Uqba bin 'Amir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave the gifts of goats to be distributed amongst his Companions. They sacrificed them, but a lamb of one year of age was left. (Someone) made a mention of that to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: You sacrifice it
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے ابو خیر سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں ۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرما یا : " اس کی قربانی تم کر لو ۔ قتیبہ نے ( اصحابه کے بجا ئے ) علي صحابته آپ کے صحابہ میں ( تقسیم کردیں ۔ ) " کے الفاظ کہے ۔
Amir al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) distributed sacrificial animals (amongst us for sacrificing them on 'Id al-Adha). So we sacrificed them. There fell to my lot a lamb of less than one year I said: Allah's Messenger, there has fallen to my lot a lamb (Jadha'a), whereupon he said: Sacrifice that.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا, ہشام دستوائی یحییٰ بن ابی کیثر سے انھوں نے بعجہ جہنی سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جا نور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرما یا : " اسی کی قربانی کردو ۔
This hadith has been transmitted on the authority of 'Uqba bin 'Amir al-Juhan رضی اللہ تعالیٰ عنہ with a slight change of wording.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یعنی ابن حسن نے, معاویہ بن سلام نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے بعجہ بن عبد اللہ نے بتا یا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جا نور تقسیم کیے ۔ اسی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sacrificed with his own hands two horned rams which were white with black markings reciting the name of Allah and glorifying Him (saying Allah-o-Akbar). He placed his foot on their sides (while sacrificing).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ آپ نے انھیں اپنے ہا تھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی ۔ آپ نے ( قربانی کے وقت انھیں لٹا کر ) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sacrificed two horned rams of white color with black markings over them. He also stated: I saw him sacrificing them with his own hand and saw him placing his foot on their sides, and recited the name of Allah and Glorified Him.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی : کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ کہا : میں نے دیکھا کہ آپ انھیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے ۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا ( اور ) کہا : آپ نے اللہ کا نام لیا ( بسم اللہ پڑھی ) اور تکبیر کہی ۔
Shu'ba reported: Qatada informed me that he had heard Anas رضی اللہ عنہ saying:
Allah's Messenger (may peace be npon him) sacrificed (the horned rams) and like that. I said: Did you (Qatada) hear from Anas رضی اللہ عنہ ? He said. Yes.
ہم سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا, خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی , کہا : مجھے قتادہ نے بتا یا کہا , میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس ( پچھلی حدیث ) کے مانند ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے قتادہ سے پو چھا : کیا آپ نے ( خود ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا ؟ کہا : ہاں ۔
A similar report (as no. 5088) was narrated from Anas from the prophet ﷺ, except that he said: "And he ﷺ said:
'Bismillah, Allahhu-Akbar (in the name of Allah, Allah is most Great).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان کی سند سے, سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مانند روایت کی مگر انھوں نے یہ کہا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ واللہ اکبرکہہ رہے تھے ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded that a ram with black legs, black belly and black (circles) round the eyes should be brought to him, so that he should sacrifice it. He said to 'A'isha: Give me the large knife, and then said: Sharpen it on a stone. She did that. He then took it (the knife) and then the ram; he placed it on the ground and then sacrificed it, saying: Bismillah, Allah-humma Taqabbal min Muhammadin wa Al-i-Muhammadin, wa min Ummati Muhammadin (In the name of Allah, O Allah, accept [this sacrifice] on behalf of Muhammad and the family of Muhammad and the Umma of Muhammad ).
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ حیوا نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، عروہ بن زبیر سے, عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو ، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو ( یعنی پاؤں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں ) ۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے ۔ میں نے تیز کر دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، مینڈھے کو پکڑا ، اس کو لٹایا ، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ ، اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر ، پھر اس کی قربانی کی ۔
Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ reported:
"I said: 'O Allah's Messenger, we are going to encounter the enemy tomorrow, but we have no knives with us. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Make haste or be careful (in making arrangements for procuring knives) which would let the blood flow (and along with it) the name of Allah is also to be recited. Then eat, but not the tooth or nail. And I am going to tell you why it is not permissible to slaughter the animal with the help of tooth and bone; and as for the nail. it is a bone, and the bone is the knife of Abyssinians. He (the narrator) said: There fell to our lot as spoils of war camels and goats, and one of the camels among them became wild. A person (amongst usl struck It with an arrow which brought it under control. whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: This camel became wild like wild animals, so if you find any animal getting wild, you do the same with that.
یحییٰ بن سعید نے سفیان ( بن سعید ) سے رویت کی ، کہا مجھے میرے والد ( سعید بن مسروق ) نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا لے ، سوا دانت اور ناخن کے ۔ اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں ۔ راوی نے کہا کہ ہمیں مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ، پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا ، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا تو وہ ٹھہر گیا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں ۔ پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو ۔ ( یعنی دور سے تیر سے نشانہ کرو ) ۔
Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ reported:
While we were with Allah's Messenger (may peace he upon him) in Dhu'I-Hulaifa in Tihama, we got hold of goats and camels. Some persons (amongst us) made haste and boiled (the flesh of goats and camels) in their earthen pots. He then commanded and these were turned over; then he equalized ten goats for a camel. The rest of the hadith is the same.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, وکیع نے کہا , ہمیں سفیان بن سعید بن مسروق نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی ، کہا
ہم تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ۔ تو ہمیں ( غنیمت میں ) بکریاں اور اونٹ حاصل ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور ( ان میں سے کچھ جانوروں کو ذبح کیا ، ان کا گوشت کاٹا اور ) ہانڈیاں چڑھادیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حکم دیا اور ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا ۔ پھر آپ نے ( سب کے حصے تقسیم کرنے کے لیے ) دس بکریوں کو ایک اونٹ کے مساوی قرار دیا ۔ اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ reported from his grandfather:
He said: Allah's Messenger ﷺ, we are going to encounter the enemy tomorrow, but we do not have long knives with us, should we then slaughter them with the peel of the reed? The rest of the hadith is the same. (And at the end the words are): A camel became wild (and got out of our control). We attacked it with arrows until we made it fall down.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا, اسماعیل بن مسلم اور عمربن سعید نے سعید بن مسروق سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، کیا ہم بانس کے چھلکے ( یا تیز دھار کھپچی ) سے ذبح کر سکتے ہیں ؟اور سارے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور کہا : ایک اونٹ ہم سے بدک کر بھا گ نکلا تو ہم نے اس پر تیر چلا ئے یہاں تک کہ اس کو گرا لیا ۔
It was narrated from Saeed bin Masruq with this chain of narrators, the same hadith(as no. 5094) until the end. And he said in it:
"We do not have any knives with us, so can we slaughter with reeds?
مجھ سے القاسم بن زکریا نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا, زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا ( ہم نے عرض کی : )
ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں ( کی کچھیوں ) سے جانور ذبح کرلیں ۔
Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ reported:
He said: Allah's Messenger, we are going to encounter the enemy tomorrow. and we do not have large knives with us. The rest of the hadith is the same, but no mention is made of this: The people hastened and they boiled (flesh) in the earthen pots. He (the Holy Prophet), commanded and these were turned over and the narrator narrated the whole event.
ہم سے محمد بن ولید بن عبد الحمید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سعید بن مسروق نے عبایہ بن عبایہ کی سند سے۔ رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
انھوں نے کہا ( ہم نے عرض کی : ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں پھر حدیث بیان کی ، البتہ اس میں یہ نہیں کہا : " لوگوں نے جلدبازی کی اور ان کے گو شت سے ہانڈیا ں ابالنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں الٹ دیا گیا ۔ اور انھوں نے باقی سارا قصہ بیان کیا ۔
Abu Ubaid reported:
I was with 'Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ on the occasion of the 'Id day. He started with the 'Id prayer before delivering the sermon, and said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade us to eat the flesh of our sacrificial animals beyond three days.
مجھ سے عبدالجبار بن علاء نے بیان کیا, سفیان نے کہا , ہمیں زہری نے ابو عبید سے روایت کی کہا
میں عید کے مو قع پر حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ عنہ کے ساتھ انھوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھا ئی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمے اس بات سے منع فر مایا تھا کہ ہم تین دن ( گزرجانے ) کے بعد اپنی قربانیوں کا گوشت کھا ئیں ۔
Abu 'Ubaid, the freed slave of Ibn Azhar, reported:
He said 'Id (prayer) with Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ , and then said the 'Id (prayer) with 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ . He (the narrator further) reported: He led us in prayer before delivering the sermon and then addressed the people saying: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has forbidden you to eat the flesh of your sacrificial animals beyond three nights, so do not eat that.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن ازہر کے مو لیٰ ابو عبید نے حدیث بیان کی کہ
انھوں نے حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی کہا : اس کے بعد میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبے سے پہلے ہمیں نماز پڑھائی پھر لو گوں کو خطبہ دیا اور فر ما یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو تین راتوں سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھانے سے منع فر ما یا ہے اس لیے ( تین راتوں کے بعد یہ گو شت ) نہ کھا ؤ ۔ ان تین دنوں میں کھا کر اور تقسیم کر کے ختم کر دو ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ابن شہاب کے بھتیجے صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: None of you should eat the flesh of his sacrificial animal beyond three days.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنی قربانی کے گو شت میں سے تین دن کے بعد ( کچھ ) نہ کھائے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, ابن جریج اور ضحاک بن عثمان دونوں نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade that the flesh of sacrificial animals be eaten beyond three (days) Salim (son of Ibn Umar رضی اللہ عنہ ) said: Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ did not eat the flesh of the sacrificial animals beyond three (days). Ibn Abu 'Umar رضی اللہ عنہ said: Beyond three days.
ہم سے ابن ابی عمر اور عبد بن حمید نے بیان کیا, ابن ابی عمر اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انھوں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس بات سے ) منع کیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھا یا جا ئے ۔ سالم نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت نہیں کھا تے تھے اور ابن ابی عمر نے ( تین دن سے اوپر کے بجائے ) " تین کے بعد " کے الفا ظ کہے ۔
Abdullah bin Waqid رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade (people) to cat the flesh of sacrificed animals beyond three days. Abdullah bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, I made a mention of that to 'Amra, whereupon she said: He has told the truth, for I heard 'A'isha رضی اللہ عنہاsay: The poor among the people of the desert come (to the towns) on the occasion of Id al-Adha during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Upon this Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Retain with you (the flesh) sufficing for three (days), and whatever is left out of that give in charity. After this. they (the Muslims) said: Allah's Messenger, the people make water skins with the (hides) of their sacrificed animals and they melt fat out of them. Thereupon he said. What the then? They said: You forbade (us) to eat the flesh of sacrificial animals beyond there of (days), whereupon he said: I forbade you for those (poor persons) who flocked (to the towns on this occasion for getting meat) but now when (this situation has improved) you may eat, preserve and give-in charity.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ایک روح نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا, عبد اللہ بن ابی بکر نے حضرت عبد اللہ بن واقد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ( دن رات ) کے بعد قربانیوں کے گو شت کھا نے سے منع فر ما یا ۔ عبد اللہ بن ابی بکر نے کہا : میں نے یہ بات عمرہ ( بنت عبد الرحمن بن سعد انصار یہ ) کو بتا ئی عمرہ نے کہا : انھوں نے سچ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے ( بھوک اور کمزوری کے سبب ) آہستہ آہستہ چلتے ہو ئے جہاں لو گ قربانیوں کے لیے مو جو د تھے ( قربان گا ہ میں ) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تین دن تک کے لیے گو شت رکھ لو ۔ جو باقی بچے ( سب کا سب ) صدقہ کر دو ۔ " دوبارہ جب اس ( قربانی ) کا مو قع آیا تو لو گوں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لو گ تو اپنی قربانی ( کی کھا لوں ) سے مشکیں بنا تے ہی اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مطلب ؟ " انھوں نے کہا : یہ ( صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ ) آپ نے منع فرما یا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت ( وغیرہ استعمال نہ کیا جا ئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آپا ئے تھے ۔ اب ( قربانی کا گو شت ) کھا ؤ رکھو اور صدقہ کرو ۔ "