Narrated Anas bin Malik:
"The Prophet (ﷺ) used to visit all his wives in a round, during the day and night and they were eleven in number." I asked Anas, "Had the Prophet (ﷺ) the strength for it?" Anas replied, "We used to say that the Prophet (ﷺ) was given the strength of thirty (men)." And Sa`id said on the authority of Qatada that Anas had told him about nine wives only (not eleven).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ۔ انھوں نے کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے قتادہ کے واسطہ سے ، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں ۔ ( نو منکوحہ اور دو لونڈیاں ) راوی نے کہا ، میں نے انس سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتادہ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو ازواج کا ذکر کیا ۔
Narrated `Ali:
I used to get emotional urethral discharge frequently. Being the son-in-law of the Prophet (ﷺ) I requested a man to ask him about it. So the man asked the Prophet (ﷺ) about it. The Prophet (ﷺ) replied, "Perform ablution after washing your organ (penis)."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائدہ نے ابوحصین کے واسطہ سے ، انھوں نے ابوعبدالرحمن سے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہ
مجھے مذی بکثرت آتی تھی ، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا ) تھیں ۔ اس لیے میں نے ایک شخص ( مقداد بن اسود اپنے شاگرد ) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انھوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو ( یہی کافی ہے ) ۔
Narrated Muhammad bin Al-Muntathir on the authority of his father that he had asked `Aisha about the saying of Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
(i.e. he did not like to be a Muhrim while the smell of scent was still coming from his body). `Aisha said, "I scented Allah's Messenger (ﷺ) and he went round (had sexual intercourse with) all his wives, and in the morning he was Muhrim (after taking a bath)."
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ، وہ اپنے والد سے ، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کا ذکر کیا کہ
میں اسے گوارا نہیں کر سکتا کہ میں احرام باندھوں اور خوشبو میرے جسم سے مہک رہی ہو ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی ۔ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور اس کے بعد احرام باندھا ۔
Narrated `Aisha:
It is as if I am just looking at the glitter of scent in the parting of the Prophet's head hair while he was a Muhrim.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا ہم سے حکم نے ابراہیم کے واسطہ سے ، وہ اسود سے ، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ نے فرمایا
گویا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"Whenever Allah's Messenger (ﷺ) took the bath of Janaba, he cleaned his hands and performed ablution like that for prayer and then took a bath and rubbed his hair, till he felt that the whole skin of the head had become wet, then he would pour water thrice and wash the rest of the body." `Aisha further said, "I and Allah's Messenger (ﷺ) used to take a bath from a single water container, from which we took water simultaneously."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انھوں نے اپنے والد کے حوالہ سے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کی طرح وضو کرتے ۔ پھر غسل کرتے ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے اور جب یقین کر لیتے کہ جسم تر ہو گیا ہے ۔ تو تین مرتبہ اس پر پانی بہاتے ، پھر تمام بدن کا غسل کرتے ۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں غسل کرتے تھے ۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے ۔
Narrated Maimuna:
Water was placed for the ablution of Allah's Messenger (ﷺ) after Janaba. He poured water with his right hand over his left twice or thrice and then washed his private parts and rubbed his hand on the earth or on a wall twice or thrice and then rinsed his mouth, washed his nose by putting water in it and then blowing it out and then washed his face and forearms and poured water over his head and washed his body. Then he shifted from that place and washed his feet. I brought a piece of cloth, but he did not take it and removed the traces of water from his body with his hand."
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا انھوں نے سالم کے واسطہ سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ، انھوں نے ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ، انھوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا ۔ پھر شرمگاہ دھوئی ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا ۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا ۔ پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے ۔
Narrated Abu Huraira:
Once the call (Iqama) for the prayer was announced and the rows were straightened. Allah's Messenger (ﷺ) came out; and when he stood up at his Musalla, he remembered that he was Junub. Then he ordered us to stay at our places and went to take a bath and then returned with water dropping from his head. He said, "Allahu-Akbar", and we all offered the prayer with him.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم کو یونس نے خبر دی زہری کے واسطے سے ، وہ ابوسلمہ سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں ، لوگ کھڑے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے ۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے ۔
Narrated Maimuna:
I placed water for the bath of the Prophet (ﷺ) and screened him with a garment. He poured water over his hands and washed them. After that he poured water with his right hand over his left and washed his private parts, rubbed his hands with earth and washed them, rinsed his mouth, washed his nose by putting water in it and then blowing it out and then washed his face and forearms. He poured water over his head and body. He then shifted from that place and washed his feet. I gave him a piece of cloth but he did not take it and came out removing the water (from his body) with both his hands.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوحمزہ ( محمد بن میمون ) نے ، کہا میں نے اعمش سے سنا ، انھوں نے سالم بن ابی الجعد سے ، انھوں نے کریب سے ، انھوں نے ابن عباس سے ، آپ نے کہا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے پردہ کر دیا ۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا ۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پانی لیا اور شرمگاہ دھوئی ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر مارا اور دھویا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور بازو دھوئے ۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام غسل سے ایک طرف ہو گئے ۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے ۔ اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا دینا چاہا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے ۔
Narrated Aisha:
Whenever any one of us was Junub, she poured water over her head thrice with both her hands and then rubbed the right side of her head with one hand and rubbed the left side of the head with the other hand.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا ، انھوں نے حسن بن مسلم سے روایت کی ، وہ صفیہ بنت شیبہ سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ نے فرمایا کہ
ہم ازواج ( مطہرات ) میں سے کسی کو اگر جنابت لاحق ہوتی تو وہ ہاتھوں میں پانی لے کر سر پر تین مرتبہ ڈالتیں ۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر سر کے داہنے حصے کا غسل کرتیں اور دوسرے ہاتھ سے بائیں حصے کا غسل کرتیں ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, 'The (people of) Bani Israel used to take bath naked (all together) looking at each other. The Prophet (ﷺ) Moses used to take a bath alone. They said, 'By Allah! Nothing prevents Moses from taking a bath with us except that he has a scrotal hernia.' So once Moses went out to take a bath and put his clothes over a stone and then that stone ran away with his clothes. Moses followed that stone saying, "My clothes, O stone! My clothes, O stone! till the people of Bani Israel saw him and said, 'By Allah, Moses has got no defect in his body. Moses took his clothes and began to beat the stone." Abu Huraira added, "By Allah! There are still six or seven marks present on the stone from that excessive beating."
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، انھوں نے معمر سے ، انھوں نے ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے ۔ اس پر انھوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں ۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا ۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے ۔ آپ کہتے جاتے تھے ۔ اے پتھر ! میرا کپڑا دے ۔ اے پتھر ! میرا کپڑا دے ۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "When the Prophet (ﷺ) Job (Aiyub) was taking a bath naked, golden locusts began to fall on him. Job started collecting them in his clothes. His Lord addressed him, 'O Job! Haven't I given you enough so that you are not in need of them.' Job replied, 'Yes!' By Your Honor (power)! But I cannot dispense with Your Blessings.' "
اور اسی سند کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ
( ایک بار ) ایوب علیہ السلام ننگے غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ پر گرنے لگیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے ۔ اتنے میں ان کے رب نے انہیں پکارا ۔ کہ اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بےنیاز نہیں کر دیا ، جسے تم دیکھ رہے ہو ۔ ایوب علیہ السلام نے جواب دیا ہاں تیری بزرگی کی قسم ۔ لیکن تیری برکت سے میرے لیے بے نیازی کیونکر ممکن ہے ۔ اور اس حدیث کو ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے ، وہ صفوان سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ ابوہریرہ سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اس طرح نقل کرتے ہیں ’’ جب کہ حضرت ایوب علیہ السلام ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے ‘‘ ( آخر تک ) ۔
Narrated Um Hani bint Abi Talib:
I went to Allah's Messenger (ﷺ) in the year of the conquest of Mecca and found him taking a bath while Fatima was screening him. The Prophet (ﷺ) asked, "Who is it?" I replied, "I am Um-Hani."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے روایت کی ۔ انھوں نے امام مالک سے ، انھوں نے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے مولیٰ ابومرہ نے انہیں بتایا کہ انھوں نے ام ہانی بنت ابی طالب کو یہ کہتے سنا کہ
میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں ۔ میں نے عرض کی کہ میں ام ہانی ہوں ۔
Narrated Maimuna:
I screened the Prophet (ﷺ) while he was taking a bath of Janaba. He washed his hands, poured water from his right hand over his left and washed his private parts. Then he rubbed his hand over a wall or the earth, and performed ablution similar to that for the prayer but did not wash his feet. Then he poured water over his body, shifted from that place, and washed his feet.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انھوں نے اعمش سے ، وہ سالم بن ابی الجعد سے ، وہ کریب سے ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، وہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے کہا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کیا تھا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے ، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر ( دھویا ) پھر نماز کی طرح وضو کیا ۔ پاؤں کے علاوہ ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا ۔ اس حدیث میں ابوعوانہ اور محمد بن فضیل نے بھی پردے کا ذکر کیا ہے ۔
Narrated Um-Salama(the mother of the believers):
Um Sulaim, the wife of Abu Talha, came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Verily Allah is not shy of (telling you) the truth. Is it necessary for a woman to take a bath after she has a wet dream (nocturnal sexual discharge)?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "Yes, if she notices a discharge."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، انھوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے ، انھوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے ، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے ، انھوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہ
ام سلیم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا ۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں اگر ( اپنی منی کا ) پانی دیکھے ( تو اسے بھی غسل کرنا ہو گا ) ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) came across me in one of the streets of Medina and at that time I was Junub. So I slipped away from him and went to take a bath. On my return the Prophet (ﷺ) said, "O Abu Huraira! Where have you been?" I replied, "I was Junub, so I disliked to sit in your company." The Prophet (ﷺ) said, "Subhan Allah! A believer never becomes impure."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، کہا ہم سے حمید طویل نے ، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے ابورافع کے واسطہ سے ، انھوں نے ابوہریرہ سے سنا کہ
مدینہ کے کسی راستے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی ۔ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں تھے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا ۔ اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغیر غسل کے بیٹھنا برا جانا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ سبحان اللہ ! مومن ہرگز نجس نہیں ہو سکتا ۔
Narrated Anas bin Malik:
The Prophet (ﷺ) used to visit all his wives in one night and he had nine wives at that time.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) came across me and I was Junub. He took my hand and I went along with him till he sat down I slipped away, went home and took a bath. When I came back, he was still sitting there. He then said to me, "O Abu Huraira! Where have you been?' I told him about it. The Prophet (ﷺ) said, "Subhan Allah! O Abu Huraira! A believer never becomes impure."
ہم سے عیاش نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے ابورافع سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، کہا کہ
میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ۔ اس وقت میں جنبی تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا ۔
Narrated Abu Salama:
I asked `Aisha "Did the Prophet (ﷺ) use to sleep while he was Junub?" She replied, "Yes, but he used to perform ablution (before going to bed).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام اور شیبان نے ، وہ یحیٰی سے ، وہ ابوسلمہ سے
کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے ؟ کہا ہاں لیکن وضو کر لیتے تھے ۔
Narrated `Umar bin Al-Khattab:
I asked Allah's Messenger (ﷺ) "Can any one of us sleep while he is Junub?" He replied, "Yes, if he performs ablution, he can sleep while he is Junub."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے نافع سے ، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ فرمایا "ہاں ، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو ۔"
Narrated `Aisha:
Whenever the Prophet (ﷺ) intended to sleep while he was Junub, he used to wash his private parts and perform ablution like that for the prayer.
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے عبیداللہ بن ابی الجعد کے واسطے سے ، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے عروہ سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے ۔