Narrated Abu Juhaifa:
"I asked `Ali رضی اللہ عنہ 'Have you got any Divine literature apart from the Qur'an?' (Once he said...apart from what the people have?) `Ali replied, 'By Him Who made the grain split (germinate) and created the soul, we have nothing except what is in the Qur'an and the ability (gift) of understanding Allah's Book which He may endow a man with and we have what is written in this paper.' I asked, 'What is written in this paper?' He replied, 'Al-`Aql (the regulation of Diya), about the ransom of captives, and the Judgment that a Muslim should not be killed in Qisas (equality in punishment) for killing a disbeliever." (See Hadith No. 283,Vol. 4)
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ، ان سے مطرف نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا ۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے ۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا خون بہا ( دیت ) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Two women from the tribe of Hudhail (fought with each other) and one of them threw (a stone at) the other, causing her to have a miscarriage and Allah's Messenger (ﷺ) gave his verdict that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو ( پتھر سے ) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ ( جنین ) گر گیا پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا ۔
Narrated Hisham's father from Al-Mughira bin Shu`ba رضی اللہ عنہ :
`Umar رضی اللہ عنہ consulted the companions about the case of a woman's abortion (caused by somebody else). Al-Mughira رضی اللہ عنہ said: The Prophet (ﷺ) gave the verdict that a male or female slave should be given (as a Diya). Then Muhammad bin Maslama رضی اللہ عنہ testified that he had witnessed the Prophet (ﷺ) giving such a verdict.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ایک عورت کے حمل گرادینے کے خون بہا کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا کنیز کا اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا ۔پھر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی گواہی دی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے ۔
Narrated Hisham's father:
`Umar رضی اللہ عنہ asked the people, "Who heard the Prophet (ﷺ) giving his verdict regarding abortions?" Al-Mughira رضی اللہ عنہ said, "I heard him judging that a male or female slave should be given (as a Diya)." 'Umar said, "Present a witness to testify your statement." Muhammad bin Maslama said, "I testify that the Prophet (ﷺ) gave such a judgment." Hadrat Mogheerah bin Shobah رضی اللہ عنہ has narrated about Hadrat Umer رضی اللہ عنہ that he consulted about causing miscarriage of a woman.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے ؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر اپنا کوئی گواہ لاؤ ۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا ۔مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ امیرالمؤمنین نے ان سے عورت کے حمل گرادینے کے ( خون بہا کے سلسلے میں ) ان سے اسی طرح مشورہ کیا تھا آخر تک ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) gave a verdict regarding an aborted fetus of a woman from Bani Lihyan that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya) but the woman who was required to give the slave, died, so Allah's Messenger (ﷺ) gave the verdict that her inheritance be given to her children and her husband and the Diya be paid by her 'Asaba.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین ( کے گرنے ) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا ۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہو گی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Two women from Hudhail fought with each other and one of them hit the other with a stone that killed her and what was in her womb. The relatives of the killer and the relatives of the victim submitted their case to the Prophet (ﷺ) who judged that the Diya for the fetus was a male or female slave, and the Diya for the killed woman was to be paid by the 'Asaba (near relatives) of the killer.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے ( جنین ) سمیت مرگئی ۔ پھر ( مقتولہ کے رشہ دار ) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ ( عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ ) کے ذمہ واجب قرار دیا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"When Allah's Messenger (ﷺ) arrived at Medina, Abu Talha رضی اللہ عنہ took hold of my hand and brought me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Anas رضی اللہ عنہ is an intelligent boy, so let him serve you." Anas رضی اللہ عنہ added, "So I served the Prophet (ﷺ) L at home and on journeys; by Allah, he never said to me for anything which I did: Why have you done this like this or, for anything which I did not do: 'Why have you not done this like this?"
مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی ، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا یا رسول اللہ ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی ۔ واللہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is no Diya for persons killed by animals or for the one who has been killed accidentally by falling into a well or for the one killed in a mine. And one-fifth of Rikaz (treasures buried before the Islamic era) is to be given to the state."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں ، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں ، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "There is no Diya for a person injured or killed by an animal (going about without somebody to control it) and similarly, there is no Diya for the one who falls and dies in a well, and also the one who dies in a mine. As regards the Ar-Rikaz (buried wealth), one-fifth thereof is for the state."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، انہوں نے محمد بن زیادسے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ،
آپ نے فرمایا بے زبان جانور کسی کو زخمی کرے تو اس کی دیت کچھ نہیں ہے ، اسی طرح کام میں کام کرنے سے کوئی نقصان پہنچے ، اسی طرح کنویں میں کام کرنے سے اور جو کافروں کا مال دفن کیا ہوا ملے اس میں پانچواں حصہ سرکار میں لیا جائے گا ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever killed a Mu'ahid (a person who is granted the pledge of protection by the Muslims) shall not smell the fragrance of Paradise though its fragrance can be smelt at a distance of forty years (of traveling).
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے ، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے ، کہا ہم سے مجاہد نے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ،
انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ نے فرمایا جو شخص ایسی جان کو مارڈاے جس سے عہد کر چکا ہو ( اس کی امان دے چکا ہو ) جیسے ذمی کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا ( چہ جائے کہ اس میں داخل ہو ) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے ۔
Narrated Abu Juhaifa:
I asked `Ali رضی اللہ عنہ "Do you have anything Divine literature besides what is in the Qur'an?" Or, as Uyaina once said, "Apart from what the people have?" `Ali رضی اللہ عنہ said, "By Him Who made the grain split (germinate) and created the soul, we have nothing except what is in the Qur'an and the ability (gift) of understanding Allah's Book which He may endow a man, with and what is written in this sheet of paper." I asked, "What is on this paper?" He replied, "The legal regulations of Diya (Blood-money) and the (ransom for) releasing of the captives, and the judgment that no Muslim should be killed in Qisas (equality in punishment) for killing a Kafir (disbeliever).
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے ، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے ، ان سے عامر شعبی نے بیان کیا ۔ ابوجحیفہ سے روایت کر کے ، کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا ۔ ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے صدقہ بن فضل نے ، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے بیان کیا ، کہا میں نے عامر شعبی سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے میں نے ابوجحیفہ سے سنا ، انہوں نے کہا
میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تمہارے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں ( یعنی مشہور مصحف میں ) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس خدا کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے ۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے ؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Do not prefer some prophets to others."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے ، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
آپ نے فرمایا دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
A Jew whose face had been slapped (by someone), came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Muhammad! A man from your Ansari companions slapped me. " The Prophet (ﷺ) said, "Call him". They called him and the Prophet (ﷺ) asked him, "Why did you slap his face?" He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! While I was passing by the Jews, I heard him saying, 'By Him Who chose Moses above all the human beings.' I said (protestingly), 'Even above Muhammad?' So I became furious and slapped him." The Prophet (ﷺ) said, "Do not give me preference to other prophets, for the people will become unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain conscious, and behold, I will Find Moses holding one of the pillars of the Throne (of Allah). Then I will not know whether he has become conscious before me or he has been exempted because of his unconsciousness at the mountain (during his worldly life) which he received."
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد ( یحیٰی بن عمارہ ) سے ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا
یہود میں سے ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا ۔ کہنے لگا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص ( نام نامعلوم ) نے مجھ کو طمانچہ مارا ۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا ۔ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا ، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا ۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا ۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا ۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں ۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے ۔