Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No. 591)
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی خداوند کریم ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لئے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا ۔
Narrated Masruq:
I asked Um Ruman, `Aisha's mother about the accusation forged against `Aisha رضی اللہ عنہا . She said, "While I was sitting with `Aisha رضی اللہ عنہا , an Ansari woman came to us and said, 'Let Allah condemn such-and-such person.' I asked her, 'Why do you say so?' She replied, 'For he has spread the (slanderous) story.' `Aisha رضی اللہ عنہا said, 'What story?' The woman then told her the story. `Aisha رضی اللہ عنہا asked, 'Have Abu Bakr رضی اللہ عنہ and Allah's Messenger (ﷺ) heard about it ?' She said, 'Yes.' `Aisha رضی اللہ عنہا fell down senseless (on hearing that), and when she came to her senses, she got fever and shaking of the body. The Prophet (ﷺ) came and asked, 'What is wrong with her?' I said, 'She has got fever because of a story which has been rumored.' `Aisha رضی اللہ عنہ got up and said, 'By Allah! Even if I took an oath, you would not believe me, and if I put forward an excuse, You would not excuse me. My example and your example is just like that example of Jacob and his sons. Against that which you assert, it is Allah (Alone) Whose Help can be sought.' (12.18) The Prophet (ﷺ) left and then Allah revealed the Verses (concerning the matter), and on that `Aisha رضی اللہ عنہ said, 'Thanks to Allah (only) and not to anybody else."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن فضیل نے خبر دی ‘ کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے مسروق نے بیان کیا کہ
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو بہتان تراشا گیا تھا اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک انصاریہ عورت ہمارے یہاں آئی اور کہا کہ اللہ فلاں ( مسطح بن اثاثہ ) کو تباہ کر دے اور وہ اسے تباہ کر بھی چکا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ اسی نے تو یہ جھوٹ مشہور کیا ہے ۔ پھر انصاریہ عورت نے ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا سارا ) واقعہ بیان کیا ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنی والدہ سے ) پوچھا کہ کون سا واقعہ ؟ تو ان کی والدہ نے انہیں واقعہ کی تفصیل بتائی ۔ عائشہ نے پوچھا کہ کیا یہ قصہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معلوم ہو گیا ہے ؟ ان کی والدہ نے بتایا کہ ہاں ۔ یہ سنتے ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیہوش ہو کر گر پڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ ایک بات ان سے ایسی کہی گئی تھی اور اسی کے صدمے سے ان کو بخار آ گیا ہے ۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کہا اللہ کی قسم ! اگر میں قسم کھاؤں جب بھی آپ لوگ میری بات نہیں مان سکتے اور اگر کوئی عذر بیان کروں تو اسے بھی تسلیم نہیں کر سکتے ۔ بس میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ہے ( کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کی من گھڑت کہانی سن کر فرمایا تھا کہ ) ” جو کچھ تم کہہ رہے ہو میں اس پر اللہ ہی کی مدد چاہتا ہوں ۔ “ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا وہ نازل فرمایا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی تو انہوں نے کہا کہ اس کے لئے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں ۔
Narrated `Urwa:
I asked `Aisha رضی اللہ عنہا the wife of the Prophet (ﷺ) about the meaning of the following Verse: -- "(Respite will be granted) 'Until when the apostles give up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people)..............."(12.110) `Aisha رضی اللہ عنہا replied, "Really, their nations did not believe them." I said, "By Allah! They were definite that their nations treated them as liars and it was not a matter of suspecting." `Aisha رضی اللہ عنہا said, "O 'Uraiya (i.e. `Urwa)! No doubt, they were quite sure about it." I said, "May the Verse be read in such a way as to mean that the apostles thought that Allah did not help them?" Aisha رضی اللہ عنہا said, "Allah forbid! (Impossible) The Apostles did not suspect their Lord of such a thing. But this Verse is concerned with the Apostles' followers who had faith in their Lord and believed in their apostles and their period of trials was long and Allah's Help was delayed till the apostles gave up hope for the conversion of the disbelievers amongst their nation and suspected that even their followers were shaken in their belief, Allah's Help then came to them." Imam Abdullah Bukhari says: "اسْتَيْأَسُوا" , "يَئِسْتُ" is from the head " افْتَعَلُو" . "مِنْهُ" i.e. they became disappointed from Hadrat Yousuf (Joseph) لاَ تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ" .علیہ السلام. " means " hope".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے متعلق پوچھاحتیٰ اذا استیئس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا ( تشدید کے ساتھ ) ہے یا کذبوا ( بغیر تشدید کے ) یعنی یہاں تک کہ جب انبیاء ناامید ہو گئے اور انہیں خیال گزرنے لگا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا تو اللہ کی مدد پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ( یہ تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا ۔ میں نے عرض کیا کہ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ہی کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے ۔ پھر قرآن میں لفظ ظن گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے چھوٹے سے عروہ ! بیشک ان کو تو یقین تھا میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے کذبوا ہو گا یعنی پیغمبر یہ سمجھے کہ اللہ نے جو ان کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ غلط تھا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا معاذاللہ ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک خدا کی آزمائش رہی اور مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ہو گئے ( سمجھے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے ) اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ہیں وہ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ استیاسوا ‘ افتعلوا کے وزن پر ہے جو یئستمنہ سے نکلا ہے ‘ ای من یوسف ( سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملہ ہے یعنی زلیخا یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئی » لا تایئسوا من رّوح اللّٰہ « ( یوسف : 87 ) یعنی اللہ سے امید رکھو ناامید نہ ہو ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph علیہم السلام, the son of Jacob! the son of Isaac, the son of Abraham."
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing."'
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں ۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے ۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب ! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) returned to Khadija رضی اللہ عنہا while his heart was beating rapidly. She took him to Waraqa bin Naufal who was a Christian convert and used to read the Gospels in Arabic Waraqa asked (the Prophet), "What do you see?" When he told him, Waraqa said, "That is the same angel whom Allah sent to the Prophet) Moses. Should I live till you receive the Divine Message, I will support you strongly. "النَّامُوسُ" means a confidant to whom a person confides his those secrets which he does not reveal to any other.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ‘
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غار حراء سے ) ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ آئے تو آپ کا دل دھڑک رہا تھا ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے ۔ ورقہ نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ ” ناموس “ جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا ۔ ناموس محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے ۔
Narrated Malik bin Sasaa رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) talked to his companions about his Night Journey to the Heavens. When he reached the fifth Heaven, he met Aaron. (Gabriel said to the Prophet), "This is Aaron." The Prophet (ﷺ) said, "Gabriel greeted and so did I, and he returned the greeting saying, 'Welcome, O Pious Brother and Pious Prophet." Thabit, Abbad bin Abu Ali, Hadrat Anas reported it from the prophet (ﷺ).
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں ‘ انہیں سلام کیجئے ۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا ‘ خوش آمدید ‘ صالح بھائی اور صالح نبی ۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the night of my Ascension to Heaven, I saw (the prophet) Moses who was a thin person with lank hair, looking like one of the men of the tribe of Shanua; and I saw Jesus who was of average height with red face as if he had just come out of a bathroom. And I resemble prophet Abraham more than any of his offspring does. Then I was given two cups, one containing milk and the other wine. Gabriel said, 'Drink whichever you like.' I took the milk and drank it. Gabriel said, 'You have accepted what is natural, (True Religion i.e. Islam) and if you had taken the wine, your followers would have gone astray.' "
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ کہا ہم کومعمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے ۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابرہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں ۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے ۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی ۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے ‘ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا ۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا ( دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے ) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "One should not say that I am better than Jonah (i.e. Yunus) bin Matta." So, he mentioned his father Matta. The Prophet (ﷺ) mentioned the night of his Ascension and said, "The prophet Moses was brown, a tall person as if from the people of the tribe of Shanu'a. Jesus was a curly-haired man of moderate height." He also mentioned Malik, the gate-keeper of the (Hell) Fire, and Ad-Dajjal.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالعالیہ نے بیان کیا اور ان سے تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کو یوں نہ کہنا چاہئے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ان کے والد کی طرف منسوب کر کے لیا ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام گندم گوں اور دراز قد تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے قبیلہ شنوہ کے کوئی صاحب ہوں اور فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بال والے اور میانہ قد کے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے داروغہ جہنم مالک کا بھی ذکر فرمایا اور دجال کا بھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When the Prophet (ﷺ) came to Medina, he found (the Jews) fasting on the day of 'Ashura' (i.e. 10th of Muharram). They used to say: "This is a great day on which Allah saved Moses and drowned the folk of Pharaoh. Moses observed the fast on this day, as a sign of gratitude to Allah." The Prophet (ﷺ) said, "I am closer to Moses than they." So, he observed the fast (on that day) and ordered the Muslims to fast on it.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر کے صاحبزادے ( عبداللہ ) نے اپنے والد سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ ان لوگوں ( یہودیوں ) نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے ‘ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا ۔ اس کے شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں ۔ چنانچہ آپ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا ۔
Narrated Abu Sa`id:
The Prophet (ﷺ) said, 'People will be struck unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to regain consciousness, and behold! There I will see Moses holding one of the pillars of Allah's Throne. I will wonder whether he has become conscious before me of he has been exempted, because of his unconsciousness at the Tur (mountain) which he received (on the earth).
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے ان کے والد یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے ‘ پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں ۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا ( بیہوش ہی نہیں کئے گئے ہوں گے بلکہ ) انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Were it not for Bani Israel, meat would not decay; and were it not for Eve, no woman would ever betray her husband."
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے ( سلویٰ کا گوشت جمع کر کے نہ رکھتے ) تو گوشت کبھی نہ سڑتا ۔ اور اگر حوانہ ہوتیں ( یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے دغا نہ کرتیں ) تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
He differed with Al-Hur bin Qais Al-Fazari رضی اللہ عنہ regarding the companion of Moses. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said that he was Al-Khadir. Meanwhile Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ passed by them and Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما called him saying, "My friend and I have differed regarding Moses' companion whom Moses asked the way to meet. Have you heard Allah's Messenger (ﷺ) mentioning something about him?" He said, "Yes, I heard Allah's Apostle saying, 'While Moses was sitting in the company of some Israelites, a man came and asked (him), 'Do you know anyone who is more learned than you?' Moses replied, 'No.' So, Allah sent the Divine Inspiration to Moses: 'Yes, Our slave, Khadir (is more learned than you).' Moses asked how to meet him (i.e. Khadir). So, the fish, was made, as a sign for him, and he was told that when the fish was lost, he should return and there he would meet him. So, Moses went on looking for the sign of the fish in the sea. The servant boy of Moses said to him, 'Do you know that when we were sitting by the side of the rock, I forgot the fish, and t was only Satan who made me forget to tell (you) about it.' Moses said, That was what we were seeking after,' and both of them returned, following their footmarks and found Khadir; and what happened further to them, is mentioned in Allah's Book."
ہم سے عمر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا اختلاف ہوا ۔ پھر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اپنے ان ساتھی سے صاحب موسیٰ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے جن سے ملاقات کے لئے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا ‘ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ان کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں ‘ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نبی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا ‘ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اس تمام زمین پر آپ سے زیادہ علم رکھنے والا ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ کیوں نہیں ‘ ہمارا بندہ خضر ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو انہیں مچھلی کو اس کی نشانی کے طور پر بتایا گیا اور کہا گیا کہ جب مچھلی گم ہو جائے ( تو جہاں گم ہوئی ہو وہاں ) واپس آ جانا وہیں ان سے ملاقات ہو گی ۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام دریا میں ( سفر کے دوران ) مچھلی کی برابر نگرانی کرتے رہے ۔ پھر ان سے ان کے رفیق سفر نے کہا کہ آپ نے خیال نہیں کیا جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل رکھا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی کی تو ہمیں تلاش ہے چنانچہ یہ بزرگ اسی راستے سے پیچھے کی طرف لوٹے اور حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ان دونوں کے ہی وہ حالات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان فرمایا ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Nauf Al-Bukah claims that Moses, the companion of Al-Khadir was not Moses (the prophet) of the children of Israel, but some other Moses." Ibn `Abbas Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "Allah's enemy (i.e. Nauf) has told a lie. Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ told us that the Prophet (ﷺ) said, 'Once Moses stood up and addressed Bani Israel. He was asked who was the most learned man amongst the people. He said, 'I.' Allah admonished him as he did not attribute absolute knowledge to Him (Allah). So, Allah said to him, 'Yes, at the junction of the two seas there is a Slave of Mine who is more learned than you.' Moses said, 'O my Lord! How can I meet him?' Allah said, 'Take a fish and put it in a large basket and you will find him at the place where you will lose the fish.' Moses took a fish and put it in a basket and proceeded along with his (servant) boy, Yusha` bin Noon, till they reached the rock where they laid their heads (i.e. lay down). Moses slept, and the fish, moving out of the basket, fell into the sea. It took its way into the sea (straight) as in a tunnel. Allah stopped the flow of water over the fish and it became like an arch (the Prophet (ﷺ) pointed out this arch with his hands). They travelled the rest of the night, and the next day Moses said to his boy (servant), 'Give us our food, for indeed, we have suffered much fatigue in this journey of ours.' Moses did not feel tired till he crossed that place which Allah had ordered him to seek after. His boy (servant) said to him, 'Do you know that when we were sitting near that rock, I forgot the fish, and none but Satan caused me to forget to tell (you) about it, and it took its course into the sea in an amazing way?.' So there was a path for the fish and that astonished them. Moses said, 'That was what we were seeking after.' So, both of them retraced their footsteps till they reached the rock. There they saw a man Lying covered with a garment. Moses greeted him and he replied saying, 'How do people greet each other in your land?' Moses said, 'I am Moses.' The man asked, 'Moses of Bani Israel?' Moses said, 'Yes, I have come to you so that you may teach me from those things which Allah has taught you.' He said, 'O Moses! I have some of the Knowledge of Allah which Allah has taught me, and which you do not know, while you have some of the Knowledge of Allah which Allah has taught you and which I do not know.' Moses asked, 'May I follow you?' He said, 'But you will not be able to remain patient with me for how can you be patient about things which you will not be able to understand?' (Moses said, 'You will find me, if Allah so will, truly patient, and I will not disobey you in aught.') So, both of them set out walking along the sea-shore, a boat passed by them and they asked the crew of the boat to take them on board. The crew recognized Al-Khadir and so they took them on board without fare. When they were on board the boat, a sparrow came and stood on the edge of the boat and dipped its beak once or twice into the sea. Al-Khadir said to Moses, 'O Moses! My knowledge and your knowledge have not decreased Allah's Knowledge except as much as this sparrow has decreased the water of the sea with its beak.' Then suddenly Al-Khadir took an adze and plucked a plank, and Moses did not notice it till he had plucked a plank with the adze. Moses said to him, 'What have you done? They took us on board charging us nothing; yet you I have intentionally made a hole in their boat so as to drown its passengers. Verily, you have done a dreadful thing.' Al-Khadir replied, 'Did I not tell you that you would not be able to remain patient with me?' Moses replied, 'Do not blame me for what I have forgotten, and do not be hard upon me for my fault.' So the first excuse of Moses was that he had forgotten. When they had left the sea, they passed by a boy playing with other boys. Al-Khadir took hold of the boys head and plucked it with his hand like this. (Sufyan, the sub narrator pointed with his fingertips as if he was plucking some fruit.) Moses said to him, "Have you killed an innocent person who has not killed any person? You have really done a horrible thing." Al-Khadir said, "Did I not tell you that you could not remain patient with me?' Moses said "If I ask you about anything after this, don't accompany me. You have received an excuse from me.' Then both of them went on till they came to some people of a village, and they asked its inhabitant for wood but they refused to entertain them as guests. Then they saw therein a wall which was just going to collapse (and Al Khadir repaired it just by touching it with his hands). (Sufyan, the sub-narrator, pointed with his hands, illustrating how Al-Khadir passed his hands over the wall upwards.) Moses said, "These are the people whom we have called on, but they neither gave us food, nor entertained us as guests, yet you have repaired their wall. If you had wished, you could have taken wages for it." Al-Khadir said, "This is the parting between you and me, and I shall tell you the explanation of those things on which you could not remain patient." The Prophet (ﷺ) added, "We wished that Moses could have remained patient by virtue of which Allah might have told us more about their story. (Sufyan the sub-narrator said that the Prophet (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Moses! If he had remained patient, we would have been told further about their case.") And Hadrat Ibn-e-Abbaas رضی اللہ عنہما recited the verse in this way: And before them, there was a king who used to seize every perfect boat forcibly. And the Young man (killed by Hadrat Khadir) was an Infidel and his parents were Muslims. Sufyan said to me: I have heard this Hadith twice from Amr bin Dinaar and memorized it. Sufyan was asked: Have you memorized this Hadith before hearing it from anybody (else Amr)? Have anybody reported it from Amr else me! I have memorized this Hadith after hearing it from him twice or thrice.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ
نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ موسیٰ ‘ صاحب خضر بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے موسیٰ ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دشمن خدا نے بالکل غلط بات کہی ہے ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نبی اسرائیل کو کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے ‘ انہوں نے فرمایا کہ میں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ کیوں نہیں میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا آ کر ملتے ہیں وہاں رہتا ہے اور تم سے زیادہ علم والا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا اے رب العالمین ! میں ان سے کس طرح مل سکوں گا ؟ سفیان نے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے کہ ” اے رب ! ” وکیف لی بہ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی پکڑ کر اسے اپنے تھیلے میں رکھ لینا ‘ جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے بس میرا بندہ وہیں تم کو ملے گا ۔ بعض دفعہ راوی نے ( بجائے فھوثم کے ) فھوثمہ کہا ۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لے لی اور اسے ایک تھیلے میں رکھ لیا ۔ پھر وہ اور ایک ان کے رفیق سفر یوشع بن نون روانہ ہوئے ‘ جب یہ چٹان پر پہنچے تو سر سے ٹیک لگالی ‘ موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی اور مچھلی تڑپ کر نکلی اور دریا کے اندر چلی گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ محراب کی طرح ہو گئی ‘ انہوں نے واضح کیا کہ یوں محراب کی طرح ۔ پھر یہ دونوں اس دن اور رات کے باقی حصے میں چلتے رہے ‘ جب دوسرا دن آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر سے فرمایا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ کیونکہ ہم اپنے سفر میں بہت تھک گئے ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکان محسوس نہیں کی تھی جب تک وہ اس مقررہ جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا ۔ ان کے رفیق نے کہا کہ دیکھئیے تو سہی جب چٹان پر اترے تھے تو میں مچھلی ( کے متعلق کہنا ) آپ سے بھول گیا اور مجھے اس کی یاد سے شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو وہیں ( چٹان کے قریب ) دریا میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنا لیا تھا ۔ مچھلی کو تو راستہ مل گیا اور یہ دونوں حیران تھے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے ہیں ۔ چنانچہ یہ دونوں اسی راستے سے پیچھے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ اپنا سارا جسم ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا پھر کہا کہ تمہارے خطے میں سلام کا رواج کہاں سے آ گیا ؟ موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں ۔ انہوں نے پوچھا ‘ بنی اسرائیل کے موسیٰ ؟ فرمایا کہ جی ہاں ۔ میں آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم نافع سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا اے موسیٰ ! میرے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے اور آپ اس کو نہیں جانتے ۔ اسی طرح آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اسے نہیں جانتا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے اور واقعی آپ ان کاموں کے بارے میں صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد امراًتک آخر موسیٰ اور خضر علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے چلے ۔ پھر ان کے قریب سے ایک کشتی گزری ۔ ان حضرات نے کہا کہ انہیں بھی کشتی والے کشتی پر سوار کر لیں ۔ کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کوئی مزدوری لئے بغیر ان کو سوار کر لیا ۔ جب یہ حضرات اس پر سوار ہو گئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا ۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ ! میرے اور آپ کے علم کی وجہ سے اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں ہوئی جتنی اس چڑیا کے دریا میں چونچ مارنے سے دریا کے پانی میں کمی ہوئی ہو گی ۔ اتنے میں خضر علیہ السلام نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو نظر اٹھائی تو وہ اپنی کلہاڑی سے تختہ نکال چکے تھے ۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ یہ آپ نے کیا کیا ؟ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا انہیں کی کشتی پر آپ نے بری نظر ڈالی اور اسے چیر دیا کہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے نہایت ناگوار کام کیا ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ‘ کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ( یہ بےصبری اپنے وعدہ کو بھول جانے کی وجہ سے ہوئی ‘ اس لئے ) آپ اس چیز کا مجھ سے مواخذہ نہ کریں جو میں بھول گیا تھا اور میرے معاملے میں تنگی نہ فرمائیں ۔ یہ پہلی بات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوئی تھی پھر جب دریائی سفر ختم ہوا تو ان کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے ( ڈھر سے ) جدا کر دیا ۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے ( جدا کرنے کی کیفیت بتانے کے لئے ) اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں ۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے ایک جان کو ضائع کر دیا ۔ کسی دوسری جان کے بدلے میں بھی یہ نہیں تھا ۔ بلاشبہ آپ نے ایک برا کام کیا ۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا ‘ کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا اچھا اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو پھر آپ مجھے ساتھ نہ لے چلئے گا ، بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے ہیں ۔ پھر یہ دونوں آگے بڑھے اور جب ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنا لیں ‘ لیکن انہوں نے انکار کیا ۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی ۔ خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا ۔ سفیان نے ( کیفیت بتانے کے لئے ) اس طرح اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز اوپر کی طرف پھیر رہے ہوں ۔ میں نے سفیان سے ” مائلا “ کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا تھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ تو ایسے تھے کہ ہم ان کے یہاں آئے اور انہوں نے ہماری میزبانی سے بھی انکار کیا ۔ پھر ان کی دیوار آپ نے ٹھیک کر دی ‘ اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت ان سے لے سکتے تھے ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گئی جن باتوں پر آپ صبر نہیں کر سکتے ‘ میں ان کی تاویل و توجیہ اب تم پر واضح کر دوں گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری تو خواہش یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ تکوینی واقعات ہمارے لئے بیان کرتا ۔ سفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ‘ اگر انہوں نے صبر کیا ہوتا تو ان کے ( مزید واقعات ) ہمیں معلوم ہوتے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ( جمہور کی قرآت ورائھمکے بجائے ) ” امامھم ملک یاخذ کل سفینۃ غضبا “ پڑھا ہے ۔ اور وہ بچہ ( جس کی حضرت خضر علیہ السلام نے جان لی تھی ) کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے ۔ پھر مجھ سے سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی اور انہیں سے ( سن کر ) یاد کی تھی ۔ سفیان نے کسی سے پوچھا تھا کہ کیا یہ حدیث آپ نے عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے ہی کسی دوسرے شخص سے سن کر ( جس نے عمرو بن دینار سے سنی ہو ) یاد کی تھی ؟ یا ( اس کے بجائے یہ جملہ کہا ) ”تحفظتہ من انسان دو مرتبہ “ ( شک علی بن عبداللہ کو تھا ) تو سفیان نے کہا کہ دوسرے کسی شخص سے سن کر میں یاد کرتا ‘ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے بھی روایت کیا ہے ؟ میں نے ان سے یہ حدیث دو یا تین مرتبہ سنی اور انہیں سے سن کر یاد کی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Al-Khadir علیہ السلام was named so because he sat over a barren white land, it turned green with plantation after (his sitting over it."
ہم سے محمد بن سعید اصبہانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خضر علیہ السلام کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سوکھی زمین ( جہاں سبزی کا نام بھی نہ تھا ) پر بیٹھے ۔ لیکن جوں ہی وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "It was said to Bani Israel, Enter the gate (of the town) with humility (prostrating yourselves) and saying: "Repentance", but they changed the word and entered the town crawling on their buttocks and saying: "A wheat grain in the hair."
مجھ سے اسحاق بن نصرنے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے ‘ ان سے ہمام بن منبہ نے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ نبی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ بیت المقدس میں سجدہ و رکوع کرتے ہوئے داخل ہوں اور یہ کہتے ہوئے کہ یا اللہ ! ہم کو بخش دے ۔ لیکن انہوں نے اس کو الٹا کیا اور اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے ” حبۃ فی شعرہ “ ( یعنی بالیوں میں دانے خوب ہوں ) داخل ہوئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Moses was a shy person and used to cover his body completely because of his extensive shyness. One of the children of Israel hurt him by saying, 'He covers his body in this way only because of some defect in his skin, either leprosy or scrotal hernia, or he has some other defect.' Allah wished to clear Moses of what they said about him, so one day while Moses was in seclusion, he took off his clothes and put them on a stone and started taking a bath. When he had finished the bath, he moved towards his clothes so as to take them, but the stone took his clothes and fled; Moses picked up his stick and ran after the stone saying, 'O stone! Give me my garment!' Till he reached a group of Bani Israel who saw him naked then, and found him the best of what Allah had created, and Allah cleared him of what they had accused him of. The stone stopped there and Moses took and put his garment on and started hitting the stone with his stick. By Allah, the stone still has some traces of the hitting, three, four or five marks. This was what Allah refers to in His Saying:-- "O you who believe! Be you not like those Who annoyed Moses, But Allah proved his innocence of that which they alleged, And he was honorable In Allah's Sight." (33.69)
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے عوف بن ابو جمیلہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام حسن بصری اور محمد بن سیرین اور خلاس بن عمرو نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بڑے ہی شرم والے اور بدن ڈھانپنے والے تھے ۔ ان کی حیاء کی وجہ سے ان کے بدن کو کوئی حصہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔ بنی اسرائیل کے جو لوگ انہیں اذیت پہنچانے کے درپے تھے ‘ وہ کیوں باز رہ سکتے تھے ‘ ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس درجہ بدن چھپانے کا اہتمام صرف اس لئے ہے کہ ان کے جسم میں عیب ہے یا کوڑھ ہے یا ان کے خصیتین بڑھے ہوئے ہیں یا پھر کوئی اور بیماری ہے ۔ ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ان کی ہفوات سے پاکی دکھلائے ۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرنے کے لئے آئے ایک پتھر پر اپنے کپڑے ( اتار کر ) رکھ دیئے ۔ پھر غسل شروع کیا ۔ جب فارغ ہوئے تو کپڑے اٹھانے کے لئے بڑھے لیکن پتھر ان کے کپڑوں سمیت بھاگنے لگا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا اٹھایا اور پتھر کے پیچھے دوڑے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ پتھر ! میرا کپڑا دیدے ۔ آخر نبی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے اور ان سب نے آپ کو ننگا دیکھ لیا ‘ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر حالت میں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی تہمت سے ان کی برات کر دی ۔ اب پتھر بھی رک گیا اور آپ نے کپڑا اٹھا کر پہنا ۔ پھر پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے ۔ خدا کی قسم اس پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ جگہ نشان پڑ گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” تم ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی تھی ‘ پھر ان کی تہمت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری قرار دیا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں بڑی شان والے اور عزت والے تھے ۔ “ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Once the Prophet (ﷺ) distributed something (among his followers. A man said, "This distribution has not been done (with justice) seeking Allah's Countenance." I went to the Prophet (ﷺ) and told him (of that). He became so angry that I saw the signs of anger oh his face. Then he said, "May Allah bestow His Mercy on Moses, for he was harmed more (in a worse manner) than this; yet he endured patiently."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے سنا‘انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ کہتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مال تقسیم کیا ‘ ایک شخص نے کہا کہ یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا جوئی کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا ۔ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی ۔ آپ غصہ ہوئے اور میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے ۔ پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ‘ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تھی مگر انہوں نے صبر کیا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:
We were with Allah's Messenger (ﷺ) picking the fruits of the 'Arak trees, and Allah's Messenger (ﷺ) said, "Pick the black fruit, for it is the best." The companions asked, "Were you a shepherd?" He replied, "There was no prophet who was not a shepherd."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
( ایک مرتبہ ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر میں ) پیلو کے پھل توڑنے لگے ۔ آپ نے فرمایا کہ جو سیاہ ہوں انہیں توڑو ‘ کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ‘ کیا حضور نے کبھی بکریاں چرائی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Angel of Death was sent to Moses when he came to Moses, Moses slapped him on the eye. The angel returned to his Lord and said, "You have sent me to a Slave who does not want to die." Allah said, "Return to him and tell him to put his hand on the back of an ox and for every hair that will come under it, he will be granted one year of life." Moses said, "O Lord! What will happen after that?" Allah replied, "Then death." Moses said, "Let it come now." Moses then requested Allah to let him die close to the Sacred Land so much so that he would be at a distance of a stone's throw from it." Abu Huraira رضی اللہ عنہ added, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If I were there, I would show you his grave below the red sand hill on the side of the road." He (Abdur Razzaq) said: Mamar has narrated to us from Hammam, (he said) Hadrat Abu Huraira رضی اللہ عنہ has reported this Hdith likewise from the prophet (ﷺ).
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاوس نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت کو بھیجا ‘ جب ملک الموت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں چانٹا مارا ( کیونکہ وہ انسان کی صورت میں آیا تھا ) ملک الموت ‘ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں واپس ہوئے اور عرض کیا کہ تو نے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس مجھے بھیجا جو موت کے لئے تیار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنا ہا تھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں ، ان کے ہاتھ میں جتنے بال اس کے آ جائیں ان میں سے ہر بال کے بدلے ایک سال کی عمر انہیں دی جائے گی ( ملک الموت دوبارہ آئے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سنایا ) حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے اے رب ! پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر موت ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پھر ابھی کیوں نہ آ جائے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بیت المقدس سے مجھے اتنا قریب کر دیا جائے کہ ( جہاں ان کی قبر ہو وہاں سے ) اگر کوئی پتھر پھینکے تو وہ بیت المقدس تک پہنچ سکے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں موجود ہوتا تو بیت المقدس میں ‘ میں تمہیں ان کی قبر دکھاتا جو راستے کے کنارے پر ہے ‘ ریت کے سرخ ٹیلے سے نیچے ۔ عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ۔