Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon at `Arafat saying, "If a Muhrim does not find slippers, he could wear Khuffs (socks made from thick fabric or leather, but he has to cut short the Khuffs below the ankles), and if he does not find an Izar (a waist sheet for wrapping the lower half of the body) he could wear trousers."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی ، انہوں نے جابر بن زید سے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے کہا کہ
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا تھا کہ جس کے پاس احرام میں جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ پاجامہ پہن لے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was asked what sort of clothes a Muhrim should wear. He replied, "He should not wear a shirt, turbans, trousers, a hooded cloak, or a dress perfumed with saffron or Wars; and if slippers are not available he can wear Khuffs (socks made from thick fabric or leather) but he should cut them so that they reach below the ankles.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قمیص ، عمامہ ، پاجامہ اور برنس ( کن ٹوپ یا باران کوٹ ) نہ پہنے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو اور اگر جوتیاں نہ ہوں تو موزے پہن لے ، البتہ اس طرح کاٹ لے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) delivered a sermon at `Arafat and said, "Whoever does not get an Izar can wear trousers, and whoever cannot get a pair of shoes can wear Khuffs (socks made from thick fabric or leather)."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو میدان عرفات میں وعظ سنایا ، اس میں آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو احرام کے لیے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے اور اگر کسی کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) assumed Ihram for Umra in the month of Dhul-Qa'da but the (pagan) people of Mecca refused to admit him into Mecca till he agreed on the condition that he would not bring into Mecca any arms but sheathed.
ہم سے عبیداللہ بن موصلی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا تو مکہ والوں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ، پھر ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ ہتھیار نیام میں ڈال کر مکہ میں داخل ہوں گے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) fixed Dhul-Hulaifa as the Miqat (the place for assuming Ihram) for the people of Medina, and Qaran-al-Manazil for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen. These Mawaqit are for those people and also for those who come through these Mawaqit (from places other than the above-mentioned) with the intention of (performing) Hajj and Umra. And those living inside these Mawaqit can assume Ihram from the place where they start; even the people of Mecca can assume Ihram from Mecca.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کو میقات بنایا ، نجد والوں کے لیے قرن منازل کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو ۔ یہ میقات ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ہے اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے ہو کر مکہ آئیں اور حج اور عمرہ کا بھی ارادہ رکھتے ہوں ، لیکن جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں تو ان کی میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہی ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) entered Mecca in the year of its Conquest wearing an Arabian helmet on his head and when the Prophet (ﷺ) took it off, a person came and said, "Ibn Khatal is holding the covering of the Ka`ba (taking refuge in the Ka`ba)." The Prophet (ﷺ) said, "Kill him."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے آ کر خبر دی کہ
فتح مکہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا ۔ جس وقت آپ نے اتارا تو ایک شخص نے خبر دی کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹک رہا ہے آپ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو ۔
Narrated Ya'li:
While I was with Allah's Messenger (ﷺ) there came to him a man wearing a cloak having a trace of yellowish perfume or a similar thing on it. `Umar رضی اللہ عنہ used to say to me, "Would you like to see the Prophet (ﷺ) at the time when he is inspired divinely?" So, it happened that he was inspired (then) and when the inspiration was over the Prophet (ﷺ) said (to that man), "Do in your `Umra the same as you do in your Hajj."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ہم سے عطاء نے بیان کیا ، کہا مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص جو جبہ پہنے ہوئے تھا حاضر ہوا اور اس پر زردی یا اسی طرح کی کسی خوشبو کا نشان تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے کیا تم چاہتے ہو کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگے تو تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکو ؟ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وہ حالت جاتی رہی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو اسی طرح عمرہ میں بھی کرو ۔
A man bit the hand of the other one and the other one plucked his incisor (front tooth) out (When he pulled his hand out of the former's mouth: Irfan)The prophet ﷺ declared it (blood-money: Irfan) null and void.
ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تھا ، دوسرے نے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی بدلہ نہیں دلوایا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
While a man was standing with the Prophet (ﷺ) at `Arafat, he fell from his Mount and his neck was crushed by it. The Prophet (ﷺ) said, "Wash the deceased with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth, and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be reciting Talbiya."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اور احرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
While a man was standing with the Prophet (ﷺ) at `Arafat, he fell from his Mount and his neck was crushed by it. The Prophet (ﷺ) said, "Wash the deceased with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth, and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be reciting Talbiya."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک شحص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس نے اس کی گردن توڑ دی ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دے کر دو کپڑوں ( احرام والوں ہی میں ) کفنا دو لیکن خوشبو نہ لگانا ، نہ سر چھپانا اور نہ حنوط لگانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man was in the company of the Prophet (ﷺ) and his she-camel crushed his neck while he was in a state of Ihram and he died Allah's Messenger (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in his two garments; neither perfume him nor cover his head, for he will be resurrected on the Day of Resurrection, reciting Talbiya."
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں ابوبشر نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں تھا کہ اس کے اونٹ نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی ۔ وہ شخص محرم تھا اور مر گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ اسے پانی اور بیری کا غسل اور ( احرام کے ) دو کپڑوں کا کفن دیا جائے البتہ اس کو خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر چھپاؤ کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A woman from the tribe of Juhaina came to the Prophet (ﷺ) and said, "My mother had vowed to perform Hajj but she died before performing it. May I perform Hajj on my mother's behalf?" The Prophet (ﷺ) replied, "Perform Hajj on her behalf. Had there been a debt on your mother, would you have paid it or not? So, pay Allah's debt as He has more right to be paid."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر جعفر بن ایاس نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر ۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں ؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے ۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Hadrat Fadl bin Abbas رضی اللہ عنہ that a woman.
ہم سے ابوعاصم نے ابن جریج سے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سلیمان بن یسار نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے
فضل بن عیاض رضی اللہ عنہم نے کہ ایک خاتون ۔ ۔ ۔ ( حدیث نمبر 1854 دیکھیں )
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
In the year of farewell pilgrimage, a woman belonging to Khath' am tribe came and said: O Allah's Apostle (ﷺ)! Allah ha prescribed the Hajj obligatory for his bondsmen. My father has grown extremely old and cannot sit on the mount properly. Will the Hajj be stood performed, If I perform it on his behalf? He (ﷺ) said: Yes.
( دوسری سند سے امام بخاری نے ) کہا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی اور عرض کی یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ حج جو اس کے بندوں پر ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بھی بیٹھ سکیں تو کیامیں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas (رضی اللہ عنہما):
Al Fadl was riding behind the Prophet (ﷺ) and a woman from the tribe of Khath'am came up. Al Fadl started looking at her and she looked at him. The Prophet (ﷺ) turned Al-Fadl's face to the other side. She said, "My father has come under Allah's obligation of performing Hajj but he is very old man and cannot sit properly on his Rahila (mount). Shall I perform Hajj on his behalf ? The Prophet (ﷺ) replied affirmative. That happened during Hajjat-ul-Wada' of the Prophet (ﷺ).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، ان سے سلیمان بن یسار نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی ۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کو دیکھنے لگے اور وہ فضل رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگی ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے ، اس عورت نے کہا کہ اللہ کا فریضہ ( حج ) نے میرے بوڑھے والد کو اس حالت میں پا لیا ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں ، آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) sent me (to Mina) with the luggage from Jam' (i.e. Al-Muzdalifa) at night.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ کی رات منیٰ میں سامان کے ساتھ آگے بھیج دیا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
I came riding on my she-ass and had (just) then attained the age of puberty. Allah's Messenger (ﷺ) was praying at Mina. I passed in front of a part of the first row and then dismounted from it, and the animal started grazing. I aligned with the people behind Allah's Messenger (ﷺ) (The sub-narrator added that happened in Mina during the Prophet's Hajjat-al-Wada`.)
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، ان سے ان کے چچا نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ، خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا
میں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر ( منیٰ میں آیا ) اس وقت میں جوانی کے قریب تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے ۔ میں پہلی صف کے ایک حصہ کے آگے سے ہو کر گزرا پھر سواری سے نیچے اتر آیا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گیا ، یونس نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کا واقعہ ہے ۔
Narrated As-Sa'ib bin Yazid رضی اللہ عنہ :
(While in the company of my parents) I was made to perform Hajj with Allah's Messenger (ﷺ) and I was a seven-year-old boy then. (Fath-ul-Bari, p.443, Vol.4)
ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا ، ان سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے محمد بن یوسف نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا تھا ۔ میں اس وقت سات سال کا تھا ۔
Narrated Al-Ju'aid bin `Abdur-Rahman:
I heard `Umar bin `Abdul `Aziz telling about As-Sa'ib bin Yazid رضی اللہ عنہ that he had performed Hajj (while carried) with the belongings of the Prophet.
ہم سے عمرو بن ذرارہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں قاسم بن مالک نے خبر دی ، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا ، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے سائب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ ( یعنی بال بچوں میں ) حج کرایا گیا تھا ۔
Narrated Ibrahim's grand-father that:
'Umar(رضی اللہ عنہ) in his last Hajj allowed the wives of the Prophet(ﷺ)to perform Hajj and he sent with them 'Uthman bin 'Affan(ra) and 'Abdur-Rahman bin 'Auf( رضی اللہ عنہما) as escorts.
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد بن محمد نے کہا کہ ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے داد ا( ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حج کی اجازت دی تھی اور ان کے ساتھ عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا ۔