Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is not permissible for any Muslim who has something to will to stay for two nights without having his last will and testament written and kept ready with him." Along with Imam Malik, this tradition has been followed by Muhammad bin Muslim on the authority of Amr bin Dinar. He narrated it to Ibn Umar (رضی اللہ عنہما ) from the Prophet (ﷺ).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے ‘ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے جن کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی مال ہو درست نہیں کہ دو رات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے بغیر گزارے ۔ امام مالک کے ساتھ اس روایت کی متابعت محمد بن مسلم نے عمرو بن دینار سے کی ہے ‘ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
Narrated `Amr bin Al-Harith (The brother of the wife of Allah's Messenger (ﷺ)and the brother of Juwaira bint Al-Harith رضی اللہ عنہا):
When Allah's Messenger (ﷺ) died, he did not leave any Dirham or Dinar (i.e. money), a slave or a slave woman or anything else except his white mule, his arms and a piece of land which he had given in charity .
ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ ابن ابی بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبتی بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) کے بھائی ہیں ‘ بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد سوائے اپنے سفید خچر ‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز ۔
Narrated `Abdullah bin Abu `Aufa رضی اللہ عنہ :
"Did the Prophet (ﷺ) make a will?" He replied, "No," I asked him, "How is it then that the making of a will has been enjoined on people, (or that they are ordered to make a will)?" He replied, "The Prophet (ﷺ) bequeathed Allah's Book (i.e. Qur'an).
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر وصیت کس طرح لوگوں پر فرض ہوئی ؟ یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا ) کہ لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں کر دیا گیا ؟ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی ۔ ( اور کتاب اللہ میں وصیت کرنے کے لئے حکم موجود ہے )
Narrated Al-Aswad:
In the presence of `Aisha رضی اللہ عنہا some people mentioned that the Prophet (ﷺ) had appointed `Ali رضی اللہ عنہ by will as his successor. `Aisha رضی اللہ عنہا said, "When did he appoint him by will? Verily when he died he was resting against my chest (or said: in my lap) and he asked for a wash-basin and then collapsed while in that state, and I could not even perceive that he had died, so when did he appoint him by will?"
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی عبداللہ بن عون سے ‘ انہیں ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ
عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ علی رضی اللہ عنہ ( نبی اکرم کے ) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا ۔ میں تو آپ کے وصال کے وقت سرمبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے ( بجائے سینے کے ) کہا کہ اپنے گود میں رکھے ہوئے تھی پھر آپ نے ( پانی کا ) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں ( سرمبارک ) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ آپ کی وفات ہو چکی ہے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو وصی کب بنایا ۔
Narrated Sa`d bin Abu Waqqas:
The Prophet (ﷺ) came visiting me while I was (sick) in Mecca, ('Amir the sub-narrator said, and he disliked to die in the land, whence he had already migrated). He (i.e. the Prophet) said, "May Allah bestow His Mercy on Ibn Afra (Sa`d bin Khaula رضی اللہ عنہ)." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! May I will all my property (in charity)?" He said, "No." I said, "Then may I will half of it?" He said, "No". I said, "One third?" He said: "Yes, one third, yet even one third is too much. It is better for you to leave your inheritors wealthy than to leave them poor begging others, and whatever you spend for Allah's sake will be considered as a charitable deed even the handful of food you put in your wife's mouth. Allah may lengthen your age so that some people may benefit by you, and some others be harmed by you." At that time Sa`d رضی اللہ عنہ had only one daughter.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا سعد بن ابراہیم سے ‘ ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) میری عیادت کو تشریف لائے ‘ میں اس وقت مکہ میں تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سرزمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کر چکا ہو ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ابن عفراء ( سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے ۔ میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت کر دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں نے پوچھا پھر آدھے کی کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی یہی فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا پھر تہائی کی کر دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی کی کر سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے ‘ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تم اپنی کوئی چیز ( اللہ کے لئے خرچ کرو گے ) تو وہ خیرات ہے ‘ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ( وہ بھی خیرات ہے ) اور ( ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ) ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ ( اسلام کے مخالف ) نقصان اٹھائیں ۔ اس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی صرف ایک بیٹی تھیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I recommend that people reduce the proportion of what they bequeath by will to the fourth (of the whole legacy), for Allah's Messenger (ﷺ) said, "One-third, yet even one third is too much."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ‘
کاش ! لوگ ( وصیت کو ) چوتھائی تک کم کر دیتے تو بہتر ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم تہائی ( کی وصیت کر سکتے ہو ) اور تہائی بھی بہت ہے یا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) یہ بہت زیادہ رقم ہے ۔
Narrated Sa`d:
I fell sick and the Prophet (ﷺ) paid me a visit. I said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I invoke Allah that He may not let me expire in the land whence I migrated (i.e. Mecca)." He said, "May Allah give you health and let the people benefit by you." I said, "I want to will my property, and I have only one daughter and I want to will half of my property (to be given in charity)." He said," Half is too much." I said, "Then I will one third." He said, "One-third, yet even one-third is too much." (The narrator added, "So the people started to will one third of their property and that was Permitted for them.")
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زکریابن عدی نے بیان کیا ‘ ان سے مروان بن معاویہ نے ‘ ان سے ہاشم ابن ہاشم نے ‘ ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے باپ سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ
میں مکہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے الٹے پاؤں واپس نہ کر دے ( یعنی مکہ میں میری موت نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت دے اور تم سے بہت سے لوگ نفع اٹھائیں ۔ میں نے عرض کیا میرا ارادہ وصیت کرنے کا ہے ۔ ایک لڑکی کے سوا اور میرے کوئی ( اولاد ) نہیں ۔ میں نے پوچھا کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدھا تو بہت ہے ۔ پھر میں نے پوچھا تو تہائی کی کر دوں ؟ فرمایا کہ تہائی کی کر سکتے ہو اگرچہ یہ بھی بہت ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) بڑی ( رقم ) ہے ۔ چنانچہ لوگ بھی تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کیلئے جائز ہو گئی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا (the wife of the Prophet) :
`Utba bin Abi Waqqas entrusted (his son) to his brother Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ saying, "The son of the slave-girl of Zam`a is my (illegal) son, take him into your custody." So during the year of the Conquest (of Mecca) Sa`d رضی اللہ عنہ took the boy and said, "This is my brother's son whom my brother entrusted to me." 'Abu bin Zam's got up and said, "He is my brother and the son of the slave girl of my father and was born on my father's bed." Then both of them came to Allah's Apostle and Sa`d رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is my brother's son whom my brother entrusted to me." Then 'Abu bin Zam`a got up and said, "This is my brother and the son of the slave-girl of my father." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Abu bin Zam`a! This boy is for you as the boy belongs to the bed (where he was born), and for the adulterer is the stone (i.e. deprivation)." Then the Prophet (ﷺ) said to his wife Sauda bint Zam`a, "Screen yourself from this boy," when he saw the boy's resemblance to `Utba. Since then the boy did not see Sauda رضی اللہ عنہ till he died.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ابن شہاب سے ‘ وہ عروہ بن زبیر سے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
عتبہ بن ابی وقاص نے مرتے وقت اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے ‘ اس لئے تم اسے لے لینا چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے ۔ انہوں نے اس بارے میں مجھے اس کی وصیت کی تھی ۔ پھر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے کہ یہ تو میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے اس کو جنا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ پھر یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے ‘ مجھے اس نے وصیت کی تھی ۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ میرا بھائی اور میرے والد کی باندی کا لڑکا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ یہ فرمایا کہ لڑکا تمہارا ہی ہے عبد بن زمعہ ! بچہ فراش کے تحت ہوتا ہے اور زانی کے حصے میں پتھر ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کر کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کی مشابہت اس لڑکے میں صاف پائی تھی ۔ چنانچہ اس کے بعد اس لڑکے نے سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہ دیکھا تاآنکہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملیں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
A Jew crushed the head of a girl between two stones. She was asked, "Who has done so to you, soand- so? So-and-so?" Till the name of the Jew was mentioned, whereupon she nodded (in agreement). So the Jew was brought and was questioned till he confessed. The Prophet (ﷺ) then ordered that his head be crushed with stones.
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک یہودی نے ایک ( انصاری ) لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں رکھ کر کچل دیا تھا ۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سر اس طرح کس نے کیا ہے ؟ کیا فلاں شخص نے کیا ؟ فلاں نے کیا ؟ آخر یہودی کا بھی نام لیا گیا ( جس نے اس کا سر کچل دیا تھا ) تو لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا ۔ پھر وہ یہودی بلایا گیا اور آخر اس نے بھی اقرار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی پتھر سے سر کچل دیا گیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The custom (in old days) was that the property of the deceased would be inherited by his offspring; as for the parents (of the deceased), they would inherit by the will of the deceased. Then Allah cancelled from that custom whatever He wished and fixed for the male double the amount inherited by the female, and for each parent a sixth (of the whole legacy) and for the wife an eighth or a fourth and for the husband a half or a fourth.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ورقاء سے ‘ انہوں نے ابن ابی نجیح سے ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
شروع اسلام میں ( میراث کا ) مال اولاد کو ملتا تھا اور والدین کے لئے وصیت ضروری تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا اس حکم کو منسوخ کر دیا پھر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر قرار دیا اور والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور بیوی کا ( اولاد کی موجودگی میں ) آٹھواں حصہ اور ( اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں ) چوتھا حصہ قرار دیا ۔ اسی طرح شوہر کا ( اولاد نہ ہونے کی صورت میں ) آدھا ( اولاد ہونے کی صورت میں ) چوتھائی حصہ قرار دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man asked the Prophet, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What kind of charity is the best?" He replied. "To give in charity when you are healthy and greedy hoping to be wealthy and afraid of becoming poor. Don't delay giving in charity till the time when you are on the death bed when you say, 'Give so much to soand- so and so much to so-and so,' and at that time the property is not yours but it belongs to so-and-so (i.e. your inheritors).
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا سفیان ثوری سے ‘ وہ عمارہ سے ‘ ان سے ابو زرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا یہ کہ صدقہ تندرستی کی حالت میں کر کہ ( تجھ کو اس مال کو باقی رکھنے کی ) خواہش بھی ہو جس سے کچھ سرمایہ جمع ہو جانے کی تمہیں امید ہو اور ( اسے خرچ کرنے کی صورت میں ) محتاجی کا ڈر ہو اور اس میں تاخیر نہ کر کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے بیٹھ جائے کہ اتنا مال فلاں کے لئے ‘ فلانے کو اتنا دینا ‘ اب تو فلانے کا ہو ہی گیا ( تو تو دنیا سے چلا )
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three: Whenever he speaks he tells a lie; whenever he is entrusted he proves dishonest; whenever he promises he breaks his promise."
ہم سے سلیمان بن داؤد ابو الربیع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے نافع بن مالک بن ابی عامر ابو سہیل نے ‘ انہوں نے اپنے باپ سے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کہے تو جھوٹ کہے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے ۔
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:
Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ said, "I asked Allah's Messenger (ﷺ) for something, and he gave me, and I asked him again and he gave me and said, 'O Hakim! This wealth is green and sweet (i.e. as tempting as fruits), and whoever takes it without greed then he is blessed in it, and whoever takes it with greediness, he is not blessed in it and he is like one who eats and never gets satisfied. The upper (i.e. giving) hand is better than the lower (i.e. taking) hand." Hakim added, "I said, O Allah's Messenger (ﷺ)! By Him Who has sent you with the Truth I will never demand anything from anybody after you till I die." Afterwards Abu Bakr used to call Hakim to give him something but he refused to accept anything from him. Then `Umar رضی اللہ عنہ called him to give him (something) but he refused. Then `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Muslims! I offered to him (i.e. Hakim) his share which Allah has ordained for him from this booty and he refuses to take it." Thus Hakim did not ask anybody for anything after the Prophet, till he died--may Allah bestow His mercy upon him.
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر سے کہ
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ( مشہور صحابی ) نے بیان کیا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ نے مجھ کو دیا ‘ پھر مانگا پھر آپ نے دیا ‘ پھر فرمانے لگے حکیم یہ دنیا کا روپیہ پیسہ دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں شیریں ہے لیکن جو کوئی اس کو سیر چشمی سے لے اس کو برکت ہوتی ہے اور جو کوئی جان لڑا کر حرص کے ساتھ اس کو لے اس کو برکت نہ ہو گی ۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کماتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اوپر والا ( دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے ۔ حکیم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قسم اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے میں تو آج سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے کوئی چیز کبھی نہیں لوں گا مرنے تک پھر ( حکیم کا یہ حال رہا ) کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کا سالانہ وظیفہ دینے کے لئے ان کو بلاتے ‘ وہ اس کے لینے سے انکار کرتے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت میں ان کو بلایا ان کا وظیفہ دینے کے لئے لیکن انہوں نے انکار کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مسلمانو ! تم گواہ رہنا حکیم کو اس کا حق جو لوٹ کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں وہ نہیں لیتا ۔ غرض حکیم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پھر کسی شخص سے کوئی چیز قبول نہیں کی ( اپنا وظیفہ بھی بیت المال میں نہ لیا ) یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی ۔ اللہ ان پر رحم کرے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "All of you are guardians and responsible for your charges: the Ruler (i.e. Imam) is a guardian and responsible for his subjects; and a man is a guardian of his family and is responsible for his charges; and a lady is a guardian in the house of her husband and is responsible for her charge; and a servant is a guardian of the property of his master and is responsible for his charge." I think he also said, "And a man is a guardian of the property of his father."
ہم سے بشربن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس نے ، انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے کہا مجھ کو سالم نے خبر دی ‘ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے کہا
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ حاکم بھی نگہبان ہے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائےگا اور مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھی جائے گی اور غلام اپنے صاحب کے مال کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to Abu Talha, "I recommend that you divide (this garden) amongst your relatives." Abu Talha said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I will do the same." So Abu Talha divided it among his relatives and cousins. Ibn 'Abbes رضی اللہ عنہما said, "When the Qur'anic Verse: "Warn your nearest kinsmen." (26.214) Was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling the various big families of Quraish, "O Bani Fihr! O Bani Adi!". Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "When the Verse: "Warn your nearest kinsmen" was revealed, the Prophet (ﷺ) said (in a loud voice), "O people of Quraish!"
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا ( جب انہوں نے اپنا باغ بیرحاء اللہ کی راہ میں دینا چاہا ) میں مناسب سمجھتا ہوں تو یہ باغ اپنے عزیزوں کو دیدے ۔ ابوطلحہ نے کہا بہت خوب ایسا ہی کروں گا ۔ پھر ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری اور اپنے قریب کے ناطے والوں کو ( خدا کے عذاب سے ) ڈرا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندانوں بنی فہر ‘ بنی عدی کو پکار نے لگے ( ان کو ڈرایا ) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری » وانذر عشیر تک الاقربین « آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قریش کے لوگو ! ( اللہ سے ڈرو ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
When Allah revealed the Verse: "Warn your nearest kinsmen," Allah's Messenger (ﷺ) got up and said, "O people of Quraish (or said similar words)! Buy (i.e. save) yourselves (from the Hellfire) as I cannot save you from Allah's Punishment; O Bani `Abd Manaf! I cannot save you from Allah's Punishment, O Safiya, the Aunt of Allah's Messenger (ﷺ)! I cannot save you from Allah's Punishment; O Fatima bint Muhammad! Ask me anything from my wealth, but I cannot save you from Allah's Punishment." Asbagh corroborated him from Ibn-e-Shihab.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے زہری سے ‘ کہا مجھ کو سعید بن مسیب اورابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری اور اپنے نزدیک ناطے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش کے لوگو ! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو ( نیک اعمال کے بدل ) مول لے لو ( بچا لو ) میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ( یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکوں گا ) عبد مناف کے بیٹو ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔ عباس عبدالمطلب کے بیٹے ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔ صفیہ میری پھوپھی ! اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹی تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔ ابو الیمان کے ساتھ حدیث کو اصبغ نے بھی عبداللہ بن وہب سے ‘ انہوں نے یونس سے ‘ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana (i.e. camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is a Bandana." (The Prophet (ﷺ) repeated his order) and on the third or fourth time he said, "Ride it, (woe to you" or said: "May Allah be merciful to you).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص قربانی کا اونٹ ہانکے لئے جا رہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا ۔ اس صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ قربانی کا اونٹ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا افسوس ! سوار بھی ہو جا ( یا آپ نے ویلک کی بجائےویحک فرمایا جس کے معنی بھی وہی ہیں ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving a Badana and said to him, "Ride on it," and on the second or the third time he added, "Woe to you."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان نے اعرج سے اور ان ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک صاحب قربانی کا اونٹ ہانکے لئے جا رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا لیکن انہوں نے معذرت کی کہ یا رسول اللہ ! یہ تو قربانی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ سوار بھی ہو جا ۔ افسوس ! یہ کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The mother of Sa`d bin 'Ubada رضی اللہ عنہ died in his absence. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother died in my absence; will it be of any benefit for her if I give Sadaqa on her behalf?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes," Sa`d said, "I make you a witness that I gave my garden called Al Makhraf in charity on her behalf."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم نے خبر دی ، انہوں نے عکرمہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں عمرہ بنت مسعود کا انتقال ہوا تو وہ ان کی خدمت میں موجود نہیں تھے ۔ انہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! میری والدہ کا جب انتقال ہوا تو میں ان کی خدمت میں حاضر نہیں تھا ۔ کیا اگر میں کوئی چیز صدقہ کروں تو اس سے انہیں فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے ۔
Narrated Ka`b bin Malik رضی اللہ عنہ :
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! For the acceptance of my repentance I wish to give all my property in charity for Allah's sake through His Apostle ." He said, "It is better for you to keep some of the property for yourself." I said, "Then I will keep my share in Khaibar."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن ابن عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری توبہ ( غزوہ تبوک میں نہ جانے کی ) قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دیدوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں ۔