Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
A man came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and asked him about picking up of stray articles. He said: Recognize (well) its bag and the strap (by which it is tied) then make announcement of that for a year. If its owner comes (within this time return that to him), otherwise it is yours. He (again) said: (What about) the lost goat? Thereupon he (the Holy Prophet) said: It is yours or for your brother, or for the wolf. He said: (What about) the lost camel? Thereupon he said: You have nothing to do with it; it has a leather bag along with it, and its shoes also. It comes to the watering-place, eats (the leaves of the) trees until its master finds him.
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا
ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے ( کسی کی ) گری ، بھولی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے ڈھکنے/تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو ، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اسے دے دو ) ورنہ اس کا جو چاہو کرو ۔ "" اس نے کہا : گمشدہ بکری ( کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے ۔ "" اس نے پوچھا : تو گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ اس کی مشک اور اس کا موزہ اس کے ساتھ ہے ، وہ ( خود ہی ) پانی پر پہنچتا ہے اور درخت ( کے پتے ) کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے ۔ "" ( یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے میں نے عفاصها پڑھا تھا ۔ ( بعض روایات میں "" وكاءها "" ( اس کا بندھن ) ہے.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
A person asked Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about picking up of stray articles, whereupon he said: Make announcement about it for a year, and recognize well the strap and the bag (containing that) ; then spend that; and if its owner comes, make him the payment of that. He (the inquirer) said: Messenger of Allah, what about the lost goat? he said: Take it, for that is yours or for your brother, or for the wolf. He (again) said: (What about) the lost camel? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was enraged until his cheeks became red (or his face became red) and then said: You have nothing to do about that; it has feet and a leather bag (to quench its thirst) until its owner finds it.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی اور باقی دو نے کہا, اسماعیل بن جعفر نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ ( آزاد کردہ غلام ) یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی کی ) گری پڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : " ایک سال اس کا اعلان کرو ، پھر اس کے بندھن اور تھیلی وغیرہ کی شناخت رکھو ، پھر اس سے خرچ کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو ۔ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری؟ آپ نے فرمایا : " اسے پکڑ لو ، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے ۔ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ؟ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے ۔ ۔ یا آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ پھر فرمایا : " تمہار اس سے کیا تعلق؟ اس وقت تک کہ اس کا مالک اسے پا لے ، اس کا موزہ اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے.
This hadith has been narrated on the authority of Rabi'a bin Abu Abdul-Rahman with the same chain of transmitters but with this addition:
There came a person to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) while I was with him, and he asked him about picking up of a stray article, and he said: When none comes to demand it, then spend that.
ابو الطاہر نے مجھ سے کہا, عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے سفیان ثوری ، مالک بن انس ، عمرو بن حارث اور دیگر لوگوں نے خبر دی کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے انہیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے یہ اضافہ کیا ,کہا
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں آپ کے ساتھ تھا ، اس نے آپ سے کسی کی گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا ۔ اور ( ابن وہب نے ) کہا : عمرو نے حدیث میں کہا : " جب اسے تلاش کرنے والا کوئی نہ آئے تو اسے خرچ کر لو.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
There came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a person, the rest of the hadith is the same but with the variation (of these words): His face became red, his forehead too, and he felt annoyed; and made an addition after the words: He should make announcement of that for a year, and if its owner does not turn up, then it is a trust with you.
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم الاودی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے مجھے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ یزید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ ۔ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی حدیث کی طرح بیان کیا ، مگر انہوں نے کہا : " تو آپ کا چہرہ اور پیشانی سرخ ہو گئے اور آپ غصہ ہوئے ۔ " اور انہوں نے اس قول " پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ۔ " کے بعد ۔ ۔ یہ اضافہ کیا : " اگر اس کا مالک نہ آیا تو وہ تمہارے پاس امانت ہو گی.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ , the Companion of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about the picking up of stray gold or silver, whereupon he said: Recognize well the strap and the bag (containing) that and then make an announcement regarding that for one year, but if none recognizes it, then spend that and it would be a trust with you; and if someone comes one day to make demand of that, then pay that to him. He (the inquirer) asked about the lost camel, whereupon he said: You have nothing to do with that. Leave that alone, for it has feet and also a leather bag, it drinks water, and eats (the leaves) of the trees. He asked him about sheep, whereupon he said: Take it, it is for you, or for your brother, or for the wolf.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ یزید سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی کے گرے یا بھولے ہوئے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی تھیلی اور ( باندھنے کی ) رسی کی شناخت کر لو ، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر ( کچھ بھی ) نہ جان پاؤ تو اسے خرچ کر لو اور وہ تمہارے پاس امانت ہو گی ، اگر کسی بھی دن اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو ۔ " اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے ساتھ ہے ، وہ مالک کے پا لینے تک ( خود ہی ) پانی پر آتا اور درخت کھاتا ہے ۔ اس نے آپ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکڑ لو ، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
A person asked Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about a lost camel; Rabi'a made this addition: He (the Holy Prophet) was so much annoyed that his cheeks became red. The rest of the hadith is the same. He (the narrator) made this addition: If its (that of the article) owner comes and he recognizes the bag (which contained it) and its number, and the strap. then give that to them, but if not, then it is for you.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا, حماد بن مسلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ رائے بن ابو عبدالرحمن نے منبعث کے مولیٰ یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ۔ ( اس روایت میں ) ربیعہ نے اضافہ کیا : تو آپ غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے ۔ ۔ اور انہوں نے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور ( آخر میں ) یہ اضافہ کیا : " اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی ، ( اندر جو تھا اس کی ) تعداد اور اس کے بندھن کو جانتا ہو تو اسے دے دو ورنہ وہ تمہاری ہے.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about picking up of stray things, whereupon he said: Make announcement of that for one year, but if it is not recognized (by the owner), then recognize its big and strap, then eat it; and if its owner comes, then give that to him. This hadith has been narrated on the authority of Al-Dahhak bin Uthman with the same chain of transmitters but with a slight variation of words.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا, مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے ضحاک بن عثمان نے ابونضر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی کی ) گری اور بھولی ہوئی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کی شناخت نہ ہو پائے ( کوئی اسے اپنی چیز کی حیثیت سے نہ پہچان سکے ) تو اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو ، پھر اسے کھاؤ ( استعمال کرو ) ، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو.
Ad-Dahhak bin Uthman narrate it with this chain (a Hadith similar to no. 4504), and he said in the Hadith:
If it is recognized, then pay it back, otherwise memorize the features of its strap, bag, container and amount.
اسحاق بن منصور نے مجھ سے کہا, ابوبکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا
" اگر اسے پہچان لیا جائے تو ادا کر دو ورنہ اس کی تھیلی ، بندھن ، ( جس ) برتن ( میں بند تھی ) اور تعداد کی پہچان ( محفوظ ) رکھو.
Salama bin Kuhail reported: I heard Sowaid bin Ghafala say:
I went out, and also Zaid bin Suhan and Salman bin Rabi'a for Jihad, and I found a whip and took it up. They said to me: Leave it. I said: No. but I will make announcement of it and if its owner comes (then I will return that), otherwise I will use it, and I refused them. When we returned from Jihad. by a good fortune for me, I performed Pilgrimage. I came to Medina and met Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ, and related to him the affair of the whip and their opinion (the opinion of Zaid bin Suhan and Salman b. Rabi'a) about it (i.e. I should throw it). Thereupon he said: I found a money bag during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which contained one hundred dinars. I came to him along with it, and he said: Make an announcement of it for one year; so I announced it, but did not find anyone who could (claim it after) recognizing it. I again came to him and he said: Make announcement for one year. So I made announcement of it, but I found none who could recognize it. I came to him he said: Make announcement of it for one year. I made announcement of that but did not find one who could recognize it, whereupon he said: Preserve (in your mind) its number, its bag and its strap, and if its owner comes (then return that to him), otherwise make use of it. So I made use of that. I (Shu'ba) met him (Salama bin Kuhail) after this in Mecca, and he said: I do not know whether he said three years or one year.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا(محمد بن جعفر ) غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا ، انہوں نے کہا
میں ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لیے نکلے ، مجھے ایک کوڑا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا ، ان دونوں نے مجھ سے کہا : اسے رہنے دو ۔ میں نے کہا : نہیں ، بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا ، اگر اس کا مالک آ گیا ( تو اسے دے دوں گا ) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا ۔ کہا : میں نے ان دونوں ( کی بات ماننے ) سے انکار کر دیا ۔ جب ہم اپنی جنگ سے واپس ہوئے ( تو ) میرے مقدور میں ہوا کہ میں نے حج کرنا ہے ، چنانچہ میں مدینہ آیا ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں کوڑے کے واقعے اور ان دونوں کی باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مجھے ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے ، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : "" سال بھر اس کی تشہیر کرو ۔ "" میں نے ( دوسرا سال ) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا ، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : "" ایک سال اس کی تشہیر کرو ۔ "" میں نے ( پھر سال بھر ) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا ، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : "" ایک سال اس کی تشہیر کرو ۔ "" میں نے اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا ۔ تو آپ نے فرمایا : "" اس کی تعداد ، اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھنا ، اس اگر اس مالک آ جائے ( تو اسے دے دینا ) ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لینا ۔ "" پھر میں نے اسے استعمال کیا ۔ ( شعبہ نے کہا : ) اس کے بعد میں انہیں ( سلمہ بن کہیل کو ) مکہ میں ملا تو انہوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ( حضرت اُبی رضی اللہ عنہ نے ) تین سال ( تشہیر کی ) یا ایک سال.
Shu'ba reported:
Salama bin Kuhail informed me or he informed people and I was among them. He said: I heard Sawaid bin Ghafala who reported: I went out along with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabi'a, and found a whip, the rest of the hadith is the same up to the words: I made use of that. Shu'ba said: I heard him say after ten years, that he made an announcement of it for one year.
مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر العبدی نے بیان کیا, بہز نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا
مجھے سلمہ بن کہیل نے خبر دی یا انہوں نے کچھ لوگوں کو خبر دی اور میں بھی ان میں ( شامل ) تھا ، انہوں نے کہا : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں زید بن صُوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ ( سفر پر ) نکلا ، مجھے ایک کوڑا ملا ۔ ۔ انہوں نے اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند اس قول تک حدیث بیان کی : " پھر میں نے اسے استعمال کیا ۔ " شعبہ نے کہا : میں نے دس سال بعد ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں نے ایک سال اس کی تشہیر کی تھی.
This hadith has been narrated on the authority of Salama bin Kuhail through different chains of transmitters. In their a hadith, it is three years, except in the hadith of Hammid bin Salama in whose Hadith it says:
It is two years or three years. In the hadith transmitted on the authority of Sufyan and Zaid bin Abu Unaisa and Hammid bin Salama (the words are): If someone comes and informs you about the number (of articles) of the bag and the straps, then give that to him. Sufyan has made this addition in the narration of Waki': Otherwise it is like your property. And in the narration of Ibn Numair the words are: Otherwise make use of that.
قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، وکیع اور عبداللہ بن نمیر نے سفیان سے روایت کی ۔ محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبداللہ بن جعفر رَقی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ بن عمر نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی ۔ عبدالرحمٰن بن بشر نے کہا : ہمیں بہز نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، ان سب ( اعمش ، سفیان ، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ ) نے سلمہ بن کہیل سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ حماد بن سلمہ کے سوا
ان سب کی حدیث میں تین سال ہیں اور ان ( حماد ) کی حدیث میں دو یا تین سال ہیں ۔ سفیان ، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : " اگر کوئی ( تمہارے پاس ) آ کر تمہیں اس کی تعداد ، تھیلی اور بندھن کے بارے میں بتا دے تو وہ اسے دے دو ۔ " وکیع کی روایت میں سفیان نے یہ اضافہ کیا : " ورنہ وہ تمہارے مال کے طریقے پر ہے ۔ " اور ابن نمیر کی روایت میں ہے : " اور اگر نہیں ( آیا ) تو اسے فائدہ اٹھاؤ.
Abdul-Rahman bin 'Uthman al-Taimi رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade taking into custody the stray thing of the pilgrims.
مجھ سے ابو الطاہر اور یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، وہ بکیر بن کی سند سے۔ عبداللہ بن اشج، یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب کی سند سے، حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع فرمایا.
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as sayin.: He who found a stray article is himself led astray if he does not advertise it.
مجھ سے ابو الطاہر اور یونس بن عبد العلا نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے عمرو بن حارث نے بکر رضی اللہ عنہ سے خبر دی۔ بن سوادہ، ابو سالم الجیشانی کی طرف سے، حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فرمایا : " جس نے ( کسی کے ) بھٹکتے ہوئے جانور ( اونٹنی ) کو اپنے پاس رکھ لیا ہے تو وہ ( خود ) بھٹکا ہوا ہے جب تک اس کی تشہیر نہیں کرتا.
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger (ﷺ) having said this: None (of you) should milk the animal of another, but with his permission. Does any one of you like that his chamber be raided, and his vaults be broken, and his foodstuff be removed? Verily the treasures for them (those who keep animals) are the udders of the animals which feed them. So none of you should milk the animal of another but with his permission.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک بن انس کو نافع کی سند سے پڑھا, عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی تم میں سے دوسرے کے جانور کا دودھ نہ دھوئے مگر اس کی اجازت سے۔ کیا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی کوٹھری میں کوئی آئے اور اس کا خزانہ توڑ کر اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن ان کے خزانے ہیں کھانے کو تو کوئی نہ دوھوہے کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے۔ ( مگر جو مرتا ہو مارے بھوک کے وہ بقدر ضرورت کے دوسرے کا کھانا بعیر اجازت کے کھا سکتا ہے۔ لیکن اس پر قیمت لازم ہوگی اور بعض سلف اور محدثین کے نزدیک لازم نہ ہوگی۔ اگر مردار بھی موجود ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ بعضوں کے نزدیک مردار کھالے اور بعضوں کے نزدیک غیر کا کھانا)۔
A hadith like that of Malik (no. 4511) was narrated from Nafi from Ibn Umar, from the prophet ﷺ, except that in their Hadith it says: "...to be thrown on the floor," except for Al-Laith bin Sa'd, in whose Hadith it says: "...or his food to be taken," as in the report of Malik.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن روم نے لیث بن سعد کی سند سے بیان کیا اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا۔ ہم سے علی بن مشر، ح، ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، مجھ سے ابو الربیع نے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو کامل نے بیان کیا۔ حماد، ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن الیاس نے، ہم سے ایوب کی سند سے بیان کیا، ہم سے ایچ ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ اسماعیل بن امیہ کی سند سے، محمد بن رافع کی سند سے، عبد الرزاق کی سند سے، معمر کی سند سے، ایوب کی سند سے، ابن جریج کی سند سے، موسیٰ کی سند سے۔ یہ نافع کی سند سے، ابن عمر کی سند سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے ہیں,مالک کی حدیث کی طرح ان کی تمام احادیث میں لیث بن سعد کے علاوہ ان کا کھانا چھین لیا گیا ہے۔ جیسا کہ مالک کی روایت ہے۔
It was narrated that Abu Shurayh Al-Adawi said:
My ears heard and my eyes saw, when the Messenger of Allah ﷺ spoke and said: "Whosever believes in Allah and the last day, Let him honor his guest with full Hospitality." They said: What is full Hospitality, O Messenger of Allah? He said: "One day and one night, and Hospitality is for three days, and anything beyond that is charity towards him." And he ﷺ said: "Whoever believes in Allah and the last day, let him speak well or else remain silent."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے ابو شریح عدوی سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کی ، تو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ، آپ نے فرمایا : " جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کو ، جو پیش کرتا ہے ، اس کو لائق عزت بنائے ۔ " صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! اس کو جو پیش کیا جائے ، وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس کے ایک دن اور ایک رات کا اہتمام اور مہمان نوازی تین دن ہے ، جو اس سے زائد ہے وہ اس پر صدقہ ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے.
Abu Shuriah al-Khuza'i reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: (The period of the entertainment of a guest is three days, and utmost kindness and courtesy is for a day and a night. It is not permissible for a Muslim to stay with, his brother until he makes him sinful. They said: Messenger of Allah, how he would make him sinful? He (the Holy Prophet ﷺ) said: He stays with him (so long) that nothing is left with him to entertain him.
ہم سے ابو کریب محمد بن علاء نے بیان کیا, وکیع نے کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سعید بن ابی سعید مقبری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوشریح خزاعی سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہمان نوازی تین دن ہے اور خصوصی اہتمام ایک دن اور ایک رات کا ہے اور کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں ( ہی ) ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے ۔ " صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا؟ آپ نے فرمایا : " وہ اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی میزبانی کر سکے ( تو وہ غلط کام کے ذریعے سے اس کی میزبانی کا انتظام کرے).
Sa'id al-Maqburi reported:
I heard Abu Shuraih al-Khuzill رضی اللہ عنہ saying: My ears heard and my eyes saw and my mind retained it, when Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) spok this, and he then narrated the hadith and made mention of this: It is not permissible for any one of you to stay with his brother until he makes him sinful.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, ابوبکر حنفی نے کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سعید مقبری نے حدیث بیان کی کہ
انہوں نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گفتگو فرمائی ۔ ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں یہ ذکر کیا : " تم میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے ہاں ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں ڈال دے ۔ " اسی کے مانند جس طرح وکیع کی حدیث میں ہے.
Uqba bin Amir رضی اللہ عنہ reported:
We said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): You send us out and we come to the people who do not give us hospitality, so what is your opinion? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If you come to the people who order for you what is befitting a guest, accept it; but if they do not. take from them what befits them to give to a guest.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ابو الخیر کی سند سے,حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں کسی ( اہم کام کے لیے ) روانہ کرتے ہیں ، ہم کچھ لوگوں کے ہاں اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے ، آپ کی رائے کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا : " اگر تم کسی قوم کے ہاں اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں جو مہمان کے لائق ہے تو قبول کر لو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا اتنا حق لے لو جو ان ( کی استطاعت کے مطابق ان ) کے لائق ہو ۔ "
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
While we were with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on a journey, a person came upon his mount and began to stare on the right and on the left, (it was at this moment) that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who has an extra mount should give that to one who has no mount for him, and he who has surplus of provisions should give them to him who has no provisions, and he made mention of so many kinds of wealth until we were of the opinion that none of us has any right over the surplus.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاشہب نے بیان کیا، انہوں نے ابو نادرہ سے, حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، اس اثنا میں ایک آدمی اپنی سواری پر آپ کے پاس آیا ، کہا : پھر وہ اپنی نگاہ دائیں بائیں دوڑانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہو ، وہ اس کے ذریعے سے ایسے شخص کے ساتھ نیکی کرے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد از ضرورت زادِ راہ ہے وہ اس کے ذریعے سے ایسے شخص کی خیرخواہی کرے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے ۔ کہا : آپ نے مال کی بہت سی اقسام کا ذکر کیا جس طرح کیا ، حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ زائد مال پر ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے.