Narrated `Adi bin Hatim:
I asked the Prophet (about the hunting dogs) and he replied, "If you let loose (with Allah's name) your tamed dog after a game and it hunts it, you may eat it, but if the dog eats of (that game) then do not eat it because the dog has hunted it for itself." I further said, "Sometimes I send my dog for hunting and find another dog with it. He said, "Do not eat the game for you have mentioned Allah's name only on sending your dog and not the other dog."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابن ابی السفر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں ، وہ عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کتے کے شکار کے متعلق ) دریافت کیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لے تو ، تو اس ( شکار ) کو کھا اور اگر وہ کتا اس شکار میں سے خود ( کچھ ) کھا لے تو ، تو ( اس کو ) نہ کھائیو ۔ کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے ۔ میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں ( شکار کے لیے ) اپنے کتے چھوڑتا ہوں ، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ پھر مت کھا ۔ کیونکہ تم نے «بسم الله» اپنے کتے پر پڑھی تھی ۔ دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A person is considered in prayer as long as he is waiting for the prayer in the mosque as long as he does not do Hadath." A non-Arab man asked, "O Abu Huraira! What is Hadath?" I replied, "It is the passing of wind (from the anus) (that is one of the types of Hadath).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سعید المقبری نے بیان کیا ، وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے ۔ تاوقیتکہ وہ حدث نہ کرے ۔ ایک عجمی آدمی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ ! حدث کیا چیز ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہوا جو پیچھے سے خارج ہو ۔ ( جسے عرف عام میں گوز مارنا کہتے ہیں ) ۔
Narrated `Abbad bin Tamim:
The Prophet (ﷺ) said, "One should not leave his prayer unless he hears sound or smells something."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے ، وہ زہری سے ، وہ عباد بن تمیم سے ، وہ اپنے چچا سے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نمازی نماز سے ) اس وقت تک نہ پھرے جب تک ( ریح کی ) آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پا لے ۔
Narrated `Ali:
I used to get emotional urethral discharges frequently and felt shy to ask Allah's Messenger (ﷺ) about it. So I requested Al-Miqdad bin Al-Aswad to ask (the Prophet (ﷺ) ) about it. Al-Miqdad asked him and he replied, "One has to perform ablution (after it)."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا ، وہ منذر سے ، وہ ابویعلیٰ ثوری سے ، وہ محمد ابن الحنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
میں ایسا آدمی تھا جس کو سیلان مذی کی شکایت تھی ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے مجھے شرم آئی ۔ تو میں نے ابن الاسود کو حکم دیا ، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو کرنا فرض ہے ۔ اس روایت کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا ۔
Narrated Zaid bin Khalid:
I asked `Uthman bin `Affan about a person who engaged in intercourse but did no discharge. `Uthman replied, "He should perform ablution like the one for an ordinary prayer but he must wash his penis." `Uthman added, "I heard it from Allah's Messenger (ﷺ)." I asked `Ali Az-Zubair, Talha and Ubai bin Ka`b about it and they, too, gave the same reply. (This order was canceled later on and taking a bath became necessary for such cases).
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ عطاء بن یسار سے نقل کرتے ہیں ، انہیں زید بن خالد نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے ۔ فرمایا کہ وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور اپنے عضو کو دھولے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( یہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ ( زید بن خالد کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے اس کے بارے میں حضرت علی ، زبیر ، طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا ۔ سب نے اس شخص کے بارے میں یہی حکم دیا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:
Allah's Messenger (ﷺ) sent for a Ansari man who came with water dropping from his head. The Prophet (ﷺ) said, "Perhaps we have forced you to hurry up, haven't we?" The Ansari replied, "Yes." Allah's Messenger (ﷺ) further said, "If you are forced to hurry up (during intercourse) or you do not discharge then ablution is due on you (This order was canceled later on, i.e. one has to take a bath).
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہمیں نضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا ، وہ ذکوان سے ، وہ ابوصالح سے ، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا ۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا ۔ انھوں نے کہا ، جی ہاں ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی ( کا کام ) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے ( غسل ضروری نہیں ) ۔
Narrated Usama bin Zaid:
"When Allah's Messenger (ﷺ) departed from `Arafat, he turned towards a mountain pass where he answered the call of nature. (After he had finished) I poured water and he performed ablution and then I said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will you offer the prayer?" He replied, "The Musalla (place of the prayer) is ahead of you (in Al-Muzdalifa).
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے یحییٰ سے خبر دی ، وہ موسیٰ بن عقبہ سے ، وہ کریب ابن عباس کے آزاد کردہ غلام سے ، وہ اسامہ بن زید سے نقل کرتے ہیں کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے ، تو ( پہاڑ کی ) گھاٹی کی جانب مڑ گئے ، اور رفع حاجت کی ۔ اسامہ کہتے ہیں کہ پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( اعضاء ) پر پانی ڈالنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے رہے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ ( اب ) نماز پڑھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا مقام تمہارے سامنے ( یعنی مزدلفہ میں ) ہے ۔ وہاں نماز پڑھی جائے گی ۔
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:
I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on one of the journeys and he went out to answer the call of nature (and after he finished) I poured water and he performed ablution; he washed his face, forearms and passed his wet hand over his head and over the two Khuff (socks made from thick fabric or leather).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انھوں نے کہا مجھے سعد بن ابراہیم نے نافع بن جبیر بن مطعم سے بتلایا ۔ انھوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے سنا ، وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ
وہ ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ ( وہاں ) آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( جب آپ واپس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو شروع کیا ) تو مغیرہ بن شعبہ آپ کے ( اعضاء وضو ) پر پانی ڈالنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے آپ نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas:
That he stayed overnight in the house of Maimuna the wife of the Prophet, his aunt. He added : I lay on the bed (cushion transversally) while Allah's Messenger (ﷺ) and his wife lay in the lengthwise direction of the cushion. Allah's Messenger (ﷺ) slept till the middle of the night, either a bit before or a bit after it and then woke up, rubbing the traces of sleep off his face with his hands. He then, recited the last ten verses of Sura Al-`Imran, got up and went to a hanging water-skin. He then Performed the ablution from it and it was a perfect ablution, and then stood up to offer the prayer. I, too, got up and did as the Prophet had done. Then I went and stood by his side. He placed his right hand on my head and caught my right ear and twisted it. He prayed two rak`at then two rak`at and two rak`at and then two rak`at and then two rak`at and then two rak`at (separately six times), and finally one rak`a (the witr). Then he lay down again in the bed till the Mu'adh-dhin came to him where upon the Prophet (ﷺ) got up, offered a two light rak`at prayer and went out and led the Fajr prayer.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان کے واسطے سے نقل کیا ، وہ کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ
انھوں نے ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری ۔ ( وہ فرماتے ہیں کہ ) میں تکیہ کے عرض ( یعنی گوشہ ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے ( معمول کے مطابق ) تکیہ کی لمبائی پر ( سر رکھ کر ) آرام فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے ۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں ، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو ( چھت میں ) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا ، خوب اچھی طرح ، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا ، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا ۔ پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے ۔ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ۔ اس کے بعد پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں پڑھ کر اس کے بعد آپ نے وتر پڑھا اور لیٹ گئے ، پھر جب مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے اٹھ کر دو رکعت معمولی ( طور پر ) پڑھیں ۔ پھر باہر تشریف لا کر صبح کی نماز پڑھی ۔
Narrated Asma' bint Abu Bakr:
I came to `Aisha the wife of the Prophet (ﷺ) during the solar eclipse. The people were standing and offering the prayer and she was also praying. I asked her, "What is wrong with the people?" She beckoned with her hand towards the sky and said, "Subhan Allah." I asked her, "Is there a sign?" She pointed out, "Yes." So I, too, stood for the prayer till I fell unconscious and later on I poured water on my head. After the prayer, Allah's Messenger (ﷺ) praised and glorified Allah and said, "Just now I have seen something which I never saw before at this place of mine, including Paradise and Hell. I have been inspired (and have understood) that you will be put to trials in your graves and these trials will be like the trials of Ad-Dajjal, or nearly like it (the sub narrator is not sure of what Asma' said). Angels will come to every one of you and ask, 'What do you know about this man?' A believer will reply, 'He is Muhammad, Allah's Messenger (ﷺ) , and he came to us with self-evident truth and guidance. So we accepted his teaching, believed and followed him.' Then the angels will say to him to sleep in peace as they have come to know that he was a believer. On the other hand a hypocrite or a doubtful person will reply, 'I do not know but heard the people saying something and so I said the same.' "
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ اپنی بیوی فاطمہ سے ، وہ اپنی دادی اسماء بنت ابی بکر سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایسے وقت آئی جب کہ سورج کو گہن لگ رہا تھا اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، کیا دیکھتی ہوں وہ بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہی ہیں ۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا ، سبحان اللہ ! میں نے کہا ( کیا یہ ) کوئی ( خاص ) نشانی ہے ؟ تو انھوں نے اشارے سے کہا کہ ہاں ۔ تو میں بھی آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہو گئی ۔ ( آپ نے اتنا فرمایا کہ ) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ، آج کوئی چیز ایسی نہیں رہی جس کو میں نے اپنی اسی جگہ نہ دیکھ لیا ہو حتیٰ کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا ۔ اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا ۔ دجال جیسی آزمائش یا اس کے قریب قریب ۔ ( راوی کا بیان ہے کہ ) میں نہیں جانتی کہ اسماء نے کون سا لفظ کہا ۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس ( اللہ کے فرشتے ) بھیجے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تمہارا اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پھر اسماء نے لفظ ایماندار کہا یا یقین رکھنے والا کہا ۔ مجھے یاد نہیں ۔ ( بہرحال وہ شخص ) کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ وہ ہمارے پاس نشانیاں اور ہدایت کی روشنی لے کر آئے ۔ ہم نے ( اسے ) قبول کیا ، ایمان لائے ، اور ( آپ کا ) اتباع کیا ۔ پھر ( اس سے ) کہہ دیا جائے گا تو سو جا درحالیکہ تو مرد صالح ہے اور ہم جانتے تھے کہ تو مومن ہے ۔ اور بہرحال منافق یا شکی آدمی ، اسماء نے کون سا لفظ کہا مجھے یاد نہیں ۔ ( جب اس سے پوچھا جائے گا ) کہے گا کہ میں ( کچھ ) نہیں جانتا ، میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا ، وہی میں نے بھی کہہ دیا ۔
Narrated Yahya Al-Mazini:
A person asked `Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ who was the grandfather of `Amr bin Yahya, "Can you show me how Allah's Messenger (ﷺ) used to perform ablution?" `Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ replied in the affirmative and asked for water. He poured it on his hands and washed them twice, then he rinsed his mouth thrice and washed his nose with water thrice by putting water in it and blowing it out. He washed his face thrice and after that he washed his forearms up to the elbows twice and then passed his wet hands over his head from its front to its back and vice versa (beginning from the front and taking them to the back of his head up to the nape of the neck and then brought them to the front again from where he had started) and washed his feet (up to the ankles).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی ، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ
ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ، سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے ؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ! پھر انھوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے ۔ پھر تین مرتبہ کلی کی ، تین بار ناک صاف کی ، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا ۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا ۔ اس طور پر اپنے ہاتھ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے ۔ ( مسح ) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا ۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے ( مسح ) شروع کیا تھا ، پھر اپنے پیر دھوئے ۔
Narrated `Amr:
My father saw `Amr bin Abi Hasan asking `Abdullah bin Zaid about the ablution of the Prophet. `Abdullah bin Zaid asked for earthenware pot containing water and in front of them performed ablution like that of the Prophet (ﷺ) . He poured water from the pot over his hand and washed his hands thrice and then he put his hands in the pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out with three handfuls of water. Again he put his hand in the water and washed his face thrice and washed his forearms up to the elbows twice; and then put his hands in the water and then passed them over his head by bringing them to the front and then to the rear of the head once, and then he washed his feet up to the ankles.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، انھوں نے عمرو سے ، انھوں نے اپنے باپ ( یحییٰ ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان ( پوچھنے والوں ) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا ۔ ( پہلے طشت سے ) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا ۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے ، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا ( اور پانی لیا ) پھر کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، ناک صاف کی ، تین چلوؤں سے ، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے ۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا ۔ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے ، ایک بار ۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔
Narrated Abu Juhaifa:
Allah's Messenger (ﷺ) came to us at noon and water for ablution was brought to him. After he had performed ablution, the remaining water was taken by the people and they started smearing their bodies with it (as a blessed thing). The Prophet (ﷺ) offered two rak`at of the Zuhr prayer and then two rak`at of the `Asr prayer while a short spear (or stick) was there (as a Sutra) in front of him.
ہم سے آدم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا ، انھوں نے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا ۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے ( اپنے بدن پر ) پھیرنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( آڑ کے لیے ) ایک نیزہ تھا ۔
Abu Musa said:
The Prophet asked for a tumbler containing water and washed both his hands and face in it and then threw a mouthful of water in the tumbler and said to both of us (Abu Musa and Bilal), "Drink from the tumbler and pour some of its water on your faces and chests."
( اور ایک دوسری حدیث میں ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا ۔ جس میں پانی تھا ۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی ، پھر فرمایا ، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو ۔
Narrated Ibn Shihab:
Mahmud bin Ar-Rabi` who was the person on whose face the Prophet (ﷺ) had ejected a mouthful of water from his family's well while he was a boy, and `Urwa (on the authority of Al-Miswar and others) who testified each other, said, "Whenever the Prophet (ﷺ) , performed ablution, his companions were nearly fighting for the remains of the water."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ، کہا ہم سے میرے باپ نے ، انھوں نے صالح سے سنا ۔ انھوں نے ابن شہاب سے ، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی ، ابن شہاب کہتے ہیں
محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں ( کے پانی ) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک ( راوی ) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے ۔
Narrated As-Sa'ib bin Yazid:
My aunt took me to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This son of my sister has got a disease in his legs." So he passed his hands on my head and prayed for Allah's blessings for me; then he performed ablution and I drank from the remaining water. I stood behind him and saw the seal of Prophethood between his shoulders, and it was like the "Zir-al-Hijla" (means the button of a small tent, but some said 'egg of a partridge.' etc.)
ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے جعد کے واسطے سے بیان کیا ، کہا انھوں نے سائب بن یزید سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا ۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی ۔ ( یا کبوتر کا انڈا ) ۔
Narrated The father of `Amr bin Yahya:
`Abdullah bin Zaid poured water on his hands from a utensil containing water and washed them and then with one handful of water he rinsed his mouth and cleaned his nose by putting water in it and then blowing it out. He repeated it thrice. He, then, washed his hands and forearms up to the elbows twice and passed wet hands over his head, both forwards and backwards, and washed his feet up to the ankles and said, "This is the ablution of Allah's Messenger (ﷺ)."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ ( یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ
( وضو کرتے وقت ) انھوں نے برتن سے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۔ پھر انہیں دھویا ۔ پھر دھویا ۔ ( یا یوں کہا کہ ) کلی کی اور ناک میں ایک چلو سے پانی ڈالا ۔ اور تین مرتبہ اسی طرح کیا ۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے ۔ پھر سر کا مسح کیا ۔ اگلی جانب اور پچھلی جانب کا اور ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح ہوا کرتا تھا ۔
Narrated `Amr bin Yahya:
My father said, "I saw `Amr bin Abi Hasan asking `Abdullah bin Zaid about the ablution of the Prophet. `Abdullah bin Zaid asked for an earthenware pot containing water and performed ablution in front of them. He poured water over his hands and washed them thrice. Then he put his (right) hand in the pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out thrice with three handfuls of water Again he put his hand in the water and washed his face thrice. After that he put his hand in the pot and washed his forearms up to the elbows twice and then again put his hand in the water and passed wet hands over his head by bringing them to the front and then to the back and once more he put his hand in the pot and washed his feet (up to the ankles.)" Narrated Wuhaib: That he (the Prophet (ﷺ) in narration 191 above) had passed his wet hands on the head once only.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ ( یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ
میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا ۔ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پانی کا ایک طشت منگوایا ، پھر ان ( لوگوں ) کے دکھانے کے لیے وضو ( شروع ) کیا ۔ ( پہلے ) طشت سے اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا ۔ پھر انہیں تین بار دھویا ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کی ، تین چلوؤں سے تین دفعہ ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور اپنے منہ کو تین بار دھویا ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ( پھر ) سر پر مسح کیا اس طرح کہ ( پہلے ) آگے کی طرف اپنا ہاتھ لائے پھر پیچھے کی طرف لے گئے ۔ پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ( دوسری روایت میں ) ہم سے موسیٰ نے ، ان سے وہیب نے بیان کیا کہ آپ نے سر کا مسح ایک دفعہ کیا ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:
"During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) men and women used to perform ablution together."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو مالک نے نافع سے خبر دی ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورت اور مرد سب ایک ساتھ ( ایک ہی برتن سے ) وضو کیا کرتے تھے ۔ ( یعنی وہ مرد اور عورتیں جو ایک دوسرے کے محرم ہوتے ) ۔
Narrated Jabir:
Allah's Messenger (ﷺ) came to visit me while I was sick and unconscious. He performed ablution and sprinkled the remaining water on me and I became conscious and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! To whom will my inheritance go as I have neither ascendants nor descendants?" Then the Divine verses regarding Fara'id (inheritance) were revealed.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ، تو مجھے ہوش آ گیا ۔ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میرا وارث کون ہو گا ؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے ۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی ۔