Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The last Qur'anic Verse that was revealed (to the Prophet) was the final Verse of Surat-an-Nisa, i.e., 'They ask you for a legal verdict Say: Allah directs (thus) About those who leave No descendants or ascendants as heirs....' (4.176)
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
آخری آیت ( میراث کی ) سورۃ نساء کے آخر کی آیتیں نازل ہوئیں کہ ” آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں ، کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے “ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I am more closer to the believers than their ownselves, so whoever (among them) dies leaving some inheritance, his inheritance will be given to his 'Asaba, and whoever dies leaving a debt or dependants or destitute children, then I am their supporter."
ہم سے محمود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، انہیں ابوحصین نے ، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں ۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو ، تو میں ان کا ولی ہوں ، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Give the Fara'id (the shares of the inheritance that are prescribed in the Qur'an) to those who are entitled to receive it; and whatever is left should be given to the closest male relative of the deceased."
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے روح نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میراث اس کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو کچھ اس میں سے بچ رہے وہ قریبی عزیز مرد کا حق ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Regarding the Holy Verse: ''وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ'' (Al-Nisa:33) and the verse ''وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ'' (Al-Nisa:33) that when the emigrants came to Madinah Munawarrah, the Helpers, on account of the bond of fraternity established by the prophet ﷺ between them, would inherit the Emigrants though they did no have any womb ties with one another. When the verse ''جَعَلْنَا مَوَالِيَ'' was revealed it revoked the ''وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ''
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سے ادریس نے بیان کیا تھا ، ان سے طلحہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے
” ولکل جعلنا موالی “ اور ” والذین عقدت ایمانکم “ کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے ۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کرائی تھی ، پھر جب آیت ” جعلنا موالی “ نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے ” والذین عقدت ایمانکم “ کو منسوخ کر دیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
A man and his wife had a case of Lian (or Mula'ana) during the lifetime of the Prophet (ﷺ) and the man denied the paternity of her child. The Prophet (ﷺ) gave his verdict for their separation (divorce) and then the child was regarded as belonging to the wife only.
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لعان کیا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور بچہ عورت کو دے دیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
`Utba (bin Abi Waqqas) رضی اللہ عنہ said to his brother Sa`d رضی اللہ عنہ , "The son of the slave girl of Zam`a is my son, so be his custodian." So when it was the year of the Conquest of Mecca, Sa`d took that child and said, "He is my nephew, and my brother told me to be his custodian." On that, 'Abu bin Zam`a رضی اللہ عنہ got up and said, 'but the child is my brother, and the son of my father's slave girl as he was born on his bed." So they both went to the Prophet. Sa`d رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (This is) the son of my brother and he told me to be his custodian." Then 'Abd bin Zam`a said, "(But he is) my brother and the son of the slave girl of my father, born on his bed." The Prophet (ﷺ) said, "This child is for you. O 'Abu bin Zam`a, as the child is for the owner of the bed, and the adulterer receives the stones." He then ordered (his wife) Sauda bint Zam`a رضی اللہ عنہا to cover herself before that boy as he noticed the boy's resemblance to `Utba. Since then the boy had never seen Sauda till he died.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
عتبہ اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کرگیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پروریش میں لے لینا ۔ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی ۔ اس پر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے ، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ، یا رسول اللہ ! ، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی ۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے ، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبد بن زمعہ ! یہ تمہارے پاس رہے گا ، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں ۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لی تھی ۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The boy is for the owner of the bed."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I bought Barira رضی اللہ عنہ (a female slave). The Prophet (ﷺ) said (to me), "Buy her as the Wala' is for the manumitted." Once she was given a sheep (in charity). The Prophet (ﷺ) said, "It (the sheep) is a charitable gift for her (Barira رضی اللہ عنہ) and a gift for us." Al-Hakam said, "Barira's husband was a free man." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, 'When I saw him, he was a slave."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے ، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے ۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "The Wala' is for the manumitted (of the slave).
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Muslims did not free slaves as Sa'iba, but the People of the Pre-lslamic Period of Ignorance used to do so.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابوقیس نے ، ان سے ہزیل نے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا ، انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
`Aisha رضی اللہ عنہا bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala' (after her death) would be for them. `Aisha رضی اللہ عنہا said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala' will be for them." The Prophet (ﷺ) said, "Manumit her as the Wala is for the one who manumits (the slave)," or said, "The one who pays her price." Then `Aisha رضی اللہ عنہا bought and manumitted her. After that, Barira was given the choice (by the Prophet) (to stay with her husband or leave him). She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." (Al-Aswad added: Her husband was a free man.) The sub-narrator added: The series of the narrators of Al-Aswad's statement is incomplete. The statement of Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما , i.e., when I saw him he was a slave, is more authentic.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے ، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے ۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا ( کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں ) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی ۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے ۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
We have no Book to recite except the Book of Allah (Qur'an) and this paper. Then `Ali took out the paper, and behold ! There was written in it, legal verdicts about the retaliation for wounds, the ages of the camels (to be paid as Zakat or as blood money). In it was also written: 'Medina is a sanctuary from Air (mountain) to Thaur (mountain). So whoever innovates in it an heresy (something new in religion) or commits a crime in it or gives shelter to such an innovator, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And whoever (a freed slave) takes as his master (i.e. be-friends) some people other than hi real masters without the permission of his real masters, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory, or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And the asylum granted by any Muslim is to be secured by all the Muslims, even if it is granted by one of the lowest social status among them; and whoever betrays a Muslim, in this respect will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his Compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ
ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں ، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے ۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں ( کے قصاص ) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اورقیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ ( قول و قرار ، کسی کو پناہ دینا وغیرہ ) ایک ہے ۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) forbade the selling of the Wala' (of slaves) or giving it as a present.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے تعلق کو بیچنے ، اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
That Aisha رضی اللہ عنہا , the mother of the Believers, intended to buy a slave girl in order to manumit her. The slave girl's master said, "We are ready to sell her to you on the condition that her Wala should be for us." Aisha mentioned that to Allah's Messenger (ﷺ) who said, "This (condition) should not prevent you from buying her, for the Wala is for the one who manumits (the slave)."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہو گی ۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شرط کو مانع نہ بننے دو ، ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
"I bought Barira and her masters stipulated that the Wala would be for them." Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said, "Manumit her, as the Wala is for the one who gives the silver (i.e. pays the price for freeing the slave)." Aisha رضی اللہ عنہا added, "So I manumitted her. After that, the Prophet caller her (Barira) and gave her the choice to go back to her husband or not. She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." So she selected her ownself (i.e. refused to go back to her husband)."
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو جریر نے خبر دی ، انہیں منصور نے ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی ۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو ، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے ۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا ۔ پھر انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں ۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
When Aisha رضی اللہ عنہا intended to buy Barira رضی اللہ عنہا , she said to the Prophet, "Barira's masters stipulated that they will have the Wala." The Prophet (ﷺ) said (to Aisha), "Buy her, as the Wala is for the one who manumits."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو ، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔ ( آزاد کرائے ) ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The wala is for the one who gives the silver (pays the price) and does the favor (of manumission after paying the price).
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ، انہیں سفیان نے ، انہیں منصور نے ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں اسود نے ، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو قیمت دے اور احسان کرے ۔ ( آزاد کر کے ) ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The freed slave belongs to the people who have freed him," or said something similar.
ہم سے آدم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے معاویہ بن قرہ اور قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی گھرانے کا غلام اسی کا ایک فرد ہوتا ہے ، ” اوکما قال “ ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The son of the sister of some people is from them or from their own selves."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے ۔ ( منہم یا من انفسہم کے الفاظ فرمائے ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, " If somebody dies (among the Muslims) leaving some property, the property will go to his heirs; and if he leaves a debt or dependants, we will take care of them."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی نے ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مال چھوڑا ( اپنی موت کے بعد ) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے ۔