Back to Sahih Bukhari

Witnesses

كتاب الشهادات

Chapter 53

Hadith 2680
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا بِقَوْلِهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلاَ يَأْخُذْهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :

Once Allah's Messenger (ﷺ) said, "You people present your cases to me and some of you may be more eloquent and persuasive in presenting their argument. So, if I give some one's right to another (wrongly) because of the latter's (tricky) presentation of the case, I am really giving him a piece of fire; so he should not take it."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے باپ نے ، ان سے زینب نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم لوگ میرے یہاں اپنے مقدمات لاتے ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک تم میں دوسرے سے دلیل بیان کرنے میں بڑھ کر ہوتا ہے ( قوت بیانیہ بڑھ کر رکھتا ہے ) پھر میں اس کو اگر اس کے بھائی کا حق ( غلطی سے ) دلا دوں ، تو وہ حلال ( نہ سمجھے ) اس کو نہ لے ، میں اس کو دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں ۔

Hadith 2681
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، أَنَّ هِرَقْلَ، قَالَ لَهُ سَأَلْتُكَ مَاذَا يَأْمُرُكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ أَمَرَكُمْ بِالصَّلاَةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الأَمَانَةِ‏.‏ قَالَ وَهَذِهِ صِفَةُ نَبِيٍّ‏.‏
English

Narrated `Abu Sufyan رضی اللہ عنہ :

Heraclius said to him, "When I inquired you what he (i.e. Muhammad) ordered you, you replied that he ordered you to establish the prayer, to speak the truth, to be chaste, to keep promises and to pay back trusts." Then Heraclius added, "These are really the qualities of a prophet."

Urdu

ہم سے ابرہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ انہیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

ہرقل نے ان سے کہا تھا کہ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں نماز ، سچائی ، عفت ، عہد کے پورا کرنے اور امانت کے ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ اور یہ نبی کی صفات ہیں ۔

Hadith 2682
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخَلَفَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three: (1) whenever he speaks, he tells a lie, (2) whenever he is entrusted, he proves to be dishonest, (3) whenever he promises, he breaks his promise.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔ جب بات کہی تو جھوٹ کہی ، امانت دی گئی تو اس نے اس میں خیانت کی اور وعدہ کیا تو اسے پورا نہیں کیا ۔

Hadith 2683
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهم قَالَ لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ وَعَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعْطِيَنِي هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالَ جَابِرٌ فَعَدَّ فِي يَدِي خَمْسَمِائَةٍ، ثُمَّ خَمْسَمِائَةٍ، ثُمَّ خَمْسَمِائَةٍ‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

"When the Prophet (ﷺ) died, Abu Bakr رضی اللہ عنہ received some property from Al-`Ala bin Al-Hadrami. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said to the people, "Whoever has a money claim on the Prophet, or was promised something by him, should come to us (so that we may pay him his right)." Jabir رضی اللہ عنہ added, "I said (to Abu Bakr), Allah's Messenger (ﷺ) promised me that he would give me this much, and this much, and this much (spreading his hands three times)." Jabir رضی اللہ عنہ added, "Abu Bakr رضی اللہ عنہ counted for me and handed me five-hundred (gold pieces), and then five-hundred, and then five-hundred."

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہمیں ہشام نے خبر دی ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا ، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی ، انہیں محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، کہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ( بحرین کے عامل ) علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس کسی کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو ، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے وعدہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مال مجھے عطا فرمائیں گے ۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اپنے ہاتھ بڑھائے اور میرے ہاتھ پر پانچ سو پھر پانچ سو اور پھر پانچ سو گن دئیے ۔

Hadith 2684
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَنِي يَهُودِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ أَىَّ الأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى قُلْتُ لاَ أَدْرِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى حَبْرِ الْعَرَبِ فَأَسْأَلَهُ‏.‏ فَقَدِمْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ قَضَى أَكْثَرَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَالَ فَعَلَ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

A Jew from Hira asked me which one of the two periods Musa (i.e. Prophet Moses) completed. I said, "I don't know, (but wait) till I see the most learned 'Arab and inquire him about it." So, I went to Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما and asked him. He replied, "Moses completed the longer and better period." Ibn `Abbas added, "No doubt, an apostle of Allah always does what he says."

Urdu

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی ، ان سے مروان بن شجاع نے بیان کیا ، ان سے سالم افطس نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

حیرہ کے یہودی نے مجھ سے پوچھا ، موسیٰ علیہ السلام نے ( اپنے مہر کے ادا کرنے میں ) کون سی مدت پوری کی تھی ؟ ( یعنی آٹھ سال کی یا دس سال کی ، جن کا قرآن میں ذکر ہے ) میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ، ہاں ! عرب کے بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں ( تو پھر تمہیں بتادوں گا ) چنانچہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے بڑی مدت پوری کی ( دس سال کی ) جو دونوں مدتوں میں بہتر تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب کسی سے وعدہ کرتے تو پورا کرتے تھے ۔

Hadith 2685
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْدَثُ الأَخْبَارِ بِاللَّهِ، تَقْرَءُونَهُ لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ وَغَيَّرُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ، فَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلاً أَفَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ، وَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلاً قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ‏.‏
English

Narrated Ubaidullah bin `Abdullah bin `Utba:

Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "O Muslims? How do you ask the people of the Scriptures, though your Book (i.e. the Qur'an) which was revealed to His Prophet is the most recent information from Allah and you recite it, the Book that has not been distorted? Allah has revealed to you that the people of the scriptures have changed with their own hands what was revealed to them and they have said (as regards their changed Scriptures): This is from Allah, in order to get some worldly benefit thereby." Ibn `Abbas added: "Isn't the knowledge revealed to you sufficient to prevent you from asking them? By Allah I have never seen any one of them asking (Muslims) about what has been revealed to you."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، یونس سے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ، اے مسلمانو ! اہل کتاب سے کیوں سوالات کرتے ہو ۔ حالانکہ تمہاری کتاب جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بعد میں نازل ہوئی ہے ۔ تم اسے پڑھتے ہو اور اس میں کسی قسم کی آمیزش بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہے کہ اہل کتاب نے اس کتاب کو بدل دیا ، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی تھی اور خود ہی اس میں تغیر کر دیا اور پھر کہنے لگے یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ ان کا مقصد اس سے صرف یہ تھا کہ اس طرح تھوڑی پونجی ( دنیا کی ) حاصل کر سکیں پس کیا جو علم ( قرآن ) تمہارے پاس آیا ہے وہ تم کو ان ( اہل کتاب سے پوچھنے کو نہیں روکتا ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے ان کے کسی آدمی کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ ان آیات کے متعلق تم سے پوچھتا ہو جو تم پر ( تمہارے نبی کے ذریعہ ) نازل کی گئی ہیں ۔

Hadith 2686
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلاَهَا، فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا، فَتَأَذَّوْا بِهِ، فَأَخَذَ فَأْسًا، فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا مَا لَكَ قَالَ تَأَذَّيْتُمْ بِي، وَلاَ بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated An-Nu`man bin Bashir رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "The example of the person abiding by Allah's orders and limits (or the one who abides by the limits and regulations prescribed by Allah) in comparison to the one who do wrong and violate Allah's limits and orders is like the example of people drawing lots for seats in a boat. Some of them got seats in the upper part while the others in the lower part ; those in the, lower part have to pass by those in the upper one to get water, and that troubled the latter. One of them (i.e. the people in the lower part) took an ax and started making a hole in the bottom of the boat. The people of the upper part came and asked him, (saying), 'What is wrong with you?' He replied, "You have been troubled much by my (coming up to you), and I have to get water.' Now if they prevent him from doing that they will save him and themselves, but if they leave him (to do what he wants), they will destroy him and themselves."

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے ، کہا کہ ہم سے شعبی نے بیان کیا ، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی حدود میں سستی برتنے والے اور اس میں مبتلا ہو جانے والے کی مثال ایک ایسی قوم کی سی ہے جس نے ایک کشتی ( پر سفر کرنے کے لیے جگہ کے بارے میں ) قرعہ اندازی کی ۔ پھر نتیجے میں کچھ لوگ نیچے سوار ہوئے اور کچھ اوپر ۔ نیچے کے لوگ پانی لے کر اوپر کی منزل سے گزرتے تھے اور اس سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی ۔ اس خیال سے نیچے والا ایک آدمی کلہاڑی سے کشتی کا نیچے کا حصہ کاٹنے لگا ( تاکہ نیچے ہی سمندر سے پانی لے لیا کرے ) اب اوپر والے آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا کر رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو ( میرے اوپر آنے جانے سے ) تکلیف ہوتی تھی اور میرے لیے بھی پانی ضروری تھا ۔ اب اگر انہوں نے نیچے والے کا ہاتھ پکڑ لیا تو انہیں بھی نجات دی اور خود بھی نجات پائی ۔ لیکن اگر اسے یوں ہی چھوڑ دیا تو انہیں بھی ہلاک کیا اور خود بھی ہلاک ہو گئے ۔

Hadith 2687
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ، امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّكْنَى حِينَ أَقْرَعَتِ الأَنْصَارُ سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَءِ فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَاشْتَكَى، فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ‏.‏ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ لاَ أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَاءَهُ ـ وَاللَّهِ ـ الْيَقِينُ وَإِنِّي لأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا، وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ قَالَتْ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ ذَلِكَ عَمَلُهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Kharijah bin Zaid:

Umm-ul-Ala, who was among his relaive women and who took an oath of allegiance to the prophet (ﷺ), told him: when the Ansar drew lots as to which of the emigrants should dwell with which of the Ansar, the name of `Uthman bin Mazun رضی اللہ عنہ came out (to be in their lot). Um Al-Ala رضی اللہ عنہا further said, "Uthman stayed with us, and we nursed him when he got sick, but he died. We shrouded him in his clothes, and Allah's Apostle came to our house and I said, (addressing the dead `Uthman), 'O Abu As-Sa'ib! May Allah be merciful to you. I testify that Allah has blessed you.' The Prophet (ﷺ) said to me, "How do you know that Allah has blessed him?" I replied, 'I do not know O Allah's Messenger (ﷺ)! May my parents be sacrificed for you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'As regards `Uthman, by Allah he has died and I really wish him every good, yet, by Allah, although I am Allah's Messenger (ﷺ), I do not know what will be done to him.' Um Al- Ala رضی اللہ عنہا added, 'By Allah I shall never attest the piety of anybody after him. And what Allah's Messenger (ﷺ)s said made me sad." Um Al-Ala further said, "Once I slept and saw in a dream, a flowing stream for `Uthman رضی اللہ عنہ . So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and told him about it, he said, 'That is (the symbol of) his deeds."

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ، ان سے خارجہ بن زید انصاری نے بیان کیا کہ

ان کی رشتہ دار ایک عورت ام علاء نامی نے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی ، انہیں خبر دی کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے یہاں ٹھہرانے کے لیے قرعے ڈالے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قیام ہمارے حصے میں آیا ۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے گھر ٹھہرے اور کچھ مدت بعد وہ بیمار پڑ گئے ۔ ہم نے ان کی تیمارداری کی مگر کچھ دن بعد ان کی وفات ہو گئی ۔ جب ہم انہیں کفن دے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ میں نے کہا ، ابوالسائب ! ( عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ) تم پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ، میری گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے یہاں تمہاری ضرور عزت اور بڑائی کی ہو گی ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات تمہیں کیسے معلوم ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت اور بڑائی کی ہو گی ۔ میں نے عرض کیا ، میرے ماں اور باپ آپ پر فدا ہوں ، مجھے یہ بات کسی ذریعہ سے معلوم نہیں ہوئی ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عثمان کا جہاں تک معاملہ ہے ، تو اللہ گواہ ہے کہ ان کی وفات ہو چکی اور میں ان کے بارے میں اللہ سے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ہونے کے باوجود مجھے بھی یہ علم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا ۔ ام علاء رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ، اللہ کی قسم ! اب اس کے بعد میں کسی شخص کی پاکی کبھی بیان نہیں کروں گی ۔ اس سے مجھے رنج بھی ہوا ( کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں نے ایک ایسی بات کہی جس کا مجھے حقیقی علم نہیں تھا ) انہوں نے کہا ( ایک دن ) میں سو رہی تھی ، میں نے خواب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ سے خواب بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل ( نیک ) تھا ۔

Hadith 2688
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot fell. He also used to fix for everyone of his wives a day and a night, but Sauda bint Zam`a gave her day and night to `Aisha رضی اللہ عنہ , the wife of the Prophet (ﷺ) intending thereby to please Allah's Messenger (ﷺ).

Urdu

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے ، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں میں قرعہ اندازی فرماتے اور جن کا نام نکل آتا ، انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی معمول تھا کہ اپنی ہر بیوی کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر کر دی تھی ۔ البتہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنی عمر کے آخری دور میں ) اپنی باری آپ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کو رضا حاصل ہو ۔ ( اس سے بھی قرعہ اندازی ثابت ہوئی ) ۔

Hadith 2689
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If the people knew what is the reward of making the call (for the prayer) and (of being in) the first row (in the prayer), and if they found no other way to get this privilege except by casting lots, they would certainly cast lots for it. If they knew the reward of the noon prayer, they would race for it, and if they knew the reward of the morning (i.e. Fajr) and `Isha prayers, they would present themselves for the prayer even if they had to crawl to reach there.

Urdu

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے بیان کیا ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان اور صف اول میں کتنا ثواب ہے اور پھر ( انہیں اس کے حاصل کرنے کے لیے ) قرعہ اندازی کرنی پڑتی ، تو وہ قرعہ اندازی بھی کرتے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ نماز سویرے پڑھنے میں کتنا ثواب ہے تو لوگ ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور صبح کی کتنی فضیلتیں ہیں تو اگر گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تو پھر بھی آتے ۔