Loans, Payment of Loans, Freezing of Property, Bankruptcy
كتاب الاستقراض
Chapter 44
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
When `Abdullah رضی اللہ عنہ (my father) died, he left behind children and debts. I asked the lenders to put down some of his debt, but they refused, so I went to the Prophet (ﷺ) to intercede with them, yet they refused. The Prophet (ﷺ) said (to me), "Classify your dates into their different kinds: 'Adha bin Zaid, Lean and 'Ajwa, each kind alone and call all the creditors and wait till I come to you." I did so and the Prophet (ﷺ) came and sat beside the dates and started measuring to each his due till he paid them fully, and the amount of dates remained as it was before, as if he had not touched them. (On another occasion) I took part in one of Ghazawat among with the Prophet (ﷺ) and I was riding one of our camels. The camel got tired and was lagging behind the others. The Prophet (ﷺ) hit it on its back. He said, "Sell it to me, and you have the right to ride it till Medina.'' When we approached Medina, I took the permission from the Prophet (ﷺ) to go to my house, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have newly married." The Prophet (ﷺ) asked, "Have you married a virgin or a matron (a widow or divorcee)?" I said, "I have married a matron, as `Abdullah (my father) رضی اللہ عنہ died and left behind daughters small in their ages, so I married a matron who may teach them and bring them up with good manners." The Prophet (ﷺ) then said (to me), "Go to your family." When I went there and told my maternal uncle about the selling of the camel, he admonished me for it. On that I told him about its slowness and exhaustion and about what the Prophet (ﷺ) had done to the camel and his hitting it. When the Prophet (ﷺ) arrived, I went to him with the camel in the morning and he gave me its price, the camel itself, and my share from the war booty as he gave the other people.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ا بوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے ، ان سے عامر نے ، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
( میرے والد ) عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اپنے پیچھے بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ۔ میں قرض خواہوں کے پاس گیا کہ اپنا کچھ قرض معاف کر دیں ، لیکن انہوں نے انکار کیا ، پھر میں نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سفارش کروائی ۔ انہوں نے اس کے باوجود بھی انکار کیا ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ ولم نے فرمایا کہ ( اپنے باغ کی ) تمام کھجور کی قسمیں الگ الگ کر لو ۔ عذق بن زید الگ ، لین الگ ، اور عجوہ الگ ( یہ سب عمدہ قسم کی کھجوروں کے نام ہیں ) اس کے بعد قرض خواہوں کو بلاؤ اور میں بھی آؤں گا ۔ چنانچہ میں نے ایسا کر دیا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ڈھیر پر بیٹھ گئے ۔ اور ہر قرض خواہ کے لیے ماپ شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ سب کا قرض پورا ہو گیا اور کھجور اسی طرح باقی بچ رہی جیسے پہلے تھی ۔ گویا کسی نے اسے چھوا تک نہیں ۔ اور ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد میں ایک اونٹ پر سوار ہو کر گیا ۔ اونٹ تھک گیا ۔ اس لیے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا ۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیچھے سے مارا اور فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دو ۔ مدینہ تک اس پر سواری کی تمہیں اجازت ہے ۔ پھر جب ہم مدینہ سے قریب ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی ، عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے ابھی نئی شادی کی ہے ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا کہ بیوہ سے ۔ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اپنے پیچھے کئی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں ۔ اس لیے میں نے بیوہ سے کی تاکہ انہیں تعلیم دے اور ادب سکھاتی رہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا اب اپنے گھر جاؤ ۔ چنانچہ میں گھر گیا ۔ میں نے جب اپنے ماموں سے اونٹ بیچنے کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ملامت کی ۔ اس لیے میں نے ان سے اونٹ کے تھک جانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کا بھی ذکر کیا ۔ اور آپ کے اونٹ کو مارنے کا بھی ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو میں بھی صبح کے وقت اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے مجھے اونٹ کی قیمت بھی دے دی ، اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس بخش دیا اور قوم کے ساتھ میرا ( مال غنیمت کا ) حصہ بھی مجھ کو بخش دیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I am often betrayed in bargaining." The Prophet (ﷺ) advised him, "When you buy something, say (to the seller), 'No deception." The man used to say so afterwards.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ خریدوفروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب خریدوفروخت کیا کرو ، تو کہہ دیا کر کہ کوئی دھوکا نہ ہو ۔ چنانچہ پھر وہ شخص اسی طرح کہا کرتا تھے ۔
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forbidden for you, (1) to be undutiful to your mothers, (2) to bury your daughters alive, (3) to not to pay the rights of the others (e.g. charity, etc.) and (4) to beg of men (begging). And Allah has hated for you (1) vain, useless talk, or that you talk too much about others, (2) to ask too many questions, (in disputed religious matters) and (3) to waste the wealth (by extravagance).
ہم سے عثمان بن ابی شبیہ نے بیان کیا ، ان سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے شعبی نے ، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے تم پر ماں ( اور باپ ) کی نافرمانی لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ، ( واجب حقوق کی ) ادائیگی نہ کرنا اور ( دوسروں کا مال ناجائز طریقہ پر ) دبالینا حرام قرار دیا ہے ۔ اور فضول بکواس کرنے اورکثرت سے سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Everyone of you is a guardian, and responsible for what is in his custody. The ruler is a guardian of his subjects and responsible for them; a husband is a guardian of his family and is responsible for it; a lady is a guardian of her husband's house and is responsible for it, and a servant is a guardian of his master's property and is responsible for it." I heard that from Allah's Messenger (ﷺ) and I think that the Prophet (ﷺ) also said, "A man is a guardian of is father's property and is responsible for it, so all of you are guardians and responsible for your wards and things under your care."
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ، تم میں سے ہر فرد ایک طرح کا حاکم ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا ۔ پس بادشاہ حاکم ہی ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا ۔ ہر انسان اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ خادم اپنے آقا کے مال کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مرد اپنے والد کے مال کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ پس ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔