Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the believers pass safely over (the bridge across) Hell, they will be stopped at a bridge in between Hell and Paradise where they will retaliate upon each other for the injustices done among them in the world, and when they get purified of all their sins, they will be admitted into Paradise. By Him in Whose Hands the life of Muhammad is everybody will recognize his dwelling in Paradise better than he recognizes his dwelling in this world." Yunus bin Muhammad narrated that Shaiban narrated from us, Qatadah narrated from him and Abul Mutawakkil narrated from him.
ہم سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو معاذ بن ہشام نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے باپ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا روک لیا جائے گا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا ۔ جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے ۔ پھر جب پاک صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی بہتر طور پر پہچانے گا ۔ یونس بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے ابوالمتوکل نے بیان کیا ۔
Narrated Safwan bin Muhriz Al-Mazini:
While I was walking with Ibn `Umar رضی اللہ عنہما holding his hand, a man came in front of us and asked, "What have you heard from Allah's Messenger (ﷺ) about An-Najwa?" Ibn `Umar said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'Allah will bring a believer near Him and shelter him with His Screen and ask him: Did you commit such-and-such sins? He will say: Yes, my Lord. Allah will keep on asking him till he will confess all his sins and will think that he is ruined. Allah will say: 'I did screen your sins in the world and I forgive them for you today', and then he will be given the book of his good deeds. Regarding infidels and hypocrites (their evil acts will be exposed publicly) and the witnesses will say: These are the people who lied against their Lord. Behold! The Curse of Allah is upon the wrongdoers." (11.18)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی ، ان سے صفوان بن محرزمازنی نے بیان کیا کہ
میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے جا رہا تھا ۔ کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ( قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی ) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے ؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے ؟ وہ مومن کہے گا ہاں ، اے میرے پروردگار ۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا ۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں ، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی ، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ ( ملائکہ ، انبیاء ، اور تمام جن و انس سب ) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا ۔ خبردار ہو جاؤ ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Muslim is a brother of another Muslim, so he should not oppress him, nor should he hand him over to an oppressor. Whoever fulfilled the needs of his brother, Allah will fulfill his needs; whoever brought his (Muslim) brother out of a discomfort, Allah will bring him out of the discomforts of the Day of Resurrection, and whoever screened a Muslim, Allah will screen him on the Day of Resurrection . "
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں سالم نے خبر دی ، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا ۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا ۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن ابی بکر بن انس اور حمید طویل نے خبر دی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one. People asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is all right to help him if he is oppressed, but how should we help him if he is an oppressor?" The Prophet (ﷺ) said, "By preventing him from oppressing others."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔ صحابہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں ۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو ۔ ( یہی اس کی مدد ہے )
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) orders us to do seven things and prohibited us from doing seven other things." Then Al-Bara' mentioned the following:- (1) To pay a visit to the sick (inquiring about his health), (2) to follow funeral processions, (3) to say to a sneezer, "May Allah be merciful to you" (if he says, "Praise be to Allah!"), (4) to return greetings, (5) to help the oppressed, (6) to accept invitations, (7) to help others to fulfill their oaths. (See Hadith No. 753, Vol. 7)
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اشعث بن سلیم نے بیان کیا ، کہ میں نے معاویہ بن سوید سے سنا ، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا تھا کہ
ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کو حکم فرمایا تھا اور سات ہی چیزوں سے منع بھی فرمایا تھا ( جن چیزوں کا حکم فرمایا تھا ان میں ) انہوں نے مریض کی عیادت ، جنازے کے پیچھے چلنے ، چھینکنے والے کا جواب دینے ، سلام کا جواب دینے ، مظلوم کی مدد کرنے ، دعوت کرنے والے ( کی دعوت ) قبول کرنے ، اور قسم پوری کرنے کا ذکر کیا ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet (ﷺ) then clasped his hands with the fingers interlaced (while saying that).
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دسرے سے قوت پہنچتی ہے ۔ اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندرکیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Oppression will be a darkness on the Day of Resurrection."
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ماجشون نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی ، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh رضی اللہ عنہ to Yemen and said, "Be afraid, from the curse of the oppressed as there is no screen between his invocation and Allah."
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریابن اسحاق مکی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن عبداللہ صیفی نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے ، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب ( عامل بنا کر ) یمن بھیجا ، تو آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس ( دعا ) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him." Imam Abu Abdullah Bukhari said: Saeed Maqboriyy was actually manumitted by Banu Laith. He is Saeed bin Abu Saeed and the name of Saeed's father is Kaisan.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی ، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے ، نہ درہم ، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی ۔ ابوعبدللہ ( حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا ۔ ابوعبداللہ ( اما م بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعید مقبری ہی بنی لیث کے غلام ہیں ۔ پورا نام سعید بن ابی سعید ہے اور ( ان کے والد ) ابوسعید کا نام کیسان ہے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Regarding the explanation of the following verse:-- "If a wife fears Cruelty or desertion On her husband's part." (4.128) A man may dislike his wife and intend to divorce her, so she says to him, "I give up my rights, so do not divorce me." The above verse was revealed concerning such a case.
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے باپ نے ، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے
( قرآن مجید کی آیت ) ” اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا اس کے منہ پھیرنے کا خوف رکھتی ہو “ کے بارے میں فرمایا کہ کسی شخص کی بیوی ہے لیکن شوہر اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں بلکہ اسے جدا کرنا چاہتا ہے اس پر اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اپنا حق تمہیں معاف کرتی ہوں ۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
A drink (milk mixed with water) was brought to Allah's Messenger (ﷺ) who drank some of it. A boy was sitting to his right, and some old men to his left. Allah's Messenger (ﷺ) said to the boy, "Do you allow me to give the rest of the drink to these people?" The boy said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I will not give preference to anyone over me to drink the rest of it from which you have drunk." Allah's Messenger (ﷺ) then handed the bowl (of drink) to the boy. (See Hadith No. 541).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوحازم بن دینار نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ یا پانی پینے کو پیش کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر والے تھے ۔ لڑکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے اس کی اجازت دو گے کہ ان لوگوں کو یہ ( پیالہ ) دے دوں ؟ لڑکے نے کہا ، نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ آپ کی طرف سے ملنے والے حصے کا ایثار میں کسی پر نہیں کر سکتا ۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اسی لڑکے کو دے دیا ۔
Narrated Sa`id bin Zaid رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever usurps the land of somebody unjustly, his neck will be encircled with it down the seven earths (on the Day of Resurrection). "
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا ، ان سے طلحہ بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہیں عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل نے خبر دی اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی ، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔
Narrated Abu Salama:
That there was a dispute between him and some people (about a piece of land). When he told `Aisha about it, she said, "O Abu Salama! Avoid taking the land unjustly, for the Prophet (ﷺ) said, 'Whoever usurps even one span of the land of somebody, his neck will be encircled with it down the seven earths."
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے حسین نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ
ان کے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان ( زمین کا ) جھگڑا تھا ۔ اس کا ذکر انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے بتلایا ، ابوسلمہ ! زمین سے پرہیز کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کسی شخص نے ایک بالشت بھر زمین بھی کسی دوسرے کی ظلم سے لے لی تو سات زمینوں کا طوق ( قیامت کے دن ) اس کے گردن میں ڈالا جائے گا ۔
Narrated Salim's father (i.e. `Abdullah):
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever takes a piece of the land of others unjustly, he will sink down the seven earths on the Day of Resurrection." Imam Abu Abdullah Bukhari said: This Hadith is not present in Hadith Ibn-e-Mubarak's book in Khurasan but he dictated it to the people of Basrah.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم سے مو سیٰ بن عقبہ نے بیان کیا سالم سے اور ان سے ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا ، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا ۔ ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری رحمۃاللہ علیہ ) نے کہا کہ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی اس کتاب میں نہیں ہے جو خراسان میں تھی ۔ بلکہ اس میں تھی جسے انہوں نے بصرہ میں اپنے شاگردوں کو املا کرایا تھا ۔
Narrated Jabala:
"We were in Medina with some of the Iraqi people, and we were struck with famine and Ibn Az- Zubair رضی اللہ عنہما used to give us dates. Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to pass by and say, "The Prophet (ﷺ) forbade us to eat two dates at a time, unless one takes the permission of one's companions."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ
ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے ۔ وہاں ہمیں قحط میں مبتلا ہوناپڑا ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے ۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہماری طرف سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت ) دو کھجور کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے ۔
Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :
There was an Ansari man called Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ who had a slave butcher. Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ said to him, "Prepare a meal sufficient for five persons so that I might invite the Prophet (ﷺ) besides other four persons." Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ had seen the signs of hunger on the face of the Prophet (ﷺ) and so he invited him. Another man who was not invited, followed the Prophet. The Prophet (ﷺ) said to Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ , "This man has followed us. Do you allow him to share the meal?" Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ said, "Yes."
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ
انصار میں ایک صحابی جنہیں ابوشعیب رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، کا ایک قصائی غلام تھا ۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیا رکر دے ، کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دیگر اصحاب کے ساتھ دعوت دوں گا ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کے آثار دیکھے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے بتلایا ۔ ایک اور شخص آپ کے ساتھ بن بلائے چلا گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب خانہ سے فرمایا یہ آدمی بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے ۔ کیا اس کے لیے تمہاری اجازت ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں اجازت ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "The most hated person in the sight of Allah is the most quarrelsome person."
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ ناپسند وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالو ہو ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا (the wife of the Prophet):
Allah's Messenger (ﷺ) heard some people quarreling at the door of his dwelling. He came out and said, "I am only a human being, and opponents come to me (to settle their problems); maybe someone amongst you can present his case more eloquently than the other, whereby I may consider him true and give a verdict in his favor. So, If I give the right of a Muslim to another by mistake, then it is really a portion of (Hell) Fire, he has the option to take or give up (before the Day of Resurrection).
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے اور ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، انہیں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے ۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں ۔ اس لیے جب میرے یہاں کوئی جھگڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ( فریقین میں سے ) ایک فریق کی بحث دوسرے فریق سے عمدہ ہو ، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سچا ہے ۔ اور اس طرح میں اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں ، لیکن اگر میں اس کو ( اس کے ظاہری بیان پر بھروسہ کر کے ) کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو دوزخ کا ایک ٹکڑا اس کو دلا رہا ہوں ، وہ لے لے یا چھوڑ دے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has (the following) four characters will be a hypocrite, and whoever has one of the following four characteristics will have one characteristic of hypocrisy until he gives it up. These are: (1 ) Whenever he talks, he tells a lie; (2) whenever he makes a promise, he breaks it; (3) whenever he makes a covenant he proves treacherous; (4) and whenever he quarrels, he behaves impudently in an evil insulting manner." (See Hadith No. 33 Vol. 1)
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا ہم کو محمد نے خبر دی شعبہ سے ، انہیں سلیمان نے ، انہیں عبداللہ بن مرہ نے ، انہیں مسروق نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی ، وہ منافق ہو گا ۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے ۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے ، جب معاہدہ کرے تو بےوفائی کرے ، اور جب جھگڑے تو بدزبانی پر اترآئے ۔