Back to Sahih Bukhari

Prophetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (PBUH))

كتاب التفسير

Chapter 66

Hadith 4759
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ‏}‏ أَخَذْنَ أُزْرَهُنَّ فَشَقَّقْنَهَا مِنْ قِبَلِ الْحَوَاشِي فَاخْتَمَرْنَ بِهَا‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

"When (the Verse): "They should draw their veils over their necks and bosoms," was revealed, (the ladies) cut their waist sheets at the edges and covered their heads and faces with those cut pieces of cloth."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے حسن بن مسلم نے، ان سے صفیہ بنت شیبہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھی کہ

جب یہ آیت نازل ہوئی «وليضربن بخمرهن على جيوبهن‏» کہ ”اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں“ تو ( انصار کی عورتوں نے ) اپنے تہبندوں کو دونوں کنارے سے پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔

Hadith 4760
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏ "‏ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

A man said, "O Allah's Prophet! Will Allah gather the non-believers on their faces on the Day of Resurrection?" He said, "Will not the One Who made him walk on his feet in this world, be able to make him walk on his face on the Day of Resurrection?" (Qatada, a subnarrator, said: Yes, By the Power of Our Lord!)

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ایک صاحب نے پوچھا، اے اللہ کے نبی! کافر کو قیامت کے دن اس کے چہرے کے بل کس طرح چلایا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس نے اسے اس دنیا میں دو پاؤں پر چلایا ہے اس پر قادر ہے کہ قیامت کے دن اس کو اس کے چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ نے کہا یقیناً ہمارے رب کی عزت کی قسم! یونہی ہو گا۔

Hadith 4761
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ ـ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَىُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ‏}‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :

I or somebody, asked Allah's Messenger (ﷺ) "Which is the biggest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival (in worship) to Allah though He Alone created you." I asked, "What is next?" He said, "Then, that you kill your son, being afraid that he may share your meals with you." I asked, "What is next?" He said, "That you commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." Then the following Verse was revealed to confirm the statement of Allah's Messenger (ﷺ): "Those who invoke not with Allah, any other god, nor kill life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse." (25.68)

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سفیان ثوری نے کہا کہ) اور مجھ سے واصل نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے پوچھا، یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہاری روزی میں شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کے لیے نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس ( انسان ) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“

Hadith 4762
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ ‏{‏وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ قَرَأْتُهَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَىَّ‏.‏ فَقَالَ هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ، الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

"Is there any repentance of the one who has murdered a believer intentionally?" Then I recited to him:-- "Nor kill such life as Allah has forbidden except for a just cause." Sa`id said, "I recited this very Verse before Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما as you have recited it before me. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, 'This Verse was revealed in Mecca and it has been abrogated by a Verse in Surat-An-Nisa which was later revealed in Medina."

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ

اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ( ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔

Hadith 4763
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ، فَرَحَلْتُ فِيهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

The people of Kufa differed as regards the killing of a believer so I entered upon Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما (and asked him) about that. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "The Verse (in Surat-An-Nisa', 4:93) was the last thing revealed in this respect and nothing cancelled its validity."

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن نعمان نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

اہل کوفہ کا مومن کے قتل کے مسئلے میں اختلاف ہوا ( کہ اس کے قاتل کی توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں ) تو میں سفر کر کے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ( سورۃ نساء کی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے۔ ) اس سلسلہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور کسی دوسری سے منسوخ نہیں ہوئی۔

Hadith 4764
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏}‏ قَالَ لاَ تَوْبَةَ لَهُ‏.‏ وَعَنْ قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ‏}‏ قَالَ كَانَتْ هَذِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

I asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما about Allah's saying:-- '.. this reward is Hell Fire.' (4.93) He said, "No repentance is accepted from him (i.e. the murderer of a believer)." I asked him regarding the saying of Allah: 'Those who invoke not with Allah any other god.' ...(25.68) He said, "This Verse was revealed concerning the pagans of the pre-lslamic period."

Urdu

ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «فجزاؤه جهنم‏» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد «‏‏‏‏لا يدعون مع الله إلها آخر‏» کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو۔

Hadith 4765
Sahih
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ أَبْزَى سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏}‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏لاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ‏}‏ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏غَفُورًا رَحِيمًا‏}‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

Ibn Abza said to me, "Ask Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما regarding the Statement of Allah: 'And whoever murders a believer intentionally, his recompense is Hell.' (4.69) And also His Statement: '...nor kill such life as Allah has forbidden, except for a just cause .....except those who repent, believe, and do good deeds.' " (25.68-70) So I asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما and he said, "When this (25.68-69) was revealed, the people of Mecca said, "We have invoked other gods with Allah, and we have murdered such lives which Allah has made sacred, and we have committed illegal sexual intercourse. So Allah revealed: 'Except those who repent, believe, and do good deeds and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.' (25.70)

Urdu

ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

ان سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم‏» ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے۔“ اور سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏لا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» ”اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ“ «إلا من تاب‏» تک، میں نے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کئے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا‏» کہ ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے“ تک۔

Hadith 4766
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا‏}‏، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ‏.‏ وَعَنْ ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

`Abdur-Rahman bin Abza ordered me to ask Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما regarding the two Verses (the first of which was ): "And whosoever murders a believer intentionally." (4.93) So I asked him, and he said, "Nothing has abrogated this Verse." About (the other Verse): 'And those who invoke not with Allah any other god.' he said, "It was revealed concerning the pagans."

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں یعنی «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» ”اور جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا“ الخ۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کسی چیز سے بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ ( اور دوسری آیت جس کے ) بارے میں مجھے انہوں نے پوچھنے کا حکم دیا وہ یہ تھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر‏» ”اور جو لوگ کسی معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے“ آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

Hadith 4767
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَالْقَمَرُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ ‏{‏فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا‏}‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :

Five (great events) have passed: the Smoke, the Moon, the Romans, the Mighty grasp and the constant Punishment which occurs in 'So the torment will be yours forever.' (25.77)

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا

( قیامت کی ) پانچ نشانیاں گزر چکی ہیں۔ دھواں ( اس کا ذکر آیت «يوم تأتي السماء بدخان مبين» میں ہے ) ۔ چاند کا پھٹنا ( اس کا ذکر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» میں ہے ) ۔ روم کا مغلوب ہونا ( اس کا ذکر سورۃ «غلبت الروم» میں ہے ) ۔ «لبطشة» یعنی اللہ کی پکڑ جو بدر میں ہوئی ( اس کا ذکر «یوم نبطش البطشة الکبرى» میں ہے ) ۔ اور وبال جو قریش پر بدر کے دن آیا ( اس کا ذکر آیت «فسوف یکون لزاما» میں ہے۔

Hadith 4768
Sahih
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ ـ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَةُ ‏"‏‏.‏ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Abraham will see his father covered with Qatara and Ghabara. (i.e. having a dark face).

Urdu

اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد ( آذر ) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة‏.‏» ہم معنی ہیں۔

Hadith 4769
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَخِي، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لاَ تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَيَقُولُ اللَّهُ إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, Abraham will meet his father (on the Day of Resurrection) and will say, 'O my Lords You promised me that You would not let me in disgrace on the Day when people will be resurrected.' Allah will say, 'I have forbidden Paradise to the non-believers."

Urdu

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد سے ( قیامت کے دن ) جب ملیں گے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب سب اٹھائے جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام قرار دے دیا ہے۔

Hadith 4770
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي ‏"‏ يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ ‏"‏‏.‏ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُولاً لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ فَقَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلاَّ صِدْقًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ ‏{‏تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ * مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ‏}‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

When the Verse:--'And warn your tribe of near-kindred, was revealed, the Prophet (ﷺ) ascended the Safa (mountain) and started calling, "O Bani Fihr! O Bani `Adi!" addressing various tribes of Quraish till they were assembled. Those who could not come themselves, sent their messengers to see what was there. Abu Lahab and other people from Quraish came and the Prophet (ﷺ) then said, "Suppose I told you that there is an (enemy) cavalry in the valley intending to attack you, would you believe me?" They said, "Yes, for we have not found you telling anything other than the truth." He then said, "I am a warner to you in face of a terrific punishment." Abu Lahab said (to the Prophet) "May your hands perish all this day. Is it for this purpose you have gathered us?" Then it was revealed: "Perish the hands of Abu Lahab (one of the Prophet's uncles), and perish he! His wealth and his children will not profit him...." (111.1-5)

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» ”اور آپ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ڈراتے رہئیے“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارنے لگے۔ اے بنی فہر! اور اے بنی عدی! اور قریش کے دوسرے خاندان والو! اس آواز پر سب جمع ہو گئے اگر کوئی کسی وجہ سے نہ آ سکا تو اس نے اپنا کوئی چودھری بھیج دیا، تاکہ معلوم ہو کہ کیا بات ہے۔ ابولہب قریش کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مجمع میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم سے کہوں کہ وادی میں ( پہاڑی کے پیچھے ) ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ سب نے کہا کہ ہاں، ہم آپ کی تصدیق کریں گے ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سنو، میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو بالکل سامنے ہے۔ اس پر ابولہب بولا، تجھ پر سارے دن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا۔ اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی «تبت يدا أبي لهب وتب * ما أغنى عنه ماله وما كسب‏» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ہی اس کے آڑے آئی۔“

Hadith 4771
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ قَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ـ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ـ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَصْبَغُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) got up when the Verse:--'And warn your tribe of near kindred...." (26.214) was revealed and said, "O Quraish people! (or he said a similar word) Buy yourselves! I cannot save you from Allah (if you disobey Him) O Bani Abu Manaf! I cannot save you from Allah (if you disobey Him). O `Abbas! The son of `Abdul Muttalib! I cannot save you from Allah (if you disobey Him) O Safiya, (the aunt of Allah's Messenger (ﷺ)) I cannot save you from Allah (if you disobey Him). O Fatima, the daughter of Muhammad ! Ask what you wish from my property, but I cannot save you from Allah (if you disobey Him). Asbagh, Ibn-e-Wahab, Younus has reported the same from Ibn-e-Shihab.

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا،

جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» ”اور اپنے خاندان کے قرابت داروں کو ڈرا“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر ) آواز دی کہ اے جماعت قریش! یا اسی طرح کا اور کوئی کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچاؤ ( اگر تم شرک و کفر سے باز نہ آئے تو ) اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف! اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے بالکل کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کی بارگاہ میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اے صفیہ، رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے یہاں تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اے فاطمہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں، میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے، انہوں نے یونس سے اور انہوں نے ابن شہاب سے کی ہے۔

Hadith 4772
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهِ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ ‏"‏ أَىْ عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ‏}‏ وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏أُولِي الْقُوَّةِ‏}‏ لاَ يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ‏.‏ ‏{‏لَتَنُوءُ‏}‏ لَتُثْقِلُ‏.‏ ‏{‏فَارِغًا‏}‏ إِلاَّ مِنْ ذِكْرِ مُوسَى‏.‏ ‏{‏الْفَرِحِينَ‏}‏ الْمَرِحِينَ‏.‏ ‏{‏قُصِّيهِ‏}‏ اتَّبِعِي أَثَرَهُ، وَقَدْ يَكُونُ أَنْ يَقُصَّ الْكَلاَمَ ‏{‏نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ‏}‏‏.‏ ‏{‏عَنْ جُنُبٍ‏}‏ عَنْ بُعْدٍ عَنْ جَنَابَةٍ وَاحِدٌ، وَعَنِ اجْتِنَابٍ أَيْضًا، يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ‏.‏ ‏{‏يَأْتَمِرُونَ‏}‏ يَتَشَاوَرُونَ‏.‏ الْعُدْوَانُ وَالْعَدَاءُ وَالتَّعَدِّي وَاحِدٌ‏.‏ ‏{‏آنَسَ‏}‏ أَبْصَرَ‏.‏ الْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ، لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ، وَالشِّهَابُ فِيهِ لَهَبٌ‏.‏ وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالأَفَاعِي وَالأَسَاوِدُ‏.‏ ‏{‏رِدْءًا‏}‏ مُعِينًا‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏يُصَدِّقُنِي‏}‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏سَنَشُدُّ‏}‏ سَنُعِينُكَ كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا‏.‏ مَقْبُوحِينَ مُهْلَكِينَ‏.‏ ‏{‏وَصَّلْنَا‏}‏ بَيَّنَّاهُ وَأَتْمَمْنَاهُ‏.‏ ‏{‏يُجْبَى‏}‏ يُجْلَبُ ‏.‏‏{‏بَطِرَتْ‏}‏ أَشِرَتْ‏.‏ ‏{‏فِي أُمِّهَا رَسُولاً‏}‏ أُمُّ الْقُرَى مَكَّةُ وَمَا حَوْلَهَا‏.‏ ‏{‏تُكِنُّ‏}‏ تُخْفِي‏.‏ أَكْنَنْتُ الشَّىْءَ أَخْفَيْتُهُ، وَكَنَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ وَأَظْهَرْتُهُ‏.‏ ‏{‏وَيْكَأَنَّ اللَّهَ‏}‏ مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ ‏{‏يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ‏}‏ يُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ‏.‏
English

Narrated Al-Musaiyab:

When Abu Talib was on his death bed, Allah's Messenger (ﷺ) came to him and found with him, Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umaiya bin Al-Mughira. Allah's Messenger (ﷺ) said, "O uncle! Say: None has the right to be worshipped except Allah, a sentence with which I will defend you before Allah." On that Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umaiya said to Abu Talib, "Will you now leave the religion of `Abdul Muttalib?" Allah's Messenger (ﷺ) kept on inviting him to say that sentence while the other two kept on repeating their sentence before him till Abu Talib said as the last thing he said to them, "I am on the religion of `Abdul Muttalib," and refused to say: None has the right to be worshipped except Allah. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Allah, I will keep on asking Allah's forgiveness for you unless I am forbidden (by Allah) to do so." So Allah revealed:-- 'It is not fitting for the Prophet (ﷺ) and those who believe that they should invoke (Allah) for forgiveness for pagans.' (9.113) And then Allah revealed especially about Abu Talib:--'Verily! You (O, Muhammad) guide not whom you like, but Allah guides whom He will.' (28.56)

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا کہ

جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا! آپ صرف کلمہ «لا إله إلا الله» پڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار ان سے یہی کہتے رہے ( کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں ) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے ( کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ ) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين‏» ”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء‏» کہ ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أولي القوة‏» سے یہ مراد ہے کہ کئی زور دار آدمی مل کر بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتے تھے۔ «لتنوء‏» کا مطلب ڈھوئی جاتی تھیں۔ «فارغا‏» کا معنی یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں موسیٰ کے سوا اور کوئی خاص نہیں رہا تھا۔ «الفرحين‏» کا معنی خوشی سے اتراتے ہوئے۔ «قصيه‏» یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ «قصص» کے معنی بیان کرنے کے ہوتے ہیں جیسے سورۃ یوسف میں فرمایا «نحن نقص عليك‏»،‏‏‏‏ «عن جنب‏» یعنی دور سے «عن جنابة» کا بھی یہی معنی ہے اور «عن اجتناب» کا بھی یہی ہے۔ «يبطش» ‏‏‏‏ بہ کسرہ طاء اور «يبطش‏.‏» بہ ضمہ طاء دونوں قرآت ہیں۔ «يأتمرون‏» مشورہ کر رہے ہیں۔ «عدوان» اور «عدو» اور «تعدي» سب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی حد سے بڑھ جانا ظلم کرنا۔ «آنس‏» کا معنی دیکھنا۔ «جذوة» لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس کے سر ے پر آگ لگی ہو مگر اس میں شعلہ نہ ہو اور «شهاب» جو آیت «اواتیکم بشهاب قبس» میں ہے اس سے مراد ایسی جلتی ہوئی لکڑی جس میں شعلہ ہو۔ «حيات» یعنی سانپوں کی مختلف قسمیں ( جیسے ) جان، افعی، اسود وغیرہ «ردءا‏» یعنی مددگار، پشت پناہ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے «يصدقني‏» بہ ضمہ قاف پڑھا ہے۔ اوروں نے کہا «سنشد‏» کا معنی یہ ہے کہ ہم تیری مدد کریں گے عرب لوگ کا محاورہ ہے جب کسی کو قوت دیتے ہیں تو کہتے ہیں «جعلت له عضدا‏.‏» ۔ «مقبوحين» ‏‏‏‏ کا معنی ہلاک کئے گئے۔ «وصلنا‏» ہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔ «يجبى‏» کچھے آتے ہیں۔ «بطرت‏» شرارت کی۔ «في أمها رسولا‏»،‏‏‏‏ «أم القرى» مکہ اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ «تكن‏» کا معنی چھپاتی ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أكننت» ‏‏‏‏ یعنی میں نے اس کو چھپا لیا۔ «كننته» کا بھی یہی معنی ہے۔ «ويكأن الله‏» کا معنی «ألم تر أن الله» کے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا۔ «يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر‏» یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے۔

Hadith 4773
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ‏}‏ قَالَ إِلَى مَكَّةَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Qur'an 28.85'...will bring you home' means to Mecca.

Urdu

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو یعلیٰ بن عبید نے خبر دی، کہا ہم سے سفیان بن دینار عصفری نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

( آیت مذکورہ بالا میں ) «لرادك إلى معاد‏» سے مراد ہے کہ اللہ پھر آپ کو مکہ پہنچا کر رہے گا۔

Hadith 4774
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ فَقَالَ يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ، يَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ‏.‏ فَفَزِعْنَا، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَغَضِبَ فَجَلَسَ فَقَالَ مَنْ عَلِمَ فَلْيَقُلْ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لاَ يَعْلَمُ لاَ أَعْلَمُ‏.‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ‏}‏ وَإِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَدَعَا عَلَيْهِمِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا، وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ‏"‏، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ، فَقَرَأَ ‏{‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏عَائِدُونَ‏}‏ أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمْ عَذَابُ الآخِرَةِ إِذَا جَاءَ ثُمَّ عَادُوا إِلَى كُفْرِهِمْ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى‏}‏ يَوْمَ بَدْرٍ وَلِزَامًا يَوْمَ بَدْرٍ ‏{‏الم * غُلِبَتِ الرُّومُ‏}‏ إِلَى ‏{‏سَيَغْلِبُونَ‏}‏ وَالرُّومُ قَدْ مَضَى‏.‏
English

Narrated Masruq:

While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), nor I am one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist.)' (38.86) The Qur'aish delayed in embracing Islam for a period, so the Prophet (ﷺ) invoked evil on them, saying, 'O Allah! Help me against them by sending seven years of (famine) like those of Joseph.' So they were afflicted with such a severe year of famine that they were destroyed therein and ate dead animals and bones. They started seeing something like smoke between the sky and the earth (because of severe hunger). Abu Sufyan then came (to the Prophet) and said, "O Muhammad! You came to order us for to keep good relations with Kith and kin, and your kinsmen have now perished, so please invoke Allah (to relieve them).' Then Ibn Mas`ud recited:-- 'Then watch you for the day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible....but truly you will return! (to disbelief) (44.10-15) Ibn Mas`ud added, Then the punishment was stopped, but truly, they reverted to heathenism (their old way). So Allah (threatened them thus): 'On the day when we shall seize you with a mighty grasp.' (44.16) And that was the day of the Battle of Badr. Allah's saying- "Lizama" (the punishment) refers to the day of Badr Allah's Statement: Alif-Lam-Mim, the Romans have been defeated, and they, after their defeat, will be victorious,' (30.1- 3) (This verse): Indicates that the defeat of Byzantine has already passed.

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ

ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی لاعلمی کا اقرار کر لے اور صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين‏» ”آپ کہہ دیجئیے کہ میں اپنی تبلیغ و دعوت پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں بناوٹ کرتا ہوں۔“ اصل میں واقعہ یہ ہے کہ قریش کسی طرح اسلام نہیں لاتے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسا قحط بھیج کر میری مدد کر پھر ایسا قحط پڑا کہ لوگ تباہ ہو گئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے کوئی اگر فضا میں دیکھتا ( تو فاقہ کی وجہ سے ) اسے دھویں جیسا نظر آتا۔ پھر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم تباہ ہو رہی ہے، اللہ سے دعا کیجئے ( کہ ان کی یہ مصیبت دور ہو ) ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏» سے «عائدون‏» تک۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قحط کا یہ عذاب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں ختم ہو گیا تھا لیکن کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے ٹل جائے گا؟ چنانچہ قحط ختم ہونے کے بعد پھر وہ کفر سے باز نہ آئے، اس کی طرف اشارہ «يوم نبطش البطشة الكبرى‏» میں ہے، یہ بطش کفار پر غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی ( کہ ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیئے گئے ) اور «لزاما» ( قید ) سے اشارہ بھی معرکہ بدر ہی کی طرف ہے «الم * غلبت الروم‏» سے «سيغلبون‏» تک کا واقعہ گزر چکا ہے کہ ( کہ روم والوں نے فارس والوں پر فتح پالی تھی ) ۔

Hadith 4775
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ‏"‏ ثُمَّ يَقُولُ ‏{‏فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ‏}‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he rec 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not..." (30.30)

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم‏» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، یہی سیدھا دین ہے۔“

Hadith 4776
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لاِبْنِهِ ‏{‏إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ‏}‏‏"‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :

When there was revealed: 'It is those who believe and confuse not their beliefs with wrong.' (6.82) It was very hard for the companions of Allah's Messenger (ﷺ), so they said, "Which of us has not confused his belief with wrong?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Verse does not mean this. Don't you hear Luqman's statement to his son: 'Verily! Joining others in worship, with Allah is a great wrong indeed.' (31.13)

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏» کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہو گا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے۔ تم نے لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی «إن الشرك لظلم عظيم‏» کہ ”بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔“

Hadith 4777
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ الإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ الإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ‏{‏إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ‏}‏ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ رُدُّوا عَلَىَّ ‏"‏‏.‏ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوا فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

One day while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting with the people, a man came to him walking and said, "O Allah's Messenger (ﷺ). What is Belief?" The Prophet (ﷺ) said, "Belief is to believe in Allah, His Angels, His Books, His Apostles, and the meeting with Him, and to believe in the Resurrection." The man asked, "O Allah's Messenger (ﷺ) What is Islam?" The Prophet (ﷺ) replied, "Islam is to worship Allah and not worship anything besides Him, to offer prayers perfectly, to pay the (compulsory) charity i.e. Zakat and to fast the month of Ramadan." The man again asked, "O Allah's Messenger (ﷺ) What is Ihsan (i.e. perfection or Benevolence)?" The Prophet (ﷺ) said, "Ihsan is to worship Allah as if you see Him, and if you do not achieve this state of devotion, then (take it for granted that) Allah sees you." The man further asked, "O Allah's Messenger (ﷺ) When will the Hour be established?" The Prophet (ﷺ) replied, "The one who is asked about it does not know more than the questioner does, but I will describe to you its portents. When the lady slave gives birth to her mistress, that will be of its portents; when the bare-footed naked people become the chiefs of the people, that will be of its portents. The Hour is one of five things which nobody knows except Allah. Verily, the knowledge of the Hour is with Allah (alone). He sends down the rain, and knows that which is in the wombs." (31.34) Then the man left. The Prophet (ﷺ) said, "Call him back to me." They went to call him back but could not see him. The Prophet (ﷺ) said, "That was Gabriel who came to teach the people their religion." (See Hadith No. 47 Vol 1)

Urdu

مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے ابوحیان نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک نیا آدمی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی ملاقات پر ایمان لاؤ اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تنہا اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ورنہ یہ عقیدہ لازماً رکھو کہ اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جا رہا ہے خود وہ سائل سے زیادہ اس کے واقع ہونے کے متعلق نہیں جانتا۔ البتہ میں تمہیں اس کی چند نشانیاں بتاتا ہوں۔ جب عورت ایسی اولاد جنے جو اس کے آقا بن جائیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے، جب ننگے پاؤں، ننگے جسم والے لوگ لوگوں پر حاکم ہو جائیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت بھی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے ( لڑکا یا لڑکی ) پھر وہ صاحب اٹھ کر چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس واپس بلا لاؤ۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ لائیں لیکن ان کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صاحب جبرائیل تھے ( انسانی صورت میں ) لوگوں کو دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔

Hadith 4778
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ ‏"‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ‏}‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet said, "The keys of A1-Ghaib (the Unseen) are five." And then he recited :- "Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour.....(V.31:34)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «إن الله عنده علم الساعة‏» ”بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے....''