Narrated Az-Zubair bin Al 'Awwam رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "No doubt, one had better take a rope (and cut) and tie a bundle of wood and sell it whereby Allah will keep his face away (from Hell-fire) rather than ask others who may give him or not."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ہاشم نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام نے رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے ، پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور ( بھیک ) اسے دی جائے یا نہ دی جائے ۔ اس کی بھی کوئی امید نہ ہو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, you had better gather a bundle of wood and carry it on your back (and earn your living thereby) rather than ask somebody who may give you or not."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب ، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبید نے ، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا ، اگر کوئی شخص لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر ( بیچنے کے لیے ) لیے پھرے تو وہ اس سے اچھا ہے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔ پھر خواہ اسے کچھ دے یا نہ دے ۔
Narrated `Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ :
"I got a she-camel as my share of the war booty on the day (of the battle) of Badr, and Allah's Messenger (ﷺ) gave me another she-camel. I let both of them kneel at the door of one of the Ansar, intending to carry Idhkhir on them to sell it and use its price for my wedding banquet on marrying Fatima رضی اللہ عنہا . A goldsmith from Bani Qainqa' was with me. Hamza bin `Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ was in that house drinking wine and a lady singer was reciting: "O Hamza رضی اللہ عنہ ! (Kill) the (two) fat old she camels (and serve them to your guests). So Hamza took his sword and went towards the two she-camels and cut off their humps and opened their flanks and took a part of their livers." (I said to Ibn Shihab, "Did he take part of the humps?" He replied, "He cut off their humps and carried them away.") `Ali further said, "When I saw that dreadful sight, I went to the Prophet (ﷺ) and told him the news. The Prophet (ﷺ) came out in the company of Zaid bin Haritha who was with him then, and I too went with them. He went to Hamza and spoke harshly to him. Hamza looked up and said, 'Aren't you only the slaves of my forefathers?' The Prophet (ﷺ) retreated and went out. This incident happened before the prohibition of drinking."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں زید العابدین علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے ، ان سے ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی کے موقع پر مجھے ایک جوان اونٹنی غنیمت میں ملی تھی اور ایک دوسری اونٹنی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائی تھی ۔ ایک دن ایک انصاری صحابی کے دروازے پر میں ان دونوں کو اس خیال سے باندھے ہوئے تھا کہ ان کی پیٹھ پر اذخر ( عرب کی ایک خوشبودار گھاس جسے سنار وغیرہ استعمال کرتے تھے ) رکھ کر بیچنے لے جاؤں گا ۔ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ اس طرح ( خیال یہ تھا کہ ) اس کی آمدنی سے فاطمہ رضی اللہ عنہا ( جن سے میں نکاح کرنے والا تھا ان ) کا ولیمہ کروں گا ۔ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسی ( انصاری کے ) گھر میں شراب پی رہے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی ۔ اس نے جب یہ مصرعہ پڑھا : ” ہاں : اے حمزہ ! اٹھو ، فربہ جوان اونٹنیوں کی طرف “ ( بڑھ ) حمزہ رضی اللہ عنہ جوش میں تلوار لے کر اٹھے اور دونوں اونٹنیوں کے کوہان چیر دیئے ۔ ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے ۔ اور ان کی کلیجی نکال لی ( ابن جریج نے بیان کیا کہ ) میں نے ابن شہاب سے پوچھا ، کیا کوہان کا گوشت بھی کاٹ لیا تھا ۔ تو انہوں نے بیان کیا کہ ان دونوں کے کوہان کاٹ لیے اور انہیں لے گئے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، مجھے یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی ۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ میں نے آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ تشریف لائے ۔ زید رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفگی ظاہر فرمائی تو حضرت حمزہ نے نظر اٹھا کر کہا ” تم سب میرے باپ دادا کے غلام ہو ۔ “ حضور صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹ کر ان کے پاس سے چلے آئے ۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا قصہ ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) decided to grant a portion of (the uncultivated land of) Bahrain to the Ansar. The Ansar said, "(We will not accept it) till you give a similar portion to our emigrant brothers (from Quraish)." He said, "(O Ansar!) You will soon see people giving preference to others, so remain patient till you meet me (on the Day of Resurrection).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین میں کچھ قطعات اراضی بطور جاگیر ( انصار کو ) دینے کا ارادہ کیا تو انصار نے عرض کیا کہ ہم جب لیں گے کہ آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اسی طرح کے قطعات عنایت فرمائیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد ( دوسرے لوگوں کو ) تم پر ترجیح دی جایا کرے گی تو اس وقت تم صبر کرنا ، یہاں تک کہ ہم سے ( آخرت میں آ کر ) ملاقات کرو ۔
Narrated Anas (رضی اللہ عنہ):
The Prophet (ﷺ) called the Ansar so as to grant them a portion of (the land of) Bahrain. They said, "O Allah's Messenger ! If you grant this to is, write a similar document on our Quraish (emigrant) brothers." But the Prophet (ﷺ) did not have enough grants and he said: "After me you will see the people giving preference (to others), so be patient till you meet me."
اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے ۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ” میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا ۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا ۔ “
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "One of the rights of a she camel is that it should be milked at a place of water."
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، ان سے ہلال بن علی نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اونٹ کا حق یہ ہے کہ ان کا دودھ پانی کے پاس دوہا جائے ۔
Narrated 'Abdullah (ra) said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say "If somebody buys date-palms after they have been pollinated, the fruits will belong to the seller unless the buyer stipulates the contrary. If somebody buys a slave having some property, the property will belong to the seller unless the buyer stipulate that it should belong to him."This hadith has been narrated by Imam Malik, by him on the authority of Nafi, and also on the authority of Ibn Umar, in which only the slave is mentioned.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ پیوندکاری کے بعد اگر کسی شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچا تو ( اس سال کی فصل کا ) پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے ۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے ( کہ پھل بھی خریدار ہی کا ہو گا ) تو یہ صورت الگ ہے ۔ اور اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو وہ مال بیچنے والے کا ہوتا ہے ۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے تو یہ صورت الگ ہے ۔ یہ حدیث امام مالک سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے اس میں صرف غلام کا ذکر ہے ۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) permitted selling the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the amount of the former (as they are still on the trees).
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) forbade the sales called Al-Mukhabara, Al-Muhaqala and Al-Muzabana and the selling of fruits till they are free from blights. He forbade the selling of the fruits except for money, except the 'Araya.
ہم سے عبداللہ بن محمدنے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ ، اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا ۔ اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا تھا ، اور یہ کہ میوہ یاغلہ جو درخت پر لگا ہو ، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے ۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) allowed the sale of the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the former which should be estimated as less than five Awsuq or five Awsuq. (Dawud, the sub-narrator is not sure as to the right amount.)
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں داؤد بن حصین نے ، انہیں ابواحمد کے غلام ابوسفیان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے پانچ وسق سے کم ، یا ( یہ کہا کہ ) پانچ وسق کے اندر اجازت دی ہے اس میں شک داؤد بن حصین کو ہوا ( بیع عریہ کا بیان پیچھے مفصل ہو چکا ہے )
Narrated Rafi` bin Khadij and Sahl bin Abi Hathma رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of Muzabana, i.e. selling of fruits for fruits, except in the case of 'Araya; he allowed the owners of 'Araya such kind of sale. Ibn-e-Ishaq said: Boshair has narrated Hadith to me in the same way.
ہم سے زکریابن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی ، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ نے اجازت دے دی تھی ۔ ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی ۔ ( یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا ۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی ۔ )