Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
A man embraced Islam and then reverted back to Judaism. Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ came and saw the man with Abu Musa رضی اللہ عنہ . Mu`adh asked, "What is wrong with this (man)?" Abu Musa replied, "He embraced Islam and then reverted back to Judaism." Mu`adh said, "I will not sit down unless you kill him (as it is) the verdict of Allah and His Apostle.
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے محبوب بن الحسن نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے حمید بن ہلال نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک شحص اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا پھر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور وہ شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ انہوں نے پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا ۔ پھر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کر لو نہیں بیٹھوں گا ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔
Narrated `Abdur Rahman bin Abi Bakra:
Abu Bakra رضی اللہ عنہ wrote to his son who was in Sijistan: 'Do not judge between two persons when you are angry, for I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A judge should not judge between two persons while he is in an angry mood."
ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن ابن ابی بکرہ سے سنا ، کہا کہ
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے ( عبیداللہ ) کو لکھا اور وہ اس وقت سجستان میں تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرنا جب تم غصہ میں ہو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو ۔
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, I fail to attend the morning congregational prayer because so-and-so (i.e., Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہما ) prolongs the prayer when he leads us for it." I had never seen the Prophet (ﷺ) more furious in giving advice than he was on that day. He then said, "O people! some of you make others dislike (good deeds, i.e. prayers etc). So whoever among you leads the people in prayer, he should shorten it because among them there are the old, the weak and the busy (needy having some jobs to do). (See Hadith No. 90, Vol. 1)
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انہیں قیس ابن ابی حازم نے ، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں واللہ صبح کی جماعت میں فلاں ( امام معاذ بن جبل یا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتا کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے ۔ پھر آپ نے فرمایا اے لوگو ! تم میں سے بعض نمازیوں کو نفرت دلانے والے ہیں ، پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہئے کیونکہ جماعت میں بوڑھے ، بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
He had divorced his wife during her menses. `Umar رضی اللہ عنہ mentioned that to the Prophet. Allah's Apostle became angry and said, "He must take her back (his wife) and keep her with him till she becomes clean from her menses and then to wait till she gets her next period and becomes clean again from it and only then, if he wants to divorce her, he may do so."
ہم سے محمد بن ابی یعقوب الکرمانی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا ، محمد نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حالت حیض میں تھیں ( آمنہ بنت غفار ) طلاق دے دی ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ بہت خفا ہوئے پھر فرمایا انہیں چاہئے کہ وہ رجوع کر لیں اور انہیں اپنے پاس رکھیں ، یہاں تک کہ جب وہ پاک ہو جائیں پھر حائضہ ہوں اور پھر پاک ہوں تب اگر چاہے تو اسے طلاق دیدے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Hind bint `Utba bin Rabi`a came and said. "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, there was no family on the surface of the earth, I like to see in degradation more than I did your family, but today there is no family on the surface of the earth whom I like to see honored more than yours." Hind added, "Abu Sufyan رضی اللہ عنہ is a miser. Is it sinful of me to feed our children from his property?" The Prophet (ﷺ) said, "There is no blame on you if you feed them (thereof) in a just and reasonable manner.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں اور کہا یا رسول اللہ ! روئے زمین کا کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کے متعلق اس درجہ میں ذلت کی خواہشمند ہوں جتنا آپ کے گھرانہ کی ذلت و رسوائی کی میں خواہشمند تھی لیکن اب میرا یہ حال ہے کہ میں سب سے زیادہ خواہشمند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت و سربلندی والا ہو ۔ پھر انہوں نے کہا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں ، تو کیا میرے لیے کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر لے کر ) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے ، اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) intended to write to the Byzantines, the people said, "They do not read a letter unless it is sealed (stamped)." Therefore the Prophet (ﷺ) took a silver ring----as if I am looking at its glitter now----and its engraving was: 'Muhammad, Apostle of Allah'.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل روم کو خط لکھنا چاہا تو صحابہ نے کہا کہ رومی صرف مہر لگا ہوا خط ہی قبول کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوائی ۔ گویا میں اس کی چمک کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور اس پر کلمہ ” محمد رسول اللہ “ نقش تھا ۔
Narrated 'Abdullah bin As-Sa'di:
He went to 'Umar رضی اللہ عنہ during his Caliphate. 'Umar رضی اللہ عنہ said to him, "Haven't I been told that you do certain jobs for the people but when you are given payment you refuse to take it?" 'Abdullah added: I said, "Yes." 'Umar رضی اللہ عنہ said, "Why do you do so?" I said, "I have horses and slaves and I am living in prosperity and I wish that my payment should be kept as a charitable gift for the Muslims." 'Umar رضی اللہ عنہ said, "Do not do so, for I intended to do the same as you do. Allah's Messenger (ﷺ)s used to give me gifts and I used to say to him, 'Give it to a more needy one than me.' Once he gave me some money and I said, 'Give it to a more needy person than me,' whereupon the Prophet (ﷺ) said, 'Take it and keep it in your possession and then give it in charity. Take what ever comes to you of this money if you are not keen to have it and not asking for it; otherwise (i.e., if it does not come to you) do not seek to have it yourself.' "
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید نے خبر دی ، انہیں حویطب بن عبدالعزیٰ نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن السعیدی نے خبر دی کہ
وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا ، کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے ؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کر دیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئیے ۔ آخر آپ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو ۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔
Narrated 'Umar رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) used to give me some money (grant) and I would say (to him), 'Give it to a more needy one than me.' Once he gave me some money and I said, 'Give it to a more needy one than me.' The Prophet (ﷺ) said (to me), 'Take it and keep it in your possession and then give it in charity. Take whatever comes to you of this money while you are not keen to have it and not asking for it; take it, but you should not seek to have what you are not given. ' "
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں کہتا کہ آپ اسے دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو ، پھر آپ نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے ایسے شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کر دو ۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہشمند نہ ہو اور نہ اسے تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
I witnessed a husband and a wife who were involved in a case of Lian. Then (the judgment of) divorce was passed. I was fifteen years of age, at that time.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے دو لعان کرنے والوں کو دیکھا ۔ میں اس وقت پندرہ سال کا تھا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی گئی تھی ۔
Narrated Sahl (the brother of Bani Sa`ida):
A man from the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and said, "If a man finds another man sleeping with his wife, should he kill him?" That man and his wife then did Lian in the mosque while I was present.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں بنی ساعدہ کے ایک فرد سہل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے ، کیا اسے قتل کر سکتا ہے ؟ پھر دونوں ( میاں بیوی ) میں میری موجودگی میں لعان کرایاگیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man came to Allah's Messenger (ﷺ) while he was in the mosque, and called him, saying, "O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet (ﷺ) turned his face to the other side, but when the man gave four witnesses against himself, the Prophet (ﷺ) said to him, "Are you mad?" The man said, "No." So the Prophet (ﷺ) said (to his companions), "Take him away and stone him to death. "
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا یا رسول اللہ ! میں نے زنا کر لیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن جب اس نے اپنے ہی خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تم پاگل ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
I was one of those who stoned him to death at Eidyard. Younus, Mamar, Ibn-e-Juraij, Zuhri, Abu Salamah, Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ reported it from the prophet regarding stoning to death.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس شخص کو عیدگاہ پر رجم کیا تھا ۔ اس کی روایت یونس ، معمر اور ابن جریج نے زہری سے کی ، ان سے ابوسلمہ نے ، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجم کے سلسلے میں یہی حدیث ذکر کی ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I am only a human being, and you people (opponents) come to me with your cases; and it may be that one of you can present his case eloquently in a more convincing way than the other, and I give my verdict according to what I hear. So if ever I judge (by error) and give the right of a brother to his other (brother) then he (the latter) should not take it, for I am giving him only a piece of Fire." (See Hadith No. 638, Vol. 3).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بلاشبہ میں ایک انسان ہوں ، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ۔ ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی ( فریق مخالف ) کا کوئی حق دلادوں ۔ چاہئے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں ۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said on the Day of (the battle of) Hunain, "Whoever has killed an infidel and has a proof or a witness for it, then the salb (arms and belongings of that deceased) will be for him." I stood up to seek a witness to testify that I had killed an infidel but I could not find any witness and then sat down. Then I thought that I should mention the case to Allah's Messenger (ﷺ) I (and when I did so) a man from those who were sitting with him said, "The arms of the killed person he has mentioned, are with me, so please satisfy him on my behalf." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "No, he will not give the arms to a bird of Quraish and deprive one of Allah's lions of it who fights for the cause of Allah and His Apostle." Allah's Messenger (ﷺ) I stood up and gave it to me, and I bought a garden with its price, and that was my first property which I owned through the war booty. The people of Hijaz said, "A judge should not pass a judgment according to his knowledge, whether he was a witness at the time he was the judge or before that" And if a litigant gives a confession in favor of his opponent in the court, in the opinion of some scholars, the judge should not pass a judgment against him till the latter calls two witnesses to witness his confession. And some people of Iraq said, "A judge can pass a judgement according to what he hears or witnesses (the litigant's confession) in the court itself, but if the confession takes place outside the court, he should not pass the judgment unless two witnesses witness the confession." Some of them said, "A judge can pass a judgement depending on his knowledge of the case as he is trust-worthy, and that a witness is Required just to reveal the truth. The judge's knowledge is more than the witness." Some said, "A judge can judge according to his knowledge only in cases involving property, but in other cases he cannot." Al-Qasim said, "A judge ought not to pass a judgment depending on his knowledge if other people do not know what he knows, although his knowledge is more than the witness of somebody else because he might expose himself to suspicion by the Muslims and cause the Muslims to have unreasonable doubt. " Whereas the prophet dislikeed suspicion, so once he said: She is Safiyyah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے عمر بن کثیر نے ، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ، جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا ۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے ، اس لیے میں بیٹھ گیا ۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آئی اور میں نے اس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس مقتول کا سامان جس کا ابوقتادہ ذکر کر رہے ہیں ، میرے پاس ہے ۔ انہیں اس کے لیے راضی کر دیجئیے ( کہ وہ یہ ہتھیار وغیرہ مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہرگز نہیں ۔ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظرانداز کر کے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ہے وہ قریش کے معمولی آدمی کو ہتھیار نہیں دیں گے ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے ہتھیار مجھے دے دئیے اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا ۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے ( اسلام کے بعد ) حاصل کیا تھا ۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا ، ان سے لیث بن سعد نے کہ ” پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان دلادیا ، اور اہل حجاز امام مالک وغیرہ نے کہا کہ حاکم کو صرف اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں ۔ خواہ وہ معاملہ پر عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد گواہ ہوا ہو یا اس سے پہلے اور اگر کسی فریق نے اس کے سامنے دوسرے کے لیے مجلس قضاء میں کسی حق کا اقرار کیا تو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بنیاد پر وہ فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ دو گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے اقرار کرائے گا ۔ اور بعض اہل عراق نے کہا ہے کہ جو کچھ قاضی نے عدالت میں دیکھا یا سنا اس کے مطابق فیصلہ کرے گا لیکن جو کچھ عدالت کے باہر ہو گا اس کی بنیاد پر دو گواہوں کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا اور انہیں میں سے دوسرے لوگوں نے کہا کہ اس کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہے کیں کہ وہ امانت دار ہے ۔ شہادت کا مقصد تو صرف حق کا جاننا ہے پس قاضی کا ذاتی علم گواہی سے بڑھ کر ہے ۔ اور بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ اموال کے بارے میں تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اس کے سوا میں نہیں کرے گا اور قاسم نے کہا کہ حاکم کے لیے درست نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کرے اور دوسرے کے علم کو نظرانداز کر دے گو قاضی کا علم دوسرے کی گواہی سے بڑھ کر ہے لیکن چونکہ عام مسلمانوں کی نظر میں اس صورت میں قاضی کے مہتمم ہونے کا خطرہ ہے اور مسلمانوں کو اس طرح بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ صفیہ میری بیوی ہیں ۔
Narrated `Ali bin Husain رضی اللہ عنہا :
Safiya bint (daughter of) Huyai came to the Prophet (in the mosque), and when she returned (home), the Prophet (ﷺ) accompanied her. It happened that two men from the Ansar passed by them and the Prophet called them saying, "She is Safiya!" those two men said, "Subhan Allah!" The Prophet (ﷺ) said, "Satan circulates in the human body as blood does." Hadrat Safiyyah رضی اللہ عنہا has reported it the prophet ﷺ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ نے کہ
صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ( رات کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ( اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے ) جب وہ واپس آنے لگیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے ۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں ۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا ، سبحان اللہ ( کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے ۔ اس کی روایت شعیب ابن مسافر ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے ، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے ۔
Narrated Abu Burda:
The Prophet (ﷺ) sent my father and Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ to Yemen and said (to them), "Make things easy for the people and do not put hurdles in their way, and give them glad tiding, and don't let them have aversion (i.e. to make people to hate good deeds) and you both should work in cooperation and mutual understanding" Abu Musa رضی اللہ عنہ said to Allah's Messenger (ﷺ), "In our country a special alcoholic drink called Al- Bit', is prepared (for drinking)." The Prophet (ﷺ) said, "Every intoxicant is prohibited. " Hadrat Abu Musa Ashari رضی اللہ عنہ has reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ ( تبع ) بنایا جاتا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ نضر بن شمیل ، ابوداؤد طیالسی ، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Set free the captives and accept invitations."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، کہا مجھ سے منصور نے بیان کیا ، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو ۔
Narrated Abu Humaid Al-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) appointed a man from the tribe of Bani Asad, called Ibn Al-Utabiyya to collect the Zakat. When he returned (with the money) he said (to the Prophet), "This is for you and this has been given to me as a gift." The Prophet (ﷺ) stood up on the pulpit (Sufyan said he ascended the pulpit), and after glorifying and praising Allah, he said, "What is wrong with the employee whom we send (to collect Zakat from the public) that he returns to say, 'This is for you and that is for me?' Why didn't he stay at his father's and mother's house to see whether he will be given gifts or not? By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything illegally will bring it on the Day of Resurrection by carrying it over his neck: if it is a camel, it will be grunting: if it is a cow, it will be mooing: and if it is a sheep it will be bleating!" The Prophet (ﷺ) then raised both his hands till we saw the whiteness of his armpits (and he said), "No doubt! Haven't I conveyed Allah's Message?" And he repeated it three times. Sufyan states that Zuhri narrated this event to us. Hadrat Abu Humaid said: My ears heard and eyes witnessed it, and asked Hadrat Zaid bin Thabit, for he heard it along with me. It has not been reported from Zuhri: My ears heard. ''خُوَارٌ '' means voice. And '' وَالْجُؤَارُ '' is from '' تَجْأَرُونَ '' i.e. voice like that of a cow.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، انہوں نے عروہ سے سنا ، انہیں حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ
بنی اسد کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیلدار بنایا ، ان کا نام ابن الاتیتہ تھا ۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، سفیان ہی نے یہ روایت بھی کی کہ ” پھر آپ منبر پر چڑھے “ پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ، اس عامل کا کیا حال ہو گا جسے ہم تحصیل کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ میرا ہے ۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھا ہوتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، عامل جو چیز بھی ( ہدیہ کے طور پر ) لے گا اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا ۔ اگر اونٹ ہو گا تو وہ اپنی آواز نکالتا آئے گا ، اگر گائے ہو گی تو وہ اپنی آواز نکالتی آئے گی ، بکری ہو گی تو وہ بولتی آئے گی ، پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ یہاں تک کہ ہم نے آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی اور آپ نے فرمایا کہ میں نے پہنچا دیا ! تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم سے زہری نے بیان کی اور ہشام نے اپنے والد سے روایت کی ، ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور دونوں آنکھوں نے دیکھا اور زید بن ثابت صحابی رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ کیونکہ انہوں نے بھی یہ حدیث میرے ساتھ سنی ہے ۔ سفیان نے کہا زہری نے یہ لفظ نہیں کہا کہ میرے کانوں نے سنا ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں خوار کا لفظ ہے یعنی گائے کی آواز یا جوار کا لفظ جو لفظ تجارون سے نکلا ہے جو سورۃ مومنون میں ہے یعنی گائے کی آواز نکالتے ہوں گے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Salim, the freed salve of Abu Hudhaifa رضی اللہ عنہ used to lead in prayer the early Muhajirin (emigrants) and the companions of the Prophet (ﷺ) in the Quba mosque. Among those (who used to pray behind him) were Abu Bakr, `Umar, Abu Salama, and Amir bin Rabi`a رضی اللہ عنہم .
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی ، انہیں نافع نے خبر دی ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، کہا کہ
ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ( آزاد کردہ غلام ) سالم مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ کرام مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے ۔ ان اصحاب میں ابوبکر ، عمر ، ابوسلمہ ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے ۔
Narrated Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہم :
When the Muslims were permitted to set free the captives of Hawazin, Allah's Messenger (ﷺ) said, "I do not know who amongst you has agreed (to it) and who has not. Go back so that your 'Urafa' may submit your decision to us." So the people returned and their 'Urafa' talked to them and then came back to Allah's Messenger (ﷺ) and told him that the people had given their consent happily and permitted (their captives to be freed).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ان کے چچا موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسلمانوں نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کو اجازت دی تو فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے ۔ پس واپس جاؤ اور تمہارا معاملہ ہمارے پاس تمہارے نقیب یا چودھری اور تمہارے سردار لائیں ۔ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے ذمہ داروں نے ان سے بات کی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر اطلاع دی کہ لوگوں نے دلی حوشی سے اجازت دے دی ہے ۔