Back to Sahih Bukhari

Prophetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (PBUH))

كتاب التفسير

Chapter 66

Hadith 4679
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِمَّنْ يَكْتُبُ الْوَحْىَ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، إِلاَّ أَنْ تَجْمَعُوهُ، وَإِنِّي لأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ‏.‏ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لاَ يَتَكَلَّمُ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ وَلاَ نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ‏.‏ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلاَنِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالأَكْتَافِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ ‏{‏لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ‏}‏ إِلَى آخِرِهِمَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ‏.‏ تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ‏.‏ وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ‏.‏ وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَقَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ‏.‏
English

Narrated Zaid bin Thabit Al-Ansari رضی اللہ عنہ :

When the Muslims were fighting with the people of Yamamah, who was one of those who used to write the Divine Revelation: Abu Bakr رضی اللہ عنہ sent for me after the (heavy) casualties among the warriors (of the battle) of Yamama (where a great number of Qurra' were killed). `Umar رضی اللہ عنہ was present with Abu Bakr رضی اللہ عنہ who said, `Umar رضی اللہ عنہ has come to me and said, The people have suffered heavy casualties on the day of (the battle of) Yamama, and I am afraid that there will be more casualties among the Qurra' (those who know the Qur'an by heart) at other battle-fields, whereby a large part of the Qur'an may be lost, unless you collect it. And I am of the opinion that you should collect the Qur'an." Abu Bakr رضی اللہ عنہ added, "I said to `Umar رضی اللہ عنہ , 'How can I do something which Allah's Apostle has not done?' `Umar رضی اللہ عنہ said (to me), 'By Allah, it is (really) a good thing.' So `Umar رضی اللہ عنہ kept on pressing, trying to persuade me to accept his proposal, till Allah opened my bosom for it and I had the same opinion as `Umar." (Zaid bin Thabit added:) `Umar رضی اللہ عنہ was sitting with him (Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) and was not speaking. me). "You are a wise young man and we do not suspect you (of telling lies or of forgetfulness): and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Messenger (ﷺ). Therefore, look for the Qur'an and collect it (in one manuscript). " By Allah, if he (Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) had ordered me to shift one of the mountains (from its place) it would not have been harder for me than what he had ordered me concerning the collection of the Qur'an. I said to both of them, "How dare you do a thing which the Prophet has not done?" Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "By Allah, it is (really) a good thing. So I kept on arguing with him about it till Allah opened my bosom for that which He had opened the bosoms of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and `Umar رضی اللہ عنہ . So I started locating Qur'anic material and collecting it from parchments, scapula, leaf-stalks of date palms and from the memories of men (who knew it by heart). I found with Khuza`ima two Verses of Surat-at-Tauba which I had not found with anybody else, (and they were):-- "Verily there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty He (Muhammad) is ardently anxious over you (to be rightly guided)" (9.128) The manuscript on which the Qur'an was collected, remained with Abu Bakr رضی اللہ عنہ till Allah took him unto Him, and then with `Umar رضی اللہ عنہ till Allah took him unto Him, and finally it remained with Hafsa, `Umar's daughter. Shoaib, Uthman bin Amr, Laith, Younus, Ibn-e-Shihab, Laith, Abdur Rehman bin Khalid, Ibn-e-Shihab, Hadrat Khuzaiwah Ansari, Musa, Ibrahim, Ibrahim, Ibn-e-Shihab, Hadrat Abu Khuzaimah, Uaqub bin Ibrahim, Ibrahim bin Sa'd, Abu Thabit, Ibrahim, Hadrat Khuzaimah or Hadrat Abu Khuzaimah.

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عبیداللہ بن سباق نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے جو کاتب وحی تھے، بیان کیا کہ

جب ( 11 ھ ) میں یمامہ کی لڑائی میں ( جو مسلیمہ کذاب سے ہوئی تھی ) بہت سے صحابہ مارے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ ( کفار کے ساتھ ) لڑائیوں میں یونہی قرآن کے علماء اور قاری شہید ہوں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ضرور قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، ایسا کام میں کس طرح کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملہ پر بات کرتے رہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جوان اور سمجھدار ہو ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا بھی کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جابجا سے تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔ اللہ کی قسم! کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے کوئی پہاڑ اٹھا کے لے جانے کے لیے کہتے تو یہ میرے لیے اتنا بھاری نہیں تھا جتنا قرآن کی ترتیب کا حکم۔ میں نے عرض کیا آپ لوگ ایک ایسے کام کے کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔ پھر میں ان سے اس مسئلہ پر گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا۔ جس طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے ( جن پر قرآن مجید لکھا ہوا تھا، اس دور کے رواج کے مطابق ) قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے ( جو قرآن کے حافظ تھے ) حافظہ سے بھی مدد لی اور سورۃ التوبہ کی دو آیتیں خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے ملیں۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس مجھے نہیں ملی تھی۔ ( وہ آیتیں یہ تھیں ) «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم‏» آخر تک۔ پھر مصحف جس میں قرآن مجید جمع کیا گیا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، آپ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، پھر آپ کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی ( ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا ) ۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عثمان بن عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، اور لیث نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا اس میں خزیمہ کے بدلے ابوخزیمہ انصاری ہے اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، اس روایت میں بھی ابوخزیمہ ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل کے ساتھ اس حدیث کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے والد ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اور ابوثابت محمد بن عبیداللہ مدنی نے، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا اس روایت میں شک کے ساتھ خزیمہ یا ابوخزیمہ مذکور ہے۔

Hadith 4680
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَالْيَهُودُ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏ "‏ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُمْ، فَصُومُوا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

When the Prophet (ﷺ) arrived at Medina, the Jews were observing the fast on 'Ashura' (10th of Muharram) and they said, "This is the day when Moses became victorious over Pharaoh," On that, the Prophet (ﷺ) said to his companions, "You (Muslims) have more right to celebrate Moses' victory than they have, so observe the fast on this day."

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر فتح ملی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہم ان سے بھی زیادہ مستحق ہیں اس لیے تم بھی روزہ رکھو۔

Hadith 4681
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقْرَأُ ‏{‏أَلاَ إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ‏}‏ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ أُنَاسٌ كَانُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَتَخَلَّوْا فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ، وَأَنْ يُجَامِعُوا نِسَاءَهُمْ فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ، فَنَزَلَ ذَلِكَ فِيهِمْ‏.‏
English

Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :

He reciting: "No doubt! They fold up their breasts." (11.5) and asked him about its explanation. He said, "Some people used to hide themselves while answering the call of nature in an open space lest they be exposed to the sky, and also when they had sexual relation with their wives in an open space lest they be exposed to the sky, so the above revelation was sent down regarding them."

Urdu

ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ

آپ آیت کی قرآت اس طرح کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم‏» میں نے ان سے آیت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔

Hadith 4682
Sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَرَأَ ‏{‏أَلاَ إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ‏}‏ قُلْتُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ مَا تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ فَيَسْتَحِي أَوْ يَتَخَلَّى فَيَسْتَحِي فَنَزَلَتْ ‏{‏أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ‏}‏
English

Narrated Muhammad bin `Abbas bin Ja`far:

Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما recited. "No doubt! They fold up their breasts." I said, "O Abu `Abbas! What is meant by "They fold up their breasts?" He said, "A man used to feel shy on having sexual relation with his wife or on answering the call of nature (in an open space) so this Verse was revealed:-- "No doubt! They fold up their breasts."

Urdu

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی کہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح قرآت کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم‏» محمد بن عباد نے پوچھا: اے ابو العباس! «تثنوني صدورهم‏» کا کیا مطلب ہے؟ بتلایا کہ کچھ لوگ اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے میں حیاء کرتے اور خلاء کے لیے بیٹھتے ہوئے بھی حیاء کرتے تھے۔ انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ «ألا إنهم تثنوني صدورهم‏» آخر آیت تک۔“

Hadith 4683
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلاَ حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ‏}‏ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏{‏يَسْتَغْشُونَ‏}‏ يُغَطُّونَ رُءُوسَهُمْ ‏{‏سِيءَ بِهِمْ‏}‏ سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ‏.‏ ‏{‏وَضَاقَ بِهِمْ‏}‏ بِأَضْيَافِهِ ‏{‏بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ‏}‏ بِسَوَادٍ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏أُنِيبُ‏}‏ أَرْجِعُ‏.‏
English

Narrated `Amr:

Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما recited:-- "No doubt! They fold up their breasts in order to hide from Him. Surely! Even when they cover themselves with their garments.." (11.5) some other people quoted from Hadrat Ibn-e-Abbas يَسْتَغْشُونَ'' : رضی اللہ عنہما'' They cover their heads ''سِيءَ بِهِمْ‏'' misturst them i.e his people. ''وَضَاقَ بِهِمْ‏'': From his guest. ''بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ‏'': in the darkness of the night. Mujahid says: ''أُنِيبُ‏'' means: I repent.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی «ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم‏» اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ «يستغشون‏» یعنی اپنے سر چھپا لیتے ہیں۔ «سيء بهم‏» یعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ «وضاق بهم‏» یعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ «بقطع من الليل‏» یعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا «أنيب‏» کے معنی میں رجوع کرتا ہوں ( متوجہ ہوتا ہوں ) ۔

Hadith 4684
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ـ وَقَالَ ـ يَدُ اللَّهِ مَلأَى لاَ تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ـ وَقَالَ ـ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ ‏"‏‏.‏ ‏{‏اعْتَرَاكَ‏}‏ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ أَىْ أَصَبْتُهُ، وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي ‏{‏آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا‏}‏ أَىْ فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ‏.‏ عَنِيدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ، هُوَ تَأْكِيدُ التَّجَبُّرِ، ‏{‏اسْتَعْمَرَكُمْ‏}‏ جَعَلَكُمْ عُمَّارًا، أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهْىَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ‏.‏ ‏{‏نَكِرَهُمْ‏}‏ وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ ‏{‏حَمِيدٌ مَجِيدٌ‏}‏ كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ‏.‏ مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ‏.‏ سِجِّيلٌ الشَّدِيدُ الْكَبِيرُ‏.‏ سِجِّيلٌ وَسِجِّينٌ وَاللاَّمُ وَالنُّونُ أُخْتَانِ، وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلٍ وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, 'Spend (O man), and I shall spend on you." He also said, "Allah's Hand is full, and (its fullness) is not affected by the continuous spending night and day." He also said, "Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Nevertheless, what is in His Hand is not decreased, and His Throne was over the water; and in His Hand there is the balance (of justice) whereby He raises and lowers (people). ''اعْتَرَاكَ‏'': smite you with something. ''عَرَوْتُهُ'': I found him ''لعروہ'' and ''اعتران'' have been derived from that. ''آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا‏'': is in his kingdom and power. ''عَنِيدٌ'', ''عَنُودٌ'' and ''عَانِدٌ'' are synonyms. i.e. extremely headstrong. ''اسْتَعْمَرَكُمْ‏'' means: Cause you inhabit therein as it is said: ''أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهْىَ عُمْرَى'' I have given him this house to live therein as long as he exists. ''نكرهم‏'', ''أنكرهم'' and ''استعمركم‏'' are synonyms. ''حميد فعيل'' are on the meter of ''فعيل'' derived each from ''ماجد‏'' and ''محمود'' means who has been praised. ''سجيل'' means: Hard and huge thing. ''سجين'' means the same for ''لام'' and ''ن'' (alphabet 'I' and 'n') both are similar. So Tameem bin Muqbil, a poet, says: وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا (Many pedestrians, in forenoon, strike hard with swords in a way which has been willed by brave men.)

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندو! ( میری راہ میں ) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن مسلسل کے خرچ سے بھی اس میں کم نہیں ہوتا اور فرمایا تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، مسلسل خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزان عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ «اعتراك‏» باب «افتعال» سے ہے «عروته» سے یعنی میں نے اس کو پکڑ پایا اسی سے ہے۔ «يعروه» مضارع کا صیغہ اور «اعتراني آخذ بناصيتها‏» یعنی اس کی حکومت اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ «عنيد»،‏‏‏‏ «عنود» اور «عاند» سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی سرکش مخالف اور یہ «جبار» کی تاکید ہے۔ «استعمركم‏» تم کو بسایا، آباد کیا۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أعمرته الدار فهى عمرى» یعنی یہ گھر میں نے اس کو عمر بھر کے لیے دے ڈالا۔ «نكرهم‏»،‏‏‏‏ «أنكرهم» اور «استنكرهم» سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ان کو پردیسی سمجھا۔ «حميد»،‏‏‏‏ «فعيل» کے وزن پر ہے بہ معنی «محمود» میں سراہا گیا اور «مجيد‏»،‏‏‏‏ «ماجد‏.‏» کے معنی میں ہے ( یعنی کرم کرنے والا ) ۔ «سجيل» اور «سجين» دونوں کے معنی سخت اور بڑا کے ہیں۔ «لام» اور «نون» بہنیں ہیں ( ایک دوسرے سے بدلی جاتی ہیں ) ۔ تمیم بن مقبل شاعر کہتا ہے۔ بعضے پیدل دن دھاڑے خود پر ضرب لگاتے ہیں ایسی ضرب جس کی سختی کے لیے بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں کو وصیت کیا کرتے ہیں۔

Hadith 4685
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ أَوْ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ ـ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي النَّجْوَى فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ ـ وَقَالَ هِشَامٌ يَدْنُو الْمُؤْمِنُ ـ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ تَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا يَقُولُ أَعْرِفُ، يَقُولُ رَبِّ أَعْرِفُ مَرَّتَيْنِ، فَيَقُولُ سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا وَأَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ثُمَّ تُطْوَى صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الآخَرُونَ أَوِ الْكُفَّارُ فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الأَشْهَادِ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

A man came up to him and said, "O Abu `Abdur Rahman!" or said, "O Ibn `Umar! Did you hear anything from the Prophet (ﷺ) about An35 Najwa?" Ibn `Umar said, "I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'The Believer will be brought near his Lord." (Hisham, a sub-narrator said, reporting the Prophet's words), "The believer will come near (his Lord) till his Lord covers him with His screen and makes him confess his sins. (Allah will ask him), 'Do you know (that you did) 'such-and-such sin?" He will say twice, 'Yes, I do.' Then Allah will say, 'I concealed it in the world and I forgive it for you today.' Then the record of his good deeds will be folded up. As for the others, or the disbelievers, it will be announced publicly before the witnesses: 'These are ones who lied against their Lord." Shaiban with reference to Qatadah has reported it from Sufwan.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے صفوان بن محرز نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کر رہے تھے کہ

ایک شخص نام نامعلوم آپ کے سامنے آیا اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! یا یہ کہا کہ اے ابن عمر! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے ( جو اللہ تعالیٰ مؤمنین سے قیامت کے دن کرے گا ) ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مومن اپنے رب کے قریب لایا جائے گا۔ اور ہشام نے «يدنو المؤمن» ( بجائے «يدنى المؤمن» کہا ) مطلب ایک ہی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایک جانب اس پر رکھے گا اور اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ فلاں گناہ تجھے یاد ہے؟ بندہ عرض کرے گا، یاد ہے، میرے رب! مجھے یاد ہے، دو مرتبہ اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپائے رکھا اور آج بھی تمہاری مغفرت کروں گا۔ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے لوگ یا ( یہ کہا کہ ) کفار تو ان کے متعلق محشر میں اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ اور شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا۔

Hadith 4686
Sahih
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهْىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ‏}‏
English

Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure.' (11.102)

Urdu

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد‏» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“

Hadith 4687
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ـ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ـ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ ‏{‏وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ‏}‏‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ قَالَ ‏ "‏ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn Masud رضی اللہ عنہ :

A man kissed a woman and then came to Allah's Messenger (ﷺ) and told him of that, so this Divine Inspiration was revealed to the Prophet (ﷺ) 'And offer Prayers perfectly at the two ends of the day, and in some hours of the night; (i.e. (five) compulsory prayers). Verily, the good deeds remove the evil deeds (small sins) That is a reminder for the mindful.' (11.114) The man said, Is this instruction for me only?' The Prophet (ﷺ) said, "It is for all those of my followers who encounter a similar situation."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک شخص نے کسی غیر عورت کو بوسہ دے دیا اور پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اپنا گناہ بیان کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين‏» ”اور تم نماز کی پابندی کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔“ ان صاحب نے عرض کیا یہ آیت صرف میرے ہی لیے ہے ( کہ نیکیاں بدیوں کو مٹا دیتی ہیں ) ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ہر انسان کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔

Hadith 4688
Sahih
وَقَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْكَرِيمُ بْنُ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable the son of the honorable, i.e. Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔ ( علیہم الصلٰوۃ والسلام ) ۔

Hadith 4689
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ أَكْرَمُ قَالَ ‏"‏ أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "Who are the most honorable of the people?" The Prophet (ﷺ) said, "The most honorable of them in Allah's Sight are those who keep their duty to Allah and fear Him. They said, "We do not ask you about that." He said, "Then the most honorable of the people is Joseph, Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's Khalil i.e. Abraham) They said, "We do not ask you about that." The Prophet (ﷺ) said, Do you ask about (the virtues of the ancestry of the Arabs?" They said, "Yes," He said, "Those who were the best amongst you in the Prelslamic Period are the best amongst you in Islam if they comprehend (the Islamic religion). Abu Osamah has also reported the same from Obaidullah.

Urdu

مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف علیہ السلام ہیں «نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله» ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو لوگ شریف سمجھے جاتے تھے، اسلام لانے کے بعد بھی وہ شریف ہیں، جبکہ دین کی سمجھ بھی انہیں حاصل ہو جائے۔ اس روایت کی متابعت ابواسامہ نے عبیداللہ سے کی ہے۔

Hadith 4690
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَجِدُ مَثَلاً إِلاَّ أَبَا يُوسُفَ ‏{‏فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏}‏ وَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ‏}‏ الْعَشْرَ الآيَاتِ‏.‏
English

Narrated Az-Zuhri:

`Urwa bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Al-Qama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah related the narration of `Aisha رضی اللہ عنہا, the wife the Prophet, when the slanderers had said about her what they had said and Allah later declared her innocence. Each of them related a part of the narration (wherein) the Prophet (ﷺ) said (to `Aisha رضی اللہ عنہا). "If you are innocent, then Allah will declare your innocence: but if you have committed a sin, then ask for Allah's Forgiveness and repent to him." `Aisha رضی اللہ عنہا said, "By Allah, I find no example for my case except that of Joseph's father (when he said), 'So (for me) patience is most fitting.' " Then Allah revealed the ten Verses:-- "Verily those who spread the slander are a gang amongst you.." (24.11)

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا کہا کہ میں زہری سے سنا، انہوں نے

عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے اس واقعہ کے متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل کی۔ ان تمام لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کچھ کچھ ٹکڑا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا کہ اگر تم بَری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکی نازل کر دے گا لیکن اگر تو آلودہ ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کے حضور میں توبہ کر ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر کہا: اللہ کی قسم! میری اور آپ کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد جیسی ہے ( اور انہیں کی کہی ہوئی بات میں بھی دہراتی ہوں کہ ) «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون‏» ”سو صبر کرنا ( ہی ) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی میں سورۃ النور کی «إن الذين جاءوا بالإفك‏» سے آخر تک دس آیات اتاریں۔

Hadith 4691
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَهْىَ أُمُّ عَائِشَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

While I was with `Aisha رضی اللہ عنہا , `Aisha رضی اللہ عنہا got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha رضی اللہ عنہا sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert.' (12.18)

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ

میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔

Hadith 4692
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ هَيْتَ لَكَ قَالَ وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا ‏{‏مَثْوَاهُ‏}‏ مُقَامُهُ ‏{‏أَلْفَيَا‏}‏ وَجَدَا ‏{‏أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ‏}‏ ‏{‏أَلْفَيْنَا‏}‏ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏{‏بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ‏}‏
English

Narrated Abu Wail:

`Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہ recited "Haita laka (Come you)," and added, "We recite it as we were taught it."مثواه‏'': his abode. ''ألفيا‏'': found. ''ألفوا آباءهم'' and ''ألفينا‏'' is from it. Hadrat Ibn-e-Masoud reads ''بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ'' .

Urdu

مجھ سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابووائل نے کہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے «هيت لك» پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں۔ «مثواه‏» یعنی اس کا ٹھکانا، درجہ۔ «ألفيا‏» یعنی پایا اسی سے ہے۔ «ألفوا آباءهم‏» اور «ألفينا‏» ( دوسری آیتوں میں ) اور ابن مسعود سے ( سورۃ الصافات ) میں «بل عجبت ويسخرون‏» منقول ہے۔

Hadith 4693
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالإِسْلاَمِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ‏"‏ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ قَالَ اللَّهُ ‏{‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ‏}‏ قَالَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَائِدُونَ‏}‏ أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ‏.‏
English

Narrated `Abdullah (bin Mas`ud) رضی اللہ عنہ :

When the Prophet (ﷺ) realized that the Quraish had delayed in embracing Islam, he said, "O Allah! Protect me against their evil by afflicting them with seven (years of famine) like the seven years of (Prophet) Joseph." So they were struck with a year of famine that destroyed everything till they had to eat bones, and till a man would look towards the sky and see something like smoke between him and it. Allah said:-- "Then watch you (O Muhammad) for the day when the sky will produce a kind of smoke plainly visible." (44.10) And Allah further said:-- "Verily! We shall withdraw the punishment a little, Verily you will return (to disbelief)." (44.15) (Will Allah relieve them from torture on the Day of Resurrection?) (The punishment of) the smoke had passed and Al-Baltsha (the destruction of the pagans in the Badr battle) had passed too.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ

قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏» ”تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ اور فرمایا «إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون‏» ”بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی ( اپنی پہلی حالت پر ) لوٹ آؤ گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔

Hadith 4694
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ، وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لَهُ ‏{‏أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي‏}‏‏"‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' asaid, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith; (2.260)

Urdu

ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي‏» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے۔

Hadith 4695
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ‏}‏ قَالَ قُلْتُ أَكُذِبُوا أَمْ كُذِّبُوا قَالَتْ عَائِشَةُ كُذِّبُوا‏.‏ قُلْتُ فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ قَالَتْ أَجَلْ لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا‏.‏ قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الآيَةُ‏.‏ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلاَءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ‏.‏
English

Narrated `Urwa bin Az-Zubair:

Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا was inquired of Allah's saying {‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ‏} that whether there is '' أَكُذِبُوا'' or ''كُذِّبُوا''? Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا said: ''كُذِّبُوا'' is with double alphabet ''ذ'' . I (Hadrat Urwah) submitted: The prophets were sure that their people had belied them, then why the word ''ظَّن'' had been used here. She said: By my life! The prophet were really sure of it. I submitted: What is harm in reading '' وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا'' (with single ''ذ'')? She said: Allah forbid! The Apostle cannot think of their Lord in this way. I submitted: What is the correct interpretation of this verse? She said: It is about the followers of the Apostles who believed in their Lords and testified the Apostles, when they were put to trial for an extensive period of time and Allah's help got late, then the Apostles lost the hope for the believing of those of their followers who belied them as well as they thought their followers would also belie them, so at that very time, Allah's help came to them.

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے صالح کی سند سے، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے عروہ بن زبیر نے اشعث کی سند سے بیان کیا کہ جب

انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ "یہاں تک کہ جب رسولوں نے (اپنی قوم سے) امید چھوڑ دی تھی۔" (12.110) اس نے اسے (اس کا مطلب) بتایا، 'عروہ نے مزید کہا، میں نے کہا، 'کیا ان (رسولوں) کو یہ شبہ تھا کہ ان کے ساتھ (اللہ کی طرف سے) خیانت کی گئی ہے یا یہ کہ (ان کے لوگوں) نے ان کے ساتھ جھوٹا سلوک کیا ہے؟' عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (انہیں شک تھا کہ) ان کے ساتھ (ان کے لوگوں نے) جھوٹا سلوک کیا ہے، میں نے کہا، لیکن انہیں یقین تھا کہ ان کی قوم نے ان کے ساتھ جھوٹا سلوک کیا ہے اور یہ شک کی بات نہیں تھی۔ اس نے کہا، 'ہاں، میری جان پر انہیں یقین تھا۔' میں نے اس سے کہا، 'تو ان (رسولوں) کو شبہ ہوا کہ ان کے ساتھ (اللہ کی طرف سے) خیانت کی گئی ہے۔' اس نے کہا اللہ نہ کرے! رسولوں نے کبھی بھی اپنے رب کو ایسی بات پر شک نہیں کیا۔' میں نے کہا پھر اس آیت کا کیا ہوگا؟ اس نے کہا، 'یہ ان رسولوں کے پیروکاروں کے بارے میں ہے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور اپنے رسولوں پر بھروسہ کیا، لیکن آزمائشوں کا دورانیہ طول پکڑتا گیا اور فتح میں تاخیر ہوتی رہی یہاں تک کہ رسولوں نے ان لوگوں کو قبول کرنے کی تمام امیدیں چھوڑ دیں جنہوں نے ان کا انکار کیا تھا۔ رسولوں کا خیال تھا کہ ان کے پیروکار ان کے ساتھ جھوٹے سلوک کرتے ہیں۔ تو اللہ کی مدد ان کے پاس پہنچی۔

Hadith 4696
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، فَقُلْتُ لَعَلَّهَا ‏{‏كُذِبُوا‏}‏ مُخَفَّفَةً‏.‏ قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ‏ نَحْوَهُ.
English

Narrated `Urwa:

"I told her (`Aisha رضی اللہ عنہا): (Regarding the above narration), they (Apostles) were betrayed (by Allah)." She said: Allah forbid or said similarly.

Urdu

ہم سے ابو الایمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، انہوں نے زہری کی سند سے، کہا کہ مجھ سے عروہ نے بیان کیا، تو میں نے کہا

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: (مذکورہ بالا روایت کے بارے میں) ان (رسولوں) کو (اللہ کی طرف سے) دھوکہ دیا گیا تھا۔ اس نے کہا: اللہ نہ کرے یا اسی طرح کہا۔

Hadith 4697
Sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ اللَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ أَحَدٌ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The keys of Unseen are five which none knows but Allah: None knows what will happen tomorrow but Allah; none knows what is in the wombs (a male child or a female) but Allah; none knows when it will rain but Allah; none knows at what place one will die; none knows when the Hour will be established but Allah." (See The Qur'an 31:34.")

Urdu

مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ عورتوں کے رحم میں کیا کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب برسے گی، کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کہاں ہو گی اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔

Hadith 4698
Sahih
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لاَ يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا وَلاَ وَلاَ وَلاَ، تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لاَ يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ يَا أَبَتَاهُ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ قَالَ لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا‏.‏ قَالَ عُمَرُ لأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

While we were with Allah's Messenger (ﷺ) he said, "Tell me of a tree which resembles a Muslim man. Its leaves do not fall and it does not, and does not, and does not, and it gives its fruits every now and then." It came to my mind that such a tree must be the date palm, but seeing Abu Bakr رضی اللہ عنہ and `Umar رضی اللہ عنہما saying nothing, I disliked to speak. So when they did not say anything, Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is the date-palm tree." When we got up (from that place), I said to `Umar رضی اللہ عنہ , "O my father! By Allah, it came to my mind that it must be the date palm tree." `Umar رضی اللہ عنہ said, "What prevented you from speaking" I replied, "I did not see you speaking, so I misliked to speak or say anything." `Umar رضی اللہ عنہ then said, "If you had said it, it would have been dearer to me than so-and-so."

Urdu

مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ہر وقت میوہ دے جاتا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کے سامنے کلام کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے کچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: بابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے آگے بڑھ کر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے ( لال لال اونٹ کا ) مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔