Al-Shaibani narrated on the authority of Zirr who narrated it on this authority of Abdullah رضی اللہ عنہ that the (words of Allah):
The heart belied not what he saw (al Qur'an, Iiii. 11) imply that he ﷺ saw Gabriel and he had six hundred wings.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے زر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے
آیت : ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے ، جو دیکھا ‘ ‘ پڑھی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے جبریل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے ۔
Zirr bin Hubaish narrated it on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ (that the words of Allah):
Certainly he saw of the greatest signs of Allah (al-Qur'an, liii. 18) imply that he saw Gabriel in his (original) form and he had six hundred wings.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ الانباری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا,شعبہ نے سلیمان شیبانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے زربن حبیش سے سنا کہا کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ نے
آیت ’’آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ‘ ‘ پڑھی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے جبرئیل کو ان کی ( اصل ) صورت میں دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The (words of Allah): And certainly he saw him in another descent (al-Qur'an, Iiii. 13) imply that he saw Gabriel.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
( اللہ کے فرمان ) آپ ﷺنے اسے ایک اور بار اترتےہوئے دیکھا ( کے بارے میں کہا’’آپﷺ نے جبرائیل علیہ سلام کو دیکھا.
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ :
He (the Holy Prophet) saw (Allah) with, his heart.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص نے بیان کیا، عبد الملک کی سند سے,عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
آپ ﷺ نے اسے ( رب تعالیٰ کو ) دل سے دیکھا ۔
It is narrated on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ that the words:
The heart belied not what he saw (al-Qur'an, Iiii. 11) and Certainly he saw Him in another descent (al-Qur'an, Iiii. 13) imply that he saw him twice with his heart.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید الاشجع نے بیان کیا,وکیع نے کہا , ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابو جہمہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو عالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
انہوں نے آیت : ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا ‘ ‘ اور ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ ’’اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ‘ ‘ ( کےبارے میں ) کہا : رسول ا للہ ﷺ نے اسے ( رب تعالیٰ کو ) اپنے دل دو بار دیکھا ۔
It was narrated from Al-Amash:
"Abu Jahmah narrated it to us with this chain."
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیث نے بیان کیا، ان سے الاعمش نے بیان کیا، ہم سے
ابوجہمہ نے اس سلسلہ سند کے ساتھ بیان کیا۔
It is narrated on the authority of Masruq that he said: I was resting at (the house of) 'A'isha that she said: O Abu 'A'isha (kunya of Masruq), there are three things, and he who affirmed even one of them fabricated the greatest lie against Allah. I asked that they were. She said: He who presumed that Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw his Lord (with his ocular vision) fabricated the greatest lie against Allah. I was reclining but then sat up and said: Mother of the Faithful, wait a bit and do not be in a haste. Has not Allah (Mighty and Majestic) said: And truly he saw him on the clear horizon (Al-Qur'an, Surat at-Takwir, 81:23) and he saw Him in another descent (Al-Qur'an, Surat Najm 53:13)? She said: I am the first of this Ummah who asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it, and he said: Verily he is Gabriel. I have never seen him in his original form in which he was created except on those two occasions (to which these verses refer); I saw him descending from the heaven and filling (the space) from the sky to the earth with the greatness of his bodily structure. She said: Have you not heard Allah saying: Eyes comprehend Him not, but He comprehends (all) vision. and He is Subtle, and All-Aware (Al-Qur'an, Surat al-An`am 6:103)? (She, i.e. 'A'isha, further said): Have you not heard that, verily, Allah says: And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise. (Al-Qur'an, Surat ash-Shura, 42:51) She said: He who presumes that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) concealed anything from the Book of Allah fabricates the greatest lie against Allah. Allah says: O Messenger, announce that which has been revealed to you from your Lord, and if you do not, then you have not conveyed His message. And Allah will protect you from the people. Indeed, Allah does not guide the disbelieving people. (Al-Qur'an, Surat al-Ma'idah, 5:67). She said: He who presumes that he would inform about what was going to happen tomorrow fabricates the greatest lie against Allah. And Allah says Say, 'None in the heavens and earth knows the unseen except Allah , and they do not perceive when they will be resurrected.' (Al-Qur'an, Surat an-Naml, 27:65).
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا,اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا
میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ابو عائشہ ! ( یہ مسروق کی کنیت ہے ) تین چیزیں ہیں جس نے ان میں سے کوئی بات کہی ، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ، میں نے پوچھا : وہ باتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جس نے یہ گمان کیا کہ محمدﷺ نے اپنےرب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ۔ انہوں نےکہا : میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو ( یہ بات سنتے ہی ) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا : ام المومنین !مجھے ( بات کرنے کا ) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے ، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : ’’ بےشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا ‘ ‘ ( اسی طرح ) ’’اور آپ ﷺ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ وہ یقیناً جبرئیل ہیں ، میں انہیں اس شکل میں ، جس میں پیدا کیے گئے ، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا : ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا ، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کےدرمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا ‘ ‘ پھر ام المومنین نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : ’’ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے ‘ ‘ اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانےوالا ( فرشتے ) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے بلاشبہ وہ بہت بلند اوردانا ہے ۔ ‘ ‘ ( ام المومنین نے ) فرمایا : جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول ا للہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’اے رسول ! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر ( بالفرض ) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا ( فریضئہ رسالت ادا نہ کیا ۔ ) ‘ ‘ ( اور ) انہوں نے فرمایا : اور جوشخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ ( اے نبی! ) فرما دیجیے ! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، غیب نہیں جانتا ، سوائے اللہ کے ۔ ‘ ‘
Dawud reported on the same authorities the hadith as narrated above by Ibn 'Uliyya and added:
She ('A'isha) said: If Muhammad were to conceal anything which was sent to him, he would have certainly concealed this verse: And when thou saidst to him on whom Allah had conferred favour and thou too had conferred favour: Keep thy wife to thyself and fear Allah, and thou wast concealing in thy heart that which Allah was going to disclose, and thou wast fearing men while Allah has a better right that thou shouldest fear Him.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا,( اسماعیل کے بجائے ) عبدالوہاب نے کہا : ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی ( اسماعیل بن ابراہیم ) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ
( حضرت عائشہؓ نے ) فرمایا : اگر محمدﷺ کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی ، چھپانے والے ہوتے ، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے : ’’ اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے ( بھی ) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ، آپ لوگوں ( کےطعن و تشنیع ) سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ۔ ‘ ‘
Masruq reported:
I asked 'A'isha if Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had seen his Lord. She replied: Hallowed be Allah, my hair stood on end when you said this, and he (Masruq) narrated the hadith as narrated above. The hadith reported by Diwud is more complete and longer.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا,اسماعیل ( بن ابی خالد ) نے ( عامر بن شراحیل ) شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ پھر ( اسماعیل نے ) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے ۔
Masruq reported:
I said to 'A'isha: What about the words of Allah: Then he drew nigh and came down, so he was at a distance of two bows or closer still: so He revealed to His servant what He revealed (al-Qur'an, liii. 8-10)? She said: It implies Gabriel. He used to come to him (the Holy Prophet) in the shape of men; but he came at this time in his true form and blocked up the horizon of the sky.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا,( سعید بن عمرو ) ابن اشوع نے عامر ( شعبی ) سے ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نےحضرت عائشہ ؓ سے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہو گا : ’’ پھر وہ قریب ہوا اور اتر آیا اور د وکمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلے پر تھا ، پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی ؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : وہ تو جبریل تھے ، وہ ہمیشہ آپ کے پاس انسانوں کی شکل میں آتے تھے اور اس دفعہ وہ آپ کے پاس اپنی اصل شکل میں آئے اور انہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا ۔
It is narrated on the authority of Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
I asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Did you see thy Lord? He said: (He is) Light; how could I see Him?
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,یزید بن ابراہیم نے قتادہ سے ، انہوں نے عبد اللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟ آپ نے جواب دیا : ’’ وہ نو ر ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں! ‘ ‘
Abdullah bin Shaqiq رضی اللہ عنہ reported:
I said to Abu Dharr رضی اللہ عنہ : Had I seen the Messenger of Allah, I would have asked him. He (Abu Dharr) said: What is that thing that you wanted to inquire of him? He said: I wanted to ask him whether he had seen his Lord. Abu Dharr رضی اللہ عنہ said: I, in fact, inquired of him, and he replied: I saw Light.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابی ایچ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن الشعر نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، وہ عبداللہ بن شقیق سے۔ ، اس نے کہا
میں نےابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا : اگرمیں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ان کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ؟ عبد اللہ بن شقیق نے کہا : میں آپ ﷺ سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے آپ سے ( یہی ) سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایاتھا : ’’ میں نے نور دیکھا ۔ ‘ ‘
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was standing amongst us and he told us five things. He said: Verily the Exalted and Mighty God does not sleep, and it does not befit Him to sleep. He lowers the scale and lifts it. The deeds in the night are taken up to Him before the deeds of the day, and the deeds of the day before the deeds of the night. His veil is the light. In the hadith narrated by Abu Bakr (instead of the word light ) it is fire. If he withdraws it (the veil), the splendour of His countenance would consume His creation so far as His sight reaches.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نےحدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں اعمش نے عمرو بن مرہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسو ل اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر پانچ باتوں پر مشتمل خطبہ دیا ، فرمایا : ’’بےشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ سونا اس کے شایان شان ہے ، وہ میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اوپر اٹھاتا ہے ، رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، اس کا پردہ نور ہے ( ابو بکر کی روایت میں نور کی جگہ نار ہے ) اگر وہ اس ( پردے ) کو کھول دے تو اس کے چہرے کے انوار جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں ۔ ‘ ‘ ابو بکر کی روایت میں ہے : ’’ اعمش سے روایت ہے ، ‘ ‘ یہ نہیں کہا : ’’ اعمش نےہمیں حدیث سنائی.
A'mash has narrated this hadith on the same authority and said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was standing amongst us and he told us four things. He then narrated the hadith like the one reported by Abu Mua'wiya, but did not mention the words His creation and said: His veil is the light.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا,اعمش کے ایک اور شاگرد جریر نے اسی ( مذکورہ ) سند سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا ..... پھر جریر نے ابو معاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا اور ’’مخلوقات کو جلا ڈالے ‘ ‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور کہا : اس کا پردہ نور ہے ۔ ‘ ‘
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was standing amongst us and (he said) four (things): Verily Allah does not sleep and it does not befit Him to sleep. He raises the scale and lowers it. The deeds of the day are presented to Him in the night and the deeds of the night in the day.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہاشعبہ نے عمرو بن مرہ کے حوالے سے ابو عبیدہ سےاور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
آپ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا : ’’ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے ، سونا اس کےلائق نہیں ، میزان کو اوپر اٹھاتا اور نیچے کرتا ہے ۔ دن کا عمل رات کو اور رات کاعمل دن کو اس کے حضور پیش کیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Qais رضی اللہ عنہ transmitted on the authority of his father (Abu Musa Ash'ari):
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There would be two gardens (in Paradise) the vessels and contents of which would be of silver, and two gardens whose vessels and contents would be of gold. The only thing intervening to hinder the people from looking at their Lord will be the mantle of Grandeur over His face in the Garden of Eden.
ہم سے نصر بن علی الجہضَمی، ابو غسان المسماعی اور اسحاق بن ابراہیم سب نے عبد العزیز بن عبد الصمد کی سند سے بیان کیا اور قول یہ ہے: ابو غسان، انہوں نے کہا: ابو عبد الصمد۔ ہم سے صمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عمران الجنی نے بیان کیا، ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’دو جنتیں چاندی کی ہیں ، ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے ( وہ بھی ۔ ) اور دو جنتیں سونے کی ہیں 8 ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے ۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کی رؤیت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و کبریائی کی جو چادر ہے اس چادر کے سوا کوئی چیز نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
Suhaib رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: When those deserving of Paradise would enter Paradise, the Blessed and the Exalted would ask: Do you wish Me to give you anything more? They would say: Hast Thou not brightened our faces? Hast Thou not made us enter Paradise and saved us from Fire? He (the narrator) said: He (God) would lift the veil, and of things given to them nothing would he dearer to them than the sight of their Lord, the Mighty and the Glorious.
ہم سے عبید اللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہاعبد الرحمن بن مہدی نے کہا , ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، ( اس وقت ) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں ؟ وہ جواب دیں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے ! کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ ‘ ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو ۔ ‘ ‘
Hammad bin Salama narrated it on the same authority and added:
He then recited the verse: Those who do good will have the best reward and even more (x. 26)
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,( عبد الرحمن بن مہدی کےبجائے ) یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ اس میں یہ اضافہ ہے
پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ﴾ ’’جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے خوبصورت ( جزا ) اور مزید ( دیدار الہٰی ) ہے ۔ ‘ ‘
Abu Haraira رضی اللہ عنہ reported:
The people said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Messenger of Allah, shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full? They said: Messenger of Allah, no. He (the Messenger) further said: Do you feel any trouble in seeing the sun, when there is no cloud over it? They said: Messenger of Allah. no. He (the Holy Prophet) said: Verily you would see Him like this (as you see the sun and the moon). God will gather people on the Day of Resurrection and say: Let every people follow what they worshipped. Those who worshipped the sun would follow the sun, and those who worshipped the moon would follow the moon, and those who worshipped the devils would follow the devils. This Ummah (of Islam) alone would be left behind and there would be hypocrites too amongst it. Allah would then come to them in a form other than His own Form, recognisable to them, and would say: I am your Lord. They would say: We take refuge with Allah from thee. We will stay here till our Lord comes to us. and when our Lord would come we would recognise Him. Subsequently Allah would come to them in His own Form, recognisable to them, and say: I am your Lord. They would say: Thou art our Lord. And they would follow Him, and a bridge would be set over the Hell; and I (the Holy Prophet) and my Ummah would be the first to pass over it; and none but the messengers would speak on that day, and the prayer of the messengers on that day would be: O Allah! grant safety, grant safety. In Hell, there would be long spits like the thorns of Sa'dan He (the Holy Prophet) said: Have you seen Sa'dan? They replied: Yes, Messenger of Allah. He said: Verily those (hooks) would be like the thorns of Sa'dan, but no one knows their size except Allah. These would seize people for their misdeeds. Some of them would escape for their (good) deeds, and some would be rewarded for their deeds till they get salvation. When Allah would finish judging His bondsmen and because of His mercy decide to take out of Hell such people as He pleases. He would command the angels to bring out those who had not associated anything with Allah; to whom Allah decided to show mercy. those who would say: There is no god but Allah. They (the angels) would recognise them in the Fire by the marks of prostration, for Hell-fire will devour everything (limb) of the sons of Adam except the marks of prostration. Allah has forbidden the fire to consume the marks of prostration. They will be taken out of the Fire having been burnt, and the water of life would be poured over them, and they will sprout as seed does In the silt carried by flood. Then Allah would finish judging amongst His bondsmen; but a man who will be the last to enter Paradise will remain facing Hell and will say: O my Lord I turn my face away from Hell, for its air has poisoned me ard its blaze has burnt me. He will then call to Allah as long as Allah would wish that he should call to Him. Then Allah, Blessed and Exalted, would say: If I did that, perhaps you would ask for more than that. He would say: I would not ask You more than this, and he would give his Lord covenants and agreements as Allah wished, and so He would turn his face away from the Fire When he turns towards the Paradise and sees it, he will remain silent as long as Allah wishes him to remain so. He will then say: O my Lord I bring me forward to the gate of the Paradise. Allah would say to him: Did you not give covenants and agreements that you would not ask for anything besides what I had given you. Woe to thee! O son of Adam, how treacherous you are! He would say: O my Lord! and would continue calling to Allah till He would say to him: If I grant you that, perhaps you will ask for more. He will reply: No, by Thy greatness, and he will give His Lord promises and covenants as Allah had wished. He would then bring him to the gate of the Paradise, and when he would stand at the gate of the Paradise, it would lay open before him. and he would see the bounty and the joy that there is in it. He would remain quiet as long as Allah would desire him to remain silent. He would then say: O my Lord, admit me to Paradise. Allah. Blessed and Exalted, would say: Did you not give covenants and agreements that you would not ask for anything more than what I had granted you? Woe to you! son of Adam, how treacherous you are! And he would say: O my Lord, I do not wish to be the most miserable of Thy creatures. He would continue calling upon Allah till Allah, Blessed and Exalted, would laugh. When Allah would laugh at him, He would say: Enter the Paradise. When he would enter, Allah would say: State your wish. He would express his wishes till Allah would remind him (the desire of) such and such (things). When his desires would be exhausted Allah would say: That is for thee and, besides it, the like of it also. 'Ata' b. Yazid said: Abu Sa'id al-Khudri was with Abu Huraira and be did not reject anything from the hadith narrated by him, but when Abu Huraira narrated: Allah said to that man; ind its like along with it, Abu Sa'id said: Ten like it along with it, O Abu Huraira. Abu Huraira said: I do not remember except the words: That is for you and a similar one along with it. Abu Sa'id said: I bear witness to the fact that I remembered from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) his words: That is for thee and ten like it. Abu Huraira said: That man was the last of those deserving of Paradise to enter Paradise.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے والد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا
کچھ لوگوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اللہ کے رسول ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تمہیں پورے چاند کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : نہیں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : ’’ جب بادل حائل نہ ہوں تو کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : نہیں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ تم اسے ( اللہ ) اسی طرح دیکھو گے ، اللہ تعالیٰ قیامت کےدن تمام لوگوں کو جمع کرے گا ، پھر فرمائے گا : جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسی کے پیچھے چلا جائے ، چنانچہ جوسورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا ، جو چاند کی پرستش کرتا تھا وہ ا س کے پیچھے چلا جائے گااور جو طاغوتوں ( شیطانوں ، بتوں وغیرہ ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوتی کے پیچھے چلا جائے گا اور صرف یہ امت ، اپنے منافقوں سمیت ، باقی رہ جائے گی ۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے پاس اپنی اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچان سکتےہوں گے ، پھر فرمائے گا : میں تمہارارب ہوں ۔ وہ کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، ہم اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارارب ہمارے پاس آ جائے ، جب ہمارا رب آئے گا ہم اسے پہچان لیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اس کو پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ۔ وہ کہیں گے ، تو ( ہی ) ہمارا رب ہے اور اس کے ساتھ ہو جائیں گے ، پھر ( پل ) صراط جہنم کے درمیانی حصے پر رکھ دیا جائے گاتو میں اور امت سب سے پہلے ہوں گے جو اس سے گزریں گے ۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی بول نہ سکے گا ۔ اور رسولوں کو پکار ( بھی ) اس دن یہی ہو گی : اے اللہ ! سلامت رکھ ، سلامت رکھ ۔ اور دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے ، کیا تم نے سعدان دیکھا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے جواب دیا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’وہ ( آنکڑے ) سعدان کے کانٹوں کی طرح کے ہوں گے لیکن وہ کتنے بڑے ہوں گے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، وہ لوگ کو ان کے اعمال کا بدلہ چکانا ہوگا ۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور ارادہ فرمائے گا کہ اپنی رحمت سے ، جن دوزخیوں کو چاہتا ہے ، آگ سے نکالے تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان لوگوں میں سے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے ، لا الہ الا اللہ کہنے والوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ رحمت کرنا چاہے گا انہیں آگ سے نکال لیں ۔ فرشتے ان کو آگ میں پہچان لیں گے ۔ وہ ا نہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے ۔ آگ سجدے کے نشانات کے سوا ، آدم کے بیٹے ( کی ہر چیز ) کو کھا جائے گی ۔ ( کیونکہ ) اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے ، چنانچہ وہ اس حال میں آگ سے نکالے جائیں گےکہ جل کر کوئلہ بن گئے ہوں گے ، ان پر آپ حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس کے ذریعے سے اس طرح اگ آئیں گے ، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں گھاس کا بیج پھوٹ کر اگ آتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا ۔ بس ایک شخص باقی ہو گا ، جس نے آگ کی طرف منہ کیا ہو ا ہو گا ، یہی آدمی ، تمام اہل جنت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا ۔ وہ عرض کرے گا : میرا باپ ! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبونے میری سانسوں میں زہر بھر دیا ہے اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے ، چنانچہ جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہ اللہ کو پکارتا رہے گاپھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ یہ ( حسن سلوک ) کر دوں تو تم کچھ اور مانگنا شروع کر دو گے؟وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا ۔ وہ اپنے رب عز وجل کو جو عہد و پیمان وہ ( لینا ) چاہے گا ، دے گا ، تو اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گاجب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھا گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا کہ وہ چپ رہے ( اتنی دیر ) چپ رہے گا ، پھر کہے گا : میرا رب! مجھے جنت کے دروازے تک آگے کر دے ، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا : کیا تم نے عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تمہیں عطاکر دیا ہے اس کےسوا مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ تجھ پر ا فسوس ہے ! آدم کے بیٹے ! تم کس قدر عہد شکن ہو ! وہ کہے گا : اے میرے رب ! اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس سے کہے گا : کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں نے تمہیں یہ عطا کر دیا تو اس کے بعد تو اور کچھ مانگنا شروع کر دے گا؟ وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ! ( اور کچھ ) نہیں ( مانگوں گا ۔ ) وہ اپنے رب کو ، جواللہ چاہے گا ، عہد و پیمان دے گا ، اس پر اللہ اسے جنت کے دروازے تک آگے کر دے گا ، پھرجب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو گا تو جنت اس کے سامنے کھل جائے گی ۔ اس میں جو خیر اور سرور ہے وہ اس کو ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھے گا ۔ تو جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا ، پھر کہے گا : میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا ، کیا تو نے پختہ عہد و پیمان نہ کیے تھے کہ جو کچھ تجھے دے دیا گیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟ ابن آدم تجھ پر افسوس! تو کتنا بڑا وعدہ شکن ہے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص نہ بنوں ، وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا حتی کہ اللہ عزوجل اس پر ہنسے گا اور جب اللہ تعالیٰ ہنسے گا ( تو ) فرمائے گا : جنت میں داخل ہو جا ۔ جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، تمنا کر ! تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور تمنا کرے گا یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا ، فلاں چیز ( مانگ ) فلاں چیز ( مانگ ) حتی کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تواللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ۔ ‘ ‘ عطاء بن یزید نے کہا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ، انہوں نے ان کی کسی بات کی تردید نہ کی لیکن جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا : ’’ یہ سب کچھ تیرا ہوا اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی ‘ ‘ تو ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : ابو ہریرہ! اس کے ساتھ اس سے دس گنا ( اور بھی ) ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے تو آپ کا یہی فرمان یاد ہے : ’’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی ۔ ‘ ‘ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر آپ کا یہ فرمان دیکھا ہے : ’’ یہ سب تیرا ہوا اور اس سے دس گنا اور بھی ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے آخری شخص ہو گا
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The people said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Messenger of Allah I shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The rest of the hadith was narrated according to the narration of Ibrahim bin Sa'd.
ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن الدارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا,شعیب نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا : عطاء اور سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےان دونوں کو خبر دی کہ
لوگوں نے نبی ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیاہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟. .....آگے ابراہیم بن سعد کی طرح حدیث بیان کی ۔