Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The hand of a thief was not cut off during the lifetime of the Prophet (ﷺ) except for stealing something equal to a shield in value. A similar hadith is narrated from `Aisha رضی اللہ عنہا through another chain.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ بغیر لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی چوری پر ہی کاٹا جاتاتھا ۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A thief's hand was not cut off for stealing something cheaper than a Hajafa or a Turs (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price. Waki and Ibn-e-Idrees from Hisham, and reported it from his father in a Mursal way.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
چور کا ہاتھ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا ۔ یہ دونوں ڈھال قیمت سے ملتی تھیں ۔ اس کی روایت وکیع اور ابن ادریس نے ہشام کے واسطے سے کی ، ان سے ان کے والد نے مرسلاً ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A thief's hand was not cut off for stealing something worth less than the price of a shield, whether a Turs or Hajafa (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے ، ہم کو ان کے والد ( عروہ بن زبیر ) نے خبر دی ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے بیان کیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا ۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال ، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) cutoff the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams. Likewise Muhammad bin Ishaq has reported. And Laith has reported the word ''قِيمَتُهُ '' from Nafi'o.
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی ، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( ثمنہ کے بجائے ) لفظ قیمۃ کہا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah 's Apostle said, "Allah curses the thief who steals an egg (or a helmet) for which his hand is to be cut off, or steals a rope, for which his hand is to be cut off."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحدنے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا ، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ۔ ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) cut off the hand of a lady, and that lady used to come to me, and I used to convey her message to the Prophet (ﷺ) and she repented, and her repentance was sincere.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتی تھی ۔ اس عورت نے توبہ کر لی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا ۔
Narrated Ubada bin As-Samit رضی اللہ عنہ :
I gave the pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) with a group of people, and he said, "I take your pledge that you will not worship anything besides Allah, will not steal, will not commit infanticide, will not slander others by forging false statements and spreading it, and will not disobey me in anything good. And whoever among you fulfill all these (obligations of the pledge), his reward is with Allah. And whoever commits any of the above crimes and receives his legal punishment in this world, that will be his expiation and purification. But if Allah screens his sin, it will be up to Allah, Who will either punish or forgive him according to His wish." Abu `Abdullah said: "If a thief repents after his hand has been cut off, the his witness well be accepted. Similarly, if any person upon whom any legal punishment has been inflicted, repents, his witness will be accepted."
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے ، تم چوری نہیں کرو گے ، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے ، اپنے دل سے گھڑکر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے ۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کرگزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہو گی اور اسے پاک کرنے والی ہو گی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپالے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے ، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کر لی تو اس کی گواہی قبول ہو گی ۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کر لے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی ۔