Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
We did not, write anything from the Prophet (ﷺ) except the Qur'an and what is written in this paper, (wherein) the Prophet (ﷺ) said, "Medina is a sanctuary from (the mountain of) Air to so and-so, therefore, whoever innovates (in it) an heresy or commits a sin, or gives shelter to such an innovator, will incur the Curse of Allah. the angels and all the people; and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted And the asylum granted by any Muslim Is to be secured by all the Muslims even if it is granted by one of the lowest social status among them. And whoever betrays a Muslim in this respect will incur the Curse of Allah, the angels and all the people, and his compulsory and optional good deeds of worship will not be accepted. And any freed slave will take as masters (befriends) people other than his own real masters who freed him without taking the permission of the latter, will incur the Curse of Allah, the angels and all the people, and his compulsory and optional good deeds of worship will not be accepted."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم تیمی نے ، انہیں ان کے باپ ( یزید بن شریک تیمی ) نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں ( کدیٰ ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے ۔ پس جس نے یہاں ( دین میں ) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی ۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا ۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں ۔ معمولی سے معمولی مسلمان ( عورت یا غلام ) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں ۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی ، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل ! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا ، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی ، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل !
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
once said (to the people), "What will your state be when you can get no Dinar or Dirhan (i.e. taxes from the Dhimmis)?" on that someone asked him, "What makes you know that this state will take place, O Abu- Huraira?" He said, "By Him in Whose Hands Abu Huraira's life is, I know it through the statement of the true and truly inspired one (i.e. the Prophet)." The people asked, "What does the Statement say?" He replied, "Allah and His Apostle's asylum granted to Dhimmis, i.e. non-Muslims living in a Muslim territory) will be outraged, and so Allah will make the hearts of these Dhimmis so daring that they will refuse to pay the Jizya they will be supposed to pay."
ابوموسیٰ ( محمد بن مثنیٰ ) نے بیان کیا کہ ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد سعید بن عمرو نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب ( جزیہ اور خراج میں سے ) نہ تمہیں درہم ملے گا اور نہ دینار ! اس پر کسی نے کہا ۔ کہ جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تم کیسے سمجھتے ہو کہ ایسا ہو گا ؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے ۔ یہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔ لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ کیسے ہو جائے گا ؟ تو آپ نے فرمایا ، جب کہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد ( اسلامی حکومت غیر مسلموں سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے بارے میں ) توڑا جانے لگے ، تو اللہ تعالیٰ بھی ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا ۔ اور وہ جزیہ دینا بند کر دیں گے ۔ ( بلکہ لڑنے کو مستعد ہوں گے ) ۔
Narrated Al-A`mash:
I asked Abu Wail, "Did you take part in the battle of Siffin?" He said, 'Yes, and I heard Sahl bin Hunaif (when he was blamed for lack of zeal for fighting) saying, "You'd better blame your wrong opinions. I wish you had seen me on the day of Abu Jandal. If I had the courage to disobey the Prophet's orders, I would have done so. We had kept out swords on our necks and shoulders, for a thing which frightened us. And we did so, we found it easier for us, except in the case of the above battle (of ours).' "
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی ، کہا کہ میں نے اعمش سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے ابووائل سے پوچھا ، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں ( میں تھا ) اور میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو ، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو ۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا ( یعنی حدیبیہ کے دن ) اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی ۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہو گیا ۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے ( جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا ) ۔
Narrated Abu Wail:
We were in Siffin and Sahl bin Hunaif رضی اللہ عنہ got up and said, "O people! Blame yourselves! We were with the Prophet (ﷺ) on the day of Hudaibiya, and if we had been called to fight, we would have fought. But `Umar bin Al Khatab رضی اللہ عنہ came and said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Aren't we in the right and our opponents in the wrongs' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Yes.' `Umar رضی اللہ عنہ said, 'Aren't our killed persons in Paradise and their's in Hell?' He said, 'Yes.' `Umar رضی اللہ عنہ said, 'Then why should we accept hard terms in matters concerning our religion? Shall we return before Allah judges between us and them?' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'O Ibn Al- Khattab! I am the Messenger of Allah and Allah will never degrade me. Then `Umar رضی اللہ عنہ went to Abu Bakr رضی اللہ عنہ and told him the same as he had told the Prophet. On that Abu Bakr رضی اللہ عنہ said (to `Umar رضی اللہ عنہ). 'He is the Messenger of Allah and Allah will never degrade him.' Then Surat-al-Fath (i.e. Victory) was revealed and Allah's Messenger (ﷺ) recited it to the end in front of `Umar رضی اللہ عنہ. On that `Umar asked, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Was it (i.e. the Hudaibiya Treaty) a victory?' Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے ، ان سے یزید بن عبدالعزیز نے ، ان سے ان کے باپ عبدالعزیز بن سیاہ نے ، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابووائل نے بیان کیا کہ
ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔ پھر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو ۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے ( یعنی حدیبیہ میں ) اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں ! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ کیوں نہیں ! پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں ؟ کیا ہم ( مدینہ ) واپس چلے جائیں گے ، اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے ۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا ۔ پھر سوہ فتح نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا یہی فتح ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! بلا شک یہی فتح ہے ۔
Narrated Asma 'bint Abi Bakr رضی اللہ عنہما :
During the period of the peace treaty of Quraish with Allah's Messenger (ﷺ), my mother, accompanied by her father, came to visit me, and she was a pagan. I consulted Allah's Messenger (ﷺ), "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother has come to me and she desires to receive a reward from me, shall I keep good relation with her?" He said, "Yes, keep good relation with her."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
قریش سے جس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حدیبیہ کی ) صلح کی تھی ، اسی مدت میں میری والدہ ( قتیلہ ) اپنے باپ ( حارث بن مدرک ) کو ساتھ لے کر میرے پاس آئیں ، وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں ۔ ( عروہ نے بیان کیا کہ ) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! میری والدہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے رغبت کے ساتھ ملنا چاہتی ہیں ، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! ان کے ساتھ صلہ رحمی کر ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) intended to perform the `Umra he sent a person to the people of Mecca asking their permission to enter Mecca. They stipulated that he would not stay for more than three days and would not enter it except with sheathed arms and would not preach (Islam) to any of them. So `Ali bin Abi- Talib رضی اللہ عنہ started writing the treaty between them. He wrote, "This is what Muhammad, Apostle of Allah has agreed to." The (Meccans) said, "If we knew that you (Muhammad) are the Messenger of Allah, then we would not have prevented you and would have followed you. But write, 'This is what Muhammad bin `Abdullah has agreed to..' " On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Allah, I am Muhammad bin `Abdullah, and, by Allah, I am Apostle of 'Allah." Allah's Messenger (ﷺ) used not to write; so he asked `Ali to erase the expression of Apostle of Allah. On that `Ali said, "By Allah I will never erase it." Allah's Apostle said (to `Ali), "Let me see the paper." When `Ali رضی اللہ عنہ showed him the paper, the Prophet (ﷺ) erased the expression with his own hand. When Allah's Messenger (ﷺ) had entered Mecca and three days had elapsed, the Meccans came to `Ali رضی اللہ عنہ and said, "Let your friend (i.e. the Prophet) quit Mecca." `Ali رضی اللہ عنہ informed Allah's Messenger (ﷺ) about it and Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes," and then he departed.
ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کرنا چاہا تو آپ نے مکہ میں داخلہ کے لیے مکہ کے لوگوں سے اجازت لینے کے لیے آدمی بھیجا ۔ انہوں نے اس شرط کے ساتھ ( اجازت دی ) کہ مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں ۔ ہتھیار نیام میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں اور ( مکہ کے ) کسی آدمی کو اپنے ساتھ ( مدینہ ) نہ لے جائیں ( اگرچہ وہ جانا چاہے ) انھوں نے بیان کیا کہ پھر ان شرائط کو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے لکھنا شروع کیا اور اس طرح ” یہ محمد اللہ کے رسول کے صلح نامہ کی تحریر ہے ۔ ‘ ‘ مکہ والوں نے کہا کہ اگر ہم جان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کو روکتے ہی نہیں بلکہ آپ پر ایمان لاتے ، اس لیے تمہیں یوں لکھنا چاہئے ، ” یہ محمد بن عبداللہ کی صلح نامہ کی تحریر ہے ‘ ‘ ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ گواہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے ۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ خدا کی قسم ! یہ لفظ تو میں کبھی نہ مٹاوں گا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے دکھلاو ، راوی نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ لفظ دکھایا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اور ( تین ) دن گزر گئے تو قریش حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اب اپنے ساتھی سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں ( علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ، چنانچہ آپ وہاں سے روانہ ہو گئے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
While the Prophet (ﷺ) was in the state of prostration, surrounded by a group of people from Quraish pagans. `Uqba bin Abi Mu'ait came and brought the intestines of a camel and threw them on the back of the Prophet (ﷺ) . The Prophet (ﷺ) did not raise his head from prostration till Fatima رضی اللہ عنہا (i.e. his daughter) came and removed those intestines from his back, and invoked evil on whoever had done (the evil deed). The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Destroy the chiefs of Quraish, O Allah! Destroy Abu Jahl bin Hisham, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, `Uqba bin Abi Mu'ait, Umaiya bin Khalaf (or Ubai bin Kalaf)." Later on I saw all of them killed during the battle of Badr and their bodies were thrown into a well except the body of Umaiya or Ubai, because he was a fat person, and when he was pulled, the parts of his body got separated before he was thrown into the well.
ہم سے عبدان بن عثمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں ابواسحاق نے ، انہیں عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
مکہ میں ( شروع اسلام کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں تھے اور قریب ہی قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پھر عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر اسے ڈال دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ سے اپنا سر نہ اٹھا سکے ۔ آخر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سے اس اوجھڑی کو ہٹایا اور جس نے یہ حرکت کی تھی اسے برا بھلا کہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بددعا کی کہ اے اللہ ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ ۔ اے اللہ ! ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابی معیط ، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو برباد کر ۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ سب بدر کی لڑائی میں قتل کر دئیے گئے ۔ اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا ۔ سوا امیہ یا ابی کے کہ یہ شخص بہت بھاری بھر کم تھا ۔ جب اسے صحابہ نے کھینچا تو کنویں میں ڈالنے سے پہلے ہی اس کے جوڑ جوڑ الگ ہو گئے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, ''Every betrayer will have a flag on the Day of Resurrection" One of the two subnarrators said that the flag would be fixed, and the other said that it would be shown on the Day of Resurrection, so that the betrayer might be recognized by it.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے دن ہر دغاباز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا ، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا ( اس کے پیچھے ) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے ، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Every betrayer will have a flag which will be fixed on the Day of Resurrection, and the flag's prominence will be made in order to show the betrayal he committed."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دغاباز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی دغابازی کی علامت کے طور پر ( اس کے پیچھے ) گاڑ دیا جائے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said on the day of the conquest of Mecca, "There is no migration now, but there is Jihad (i.e.. holy battle) and good intentions. And when you are called for Jihad, you should come out at once" Allah's Messenger (ﷺ) also said, on the day of the conquest of Mecca, "Allah has made this town a sanctuary since the day He created the Heavens and the Earth. So, it is a sanctuary by Allah's Decree till the Day of Resurrection. Fighting in it was not legal for anyone before me, and it was made legal for me only for an hour by daytime. So, it (i.e. Mecca) is a sanctuary by Allah's Decree till the Day of Resurrection. Its thorny bushes should not be cut, and its game should not be chased, its fallen property (i.e. Luqata) should not be picked up except by one who will announce it publicly; and its grass should not be uprooted," On that Al-`Abbas said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Except the Idhkhir, because it is used by the goldsmiths and by the people for their houses." On that the Prophet (ﷺ) said, "Except the Idhkhir."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے مجاہد نے ، ان سے طاوس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا ، اب ( مکہ سے ) ہجرت فرض نہیں رہی ۔ البتہ جہاد کی نیت اور جہاد کا حکم باقی ہے ۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے نکالا جائے تو فوراً نکل جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا تھا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے ، اسی دن اس شہر ( مکہ ) کو حرم قرار دے دیا ۔ پس یہ شہر اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہی رہے گا ، اور مجھ سے پہلے یہاں کسی کے لیے لڑنا جائز نہیں ہوا ۔ اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے جائز کیا گیا ۔ پس اب یہ مبارک شہر اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہے ، اس کی حدود میں نہ ( کسی درخت کا ) کانٹا توڑا جائے ، نہ یہاں کے شکار کو ستایا جائے ، اور کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے سوا اس شخص کے جو ( مالک تک چیز کو پہنچانے کے لیے ) اعلان کرے اور نہ یہاں کی ہری گھاس کاٹی جائے ۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ، یا رسول اللہ ! اذخر کی اجازت دے دیجئیے ۔ کیونکہ یہ یہاں کے سناروں اور گھروں کی چھتوں پر ڈالنے کے کام آتی ہے ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اذخر کی اجازت ہے ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, ''Every betrayer will have a flag on the Day of Resurrection" One of the two subnarrators said that the flag would be fixed, and the other said that it would be shown on the Day of Resurrection, so that the betrayer might be recognized by it.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے دن ہر دغاباز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا ، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا ( اس کے پیچھے ) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے ، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا ۔