The Book of Oaths, Muharibin, Qasas (Retaliation), and Diyat (Blood Money)
كتاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ
Chapter 29
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through another chain of transmitters with a slight variation of words.
معاذ بن معاذ ، خالد بن حارث ، محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے روایت کی ، انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ ان میں سے بعض نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے يقضى کا لفظ کہا اور بعض نے يحكم بين الناس کہا ( معنی وہی ہے).
Abu Bakra رضی اللہ عنہ reported (in the Farewell Address):
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Time has completed a cycle and come to the state of the day when Allah created the heavens and the earth. The year is constituted of twelve months, of which four are sacred; three of them consecutive, viz. Dhu'l-Qa'da, Dhu'l- Hijja and Muharram, and also Rajab the month of Mudar which comes between Jumada and Sha'ban. He (the Holy Prophet ﷺ) then said: which month is this? We said Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) remained silent for some time until we thought that he would give it a name other than that (by which it was known). He said: Is it not Dha'l-Hijja? We said: Yes. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophet ﷺ) remained silent until we thought that he would give it another name. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Is it not the Balda (the city of Mecca)? We said: Yes. He said: What day is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophet) remained silent until we thought that he would give it another name. He said: Is it not the Day of Sacrifice? We said: Allah's Messenger ﷺ. yes. Thereupon he said: Your blood, your property (Muhammad, one of the narrators, said: I think, he also said this) and your honour are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this city of yours, and in this month of yours. You will soon meet your Lord and He will ask you about your deeds. So do not turn after me unbelievers (or misguided), some of you striking the necks of the others. Behold I let him who is present convey to him who is absent, for many a one whom a message is conveyed has a more retentive memory than one who hears. He again said: Behold! have I not delivered (the message) to you? This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but with a slight variation of words.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور یحییٰ بن حبیب حارثی ۔ ۔ دونوں کے الفاظ قریب قریب ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن سیرین سے ، انہوں نے ابن ابی بکرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ زمانہ گھوم کر اپنی اسی حالت پر آ گیا ہے ( جو اس دن تھی ) جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا ۔ سال کے بارہ مہینے ہیں ، ان میں سے چار حرمت والے ہیں ، تین لگاتار ہیں : ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور ( ان کے علاوہ ) رجب جو مضر کا مہینہ ہے ، ( جس کی حرمت کا قبیلہ مضر قائل ہے ) جو جمادیٰ اور شعبان کے درمیان ہے ۔ "" اس کے بعد آپ نے پوچھا : "" ( آج ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ "" ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ کہا : آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اسے اس کے ( معروف ) نام کے بجائے کوئی اور نام دیں گے ۔ ( پھر ) آپ نے فرمایا : "" کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : کیوں نہیں! ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ کون سا شہر ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول سب سے بڑھ کر جاننے والے ہیں ۔ کہا : آپ خاموش رہے حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے ( معروف ) نام سے ہٹ کر اسے کوئی اور نام دیں گے ، ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کیا یہ البلدہ ( حرمت والا شہر ) نہیں؟ "" ہم نے جواب دیا : کیوں نہیں! ( پھر ) آپ نے پوچھا : "" یہ کون سا دن ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول سب سے بڑھ کر جاننے والے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : "" کیا یہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) نہیں ہے؟ "" ہم نے جواب دیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ تمہارے خون ، تمہارے مال ۔ ۔ محمد ( بن سیرین ) نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : ۔ ۔ اور تمہاری عزت تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس مہینے میں ، اس شہر میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے ، اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا ، تم میرے بعد ہرگز دوبارہ گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ، سنو! جو شخص یہاں موجود ہے وہ اس شخص تک یہ پیغام پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ، ممکن ہے جس کو یہ پیغام پہنچایا جائے وہ اسے اس آدمی سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو جس نے اسے ( خود مجھ سے ) سنا ہے ۔ "" پھر فرمایا : "" سنو! کیا میں نے ( اللہ کا پیغام ) ٹھیک طور پر پہنچا دیا ہے؟ "" ابن حبیب نے اپنی روایت میں "" مضر کا رجب "" کہا : اور ابوبکر کی روایت میں ( "" تم میرے بعد ہرگز دوبارہ "" کے بجائے ) "" میرے بعد دوبارہ "" ( تاکید کے بغیر ) ہے.
Abu Bakra reported:
When it was that day (the 10th of Dhu'l-Hijja) he mounted his camel and a person caught its nosestring, whereupon he said: Do you know which day is this? They said: Allah and His Messenger know best. (The Prophet [may peace be upon him] kept silent) until we thought that he would give that another name. He said: Is it not the day of Nahr (Sacrifice) (10th of Dhu'l- Hijja)? We said: Allah's Messenger, yes. He (again) said: Which month is it? We said: Allah and His Messenger knows best. He said: Is it not Dhu'l-Hijja? We said: Allah's Messenger, yes. He said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said (that the Prophet kept silent until we thought that he would give it another name besides its (original) name. He said: Is it not Balda (the city of Mecca)? We said: Yes, Allah's Messenger. He (then) said: Verily your blood (lives) and your property and your honour are as sacred unto you as sacred is this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let him who is present convey it to one who is absent. He then turned his attention towards two multicoloured (black and white) rams and slaughtered them, and two goats, and distributed them amongst us.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا, یزید بن زریع نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب وہ دن تھا ، ( جس کا آگے ذکر ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک انسان نے اس کی لگام پکڑ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ "" لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! فرمایا : یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ، فرمایا : "" کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ کون سا شہر ہے؟ "" ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ کہا : ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے ( معروف ) نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ البلدہ ( حرمت والا شہر ) نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ تمہارے خوب ، تمہارے مال اور تمہاری ناموس ( عزتیں ) تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس شہر میں ، اس مہینے میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے ، یہاں موجود شخص غیر موجود کو یہ پیغام پہنچا دے ۔ "" کہا : پھر آپ دو چتکبرے ( سفید و سیاہ ) مینڈھوں کی طرف مڑے ، انہیں ذبح کیا اور بکریوں کے گلے کی طرف ( آئے ) اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم فرمایا ۔
Abu Bakra reported:
When it was the day of (Dhu'l-Hijja) Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) mounted the camel and addressed and a person had been holding its nose string. The rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا حماد بن مسعدہ نے ہمیں ابن عون سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : محمد ( بن سیرین ) نے کہا : عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا
جب وہ دن تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ۔ کہا : اور ایک آدمی نے اس کی باگ ۔ ۔ یا کہا : لگام ۔ ۔ تھام لی ۔ ۔ ۔ آگے یزید بن زریع کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bakra رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters (and the words are):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) addressed us on the day of Nahr (Sacrifice) and said: What day is this? And the rest of the hadith is the same except that he did not make mention of your honour, and also did not make mention of this: He then turned his attention towards two rams and what follows, and in a hadith (the words pertaining to sacred- ness are recorded in this way): Like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours to the day when you will meet your Lord. Behold, have I not conveyed (the Message of God)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness.
مجھ سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے اور ایک اور آدمی سے ، جو میرے خیال میں عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے افضل ہے ، حدیث بیان کی ، نیز ابو عامر عبدالملک بن عمرو نے کہا : ہمیں قرہ نے یحییٰ بن سعید کی ( مذکورہ ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ۔ اور انہوں ( ابو عامر ) نے اس آدمی کا نام حمید بن عبدالرحمن بتایا ( یہ بصرہ کے فقیہ ترین راوی ہیں ) ۔ ۔ انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور پوچھا : " یہ کون سا دن ہے؟ " ۔ ۔ اور انہوں ( قرہ ) نے ابن عون کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے " عزت و ناموس " کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے " اور اس کے بعد والا حصہ بیان کیا ۔ انہوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : " جیسے تمہارے اس شہر میں ، تمہارے اس مہینے میں تمہارا یہ دن اس وقت تک قابل احترام ہے جب تم اپنے رب سے ملو گے ۔ سنو! کیا میں نے ( اللہ کا پیغام ) پہنچا دیا؟ " لوگوں نے کہا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! گواہ رہنا ".
Alqama bin Wa'il reported on the authority of his-father:
While I was sitting in the company of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), a person came there dragging another one with the help of a strap and said: Allah's Messenger ﷺ, this man has killed my brother. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Did you kill him? And the other man said: (In case he did not make a confession of this, I shall brine, a witness against him). He (the murderer) said: Yes, I have killed him. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Why did you kill him? He said: I and he won striking down the leaves of a tree and he abused me and enraged me, and to I struck his head with an axe and killed him, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Have you anything with you to pay blood-wit on your behalf? He said: I do not possess any property but this robe of mine and this axe of mine. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Do you think your people will pay ransom for you? He said: I am more insignificant among my people than this (that I would not be able to get this benefit from my tribe). He (the Holy Prophet ﷺ) threw the strap towards him (the claimant of the blood-wit) saying: Take away your man. The man took him away, and as he returned, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If he kills him, he will be like him. He returned and said: Allah's Messenger, it has reached me that you have said that If he killed him, he would be like him. I caught hold of him according to your command, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't you like that he should take upon him (the burden) of your sin and the sin of your companion (your brother)? He said: Allah's Apostle ﷺ, why not? The Messenger of Allah (ﷺ) said: If it is so, then let it be. He threw away the strap (around the offender) and set him free.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو یونس نے بیان کیا, سماک بن حرب نے علقمہ بن وائل سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا
میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوسرے کو مینڈھی کی طرح بنی ہوئی چمڑے کی رسی سے کھینچتے ہوئے لایا اور کہا : اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ " تو اس ( کھینچنے والے ) نے کہا : اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں اس کے خلاف شہادت پیش کروں گا ۔ اس نے کہا : جی ہاں ، میں نے اُسے قتل کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " تم نے اسے کیسے قتل کیا؟ " اس نے کہا : میں اور وہ ایک درخت سے پتے چھاڑ رہے تھے ، اس نے مجھے گالی دی اور غصہ دلایا تو میں نے کلہاڑی سے اس کے سر کی ایک جانب مارا اور اسے قتل کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو تم اپنی طرف سے ( بطور فدیہ ) ادا کر سکو؟ " اس نے کہا : میرے پاس تو اوڑھنے کی چادر اور کلہاڑی کے سوا اور کوئی مال نہیں ہے ۔ آپ نے پوچھا : " تم سمجھتے ہو کہ تمہاری قوم ( تمہاری طرف سے دیت ادا کر کے ) تمہیں خرید لے گی؟ " اس نے کہا : میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے حقیر تر ہوں ۔ آپ نے اس ( ولی ) کی طرف رسہ پھینکتے ہوئے فرمایا : " جسے ساتھ لائے تھے اسے پکڑ لو ۔ " وہ آدمی اسے لے کر چل پڑا ۔ جب اس نے رخ پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر اس آدمی نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے ۔ " اس پر وہ شخص واپس ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : " اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے " حالانکہ میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ تمہارے اور تمہارے ساتھی ( بھائی ) دونوں کے گناہ کو ( اپنے اوپر ) لے کر لوٹے؟ " اس نے کہا : اللہ کے نبی! ۔ ۔ غالبا اس نے کہا ۔ ۔ کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو یقینا وہ ( قاتل ) یہی کرے گا ۔ " کہا : اس پر اس نے رسہ پھینکا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا.
Alaqama bin Wa'il reported on the authority of his father:
A person was brought to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who had killed another person, and the heir of the person slain had dragged him (to the Holy Prophet) with a strap around his neck. As he turned away Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The killer and the killed are (doomed) to fire. A person came to the other person (the heir of the deceased) and he reported to him the words of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and so he let him off. Isma'il bin Salim said: I made a mention of it to Habib bin Abu Thabit and he said: Ibn Ashwa' reported to me that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had asked him to pardon him, but he refused.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا, اسماعیل بن سالم نے علقمہ بن وائل سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حق دیا ، وہ اسے لے کر چلا جبکہ اس کی گردن میں چمڑے کا ایک مینڈھی نما رسہ تھا جسے وہ کھینچ رہا تھا ، جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قاتل اور مقتول ( دونوں ) آگ میں ہیں ۔ "" ( یہ سن کر ) ایک آدمی اس ( ولی ) کے پاس آیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا ۔ اسماعیل بن سالم نے کہا : میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت سے بیان کی تو انہوں نے کہا : مجھے ابن اشوع نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( ولی ) سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے معاف کر دے تو اس نے انکار کر دیا تھا.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Among two women of the tribe of Hudhail one flung a stone upon the other causing an abortion to her so Allah's Apostle (ﷺ) gave judgment that a male or a female slave of best quality be given as compensation.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
( قبیلہ ) ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو ( پتھر ) مارا اور اس کے پیٹ کے بچے کا اسقاط کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام ، مرد یا عورت ( بطور تاوان ) دینے کا فیصلہ فرمایا.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave judgment in case of the abortion of a woman of Banu Lihyan (that the offender and near relative should give compensation in the form of) good quality of a slave or a slave-girl. And the woman about whom the judgment was given for compensation died and thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave judgment that her inheritance goes to her sons and her husband, and the payment of the blood-wit lies with the family of (one who struck her).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان ( جو قبیلہ ہذیل کی شاخ ہے ) کی ایک عورت کے پیٹ کے بچے کے بارے میں ، جو مردہ ضائع ہوا تھا ، ایک غلام یا لونڈی دیے جانے کا فیصلہ کیا ، پھو رہ عورت ( بھی ) فوت ہو گئی جس کے خلاف آپ نے غلام ( بطور دیت دینے ) کا فیصلہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت ( جو بھی ہے ) اس کے بیٹوں اور شوہر کے لیے ہے اور ( اس کی طرف سے ) دیت ( کی ادائیگی ) اس کے باپ کی طرف سے مرد رشتہ داروں پر ہے.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Two women of the tribe of Hudhail fought with each other and one of them flung a stone at the other, killing her and what was in her womb. The case was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he gave judgment that the diyat (indemnity) of her unborn child is a male or a female slave of the best quality, and he also decided that the diyat of the woman is to be paid by her relative on the father's side, and he (the Holy Prophet ﷺ) made her sons and those who were with them her heirs. Hamal bin al-Nabigha al-Hudhali said: Messenger of Allah ﷺ, why should I play blood-wit for one who neither drank, nor ate, nor spoke, nor made any noise; it is like a nonentity (it is, therefore, not justifiable to demand blood-wit for it). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He seems to be one of the brothers of soothsavers on account of the rhymed speech which he has composed.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، اور ہم سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
ہذیل کی دو عورتیں باہم لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا اور اس بچے کو بھی جو اس کے پیٹ میں تھا ، چنانچہ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جنین کی دیت ایک غلام ، مرد یا عورت ہے اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس ( قاتلہ ) کے عاقلہ کے ذمے ہے اور اس کا وارث اس کے بیٹے اور ان کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو بنایا ۔ اس پر حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں اس کا تاوان کیسے دوں جس نے نہ پیا ، نہ کھایا ، نہ بولا ، نہ آواز نکالی ، ایسا ( خون ) تو رائیگاں ہوتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے ۔ " اس کی سجع ( قافیہ دار کلام ) کی وجہ سے ، جو اس نے جوڑی تھی.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Two women fought-the rest of the hadith is the same but herein no mention has been made of: He made her son and those who were with them her heirs. Someone said: Why should we pay blood-wit? And he did not name Hamal bin Malik.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا,معمر نے زہری سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
دو عورتیں باہم لڑ پڑیں ۔ ۔ ۔ اور پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور یہ ذکر نہیں کیا : آپ نے اس کے بیٹے اور اس کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو اس کا وارث بنایا ۔ اور کہا : اس پر ایک کہنے والے نے کہا : ہم کیسے دیت دیں؟ اور انہوں نے حمل بن مالک کا نام نہیں لیا.
Al-Mughira bin Shu'ba reported:
A woman struck her co-wife with a tent-pole and she was pregnant and she killed her. One of them belonged to the tribe of Lihyan. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made the relatives of the murderer responsible for the payment of blood-wit on her behalf, and fixed a slave or a female slave as the indemnity for what was in her womb. One of the persons amongst the relatives of the murderer said: Should we pay indemnity for one who, neither ate, nor drank, nor made any noise, who was just like a nonentity? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) remarked: He speaks rhymed phrases like the people of the desert. He did impose indemnity upon them.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا, جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبید بن نضیلہ خزاعی سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک عورت نے اپنی سوتن کو جبکہ وہ حاملہ تھی ، خیمہ کی لکڑی ( اور پتھر ، حدیث : 4389 ) سے مارا اور قتل کر دیا ۔ کہا : اور ان میں سے ایک قبیلہ بنو لحیان سے تھی ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل ہونے والی کی دیت قتل کرنے والی کے عصبہ ( جدی رشتہ دار مردوں ) پر ڈالی اور پیٹ کے بچے کا تاوان جو اس کے پیٹ میں تھا ، ایک غلام مقرر فرمایا ۔ اس پر قتل کرنے والی کے عصبہ ( جدی مرد رشتہ داروں ) میں سے ایک آدمی نے کہا : کیا ہم اس کا تاوان دیں گے جس نے کھایا نہ پیا اور نہ آواز نکالی ، ایسا ( خون ) تو رائیگاں ہوتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا بدوؤں کی سجع ( قافیہ بندی ) جیسی سجع ہے؟ "" کہا : اور آپ نے دیت ان ( جدی مرد رشتہ داروں ) پر ڈالی ۔
Al-Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ reported:
A woman killed her fellow-wife with a tent-pole. Her case was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he gave judgment that blood-wit should be paid by the relatives (of the offender) on the father's side. And as she was pregnant, he decided regarding her unborn child that a male or a female slave of good quality be given. Some of her offender's) relatives said: Should we make compensation for one who never ate, nor drank, nor made any noise, who was like a nonentity? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He was talking rhymed phrases like the rhymed phrases of desert Arabs.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا,مفضل نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبید بن نضیلہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک عورت نے اپنی سوتن کو خیمے کی لکڑی سے قتل کر دیا ، اس ( معاملے ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس عورت کے عاقلہ پر دیت عائد ہونے کا فیصلہ فرمایا اور چونکہ وہ حاملہ ( بھی ) تھی تو آپ نے پیٹ کے بچے کے بدلے میں ایک غلام ( بطور تاوان دیے جانے ) کا فیصلہ کیا ، اس پر اس کے عصبہ ( جدی مرد رشتہ داروں ) میں سے کسی نے کہا : کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا ، نہ پیا ، نہ چیخا ، نہ چلایا ، اس طرح کا ( خون ) تو رائیگاں ہوتا ہے ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا بدوؤں کی سجع جیسی سجع ہے؟ "
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن حاتم اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا،سفیان نے منصور سے اسی سند کے ساتھ جریر اور مفضل کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت کی.
This Hadith was narrated from Mansur with their chain, except that it says:
"She miscarried, and the matter was referred to the prophet ﷺ who ruled that a slave be given (as Diyah). And he imposed that on the relatives of the women; but in this Hadith it does not mention the Diyah for the women.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے منصور سے انہی کی ( سابقہ ) سندوں کے ساتھ مکمل قصے سمیت حدیث روایت کی ، البتہ اس میں ہے
اس عورت کا حمل ساقط ہو گیا ، یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس میں ( پیٹ کے بچے کے بدلے ) ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور یہ دیت ان لوگوں پر ڈالی جو عورت کے ولی تھے ۔ انہوں نے حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں کیا.
Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ reported:
'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ consulted people about the diyat of abortion of an unboam child. Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ said: I bear witness to the fact that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave judgment about it that a good quality of slave or female slave should be given for it. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: Bring one who may bear witness to you. Then Muhammad bin Maslama رضی اللہ عنہ bore witness to him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: دوسرے دو نے کہا: ہم سے وکیع نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے روایت کی ہے,مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کا بچہ ضائع کرنے ( کی دیت ) کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ نے اس میں ایک غلام ، مرد یا عورت دینے کا فیصلہ فرمایا تھا ۔ کہا : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جو تمہارے ساتھ ( اس بات کی ) گواہی دے ۔ کہا : تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گواہی دی.