Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is none amongst the Muslims who plants a tree or sows seeds, and then a bird, or a person or an animal eats from it, but is regarded as a charitable gift for him." Muslim, Aban, Qatada, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ reported it from the prophet (ﷺ).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے ، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے مسلم نے بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ۔
Narrated Abu Umama al-Bahili رضی اللہ عنہ :
I saw some agricultural equipment and said: "I heard the Prophet (ﷺ) saying: "There is no house in which these equipment enters except that Allah will cause humiliation to enter it."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سالم حمصی نے بیان کیا ، ان سے محمد بن زیاد الہانی نے بیان کیا ، ان سے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
آپ کی نظر پھالی اور کھیتی کے بعض دوسرے آلات پر پڑی ۔ آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس قوم کے گھر میں یہ چیز داخل ہوتی ہے تو اپنے ساتھ ذلت بھی لاتی ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever keeps a dog, one Qirat of the reward of his good deeds is deducted daily, unless the dog is used for guarding a farm or cattle." Abu Huraira (in another narration) said from the Prophet, "unless it is used for guarding sheep or farms, or for hunting." Narrated Abu Hazim from Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "A dog for guarding cattle or for hunting."
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص نے کوئی کتا رکھا ، اس نے روزانہ اپنے عمل سے ایک قیراط کی کمی کر لی ۔ البتہ کھیتی یا مویشی ( کی حفاظت کے لیے ) کتے اس سے الگ ہیں ۔ ابن سیرین اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ بکری کے ریوڑ ، کھیتی اور شکار کے کتے الگ ہیں ۔ ابوحازم نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ شکاری اور مویشی کے کتے ( الگ ہیں ) ۔
Narrated As-Sa'ib bin Yazid heard Abu Sufyan bin Abu Zuhair who was a member of a man from Azd Shanu'a:
One of the companions of the Prophet (ﷺ) said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'If one keeps a dog which is meant for guarding neither a farm nor cattle, one Qirat of the reward of his good deeds is deducted daily." I said, "Did you hear this from Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Yes, by the Lord of this Mosque."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں یزید بن خصیفہ نے ، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ سفیان بن زہیر نے ازدشنوہ قبیلے کے ایک بزرگ سے سنا
جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جس نے کتا پالا ، جو نہ کھیتی کے لیے ہے اور نہ مویشی کے لیے ، تو اس کی نیکیوں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو جاتا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں ! اس مسجد کے رب کی قسم ! ( میں نے ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "While a man was riding a cow, it turned towards him and said, 'I have not been created for this purpose (i.e. carrying), I have been created for ploughing." The Prophet (ﷺ) added, "I, Abu Bakr and `Umar believe in the story." The Prophet (ﷺ) went on, "A wolf caught a sheep, and when the shepherd chased it, the wolf said, 'Who will be its guard on the day of wild beasts, when there will be no shepherd for it except me?' "After narrating it, the Prophet (ﷺ) said, "I, Abu Bakr and `Umar too believe it." Abu Salama (a sub-narrator) said, "Abu Bakr and `Umar رضی اللہ عنہما were not present then."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بنی اسرائیل میں سے ) ایک شخص بیل پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ اس بیل نے اس کی طرف دیکھا اور اس سوار سے کہا کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا ہوا ہوں ۔ میری پیدائش تو کھیت جوتنے کے لیے ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پر ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر بھی ایمان لائے ۔ اور ایک دفعہ ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پکڑ لی تھی تو گڈریے نے اس کا پیچھا کیا ۔ بھیڑیا بولا ! آج تو تو اسے بچاتا ہے ۔ جس دن ( مدینہ اجاڑ ہو گا ) درندے ہی درندے رہ جائیں گے ۔ اس دن میرے سوا کون بکریوں کا چرانے والا ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پر ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر بھی ۔ ابوسلمہ نے کہا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس مجلس میں موجود نہیں تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Ansar said to the Prophet (ﷺ) "Distribute the date palm trees between us and our emigrant brothers." He replied, "No." The Ansar said (to the emigrants), "Look after the trees (water and watch them) and share the fruits with us." The emigrants said, "We listen and obey."
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے باغات آپ ہم میں اور ہمارے ( مہاجر ) بھائیوں میں تقسیم فرما دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا تو انصار نے ( مہاجرین سے ) کہا کہ آپ لوگ درختوں میں محنت کرو ۔ ہم تم میوے میں شریک رہیں گے ۔ انہوں نے کہا اچھا ہم نے سنا اور قبول کیا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) got the date palm trees of the tribe of Bani-An-Nadir burnt and the trees cut down at a place called Al-Buwaira . Hassan bin Thabit رضی اللہ عنہ said in a poetic verse: "The chiefs of Bani Lu'ai found it easy to watch fire spreading at Al-Buwaira."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہ ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے باغ جلا دیئے اور کاٹ دیئے ۔ ان ہی کے باغات کا نام بویرہ تھا ۔ اور حسان رضی اللہ عنہ کا یہ شعر اسی کے متعلق ہے ۔ بنی لوی ( قریش ) کے سرداروں پر ( غلبہ کو ) بویرہ کی آگ نے آسان بنا دیا جو ہر طرف پھیلتی ہی جا رہی تھی ۔
Narrated Rafi` bin Khadij رضی اللہ عنہ :
We worked on farms more than anybody else in Medina. We used to rent the land at the yield of specific delimited portion of it to be given to the landlord. Sometimes the vegetation of that portion was affected by blights etc., while the rest remained safe and vice versa, so the Prophet (ﷺ) forbade this practice. At that time gold or silver were not used (for renting the land). If they provided the seeds, they would get so-and-so much.
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، انہیں حنظلہ بن قیس انصاری نے ، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
مدینہ میں ہمارے پاس کھیت دوسروں سے زیادہ تھے ۔ ہم کھیتوں کو اس شرط کے ساتھ دوسروں کو جوتنے اور بونے کے لیے دیا کرتے تھے کہ کھیت کے ایک مقررہ حصے ( کی پیداوار ) مالک زمین لے گا ۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ خاص اسی حصے کی پیداوار ماری جاتی اور سارا کھیت سلامت رہتا ۔ اور بعض دفعہ سارے کھیت کی پیداوار ماری جاتی اور یہ خاص حصہ بچ جاتا ۔ اس لیے ہمیں اس طرح کے معاملہ کرنے سے روک دیا گیا اور سونا اور چاندی کے بدلہ ٹھیکہ دینے کا تو اس وقت رواج ہی نہ تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) concluded a contract with the people of Khaibar to utilize the land on the condition that half the products of fruits or vegetation would be their share. The Prophet (ﷺ) used to give his wives one hundred Wasqs each, eighty Wasqs of dates and twenty Wasqs of barley. (When `Umar became the Caliph) he gave the wives of the Prophet (ﷺ) the option of either having the land and water as their shares, or carrying on the previous practice. Some of them chose the land and some chose the Wasqs, and `Aisha رضی اللہ عنہا chose the land.
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا ، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے ، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خیبر کے یہودیوں سے ) وہاں ( کی زمین میں ) پھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے ۔ جس میں اسی وسق کھجور ہوتی اور بیس وسق جو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے عہد خلافت میں ) جب خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو آپ نے اس کا اختیار دیا کہ ( اگر وہ چاہیں تو ) انہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے ۔ یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے ۔ چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا ۔ اور بعض نے ( پیداوار سے ) وسق لینا پسند کیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) made a deal with the people of Khaibar that they would have half the fruits and vegetation of the land they cultivated.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے نافع نے ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے پھل اور اناج کی آدھی پیداوار پر وہاں کے رہنے والوں سے معاملہ کیا تھا ۔
Narrated `Amr:
I said to Tawus, "I wish you would give up Mukhabara (Sharecropping), for the people say that the Prophet forbade it." On that Tawus replied, "O `Amr! I give the land to sharecroppers and help them. No doubt; the most learned man, namely Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما told me that the Prophet (ﷺ) had not forbidden it but said, 'It is more beneficial for one to give his land free to one's brother than to charge him a fixed rental."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ
میں نے طاؤس سے عرض کیا ، کاش ! آپ بٹائی کا معاملہ چھوڑ دیتے ، کیونکہ ان لوگوں ( رافع بن خدیج اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ) کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ اس پر طاؤس نے کہا کہ میں تو لوگوں کو زمین دیتا ہوں اور ان کا فائدہ کرتا ہوں ۔ اور صحابہ میں جو بڑے عالم تھے انہوں نے مجھے خبر دی ہے ۔ آپ کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ۔ بلکہ آپ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو ( اپنی زمین ) مفت دیدے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا محصول لے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) gave the land of Khaibar to the Jew's on the condition that they work on it and cultivate it, and be given half of its yield.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر سونپی تھی کہ اس میں محنت کریں اور جوتیں بوئیں اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ لیں ۔
Narrated Rafi` رضی اللہ عنہ :
We worked on farms more than anybody else in Medina. We used to rent the land and say to the owner, "The yield of this portion is for us and the yield of that portion is for you (as the rent)." One of those portions might yield something and the other might not. So, the Prophet (ﷺ) forbade us to do so.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے ، انہوں نے حنظلہ زرقی سے سنا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
ہمارے پاس مدینہ کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زمین زیادہ تھی ۔ ہمارے یہاں طریقہ یہ تھا کہ جب زمین بصورت جنس کرایہ پر دیتے تو یہ شرط لگا دیتے کہ اس حصہ کی پیداوار تو میری رہے گی اور اس حصہ کی تمہاری رہے گی ۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ ایک حصہ کی پیداوار خوب ہوتی اور دوسرے کی نہ ہوتی ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح معاملہ کرنے سے منع فرما دیا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "While three men were walking, It started raining and they took shelter (refuge) in a cave in a mountain. A big rock rolled down from the mountain and closed the mouth of the cave. They said to each other, "Think of good deeds which you did for Allah's sake only, and invoke Allah by giving reference to those deeds so that He may remove this rock from you." One of them said, 'O Allah! I had old parents and small children and I used to graze the sheep for them. On my return to them in the evening, I used to milk (the sheep) and start providing my parents first of all before my children. One day I was delayed and came late at night and found my parents sleeping. I milked (the sheep) as usual and stood by their heads. I hated to wake them up and disliked to give milk to my children before them, although my children were weeping (because of hunger) at my feet till the day dawned. O Allah! If I did this for Your sake only, kindly remove the rock so that we could see the sky through it.' So, Allah removed the rock a little and they saw the sky. The second man said, 'O Allah! I was in love with a cousin of mine like the deepest love a man may have for a woman. I wanted to outrage her chastity but she refused unless I gave her one hundred Dinars. So, I struggled to collect that amount. And when I sat between her legs, she said, 'O Allah's slave! Be afraid of Allah and do not deflower me except rightfully (by marriage).' So, I got up. O Allah! If I did it for Your sake only, please remove the rock.' The rock shifted a little more. Then the third man said, 'O Allah! I employed a laborer for a Faraq of rice and when he finished his job and demanded his right, I presented it to him, but he refused to take it. So, I sowed the rice many time till I gathered cows and their shepherd (from the yield). (Then after some time) He came and said to me, 'Fear Allah (and give me my right)." I said, 'Go and take those cows and the shepherd.' He said, 'Be afraid of Allah! Don't mock at me.' I said, 'I am not mocking at you. Take (all that).' So, he took all that. O Allah! If I did that for Your sake only, please remove the rest of the rock.' So, Allah removed the rock." Imam Abu Abdullah Bukhari said: There is the word فَسَعَيْتُ in Nafi'o's narrated.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تین آدمی کہیں چلے جا رہے تھے کہ بارش نے ان کو آ لیا ۔ تینوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لے لی ، اچانک اوپر سے ایک چٹان غار کے سامنے آ گری ، اور انہیں ( غار کے اندر ) بالکل بند کر دیا ۔ اب ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ تم لوگ اب اپنے ایسے کاموں کو یاد کرو ۔ جنہیں تم نے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہو اور اسی کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔ ممکن ہے اس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو ٹال دے ، چنانچہ ایک شخص نے دعا شروع کی ۔ اے اللہ ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے ۔ میں ان کے لیے ( جانور ) چرایا کرتا تھا ۔ پھر جب واپس ہوتا تو دودھ دوہتا ۔ سب سے پہلے ، اپنی اولاد سے بھی پہلے ، میں والدین ہی کو دودھ پلاتا تھا ۔ ایک دن دیر ہو گئی اور رات گئے گھر واپس آیا ، اس وقت میرے ماں باپ سو چکے تھے ۔ میں نے معمول کے مطابق دودھ دوہا اور ( اس کا پیالہ لے کر ) میں ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا ۔ میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں ۔ لیکن اپنے بچوں کو بھی ( والدین سے پہلے ) پلانا مجھے پسند نہیں تھا ۔ بچے صبح تک میرے قدموں پر پڑے تڑپتے رہے ۔ پس اگر تیرے نزدیک بھی میرا یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو ( غار سے اس چٹان کو ہٹا کر ) ہمارے لیے اتنا راستہ بنا دے کہ آسمان نظر آ سکے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے راستہ بنا دیا اور انہیں آسمان نظر آنے لگا ۔ دوسرے نے کہا اے اللہ ! میری ایک چچازاد بہن تھی ۔ مرد عورتوں سے جس طرح کی انتہائی محبت کر سکتے ہیں ، مجھے اس سے اتنی ہی محبت تھی ۔ میں نے اسے اپنے پاس بلانا چاہا لیکن وہ سو دینار دینے کی صورت راضی ہوئی ۔ میں نے کوشش کی اور وہ رقم جمع کی ۔ پھر جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ گیا ، تو اس نے مجھ سے کہا ، اے اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر اور اس کی مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ ۔ میں یہ سنتے ہی دور ہو گیا ، اگر میرا یہ عمل تیرے علم میں بھی تیری رضا ہی کے لیے تھا تو ( اس غار سے ) پتھر کو ہٹا دے ۔ پس غار کا منہ کچھ اور کھلا ۔ اب تیسرا بولا کہ اے اللہ ! میں نے ایک مزدور تین فرق چاول کی مزدوری پر مقرر کیا تھا جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو مجھ سے کہا کہ اب میری مزدوری مجھے دیدے ۔ میں نے پیش کر دی لیکن اس وقت وہ انکار کر بیٹھا ۔ پھر میں برابر اس کی اجرت سے کاشت کرتا رہا اور اس کے نتیجہ میں بڑھنے سے بیل اور چرواہے میرے پاس جمع ہو گئے ۔ اب وہ شخص آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر ! میں نے کہا کہ بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جا اور اسے لے لے ۔ اس نے کہا اللہ سے ڈر ! اور مجھ سے مذاق نہ کر ، میں نے کہا کہ مذاق نہیں کر رہا ہوں ۔ ( یہ سب تیرا ہی ہے ) اب تم اسے لے جاؤ ۔ پس اس نے ان سب پر قبضہ کر لیا ۔ الہٰی ! اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری خوشنودی ہی کے لیے کیا تھا تو تو اس غار کو کھول دے ۔ اب وہ غار پورا کھل چکا تھا ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابن عقبہ نے نافع سے ( اپنی روایت میں «فبغيت» کے بجائے ) «فسعيت» نقل کیا ہے ۔
Narrated Zaid bin Aslam from his father:
`Umar رضی اللہ عنہ said, "But for the future Muslim generations, I would have distributed the land of the villages I conquer among the soldiers as the Prophet (ﷺ) distributed the land of Khaibar."
ہم سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی ، انہیں امام مالک نے ، انہیں زید بن اسلم نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جتنے شہر بھی فتح کرتا ، انہیں فتح کرنے والوں میں تقسیم کرتا جاتا ، بالکل اسی طرح جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین تقسیم فرما دی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "He who cultivates land that does not belong to anybody is more rightful (to own it)." `Urwa said, "`Umarرضی اللہ عنہ gave the same verdict in his Caliphate."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جس نے کوئی ایسی زمین آباد کی ، جس پر کسی کا حق نہیں تھا تو اس زمین کا وہی حقدار ہے ۔ عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
While the Prophet (ﷺ) was passing the night at his place of rest in Dhul-Hulaifa in the bottom of the valley (of Aqiq), he saw a dream and it was said to him, "You are in a blessed valley." Musa said, "Salim let our camels kneel at the place where `Abdullah رضی اللہ عنہما used to make his camel kneel, seeking the place where Allah's Messenger (ﷺ) used to take a rest, which is situated below the mosque which is in the bottom of the valley; it is midway between the mosque and the road."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ان کے باپ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مکہ کے لیے تشریف لے جاتے ہوئے ) جب ذوالحلیفہ میں نالہ کے نشیب میں رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب میں کہا گیا کہ آپ اس وقت ایک مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ بن عقبہ ( راوی حدیث ) نے بیان کیا کہ سالم ( سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے بھی ہمارے ساتھ وہیں اونٹ بٹھایا ۔ جہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بٹھایا کرتے تھے ، تاکہ اس جگہ قیام کر سکیں ، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا ۔ یہ جگہ وادی عقیق کی مسجد سے نالہ کے نشیب میں ہے ۔ وادی عقیق اور راستے کے درمیان میں ۔
Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :
While the Prophet (ﷺ) was in Al-`Aqiq he said, "Someone (meaning Gabriel) came to me from my Lord tonight (in my dream) and said, 'Offer the prayer in this blessed valley and say (I intend to perform) `Umra along with Hajj (together).' "
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب بن اسحاق نے خبر دی ، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ، اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا فرشتہ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی عقیق میں قیام کئے ہوئے تھے ۔ ( اور اس نے یہ پیغام پہنچایا کہ ) اس مبارک وادی میں نماز پڑھ اور کہا کہ کہہ دیجئیے ! عمرہ حج میں شریک ہو گیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
`Umar رضی اللہ عنہ expelled the Jews and the Christians from Hijaz. When Allah's Messenger (ﷺ) had conquered Khaibar, he wanted to expel the Jews from it as its land became the property of Allah, His Apostle, and the Muslims. Allah's Messenger (ﷺ) intended to expel the Jews but they requested him to let them stay there on the condition that they would do the labor and get half of the fruits. Allah's Messenger (ﷺ) told them, "We will let you stay on thus condition, as long as we wish." So, they (i.e. Jews) kept on living there until `Umar forced them to go towards Taima' and Ariha'.
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ انہیں نافع نے خبر دی ، اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب خیبر پر ) فتح حاصل کی تھی ( دوسری سند ) اور عبدالرزاق نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو سر زمین حجاز سے نکال دیا تھا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی تو آپ نے بھی یہودیوں کو وہاں سے نکالنا چاہا تھا ۔ جب آپ کو وہاں فتح حاصل ہوئی تو اس کی زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی ۔ آپ کا ارادہ یہودیوں کو وہاں سے باہر کرنے کا تھا ، لیکن یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں یہیں رہنے دیں ۔ ہم ( خیبر کی اراضی کا ) سارا کام خود کریں گے اور اس کی پیداوار کا نصف حصہ لے لیں گے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تک ہم چاہیں تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے ۔ چنانچہ وہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا ۔
Narrated My uncle Zuhair رضی اللہ عنہ :
"Allah's Messenger (ﷺ) forbade us to do a thing which was a source of help to us." I said, "Whatever Allah's Messenger (ﷺ) said was right." He said, "Allah's Messenger (ﷺ) sent for me and asked, 'What are you doing with your farms?' I replied, 'We give our farms on rent on the basis that we get the yield produced at the banks of the water streams (rivers) for the rent, or rent it for some Wasqs of barley and dates.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not do so, but cultivate (the land) yourselves or let it be cultivated by others gratis, or keep it uncultivated.' I said, 'We hear and obey.'
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی ، انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ابونجاشی نے ، انہوں نے رافع بن خدیج بن رافع رضی اللہ عنہ سے سنا ، اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے ، ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا ( بظاہر ذاتی ) فائدہ تھا ۔ اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے ۔ ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو ؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو ( بونے کے لیے ) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں ۔ اسی طرح کھجور اور جَو کے چند وسق پر ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو ۔ یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ ۔ ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو ۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ) میں نے سنا اور مان لیا ۔