Abdul-Rahman bin Abu Bakra reported:
My father dictated (and I wrote for him) to Ubaidullah bin Abu Bakra while he was the judge of Sijistan: Do not judge between two persons when you are angry, for I have heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should judge between two persons when he is angry.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابوعوانہ نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو خط لکھوایا ۔ ۔ اور میں نے لکھا ۔ ۔ کہ جب تم غصے کی حالت میں ہو ، تو دو آدمیوں کے مابین فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جب وہ غصے کی حالت میں ہو دو ( انسانوں/فریقوں ) کے مابین فیصلہ نہ کرے.
A hadith like that of Abu Awanah (no. 4490) was narrated from 'Abdul-Rahman bin Abu Bakra, from his father, from the prophet ﷺ.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, ہشیم ، حماد بن سلمہ ، سفیان ، محمد بن جعفر ، شعبہ اور زائدہ سب نے عبدالملک بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جس طرح ابوعوانہ کی حدیث ہے.
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who innovates things in our affairs for which there is no valid (reason) (commits sin) and these are to be rejected.
ہم سے ابو جعفر محمد بن الصباح اور عبداللہ بن عون ہلالی نے بیان کیا, ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ہمارے اس امر ( دین ) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے.
Sa'd bin Ibrahim reported:
I asked Qasim bin Muhammad about a person who had three dwelling houses and he willed away the third part of every one of these houses; he (Qasim b. Muhammad) said: All of them could be combined in one house; and then said: 'A'isha رضی اللہ عنہا informed me that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who did any act for which there is no sanction from our behalf, that is to be rejected.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ابو عامر کی سند سے بیان کیا کہ ہم سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا, عبداللہ بن جعفر زہری نے ہمیں سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
میں نے قاسم بن محمد سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے تین گھر ہیں اور اس نے ان میں سے ہر گھر کے ایک تہائی حصے کی وصیت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ اس کے تہائی کو ایک گھر کی صورت میں جمع کر دیا جائے گا ۔ پھر انہوں نے کہا : مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Should I not tell you of the best witnesses? He is the one who produces his evidence before he is asked for it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے، وہ اپنے والد سے، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے۔ عثمان، ابن ابی عمرہ الانصاری کی روایت سے، حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں بہترین گواہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہی جو شہادت طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: While two women had been going along with their two sons, a wolf came and made away with the child of one of them. One of them said to her companion: It is with your child that it (the wolf) has run away The other one said: It has run away with your child. They brought the matter to (Hadrat) Dawud (David) for decision and he made a decision in favour of the elder one. They then went to Sulaiman bin Dawud (may there be peace upon both of them) and told them (the story). He said: Bring me a knife so that I may cut him (the child) (into two parts) for you. The younger one said: No, it can't be, may Allah have mercy upon you, he (the child) belongs to her (the elder). So he gave a decision in favor of the younger one. Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: If ever I heard of the word as-sikin at all, it was that day. We called it by no other name but al-Mudya.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، مجھ سے شبابہ نے بیان کیا, ورقاء نے مجھے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : "" دو عورتیں تھیں ، دونوں کے بیٹے ان کے ساتھ تھے ( اتنے میں ) بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کا بیٹا لے گیا تو اِس نے ( جو بڑی تھی ) اپنی ساتھی عورت سے کہا : وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے اور دوسری نے کہا : وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے ۔ چنانچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضرت داود علیہ السلام کے پاس آئیں تو انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا ۔ اس کے بعد وہ دونوں نکل کر حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام کے سامنے آئیں اور انہیں ( اپنے معاملے سے ) آگاہ کیا تو انہوں نے کہا : میرے پاس چھری لاؤ ، میں تم دونوں کے مابین آدھا آدھا کر دیتا ہوں ۔ اس پر چھوٹی نے کہا : نہیں ، اللہ آپ پر رحم کرے! وہ اسی کا بیٹا ہے ۔ تو انہوں نے چھوٹی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے اس دن سے پہلے ( چھری کے لیے ) سِکین کا لفظ نہیں سنا تھا ۔ ہم مدیہ ہی کہا کرتے تھے.
This hadith has been narrated on the authority of Abu Az-Zinad with the same chain of transmitters.
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، حفص یعنی ابن میسرہ الصنانی نے کہا, موسیٰ بن عقببہ اور محمد بن عجلان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ ورقاء کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی.
Hammim bin Munabbih said:
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported (so many) a hadith of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and one of them is this: A person bought from another person a piece of land, and the person who had, bought that land found in it an earthen ware which contained gold. The person who had bought the land said (to the seller of the land): Take your gold from me, for I bought only the land from you and not the gold. The man who had sold the land said: I sold the land to you and whatever was in it. They referred the matter to a person. One who was made as a judge said to them: Have you any issue? One of them said: I have a boy, and the other said: I have a young daughter He (the judge) said: Marry this young boy with the girl, and spend something on yourselves and also give (some) charity out of it.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں یہ بھی تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے اس کی زمین خریدی تو اس آدمی کو ، جس نے زمین خریدی تھی ، اپنی زمین میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا ۔ جس نے زمین خریدی تھی ، اس نے اس ( بیچنے والے ) سے کہا : اپنا سونا مجھ سے لے لو ، میں نے تم سے زمین خریدی تھی ، سونا نہیں خریدا تھا ۔ اس پر زمین بیچنے والے نے کہا : میں نے تو زمین اور اس میں جو کچھ تھا تمہیں بیچ دیا تھا ۔ کہا : وہ دونوں جھگڑا لے کر ایک شخص کے پاس گئے ، تو جس کے پاس وہ جھگڑا لے کر گئے تھے اس نے کہا : کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا : میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا : میری ایک لڑکی ہے ۔ تو اس نے کہا : ( اس سونے کے ذریعے سے ) لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور اس میں سے اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو.