays while sitting gets half the reward of that who prays standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے ، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( دوسری سند ) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی ، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی ، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا ، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ،
وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin Buraida:
"I asked the Prophet (ﷺ) about the prayer of a person while sitting. He said, 'It is better for one to pray standing; and whoever prays sitting gets half the reward of that who prays while standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting.' " Abu Abdullah Bukhari said: In my views, here "نَائِمًا" means to lie down.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن بریدہ نے کہ عمران بن حصین نے جنہیں بواسیر کا مرض تھا ۔ اور کبھی ابومعمر نے یوں کہا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا ۔ ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا ۔
Narrated `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :
I had piles, so I asked the Prophet (ﷺ) about the prayer. He said, "Pray while standing and if you can't, pray while sitting and if you cannot do even that, then pray Lying on your side."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے امام عبداللہ بن مبارک نے ، ان سے ابراہیم بن طہمان نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حسین مکتب نے ( جو بچوں کو لکھنا سکھاتا تھا ) بیان کیا ، ان سے ابن بریدہ نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
مجھے بواسیر کا مرض تھا ۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو ۔
Narrated Aisha the mother of the faithful believers رضی اللہ عنہا :
I never saw Allah's Messenger (ﷺ) offering the night prayer while sitting except in his old age and then he used to recite while sitting and whenever he wanted to bow he would get up and recite thirty or forty verses (while standing) and then bow.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ جب آپ ضعیف ہو گئے تو قرآت قرآن نماز میں بیٹھ کر کرتے تھے ، پھر جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے اور پھر تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے ۔
Narrated `Aisha the mother of the faithful believers رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) (in his last days) used to pray sitting. He would recite while sitting, and when thirty or forty verses remained from the recitation he would get up and recite them while standing and then he would bow and prostrate. He used to do the same in the second rak`a. After finishing the Prayer he used to look at me and if I was awake he would talk to me and if I was asleep, he would lie down.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے ۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے ۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے ۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے ۔