Back to Sahih Bukhari

Obligatory Charity Tax (Zakat)

كتاب الزكاة

Chapter 25

Hadith 1460
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ـ أَوْ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ، أَوْ كَمَا حَلَفَ ـ مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُونُ لَهُ إِبِلٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْ غَنَمٌ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَهُ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا جَازَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ بُكَيْرٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Abu Dhar رضی اللہ عنہ :

Once I went to him (the Prophet (ﷺ) ) and he said, "By Allah in Whose Hands my life is (or probably said, 'By Allah, except Whom none has the right to be worshipped) whoever had camels or cows or sheep and did not pay their Zakat, those animals will be brought on the Day of Resurrection far bigger and fatter than before and they will tread him under their hooves, and will butt him with their horns, and (those animals will come in circle): When the last does its turn, the first will start again, and this punishment will go on till Allah has finished the judgments amongst the people." Bukair, Abu Sualih, Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported it from the prophet (ﷺ).

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے معرور بن سوید سے بیان کیا ‘ ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اس طرح کھائی ) اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ یا جن الفاظ کے ساتھ بھی آپ نے قسم کھائی ہو ( اس تاکید کے بعد فرمایا ) کوئی بھی ایسا شخص جس کے پاس اونٹ گائے یا بکری ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اسے لایا جائے گا ۔ دنیا سے زیادہ بڑی اور موٹی تازہ کر کے ۔ پھر وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندے گی اور سینگ مارے گی ۔ جب آخری جانور اس پر سے گزر جائے گا تو پہلا جانور پھر لوٹ کر آئے گا ۔ ( اور اسے اپنے سینگ مارے گا اور کھروں سے روندے گا ) اس وقت تک ( یہ سلسلہ برابر قائم رہے گا ) جب تک لوگوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ اس حدیث کو بکیر بن عبداللہ نے ابوصالح سے روایت کیا ہے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

Hadith 1461
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَىَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَخْ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ‏.‏ تَابَعَهُ رَوْحٌ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِكٍ رَايِحٌ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik :

"Abu Talha رضی اللہ عنہ had more property of date-palm trees gardens than any other amongst the Ansar in Medina and the most beloved of them to him was Bairuha garden, and it was in front of the Mosque of the Prophet (ﷺ) . Allah's Messenger (ﷺ) used to go there and used to drink its nice water." Anas added, "When these verses were revealed:--'By no means shall you Attain righteousness unless You spend (in charity) of that Which you love. ' (3.92) Abu Talha said to Allah's Messenger (ﷺ) 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Allah, the Blessed, the Superior says: By no means shall you attain righteousness, unless you spend (in charity) of that which you love. And no doubt, Bairuha' garden is the most beloved of all my property to me. So I want to give it in charity in Allah's Cause. I expect its reward from Allah. O Allah's Messenger (ﷺ)! Spend it where Allah makes you think it feasible.' On that Allah's Apostle said, 'Bravo! It is useful property. I have heard what you have said (O Abu Talha), and I think it would be proper if you gave it to your Kith and kin.' Abu Talha رضی اللہ عنہ said, I will do so, O Allah's Apostle.' Then Abu Talha رضی اللہ عنہ distributed that garden amongst his relatives and his cousins."Ruh has followed this tradition with Abdullah bin Yusuf. Yahya bin Yahya and Isma'il quoted "Raih" (instead of "Rabah") for Malik.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ‘ کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے ۔ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے ۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا ۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» یعنی ” تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔ “ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے ۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں ۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں ۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خوب ! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے ۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے ۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی ۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو ۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ یا رسول اللہ ! میں ایسا ہی کروں گا ۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا ۔ عبداللہ بن یوسف کے ساتھ اس روایت کی متابعت روح نے کی ہے ۔ یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل نے مالک کے واسطہ سے ( «رابح» کے بجائے ) «رائح» نقل کیا ہے ۔

Hadith 1462
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا ‏"‏‏.‏ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَ وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ زَيْنَبُ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ الزَّيَانِبِ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمِ ائْذَنُوا لَهَا ‏"‏‏.‏ فَأُذِنَ لَهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ، وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

On `Id ul Fitr or `Id ul Adha Allah's Messenger (ﷺ) went out to the Musalla. After finishing the prayer, he delivered the sermon and ordered the people to give alms. He said, "O people! Give alms." Then he went towards the women and said. "O women! Give alms, for I have seen that the majority of the dwellers of Hell-Fire were you (women)." The women asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is the reason for it?" He replied, "O women! You curse frequently, and are ungrateful to your husbands. I have not seen anyone more deficient in intelligence and religion than you. O women, some of you can lead a cautious wise man astray." Then he left. And when he reached his house, Zainab, the wife of Ibn Mas`ud, came and asked permission to enter It was said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is Zainab." He asked, 'Which Zainab?" The reply was that she was the wife of Ibn Mas'ub. He said, "Yes, allow her to enter." And she was admitted. Then she said, "O Prophet of Allah! Today you ordered people to give alms and I had an ornament and intended to give it as alms, but Ibn Mas`ud said that he and his children deserved it more than anybody else." The Prophet (ﷺ) replied, "Ibn Mas`ud had spoken the truth. Your husband and your children had more right to it than anybody else."

Urdu

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ‘ انہیں عیاض بن عبداللہ نے ‘ اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے ۔ پھر ( نماز کے بعد ) لوگوں کو وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا ۔ فرمایا : لوگو ! صدقہ دو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف گئے اور ان سے بھی یہی فرمایا کہ عورتو ! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں بکثرت تم ہی کو دیکھا ہے ۔ عورتوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ایسا کیوں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اس لیے کہ تم لعن وطعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو ۔ میں نے تم سے زیادہ عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو کار آزمودہ مرد کی عقل کو بھی اپنی مٹھی میں لے لیتی ہو ۔ ہاں اے عورتو ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر پہنچے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور اجازت چاہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ زینب آئی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون سی زینب ( کیونکہ زینب نام کی بہت سی عورتیں تھیں ) کہا گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اچھا انہیں اجازت دے دو ‘ چنانچہ اجازت دے دی گئی ۔ انہوں نے آ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آج آپ نے صدقہ کا حکم دیا تھا ۔ اور میرے پاس بھی کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی تھی ۔ لیکن ( میرے خاوند ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے لڑکے اس کے ان ( مسکینوں ) سے زیادہ مستحق ہیں جن پر میں صدقہ کروں گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ۔ تمہارے شوہر اور تمہارے لڑکے اس صدقہ کے ان سے زیادہ مستحق ہیں جنہیں تم صدقہ کے طور پر دو گی ۔ ( معلوم ہوا کہ اقارب اگر محتاج ہوں تو صدقہ کے اولین مستحق وہی ہیں ) ۔

Hadith 1463
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَغُلاَمِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is no Zakat either on a horse or a slave belonging to a Muslim."

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سنا ‘ ان سے عراک بن مالک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ واجب نہیں ۔

Hadith 1464
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فِي فَرَسِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "There is no Zakat either on a slave or on a horse belonging to a Muslim."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے خثیم بن عراک بن مالک نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ( دوسری سند ) اور ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خثیم بن عراک بن مالک نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے باپ سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ فرض ہے اور نہ گھوڑے میں ۔

Hadith 1465
Sahih
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ ـ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ ‏"‏ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضْرَاءِ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ ـ أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ـ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

Once the Prophet (ﷺ) sat on a pulpit and we sat around him. Then he said, "The things I am afraid of most for your sake (concerning what will befall you after me) is the pleasures and splendors of the world and its beauties which will be disclosed to you." Somebody said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Can the good bring forth evil?" The Prophet (ﷺ) remained silent for a while. It was said to that person, "What is wrong with you? You are talking to the Prophet (p.b.u.h) while he is not talking to you." Then we noticed that he was being inspired divinely. Then the Prophet (ﷺ) wiped off his sweat and said, "Where is the questioner?" It seemed as if the Prophet (ﷺ) liked his question. Then he said, "Good never brings forth evil. Indeed it is like what grows on the banks of a water-stream which either kill or make the animals sick, except if an animal eats its fill the Khadira (a kind of vegetable) and then faces the sun, and then defecates and urinates and grazes again. No doubt this wealth is sweet and green. Blessed is the wealth of a Muslim from which he gives to the poor, the orphans and to needy travelers. (Or the Prophet said something similar to it) No doubt, whoever takes it illegally will be like the one who eats but is never satisfied, and his wealth will be a witness against him on the Day of Resurrection."

Urdu

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ہشام دستوائی نے ‘ یحییٰ سے بیان کیا ۔ ان سے ہلال بن ابی میمونہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا ‘ اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا کی خوشحالی اور اس کی زیبائش و آرائش کے دروازے کھول دئیے جائیں گے ۔ ایک شخص نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! کیا اچھائی برائی پیدا کرے گی ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ۔ اس لیے اس شخص سے کہا جانے لگا کہ کیا بات تھی ۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات پوچھی لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بات نہیں کرتے ۔ پھر ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسینہ صاف کیا ( جو وحی نازل ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے لگتا تھا ) پھر پوچھا کہ سوال کرنے والے صاحب کہاں ہیں ۔ ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ( سوال کی ) تعریف کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھائی برائی نہیں پیدا کرتی ( مگر بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے ) کیونکہ موسم بہار میں بعض ایسی گھاس بھی اگتی ہیں جو جان لیوا یا تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں ۔ البتہ ہریالی چرنے والا وہ جانور بچ جاتا ہے کہ خوب چرتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو سورج کی طرف رخ کر کے پاخانہ پیشاب کر دیتا ہے اور پھر چرتا ہے ۔ اسی طرح یہ مال و دولت بھی ایک خوشگوار سبزہ زار ہے ۔ اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو مسکین ‘ یتیم اور مسافر کو دیا جائے ۔ یا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ہاں اگر کوئی شخص زکوٰۃ حقدار ہونے کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا ۔ اور قیامت کے دن یہ مال اس کے خلاف گواہ ہو گا ۔

Hadith 1466
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَتْ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ‏"‏‏.‏ وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، قَالَ فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامِي فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ، حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي، فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا سَلِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي وَقُلْنَا لاَ تُخْبِرْ بِنَا‏.‏ فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هُمَا ‏"‏‏.‏ قَالَ زَيْنَبُ قَالَ ‏"‏ أَىُّ الزَّيَانِبِ ‏"‏‏.‏ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Zainab رضی اللہ عنہا :

"I was in the Mosque and saw the Prophet (ﷺ) saying, 'O women ! Give alms even from your ornaments.' " Zainab used to provide for `Abdullah رضی اللہ عنہ and those orphans who were under her protection. So she said to `Abdullah رضی اللہ عنہ , "Will you ask Allah's Messenger (ﷺ) whether it will be sufficient for me to spend part of the Zakat on you and the orphans who are under my protection?" He replied "Will you yourself ask Allah's Messenger (ﷺ) ?" (Zainab added): So I went to the Prophet and I saw there an Ansari woman who was standing at the door (of the Prophet (ﷺ) ) with a similar problem as mine. Bilal رضی اللہ عنہ passed by us and we asked him, 'Ask the Prophet (ﷺ) whether it is permissible for me to spend (the Zakat) on my husband and the orphans under my protection.' And we requested Bilal رضی اللہ عنہ not to inform the Prophet (ﷺ) about us. So Bilal رضی اللہ عنہ went inside and asked the Prophet (ﷺ) regarding our problem. The Prophet (ﷺ) asked, "Who are those two?" Bilal رضی اللہ عنہ replied that she was Zainab. The Prophet (ﷺ) said, "Which Zainab?" Bilal رضی اللہ عنہ said, "The wife of `Abdullah (bin Mas`ud)." The Prophet said, "Yes, (it is sufficient for her) and she will receive a double rewards (for that): One for helping relatives, and the other for giving Zakat."

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے ‘ ان سے عمرو بن الحارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے ۔ ( اعمش نے ) کہا کہ میں نے اس حدیث کا ذکر ابراہیم نحعی سے کیا ۔ تو انہوں نے بھی مجھ سے ابوعبیدہ سے بیان کیا ۔ ان سے عمرو بن حارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب نے ‘ بالکل اسی طرح حدیث بیان کی ( جس طرح شقیق نے کی کہ ) زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں مسجد نبوی میں تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ‘ صدقہ کرو ‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو ۔ اور زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں ۔ لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو ۔ آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا ۔ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں ۔ ( جو زینب ابومسعود انصاری کی بیوی تھیں ) پھر ہمارے سامنے سے بلال گذرے ۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنی زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں ۔ ہم نے بلال سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا ۔ وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں ؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون سی زینب ؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! بیشک درست ہے ۔ اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا ۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا ۔

Hadith 1467
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏{‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،‏}‏ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَلَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Zainab bint Um Salama:

I said "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I receive a reward if I spend for the sustenance of Abu Salama's offspring, and in fact they are also my sons?" The Prophet (ﷺ) replied, "Spend on them and you will get a reward for what you spend on them."

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدہ نے ‘ ان سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے ‘ ان سے زینب بنت ام سلمہ نے ‘ ان سے ام سلمہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ

میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! اگر میں ابوسلمہ ( اپنے پہلے خاوند ) کے بیٹوں پر خرچ کروں تو درست ہے یا نہیں ۔ کیونکہ وہ میری بھی اولاد ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان پر خرچ کر ۔ تو جو کچھ بھی ان پر خرچ کرے گی اس کا ثواب تجھ کو ملے گا ۔

Hadith 1468
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهْىَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُدِّثْتُ عَنِ الأَعْرَجِ بِمِثْلِهِ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) ordered (a person) to collect Zakat, and that person returned and told him that Ibn Jamil, Khalid bin Al-Walid, and `Abbas bin `Abdul Muttalib had refused to give Zakat." The Prophet said, "What made Ibn Jamil refuse to give Zakat though he was a poor man, and was made wealthy by Allah and His Apostle ? But you are unfair in asking Zakat from Khalid as he is keeping his armor for Allah's Cause (for Jihad). As for `Abbas bin `Abdul Muttalib, he is the uncle of Allah's Apostle (ﷺ) and Zakat is compulsory on him and he should pay it double." Abu Zinad corroborated him from his father. Ibn-e-Ishaq has reported from Abu Zinad: «هي عليه ومثلها معها» Ibn-e-Jurail said: Aaraj narrated to me the Hadith in the same way.

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ابن جمیل اور خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن جمیل یہ شکر نہیں کرتا کہ کل تک وہ فقیر تھا ۔ پھر اللہ نے اپنے رسول کی دعا کی برکت سے اسے مالدار بنا دیا ۔ باقی رہے خالد ‘ تو ان پر تم لوگ ظلم کرتے ہو ۔ انہوں نے تو اپنی زرہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کر رکھی ہیں ۔ اور عباس بن عبدالمطلب ‘ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں ۔ اور ان کی زکوٰۃ انہی پر صدقہ ہے ۔ اور اتنا ہی اور انہیں میری طرف سے دینا ہے ۔ اس روایت کی متابعت ابوالزناد نے اپنے والد سے کی اور ابن اسحاق نے ابوالزناد سے یہ الفاظ بیان کیے ۔ «هي عليه ومثلها معها» ( صدقہ کے لفظ کے بغیر ) اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے اعرج سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی گئی ۔

Hadith 1469
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ ‏ "‏ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:

Some Ansari persons asked for (something) from Allah's Messenger (ﷺ) and he gave them. They again asked him for (something) and he again gave them. And then they asked him and he gave them again till all that was with him finished. And then he said "If I had anything. I would not keep it away from you. (Remember) Whoever abstains from asking others, Allah will make him contented, and whoever tries to make himself self-sufficient, Allah will make him self-sufficient. And whoever remains patient, Allah will make him patient. Nobody can be given a blessing better and greater than patience."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک نے ‘ ابن شہاب سے خبر دی ‘ انہیں عطاء بن یزید لیثی نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ

انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیا ۔ پھر انہوں نے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا ۔ یہاں تک کہ جو مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ۔ اب وہ ختم ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس جو مال و دولت ہو تو میں اسے بچا کر نہیں رکھوں گا ۔ مگر جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ ہی رکھتا ہے ۔ اور جو شخص بے نیازی برتتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بےنیاز بنا دیتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر زور ڈال کر بھی صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر و استقلال دے دیتا ہے ۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں خیر نہیں ملی ۔ ( صبر تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے ) ۔

Hadith 1470
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلاً، فَيَسْأَلَهُ، أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my life is, it is better for anyone of you to take a rope and cut the wood (from the forest) and carry it over his back and sell it (as a means of earning his living) rather than to ask a person for something and that person may give him or not."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں ابوالزناد نے ‘ انہیں اعرج نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی شخص رسی سے لکڑیوں کا بوجھ باندھ کر اپنی پیٹھ پر جنگل سے اٹھا لائے ( پھر انہیں بازار میں بیچ کر اپنا رزق حاصل کرے ) تو وہ اس شخص سے بہتر ہے جو کسی کے پاس آ کر سوال کرے ۔ پھر جس سے کچھ مانگے اور وہ اسے دے یا نہ دے ۔

Hadith 1471
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Az-Zubair bin Al-`Awwam رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "It is better for anyone of you to take a rope (and cut) and bring a bundle of wood (from the forest) over his back and sell it and Allah will save his face (from the Hell-Fire) because of that, rather than to ask the people who may give him or not."

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اگر ( ضرورت مند ہو تو ) اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے ۔ اور اسے بیچے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو محفوظ رکھ لے تو یہ اس سے اچھا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے ‘ اسے وہ دیں یا نہ دیں ۔

Hadith 1472
Sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ‏"‏‏.‏ قَالَ حَكِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ، أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ‏.‏ فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تُوُفِّيَ‏.‏
English

Narrated Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ :

"(Once) I asked Allah's Messenger (ﷺ) (for something) and he gave it to me. Again I asked and he gave (it to me). Again I asked and he gave (it to me). And then he said, "O Hakim رضی اللہ عنہ ! This property is like a sweet fresh fruit; whoever takes it without greediness, he is blessed in it, and whoever takes it with greediness, he is not blessed in it, and he is like a person who eats but is never satisfied; and the upper (giving) hand is better than the lower (receiving) hand." Hakim رضی اللہ عنہ added, "I said to Allah's Messenger (ﷺ) , 'By Him (Allah) Who sent you with the Truth, I shall never accept anything from anybody after you, till I leave this world.' " Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ (during his caliphate) called Hakim to give him his share from the war booty (like the other companions of the Prophet (ﷺ) ), he refused to accept anything. Then `Umar رضی اللہ عنہ (during his caliphate) called him to give him his share but he refused. On that `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Muslims! I would like you to witness that I offered Hakim his share from this booty and he refused to take it." So Hakim never took anything from anybody after the Prophet (ﷺ) till he died.

Urdu

ہم سے عبد ان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب نے کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ میں نے پھر مانگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا ۔ میں نے پھر مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی عطا فرمایا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ اے حکیم ! یہ دولت بڑی سرسبز اور بہت ہی شیریں ہے ۔ لیکن جو شخص اسے اپنے دل کو سخی رکھ کر لے تو اس کی دولت میں برکت ہوتی ہے ۔ اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کی دولت میں کچھ بھی برکت نہیں ہو گی ۔ اس کا حال اس شخص جیسا ہو گا جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا ( یاد رکھو ) اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ کہ میں نے عرض کی اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث کیا ہے ۔ اب اس کے بعد میں کسی سے کوئی چیز نہیں لوں گا ۔ تاآنکہ اس دنیا ہی سے میں جدا ہو جاؤں ۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حکیم رضی اللہ عنہ کو ان کا معمول دینے کو بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں ان کا حصہ دینا چاہا تو انہوں نے اس کے لینے سے انکار کر دیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسلمانو ! میں تمہیں حکیم بن حزام کے معاملہ میں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کا حق انہیں دینا چاہا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا ۔ غرض حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی طرح کسی سے بھی کوئی چیز لینے سے ہمیشہ انکار ہی کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ وفات پا گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ”مال فے“ یعنی ملکی آمدنی سے ان کا حصہ ان کو دینا چاہتے تھے مگر انہوں نے وہ بھی نہیں لیا ۔

Hadith 1473
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ ‏ "‏ خُذْهُ، إِذَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَىْءٌ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ، فَخُذْهُ، وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) used to give me something but I would say to him, "would you give it to a poorer and more needy one than l?" The Prophet (ﷺ) said to me, "Take it. If you are given something from this property, without asking for it or having greed for it take it; and if not given, do not run for it."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی چیز عطا فرماتے تو میں عرض کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ محتاج کو دے دیجئیے ۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ لے لو ‘ اگر تمہیں کوئی ایسا مال ملے جس پر تمہارا خیال نہ لگا ہوا ہو اور نہ تم نے اسے مانگا ہو تو اسے قبول کر لیا کرو ۔ اور جو نہ ملے تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اس کے پیچھے نہ پڑو ۔

Hadith 1474, 1475
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ‏"‏‏.وَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الأُذُنِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ اسْتَغَاثُوا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوسَى، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏.‏ وَزَادَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ‏"‏ فَيَشْفَعُ لِيُقْضَى بَيْنَ الْخَلْقِ، فَيَمْشِي حَتَّى يَأْخُذَ بِحَلْقَةِ الْبَابِ، فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللَّهُ مَقَامًا مَحْمُودًا، يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ كُلُّهُمْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ مُعَلًّى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْأَلَةِ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "A man keeps on asking others for something till he comes on the Day of Resurrection without any piece of flesh on his face." The Prophet (ﷺ) added, "On the Day of Resurrection, the Sun will come near (to, the people) to such an extent that the sweat will reach up to the middle of the ears, so, when all the people are in that state, they will ask Adam for help, and then Moses, and then Muhammad (ﷺ) ." The sub-narrator added "Muhammad will intercede with Allah to judge amongst the people. He will proceed on till he will hold the ring of the door (of Paradise) and then Allah will exalt him to Maqam Mahmud (the privilege of intercession, etc.). And all the people of the gathering will send their praises to Allah. Muala bin Asad said that Wahib narrated to us from Numan bin Rashid, from him Abdullah bin Muslim, the brother of Zuhri, from him Hamza bin Abdullah, and he heard from Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما , may Allah be pleased with him. He narrated the same hadith from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that is in the chapter of the question.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے کہا ‘ کہ میں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہو گا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج اتنا قریب ہو جائے گا کہ پسینہ آدھے کان تک پہنچ جائے گا ۔ لوگ اسی حال میں اپنی مخلصی کے لیے حضرت آدم علیہ السلام سے فریاد کریں گے ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے ۔ اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا ‘ کہ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے کہ مخلوق کا فیصلہ کیا جائے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھیں گے اور جنت کے دروازے کا حلقہ تھام لیں گے ۔ اور اسی دن اللہ تعالیٰ آپ کو ”مقام محمود“ عطا فرمائے گا ۔ جس کی تمام اہل محشر تعریف کریں گے ۔ اور معلی بن اسد نے کہا کہ ہم سے وہیب نے نعمان بن راشد سے بیان کیا ‘ ان سے زہری کے بھائی عبداللہ بن مسلم نے ‘ ان سے حمزہ بن عبداللہ نے ‘ اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر اتنی ہی حدیث بیان کی جو سوال کے باب میں ہے ۔

Hadith 1476
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الأُكْلَةُ وَالأُكْلَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى وَيَسْتَحْيِي أَوْ لاَ يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The poor person is not the one who asks a morsel or two (of meals) from the others, but the poor is the one who has nothing and is ashamed to beg from others."

Urdu

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے در در پھرائیں ۔ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں ۔ لیکن اسے سوال سے شرم آتی ہے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا ( مسکین وہ جو کمائے مگر بقدر ضرورت نہ پا سکے ) ۔

Hadith 1477
Sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنِ اكْتُبْ، إِلَىَّ بِشَىْءٍ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلاَثًا قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ash-Shu`bi رضی اللہ عنہ :

The clerk of Al-Mughira bin Shu`ba narrated, "Muawiya wrote to Al-Mughira bin Shu`ba: Write to me something which you have heard from the Prophet (p.b.u.h) ." So Al-Mughira wrote: I heard the Prophet saying, "Allah has hated for you three things: -1. Vain talks, (useless talk) that you talk too much or about others. -2. Wasting of wealth (by extravagance) -3. And asking too many questions (in disputed religious matters) or asking others for something (except in great need). (See Hadith No. 591, Vol. Ill)

Urdu

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے ابن اشوع نے ‘ ان سے عامر شعبی نے ۔ کہا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد نے بیان کیا ۔ کہ

معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ انہیں کوئی ایسی حدیث لکھئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا ۔ بلاوجہ کی گپ شپ ، فضول خرچی اور لوگوں سے بہت مانگنا ۔

Hadith 1478
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ رَجُلاً لَمْ يُعْطِهِ، وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوْ مُسْلِمًا ‏"‏ قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوْ مُسْلِمًا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوْ مُسْلِمًا ـ يَعْنِي فَقَالَ ـ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَقْبِلْ أَىْ سَعْدُ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ‏{‏فَكُبْكِبُوا‏}‏ قُلِبُوا ‏{‏مُكِبًّا‏}‏ أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَى أَحَدٍ، فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ قُلْتَ كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ، وَكَبَبْتُهُ أَنَا‏.‏
English

Narrated Sa`d (bin Abi Waqqas):

Allah's Messenger (ﷺ) distributed something (from the resources of Zakat) amongst a group of people while I was sitting amongst them, but he left a man whom I considered the best of the lot. So, I went up to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him secretly, "Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer." The Prophet (ﷺ) said, "Or merely a Muslim (Who surrender to Allah)." I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, "O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. " The Prophet (ﷺ) said, "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer." The Prophet (ﷺ) said, "Or merely a Muslim." Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "I give to a person while another is dearer to me, for fear that he may be thrown in the Hell-fire on his face (by reneging from Islam)." Imam Bukhari said: "فَكُبْكِبُوا‏" means throw upside down. "‏مُكِبًّا‏" is derived from "أَكَبَّ الرَّجُلُ" when its action does not pass to other when its action passes to other (transsitive: Irfan), it is said: "كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ، وَكَبَبْتُهُ أَنَا" .

Urdu

ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے خبر دی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا ۔ اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا ۔ حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا ۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا ‘ فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا ؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان ؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا ۔ لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا ‘ اور میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں ‘ واللہ ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان ؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو دیتا ہوں ( اور دوسرے کو نظرانداز کر جاتا ہوں ) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ پیارا ہوتا ہے ۔ کیونکہ ( جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں ) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے ۔ اور ( یعقوب بن ابراہیم ) اپنے والد سے ‘ وہ صالح سے ‘ وہ اسماعیل بن محمد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کے بیچ میں مارا ۔ اور فرمایا ۔ سعد ! ادھر سنو ۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں ۔ آخر حدیث تک ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ) نے کہا کہ ( قرآن مجید میں لفظ ) «كبكبوا‏» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے ۔ اور سورۃ الملک میں جو «مكبا‏» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے ۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا ۔ اور اس کا متعدی «كب» ہے ۔ کہتے ہیں کہ «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا ۔ اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا صالح بن کیسان عمر میں زہری سے بڑے تھے وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے ہیں ۔

Hadith 1479
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں ۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے ۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے ۔

Hadith 1480
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، ثُمَّ يَغْدُوَ ـ أَحْسِبُهُ قَالَ ـ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ، فَيَبِيعَ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَكْبَرُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ قَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "No doubt, it is better for a person to take a rope and proceed in the morning to the mountains and cut the wood and then sell it, and eat from this income and give alms from it than to ask others for something." Abu Abdullah said: Sualih bin Kaisaan was older than Zuhri and he met hadrat Ibn-e-Umer.

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ‘ کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر ( میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) پہاڑوں میں چلا جائے پھر لکڑیاں جمع کر کے انہیں فروخت کرے ۔ اس سے کھائے بھی اور صدقہ بھی کرے ۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔